( میرے پروردگار کی ذات کے لیے ہمیشہ حمد ہے۔ت) فقیر میں لاکھوں عیب ہیں مگر میرے رب نے مجھے حسد سے بالکل پاک رکھا ہے، اپنے سے جسے زیادہ پایا اگر دنیا کے مال و منال میں زیادہ ہے قلب نے اندر سے اسے حقیر جانا، پھر حسد کیا حقارت پر؟
اور اگر دینی شرف و افضال میں زیادہ ہے اس کی دست بوسی و قدم بوسی کو اپنا فخر جانا، پھر حسد کیا اپنے معظمِ بابرکت پر ؟ اپنے میں جسے حمایتِ دین پر دیکھ ااس کے نشر فضائل اور خلق کو اس کی طرف مائل کرنے میں تحریراً و تقریراً ساعی رہا۔ اس کے لیے عمدہ القاب وضع کرکے شائع کیے جس پر میری کتاب " المعتمدالمستند" وغیرہ شاہد ہیں، حسد شہرت طلبی سے پیدا ہوتا ہے اور میرے رب کریم کے وجہِ کریمہ کے لیے حمد ہے کہ میں نے کبھی اس کے لیے خواہش نہ کی بلکہ ہمیشہ اس سے نفور اور گوشہ نشینی کا دلدادہ رہا۔ جلسوں انجمنوں کے دوروں سے دور رہنا انہیں دو وجہ پر تھا۔ اول حُبِّ خمول دوم ؎
زمانہ می نخروعیب و غیر از نیم نیست جا برم خر خود را بایں کساد متاع ۱ ؎۔
( زمانہ عیب دار کو خریدتا نہیں اور میرے پاس اس کے علاوہ نہیں ہے۔ اس کھوٹے سامان کے ساتھ اپنے گدھے کو کہاں لے کر جاؤں۔ت)
اور اب تو سالہا سال سے شدت ہجوم کا روانعدامِ کلی فرصت و غلبہ ضعف نقاہت نے بالکل ہی بٹھا دیا ہے، جسے میرے احباب نے نازک مزاجی بلکہ بعض حضرات نے غرور و تکبر پر حمل کیا۔ اور اﷲ اپنے بندہ کی نیت جانتا ہے، بالجملہ اہل سنت سے امور ثلٰثہ مفقود ہیں پھر فرمائیں صورت کیا ہو۔
دفع گمراہانِ میں جو کچھ اس حقیر ہیچ میرز سے بن پڑتا ہے بحمداﷲ تعالٰی ۱۴ برس کی عمر سے اس میں مشغول ہے۔ اور میرے رب کریم کے وجہِ کریم کو حمد کہ اس نے میری بساط، میرے حوصلے، میرے کاموں سے ہزاروں درجہ زائد اس سے نفع بخشا۔ باقی جو آپ چاہتے ہیں اسی قوت متفقہ پر موقوف ہے جس کا حال اوپر گزارش ہوا۔ بڑی کمی امراء کی بے توجہی اور روپے کی ناداری ہے، حدیث کا ارشاد صادق آیا کہ : " وہ زمانہ آنے والا ہے کہ دین کا کام بھی بے روپیہ کے نہ چلے گا ۱ ؎۔
(۱ کشف الخفاء حدیث ۳۲۶۹ دارلکتب العلمیہ بیروت ۲/ ۳۶۶)
کوئی باقاعدہ عالی شان مدرسہ تو آپ کے ہاتھ میں نہیں ، کوئی اخبار پرچہ آپ کے یہاں نہیں، مدرسین ، واعظین ، مناظرین، مصنفین کی کثرت بقدرِ حاجت آپ کے پاس نہیں۔ جو کچھ کرسکتے ہیں فارغ البال نہیں۔ جو فارغ البال ہیں وہ اہل نہیں۔ بعض نے خونِ جگر کھا کر تصانیف کیں تو چھپیں کہاں سے۔ کسی طرح سے کچھ چھپا لو کی اشاعت کیونکر ہو۔ دیوان نہیں، ناول نہیں کہ ہمارے بھائی دو آنے کی چیز کا ایک روپیہ دے کر شوق سے خریدیں، یہاں تو سر چپیٹنا ہے روپیہ وافر ہو تو ممکن کہ یہ سب شکایت رفع ہوں۔
