حدیث ۲۴ : صحیح مسلم میں حضرت ابی بن کعب رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی حضور شفیع المذنبین صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
اللہ تعالٰی نے مجھے تین سوال عطا فرمائے، میں نے دو بار تو دنیامیں عرض کرلی :
اللّٰھم اغفرلامّتی اللھم اغفرلامتی الہی !
میری اُمت کی مغفرت فرما، الہٰی میری اُمت کی مغفرت فرما۔الہٰی ! میری اُمت کی مغفرت فرما۔ "
واخّرت الثالثۃ لیوم یرغب الیّ فیہ الخلق حتی ابراہیم۱ ؎۔
اور تیسری عرض اس دن کے لیے اٹھا رکھی جس میں مخلوقِ الہٰی میری طرف نیاز مند ہوگی یہاں تک کہ ابراہیم خلیل اﷲ علیہ الصلوۃ والسلام۔
( ۱ ؎ مسند احمد بن حنبل عن ابی بن کعب المکتب الاسلامی بیروت ۵ /۱۲۷)
(صحیح مسلم کتاب فضائل القرآن باب بیان ان القرآن انزل علٰی سبعۃ حرف قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۲۷۳)
وصل وسلم بارک علیہ والحمد ﷲ رب العلمین۔
اور درود و سلام و برکت نازل فرما اُن پر، اور تمام تعریفیں اﷲ تعالٰی کے لیے ہیں جو سب جہانوں کا پروردگار ہے۔(ت)
حدیث ۲۵: بیہقی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے راوی حضور شفیع المذنبین صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے شبِ اسرٰی اپنے رب سے عرض کی۔ تُو نے انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کو یہ یہ فضائل بخشے، رب عزمجدہ، نے فرمایا :
اعطیتک خیراً من ذلک (الٰی قولہ) خبأت شفاعتک و لم اخبأھالنبی غیرک ۲ ؎۔
میں نے تجھے جو عطا فرمایا وہ ان سب سے بہتر ہے، میں نے تیرے لیے شفاعت چھپا رکھی اور تیرے سوا دوسرے کو نہ دی۔
( ۲ ؎ الشفاء بتعریف حقوق المصطفٰی الباب الثالث الفصل الاول المطبعۃ الشرکۃ الصحافیۃ ۱ /۱۳۴)
حدیث ۲۶ : ابن ابی شیبہ و ترمذی بافادہ تحسین وتصحیح اور ابن ماجہ و حاکم بحکم تصحیح حضرت ابی بن کعب رضی اللہ تعالٰی عنہ سے راوی حضور شفیع المذنبین صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
اذاکان یوم القیمۃ کنت امام النبیین وخطیبھم وصاحب شفاعتھم غیر فخر ۱ ؎۔
قیامت کے دن میں انبیاء کا پیشوا اور ان کا خطیب اور ان کا شفاعت والا ہوں اور یہ کچھ فخر کی راہ سے نہیں فرماتا۔
( ۱ ؎جامع الترمذی ابواب المناقب باب منہامین کمپنی دہلی ۲ /۲۰۱)
(سنن ابن ماجہ ابواب الزہد باب ذکرالشفاعۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۳۳۰)
(المستدرک للحاکم کتاب الایمان باب اذاکان یوم القیمۃ الخ دارالفکربیروت ۱/ ۷۱)
حدیث ۲۷ تا ۴۰ : ابن منیع، حضرت زید بن ارقم وغیرہ چودہ صحابہ کرام رضی اللہ تعالٰی عنہم سے راوی، حضرت شفیع المذنبین صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
شفاعتی یوم القٰیمۃ حق فمن لم یؤمن بہا لم یکن من اھلہا ۲ ؎۔
میری شفاعت روزِ قیامت حق ہے جو اس پر ایمان نہ لائے گا اس کے قابل نہ ہوگا۔
( ۲ ؎کنزالعمال بحوالہ ابن منیع عن زید بن ارقم الخ حدیث ۳۹۰۵۹ مؤستہ الرسالہ بیروت ۱۴ /۳۹۹)
منکرمسکین اس حدیثِ متواتر کو دیکھے اور اپنی جان پر رحم کرکے شفاعتِ مصطفٰے صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم پر ایمان لائے۔
