Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۹(کتاب الشتّٰی )
115 - 157
اور اہلسنت سے بتقدیرِ الہی جو ایسی لغزش ِ فاحش واقع ہو اس کا اخفاء واجب ہے کہ معاذ اﷲ لوگ ان سے بداعتقاد ہوں گے تو جو نفع ان کی تقریر اور تحریر سے اسلام و سنت کو پہنچتا تھا اس میں خلل واقع ہوگا۔ اس کی اشاعت اشاعت ِ فاحشہ ہے۔ اور اشاعتِ فاحشہ بنصِ قرآن عظیم حرام،
قال اﷲ تعالٰی :  ان الذین یحبون ان تشیع الفاحشۃ فی الذین اٰمنوالھم عذاب الیم فی الدنیا والاخرۃ ۲؂
جو لوگ یہ پسند کرتے ہیں کہ مومنوں میں فاحشہ کی اشاعت ہو ان کے لیے دنیا اور آخرت میں دردناک عذاب ہے۔خصوصاً جب کہ وہ بندگانِ خدا حق کی طرف بے کسی عذرو تامل کے رجوع فرماچکے۔ رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
من عیراخاہ بذنب لم یمت حتی یعملہ ۳ ؎۔
جس نے اپنے بھائی کو کسی گناہ کی وجہ سے عار دلایا وہ مرنے سے قبل اسی گناہ میں ضرور مبتلا ہوگا۔
 ( ۱؎ القرآن الکریم ۲۴ /۱۹)

 ( ۳ ؎ جامع الترمذی    ابواب صفۃ القیمٰۃ باب منہ امین کمپنی دہلی         ۲ /۷۳)
قال ابن المنیع وغیرہ المرادذنب تاب عنہ،  قلت وقد جاء کذا مقید فی الروایۃ کما فی الشرعۃ۴؂  ثم فی الحدیقۃ الندیۃ۔
ابن منیع وغیرہ کہتے ہیں کہ گناہ سے مراد وہ ہے کہ اس سے توبہ کرلی گئی ہو۔ میں کہتا ہوں شرعہ اور حدیقہ میں روایت میں توبہ کی قید لگی ہوئی ہے۔ت)
 ( ۴ ؎ شرح شرعۃ الاسلام     فصل فی سنن الکلام وآدابہ مکتبہ الاسلامیہ کوئٹہ        ص ۳۳۳)
ولہذا ابتاکید اکیدگزا عمائد و مشاہیر علمائے اہلسنت و جماعت جس امر میں متفق ہیں یعنی عقائد مشہورہ متداولہ ان میں ہمارے عام بھائی بلادغدغہ ان کے ارشادات پر عامل ہوں۔ یوں ہی وہ فرعیات جو اہل سنت اور ان کے مخالفین میں مابہ الامتیاز ہو رہے ہیں جیسے مجلس مبارک و فاتحہ و عرس واستمداد و نداء وامثالہا باقی رہیں فرعیات فقہیہ جن میں وہ مختلف ہوسکتے ہیں خواہ بسبب اختلاف روایات ،  خواہ بوجہ خطاء فی الفکر یا بسبب عجلت وقلتِ تدبر یا بوجہ کمی ممارست ومزاولتِ فقہ ،  ان میں فقیر کیا عرض کرے ؎
مرا سوزیست اندر دل اگر گویم زباں سوزد		وگردم درکشم ترسم کہ مغز استخواں سوزد
 ( میرے دل میں جلن ہے اگر کہتا ہوں تو زبان جلتی ہے اور اگر چپ رہوں تو ڈر ہے کہ ہڈیوں کا مغز جل جائے گا، ت)