اول عظیم الشان مدارس کھولے جائیں باقاعدہ تعلمیں ہوں۔
ثانیاً طلبہ کو وظائف ملیں کہ خواہی نخواہی گروید ہ ہوں۔
ثالثاً مدرسوں کی بیش قرار تنخواہیں ان کی کارروائیوں پر دی جائیں کہ لالچ سے جان توڑ کر کوشش کریں۔
رابعاً طبائع طلبہ کی جانچ ہو جو جس کام کے زیادہ مناسب دیکھا جائے معقول وظیفہ دے کر اس میں لگایا جائے۔ یوں ان میں کچھ مدرسین بنائے جائیں، کچھ واعظین کچھ مصنفین، کچھ مناظرین، پھر تصنیف و مناظرہ میں بھی توزیع ہو، کوئی کسی فن پر کوئی کسی پر ۔
خامساً ان میں جو تیار ہوتے جائیں تنخواہیں دے کر ملک میں پھیلائے جائیں کہ تحریراً وتقریراً وعظا و مناظرۃً اشاعت دین و مذہب کریں۔
مولانا ! اس گئی گزری حالت میں تو کوئی بفضلہ تعالٰی آپ کے سامنے آ نہیں سکتا۔ دور سے غُل مچاتے اور وقت پر دم دباتے ہیں۔ جب آپ کے اہل علم یوں مل میں پھیلیں اس وقت کون ان کی قوت کا سامنا کرسکتا ہے۔
سادساً حمایت ( مذہب) وہ رَدِّ بد مذہباں میں مفید کتب و رسائل مصنفوں کو نذرانے دے کر تصنیف کرائے جائیں۔
سابعاً تصنیف شدہ اور نو تصنیف رسائل عمدہ اور خوش خط چھاپ کر ملک میں مفت شائع کیے جائیں۔
ثامناً شہروں شہروں آپ کےسفیرنگران رہیں جہاں جس قسم کے واعظ یا مناظر یا تصنیف کی حاجت ہو آپ کو اطلاع دیں۔ آپ سر کوبی اعداء کے لیے اپنی فوجیں میگزین رسالے بھیجتے رہیں۔
تاسعاً جو ہم میں قابل کار، موجود اور اپنی معاش میں مشغول ہیں وظائف مقرر کرکے فارغ البال بنائے جائیں اور جس کام میں انہیں مہارت ہو لگائے جوئیں۔
عاشراً آپ کے مذہبی اخبار شائع ہوں اور وقتاً فوقتاً ہر قسم کے حمایت مذہب ممیں مضامین تمام ملک میں بقمیت و بلا قیمت روزانہ یا کم از کم ہفتہ وار پہچاتے رہیں۔
میرے خیال میں تو یہ تدابیر ہیں، آپ اور جو کچھ بہتر سمجھیں افادہ فرمائیں، بلکہ مولانا ! رپیہ ہونے کی صورت میں اپنی قوت پھیلانے کے علاوہ گمراہوں کی طاقتیں توڑنا بھی اِن شاء اﷲ العزیز آسان ہوگا۔ میں دیکھ رہا ہوں کہ گمراہیوں کے بہت سے افراد صرف تنخواہوں کے لالچ سے زہر اگلتے پھرتے ہیں۔ ان میں جسے دس کی جگہ بارہ دیجئے اب آپ کی سی کہے گا، یا کم از کم بہ لقمہ درختہ بہ تو ہوگا۔
دیکھئے حدیث کا ارشاد کیسا صادق ہے کہ: " آخر زمانہ میں دین کا کام بھی درہم و دینار سے چلے گا۔۱ ؎۔
(۱ کشف الخفاء حدیث ۳۲۶۹ دارلکتب العلمیہ بیروت ۲/ ۳۶۶)
اور کیوں نہ صادق ہو کہ صادق و مصدوق صلے اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کا کلام ہے، عالم ما کان و مایکون صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی خبرہے۔