"اللّٰھم انک تعلم ھدیت فٰامنّا بشفاعۃ حبیبک محمد صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فاجعلنا من اھلہا فی الدنیا والاخرۃ یا اھل التقوٰی واھل المغفرۃ واجعل اشرف صلواتک وانمی برکاتک وازکٰی تحیاتک علٰی ھذاالحبیب المجتبٰی والشفیع المرتضٰی وعلٰی اٰلہ وصحبہ دائماً ابداً امین یا ارحم الرحمین ، والحمدﷲ رب العلمین۔
اے اﷲ ! تُو جانتا ہے، بے شک تُو نے ہدایت عطا فرمائی ہے، تو ہم تیرے حبیب محمد مصطفٰے صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی شفاعت پر ایمان لائے ہیں۔
اے اﷲ! تو میں دُنیا وآخرت میں لائق شفاعت بنادے۔اے تقوٰی ومغفرت والے ! اپنا افضل درود ، اکثر برکات اور پاکیزہ تحیات بھیج اس منتخب محبوب پر جس کی شفاعت کی امید کی جاتی ہے اور آپ کی آل پر اور آپ کے صحابہ پر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے، اے بہترین رحم فرمانے والے ! ہماری دُعا کو قبول فرما۔ اور تمام تعریفیں اﷲ تعالٰی کے لیے ہیں جو سب جہانوں کا پروردگار ہے۔(ت)
مسئلہ ۱۶۶ : مسئولہ مولوی احمد شاہ ساکن موضع سادات
شبِ قدر میں تمام چیزیں مثل درخت و پتھر وغیرہ کے سجدہ کرتی ہیں یا نہیں؟
الجواب : ہاں ہر چیز سجدہ کرتی ہے، اولیاء نے اسے مشاہدہ کیا ہے، واﷲ تعالٰی علم۔
مسئلہ ۱۶۷: ازاودے پور میواڑ راجپوتانہ مدرسہ اسلامیہ ، مسئولہ مولانا مولوی سید احمد صاحب مہتم مدرسہ اسلامیہ ۱۵ ذوالقعدہ ۱۳۲۹ھ
قدوۃ العلماء زبدۃ الفقہاء حضرت مولانا صاحب دام فیوضہم، بعد سلامِ مسنون نیاز مشحون ،معروض خدمت بندگان والا ہوں، آپ کا مکرمت نامہ جس روز پہچا اُسی روز مولوی ظہیر حسن صاحب بھی پہنچے اور بخیریت ہیں، کارِ درس و تدریس انجام دے رہے ہیں، حضور نے یاد آوری بزرگانہ سی مشکور فرمایا۔ کارِ خدمت سے یاد فرمائیں۔
دیگر مکلف ہوں کہ مولوی عبدالرحیم صاحب احمد آبادی مع مولوی علاؤ الدین صاحب سندھی ساداتِ عظام وفقراء ذوی الاحترام کے پیچھے بلاوجہ پڑرہے ہیں اور طرح طرح کے الزام ان کے ذمہ لگا کر تکفیر کے فتوے منگالیے ہیں۔
اسی طرح سے فقراء سے غرضیکہ ایسی فضول باتیں کرکے بزرگانِ دین کا دل دکھاتے ہیں وجہ خاص اس کی یہ ہے کہ ان کو احمد آباد کے لوگ پہلے نہیں مانتے تھے۔ سادات اور فقراء کی حقارت کرنے میں اب پہنچ گئے۔ اس بارہ میں حضور کو اشارہ کافی ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ ایسے معاملہ میں جب تک فریقین کی جانب سے تحقیق نہ ہو تکفیر وغیرہ کا حکم نہ بخشا جائے ، اور بلاوجہ سادات وفقراء کے پیچھے پڑنا اور جڑبنیاد حقار ت کے واسطے اکھیڑنا شرعاً ناجائز ہے، چنانچہ حضرت فرید میاں صاحب سجادہ نشین حضرت خواجہ محمد حسین چشتی رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہ کی اولاد میں ہیں۔ اور اسی طرف سے قاضی احمد میاں قادر میاں صاحب قادری کی نسبتِ سادات نہ ہونے کی وعظ وغیرہ کہہ کر دل دکھا جاتے ہیں۔ سو اب بطورِ فتوٰی ارقام فرمادیں کہ حضرت شاہ فرید میاں صاحب اور قادر میاں صاحب اور احمد میاں صاحب سادات کا دکھانا اور کسرِ شان سادات و فقیراء کی کرنا اور ان سے سند طلب کرنا اور نہ ملنے پر برا کہنا کہاں تک جائز ہے۔ اور ایسا کہنے والے کی نسبت شرع شریف میں کیا حکم ہے؟سوبرائے کرم اس کا فتوٰی صاف تحریر فرمائیں زیادہ حدِ ادب ، فقیر کو بھی بوجہ غامانِ سادات ہونے کے سخت رنج ہے۔