آہ آہ آہ آہ! ہندوستان میں میرے زمانہ ہوش میں دو بندہ خدا تھے جن پر اصول و فروع و عقائد و فقہ سب میں اعتمادِ کلی کی اجازت تھی۔ اول اقدس حضرت خاتم المحققین سیدنا الوالدقدس سرہ الماجد حاش ﷲ نہ اس لیے کہ وہ میرے والد و والی ولی نعمت تھے بلکہ اس لیے کہ
الحق و الحق اقول،  الصدق واﷲ یحب الصدق
 ( یہ حق ہے او ر میں حق کہتا ہوں،  یہ صدق ہے اور اﷲ تعالٰی صدق کو محبوب رکھتا ہے۔ت) میں نے اس طبیبِ صادق کا برسوں مطب پایا اور وہ دیکھا کہ عرب و عجم میں جس کا نظیر نظر نہ آیا اس جناب رفیع قدس سرہ البدیع کو اصولِ حنفی سے استباطِ فروع کا ملکہ حاصل تھا۔ اگرچہ کبھی اس پر حکم نہ فرماتے،  مگر یوں ظاہر ہوتا تھا کہ نادرو دقیق و معضل مسئلہ پیش نہ ہوا کہ کتب متداولہ میں جس کا پتہ نہیں،  خادم کمینہ کو مراجعتِ کتب و استخراج جزئیہ کا حکم ہوتا اور ارشاد فرماتے "  ظاہراً حکم یوں ہونا چاہیے "  جو وہ فرماتے وہی نکلتا،  یا بعض کتب میں اس کا خلاف نکلتا تو زیادتِ مطالعہ نے واضح کردیا کہ دیگر کتب میں ترجیح اسی کو دی جو حضرت نے ارشاد فرمایا تھا۔ عجم کی حالت تو آپ ملاحظہ ہی فرماتے ہیں۔ عرب کا حال یہ ہے کہ ا س جنابِ قدس سرہ کا یہ ادنٰی خوشہ چیں و زلہ رہا،  جو مکہ معظمہ میں اس بار حاضر ہوا،  وہاں کے اعلم العلماء وافقہ الفقہاء سے چھ چھ گھنٹے مذاکرہ علمیہ کی مجلس گرم رہتی ،  جب انہوں نے ملاحظہ فرمایا کہ یہ فقہ حنفی کے دو حرف جانتا ہے اپنے زمانہ کے عہدِ افتاء کے مسائل کثیرہ جن میں وہاں کے علماء سے اختلاف پڑا یا اشتباہ رہا،  اس ہیچ میر ز  پر پیش فرمانا شروع کیے جس مسئلہ و حکم میں اس احقر نے انکی موافقت عرض کی آثار بشاشت ان کے چہرہ نورانی پر ظاہر ہوئے اور جس میں عرض کردیا کہ فقیہ کی رائے میں حکم اس کے خلاف ہے،  سماعِ دلیل سے پہلے آثارِ حزن نمایاں ہوئے اور خیال فرمالیتے کہ ہم سے اس حکم میں لغزش واقع ہوئی یہ اسی طبیبِ حاذق کی کفش برادری کا صدقہ ہے۔
 (۲) دوم والا حضرت تاج الفحول محبِ رسول مولانا مولوی عبدالقادر صاحب قادری بدایونی قدس سرہ الشریف،  پچیس برس فقیر کو اس جناب سے بھی صحبت رہی ان کی سی وسعتِ نظر وقوتِ حفظ وتحقیق انیق ان کے بعد کسی میں نظر نہ آئی۔ ان دونوں آفتاب و ماہتاب کے غروب کے بعد ہندوستان میں کوئی ایسا نظر نہیں آتا جس کی نسبت عرض کروں کہ آنکھیں بند کرکے اس کے فتوے پر عمل ہو۔
فقیر نے جواب میں عمائد و مشاہیر علمائے اہلسنت کی تخصیص کی اور جناب نے فیض یافتوں سے بھی سوال فرمایا ہے فیض کے لیے عرض عریض ہے۔  میں یہاں مطلقاً اتنا بھی عرض نہیں کرسکتا جو حضرات عمائد کی نسبت گزارش کیا۔