(۷) مسودہ عقائد حنفیہ کہ یہاں بنظر استصواب آیا تھا بعد بعض ترمیمات ضرور یہ گیا بھی، اور انجمن کو پہنچا بھی۔ اور انجمن نے اس میں اکثر ترمیمات کو قبول فرمایا بھی، اس پر گواہ خود یہ مسودہ تازہ ہے کہ جناب نے اب ارسال فرمایا ہے، یہ اکثر انہیں ترمیمات پر مشتمل ہے جو فقیر نے ایک نہایت سرسری نگاہ میں عرض کی تھیں، مگر جناب کا یہ فرمانا بھی کہ ترمیم یا تصدیق درکنار تو نے رسید بھی نہ بھیجی بجائے خود ہے۔ واقعی فقیر ترمیم کرکے بھیج چکا اور واقعی ترمیم کرکے فقیر نے نہ بھیجا۔ اس معمہ کا حل یہ ہے کہ فقیر بے حد عدیم الفرصت ہے خاطر خواہ ترمیمیں ( مگر دفترے دیگر املاکند) کی مصداق ہوتیں۔ اس کے لیے وقت نہ ملتا تھا ایک ضرور شدیدہ سے پیلی بھیت جانا ہوا۔ حضرت مولانا محدث سورتی دامت برکاتہم نے اس کا ذکر فرمایا۔ فقیر نے عرض کی وقتِ فرصت سن لوں گا۔ نصف شب کے قریب وہاں کی ضروریات اور احباب کی ملاقات سے فارغ ہو اس وقت وہ مسودہ فقیر کو سُنایا گیا، جا بجا تبدیلات و نقص و زیادات و محو واثبات عرض کرتا گیا اور حصرت ممدوح تحریر فرماتے گئے۔ ۱۸ صفحہ تک اس وقت ہوا پھر صبح بعدِ فراغ وظائف ، جب کہ ریل کا وقت قریب تھا۔ بقیہ بعجلتِ تام تمام کیا۔ مولوی ابوالعلاء امجد علی صاحب سلمہ بھی ہمراہ تھے ان سے گزارش کی کہ آپ کے پاس بھی ایک مسودہ آیا ہوا ہے یہی ترمیمات آپ بھی لکھ بھیجنا، اور اتفاق رائے فقیر سے بھی انجمن مبارک کو اطلاع دیں۔ مگر بریلی آکر مولوی صاحبِ کو کثرت کار میں یاد نہ رہا۔ یوں وہ اصلاحاتِ فقیر کی طرف سے پہنچیں بھی اور نہیں بھی۔
اب اوّلاً اس مسودہ ثانیہ میں بعض تو اغلاطِ کاتب ہیں انہیں فقیر نے بنادیا ہے۔ ان میں بعض بہت ضروری اللحاظ ہیں۔
ثانیاً بعض نئی ترمیمات اور خیال میں آئی ہیں، خواہ عبارت سابقہ پر، یا اب جو مسودہ ثانیہ میں خود انجمن نے محو واثبات کیا اس پر۔
ثالثاً اصلاحاتِ سابقہ میں سے اکثر تو قبول فرمائی گئیں مگر بعض وہ بھی ہیں کہ اس مسودہ ثانیہ میں بھی متروک ہوئیں یا نظر سے رہ گئیں خصوصاً ان میں بعض کا نہ پانا زیادہ مشوش خیال ہوسکتا ہے کہ بحال عمرالاقل رعایت و مداہنت کا سخت پہلو نکلتا ہے۔ ہاں سہواً ترک ہوا تو
"رفع عن امتی الخطاء والنیسان ۱ ؎۔
( میری امت سے خطاء و نسیان کو معاف کردیا گیا ہے۔ت) ارشادِ والا ہے۔
رابعاً ان سب کے بعد بھی بحکم
" المستشار مؤتمن" ۲ ؎۔
(جس سے مشورہ لیا جائے وہ امین ہوتا ہے۔ت)
( ۱ ؎ کشف الخفاء حدیث ۱۳۹۱ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۱ /۳۸۲)
( ۲ ؎ سنن ابی داؤد کتاب الادب باب فی المشورۃ آفتاب عالم پریس لاہور ۲ /۳۴۳)
(جامع الترمذی ابواب الادب باب ماجاء ان المستشارمؤتمن امین کمپنی دہلی ۲ /۱۰۵)