الجواب : بگرامی ملاحظہ مکرم ذی المجدوالکرم جناب مولانا مولوی سید قاضی احمد علی صاحب مدنی دام مجد ہم۔ بعد ادائے ہدیہ سنّت ملتمس ، نوازش نامہ تشریف لایا، ممنون یاد آوری فرمایا، مولوی عبدالرحیم صاحب نے صرف ایک شخص کی نسبت مجھ سے دوبار فتوٰی لیا، ایک اس بارہ میں کہ اس نے حضرات ائمہ اطہار کو نبی و رسول بتایا، اس کے بارے میں میں نے
" جزاء اﷲ عدوہ"
لکھی جس کو طبع ہوئے بارہ برس گزرے۔دوسرا اس بارے میں کہ وہ معوذتین کو قرآن نہیں مانتا اس پر میرا فتوٰی نذیر المنافقین میں چھپا جسے سال ہوئے۔ ان کے سوا میں نے ان کوکوئی فتوٰی کسی کے کفر پر لکھ کر نہ بھیجا۔ ہاں ایک شخص کے کچھ اشعار کی نسبت سوال تھا جس میں اس نے اپنے پیر کی تعریف میں بہت غلو وافراط کیا۔ اس پر میں نے صریح کفر ہونے کا فتوٰی نہ دیا بلکہ اس میں تاویلات کی طرف اشارہ کیا۔ اور یہ دو نام جو آپ نے تحریر فرمائے ان کی بابت مجھے اصلاً یاد نہیں کہ کسی امر کا کوئی فتوٰی کیسا ہی لکھا گیا ہو۔ ہاں زید و عمر کرکے کوئی سوال انہوں نے بھیجا اور میں نے جواب لکھا ہو تو معلوم نہیں، مگر کفر کا فتوٰی صرف انہیں باتوں پر لکھا نہیں بلکہ چھاپ کر بھیجا ہے جسے ۲ اور ۷ برس ہوئے، اور اشعار والا فتوٰی بھی غالباً وہیں طبع ہوگیا ہے۔
یہ فقیر ذلیل بحمدہ تعالٰی حضرات ساداتِ کرام کا ادنٰی غلام وخاکپاہے۔ ان کی محبت و عظمت ذریعہ نجات وشفاعت جانتا ہے، اپنی کتابوں میں چھاپ چکا ہے کہ سیّد اگر بدمذہب بھی ہوجائے تو اس کی تعظیم نہیں جاتی جب تک بدمذہب حدِ کفر تک نہ پہنچے ، ہاں بعدِکفر سیادت ہی نہیں رہتی، پھر اس کی تعظیم حرام ہوجاتی ہے۔ اور یہ بھی فقیر بار ہا فتوٰی دے چکا ہے کہ کسی کو سید سمجھنے اور اس کی تعظیم کرنے کے لیے ہمیں اپنے ذاتی علم سے اسے سید جاننا ضروری نہیں، جو لوگ سید کہلائے جاتے ہیں ہم ان کی تعظیم کریں گے، ہمیں تحقیقات کی حاجت نہیں، نہ سیادت کی سند مانگنے کا ہم کو حکم دیا گیا ہے۔ اور خوا ہی نخواہی سند دکھانے پر مجبور کرنا اور نہ دکھائیں تو بُرا کہنا مطعون کرنا ہرگز جائے نہیں۔
" الناس امنأعلی انسابھم
(لوگ اپنے نسب پرامین ہیں)، ہاں جس کی نسبت ہمیں خوب تحقیق معلوم ہوکہ یہ سیّد نہیں اور وہ سید بنے اس کی ہم تعظیم نہ کریں گے نہ اسے سید کہیں گے اور مناسب ہوگا کہ ناواقفوں کو اس کے فریب سے مطلع کردیا جائے۔ میرے خیال میں ایک حکایت ہے جس پر میرا عمل ہے کہ ایک شخص کسی سیّد سے الجھا، انہوں نے فرمایا میں سیّد ہوں کہا۔
کیا سند ہے تمہارے سیّد ہونے کی۔ رات کو زیارتِ اقدس سے مشرف ہوا کہ معرکہ حشر ہے یہ شفاعت خواہ ہوا، اعراض فرمایا : اس نے عرض کی: میں بھی حضور کا امتی ہوں۔ فرمایا : کیاسند ہے تیرے امتی ہونے کی ، میں مولوی عبدالرحیم صاحب کو اس بارے میں لکھوں گا۔ اور اگر وہ ایسا کرتے ہیں تو منع کروں گا ، امید ہے کہ وہ میری گزارش قبول کریں گے۔آپ فقیر کی اسی تحریر کو فتوٰی تصوّر فرمائیں۔
فقیراحمد رضا غفرلہ از بریلی ۲۵ ذوالحجہ ۱۳۲۹ھ