مولانا ! اس تقریر فقیر کو اصول کے ایک اختلافی مسئلہ میں اس قول پر محمول نہ فرمائیں کہ متکلم اپنے عمومی کلام میں داخل نہیں ہوتا۔ حاشا فقیر تو ایک ناقص ،  قاصر،  ادنٰی طالب علم ہے ،  کبھی خواب میں بھی اپنے لیے کوئی مرتبہ علم قائم نہ کیا۔ اور بحمدہ تعالٰی بظاہر اسباب یہی ایک وجہ ہے کہ رحمتِ ا لہٰی میری دستگیری فرماتی ہے،  میں اپنی بے بضاعتی جانتا ہوں،  اس لیے پھونک پھونک کر قدم رکھتا ہوں،  مصطفٰی  صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم اپنے کرم سے میری مدد فرماتے ہیں اور مجھ پر علم حق کا افاضہ فرماتے ہیں،  اور انہیں کے رب کریم کے لیے حمد ہے،  اور ان پر ابدی صلوۃ والسلام۔
 (۳) مدرس کے لیے ذی علم،  ذی فہم،  سنّی صحیح العقیدہ ہونا کافی ہے صحت عقیدہ کی جانچ کی نسبت جواب نمبر ہفتم میں گزارش ہوگی۔،  اور یہ لوگ خود معروف نہ ہوں تو اہالی نمبر نہم کی معرفت لیے جائیں اور ان سے عرض کی جائے کہ حضرات کسی سفارش ،  خوشامد،  رعایت پر کاربندی نہ فرمائیں المستشار موتمن پر۔
 (۴) نیاز مند کی چار سو تصانیف سے صرف کچھ اوپر سو اب تک مطبوع ہوئیں اور ہزاروں کی تعداد میں بلامعاوضہ تقسیم ہوا کیں جس کے سبب جو رسالہ چھپا جلد ختم ہوگیا۔ بعض تین تین چار بار چھپے۔ انجمن نعمانیہ میں غالباً رمضان المبارک ۱۳۲۰ ھ میں اس وقت تک کے تمام موجودہ رسائل میں نے خود حاضر کیے ہیں اور انجمن سے رسید بھی آگئی۔ ان کی فہرست اب فقیر کو یاد نہیں،  غالباً دفتر انجمن میں ہو۔ اگر وہ معلوم ہوجائے تو بقیہ رسائل جو ادھر چھپے اور مطبع میں ان کے نسخے رہے،  بالراس والعین نذر انجمن بلا معاوضہ ہوں گے۔ دو برس سے عنانِ مطبع ایک انجمن نے اپنے ہاتھ میں لی ہے جس نے طریقہ فقیر تقسیم کثیر بلا عوض کو منسوخ کردیا پھر بھی انجمنِ نعمانیہ کے لیے ہدیہ حاضر کرنے سے اس انجمن کو بھی انکار نہیں ہوسکتا۔
 (۵) خالص اہل سنت کی ایک قوت اجتماعی کی ضرور ضرورت ہے ،  مگر اس کے لیے تین چیزوں کی سخت حاجت ہے۔	(۱) علماء کا اتفاق  (۲) تحمل ساق قدر بالطاق۔ (۳) امراء کا اتفاق لوجہ الخلاق۔
یہاں یہ سب باتیں مفقود ہیں،
فانّا اﷲ وانّا الیہ راجعون،
ہمارے اغنیاء نام چاہتے ہیں،  معصیت بلکہ صریح ضلالت میں ہزاروں اڑادیں،  خزانوں کے منہ کھول دیں،  یونیورسٹی کے لیے کتنی جلد تیس لاکھ جمع ہوگیا۔ مدرسہ دیوبند کو ایک عورت نے پچاس ہزار دے دیا،  مگر کسی سُنی مدرسہ کو بھی یہ دن نصیب ہوا؟ اوّل تو تائیدِ دین و مذہب جن کا نام لیے گھبرائیں گے،  میاں ! یہ ان مولویوں کے جھگڑے ہیں اور شرما شرمی خفیف و ذلیل چندہ بھی مقرر کیا تو۔
لایؤدہ  الیک الا مادمت علیہ قائما ۱ ؎۔
وہ تجھے پھیر کر نہ دے گا مگر جب تک سر پر سوار ہو۔(ت)
 (۱؂ القرآن الکریم ۳/ ۷۵)
بلکہ تقاضا کیجئے تو بگڑیں اور ڈھیل دیجئے تو سورہیں،  ادھر ہمارے کارکنوں کو وہ چال وہ جال معلوم نہیں جس سے وہابیہ
خذلھم اﷲ تعالٰی ۔
 (اﷲ تعالٰی ان کو رسوا کرے،  ت) بندگانِ خدا کو چھل کر نہ صرف اپنے ہم مذہبوں بلکہ اپنے ہم مشربوں سے روپیہ اینٹھتے ہیں،  اس کے لیے ریا و نفاق ومکر و خداع و بے حیائی و بے عزتی لازم ہے،  وہ نہ آپ میں ہے نہ آپ کی شریعت اس کی اجازت دے،  پھر کہیے کام کیوں کر چلے۔ ابھی ایک نمبری وہابی ایک با اثر صوفی کے یہاںچند لینے گیا انہوں نے فرمایا سنا ہے تم احمد رضا کے مخالف ہو،  کہا حاشا میں تو اسی درکا کتّا ہوں ،  کتا بن کر پانچ سو لے آیا۔
علماء کی یہ حالت ہے کہ رئیسوں سے بڑھ کر آرام طلب ہیں،  حمایتِ مذہب کے نام سے گھبراتے ہیں،  جو بندہ خدا اپنی جان اس پر وقف کرے اسے احمق بلکہ مفسد سمجھتے ہیں۔ مداہنت ان کے دلوں میں پیری ہوئی ہے۔ ایامِ ندوہ میں ہندوستان بھر کا تجربہ ہوا۔ عباراتِ ندوہ سُن کر ضلالت ضلالت کی رَٹ لگادیں۔ اور جب کہئے حضرت لکھ دیجئے ،  بھائی لکھواؤ نہیں،  ہمارے فلاں دوست برا مانیں گے۔ہمارے فلاں استاد کو بُرا لگے گا،  بہت کو یہ خیال کہ مفت میں اوکھلی میں سردے کر موسل کون کھائے،  بدمذہب دشمن ہوجائیں گے،  دانتوں پر رکھ لیں گے۔ گالیاں،  پھبتیاں اخباروں اشتہاروں میں چھاپیں گے،  طرح طرح کے بہتان،  افتراء اچھالیں گے۔ اچھی بچھی جان کو کون جنجال میں ڈالے۔ بعض کو یہ کد کہ حمایتِ مذہب کی توصلح کھلی نہ رہے گی۔ ہر دل عزیزی جا کر پلاؤ،  قورمے،  نذرانہ میں فرق آئے گا۔ یا کم از کم آؤ بھگت تو عام نہ رہے گی۔
اتفاقِ علماء کا یہ حال کہ حسد کا بازار گرم،  ایک کا نام جھوٹوں بھی مشہور ہوا تو بہترے سچے اس کے مخالف ہوگئے اس کی توہین تشنیع میں گمراہوں کے ہم زبان بنے کہ "  ہیں"  لوگ اسے پوچھتے ہیں اور ہمیں نہیں پوچھتے۔ اب فرمائیں کہ وہ قوم کواپنے میں کسی ذی فضل کو نہ دیکھ سکے،  اپنے ناقصوں کو کامل قاصروں کو ذی فضل بنانے کی کیا کوشش کرے گی۔حاشا یہ کلیہ نہیں مگر
للاکثر حکم الکل
 ( اکثر کا حکم وہی ہوتا ہے جو کل کا ہوتا ہے۔ت)
Flag Counter