| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۹(کتاب الشتّٰی ) |
حدیث ۱۶ تا ۲۱ : بخاری و مسلم و نسائی حضرت جابر بن عبداﷲ اور احمد بسندِ حسن اور بخاری تاریخ میں اور بزار اور طبرانی و بیہقی و ابونعیم حضرت عبداﷲ بن عباس، اور احمد بسندِ حسن و بزار بسندِ جیدّ و دارمی و ابن ابی شیبہ و ابویعلٰی وابونعیم وبیہقی حضرت ابوذر، اور طبرانی معجم اوسط میں بسند حضرت ابوسعید خدری، اور کبیر میں حضرت سائب بن زید، اور احمد باسنادِ حسن اور ابن ابی شیبہ و طبرانی حضرت ابوموسٰی اشعری رضی اللہ تعالٰی عنہم سے راوی :
واللفظ لجابر قال قال رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم اُوعطیت ما لم یعط احد قبلی الٰی قولہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم واعطیت الشفاعۃ۱ ؎۔
اور لفظ حضرت جابر رضی اللہ تعالٰی عنہ کے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا : " مجھے وہ کچھ عطا ہوا جو مجھ سے پہلے کسی کو نہیں دیا گیا"۔
( ۱ ؎ صحیح بخاری کتاب التیم وقولہ تعالٰی فلم تجدواماءً قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۴۸) (صحیح بخاری کتاب الصلوۃ باب قولہ النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم جعلت لی الارض مسجداً کراچی ۱ /۶۲) (صحیح مسلم کتاب المساجد ومواضع الصلوۃقدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۹۹) (سنن النسائی کتاب الغسل والتمیم باب التمیم بالصعید نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ۱ /۷۴) (مسند احمد بن حنبل عن ابن عباس رضی اللہ عنہالمکتب الاسلامی بیروت ۱ /۳۰۱) (المعجم الکبیرعن ابن عباس رضی اللہ عنہالمکتب الاسلامی بیروت ۱ /۳۰۱) (المعجم الکبیر عن ابن عباس رضی اللہ عنہ حدیث ۱۱۰۸۵ المکتب الاسلامی بیروت ۱۱ /۷۳) (مسند احمد بن حنبل عن ابی ذر المکتب الاسلامی بیروت ۵ /۱۶۲) (الترغیب و الترھیب بحوالہ البزار فصل فی الشفاعۃ مصطفٰے البابی مصر۴ /۴۳۳) (المعجم الاوسط حدیث ۷۴۳۵ مکتبۃ المعارف ریاض۸ /۲۱۲) (المعجم الکبیر عن سائب بن زید حدیث ۶۶۷۳ المکتبۃ الفیصلیہ بیروت ۷ /۱۵۵) (مسند احمد بن حنبل عن ابی موسٰی المکتب الاسلامی بیروت ۴ /۴۰۴)
ان چھیوں حدیثوں میں یہ بیان ہوا ہے کہ حضور شفیع المذنبین صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں میں شفیع مقرر کردیا گیا اور شفاعت خاص مجھی کو عطا ہوگی میرے سوا کسی نبی کو یہ منصب نہ ملا۔
حدیث ۲۲ و ۲۳: ابن عباس وابوسعید وا بو موسٰی سے انہیں حدیثوں میں وہ مضمون بھی ہے جو احمد و بخاری و مسلم نے انس اور شیخین نے ابوہریرہ (رضی اﷲ تعالٰی عنہم اجمعین) سے روایت کیا کہ حضور شفیع المذنبین صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
ان لکل نبی دعوۃ قددعا بہا فی امتہ واستجیب لہ۱؎۔ وھذااللفظ الانس ولفظ ابی سعید لیس من نبی الا وقد اُعطی دعوۃ فتعجّلہا۲ ؎۔ (ولفظ ابن عباس) لم یبق نبی الا اُعطی سؤلہ۳ ؎۔ رجعنا الٰی لفظ انس والفاظ الباقین کمثلہ معنیً قال وانی اختبات دعوتی شفاعۃ لِاُمتی یوم القٰیمۃ ۴ ؎۔(زاد موسٰی) جعلتہا لمن مات من امتی لایشرک باﷲ شیئا ۵ ؎۔
ہر نبی کے لیے ایک خاص دعا ہے جو وہ اپنی امت کے بارے میں کرچکا ہے اور وہ قبول ہوئی ہے، یہ حضرت انس رضی اللہ تعالٰی عنہ کے لفظ ہیں، اور حضرت ابوسعید رضی اللہ تعالٰی عنہ کے لفظ یوں ہیں کہ نہیں ہے کوئی نبی مگر یہ کہ اُسے ایک خاص دعا عطا ہوئی جسے اس نے دنیا میں مانگ لیا۔ ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما کے لفظ ہیں کہ کوئی نبی نہ بچا جس کو خاص دُعا عطا نہ ہوئی ہو، ہم حضرت انس رضی اللہ تعالٰی عنہ کے الفاظ کی طرف رجوع کرتے ہیں، باقی راویوں کے الفاظ معنی کے اعتبار سے اُن ہی کی مثل ہیں۔ سرکار دوعالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا ۔ میں نے اپنی دعا کو قیامت کے دن اپنی امت کی شفاعت کے لیے بچا رکھا ہے۔" ابو موسٰی نے اضافہ کیا کہ میں ہر اُس امتی کے لیے شفاعت کروں گا جو اس حال پر مرا کہ اﷲ تعالٰی کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتا تھا۔(ت)
یعنی انبیاء علیہم الصلٰوۃ والسلام کی اگرچہ ہزاروں دُعائیں قبول ہوتی ہیں مگر ایک دُعا انہیں خاص جناب باری تبارک و تعالٰی سے ملتی ہے کہ جو چاہے مانگ لو بے شک دیا جائے گا تمام انبیاء آدم سے عیسٰی تک ( علیہم الصلوۃ والسلام) سب اپنی اپنی وہ دُعا دنیا میں کرچکے اور میں نے آخرت کے لیے اٹھا رکھی، وہ میری شفاعت ہے میری امت کے لیے قیامت کے دن، میں نے اسے اپنی ساری امت کے لیے رکھا ہے جو ایمان پر دنیا سے اُٹھی۔
( ۱ ؎ صحیح بخاری کتاب الدعوات باب قول اﷲ تعالٰی ادعونی استجب لکم قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۹۳۲) ( صحیح مسلم کتاب الایمان باب اثبات الشفاعۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۱۳) (مسند احمد بن حنبل عن انس رضی اللہ تعالٰی عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۳ /۲۰۸ ) ( ۲ ؎ مسند احمد بن حنبل عن ابی سعید الخذری رضی اللہ عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۳ /۲۰) ( ۳ ؎السنن الکبری کتاب الصلوۃ باب اینما ادرکتک الصلوۃ فصل الخ دارصادر بیروت ۲ /۴۳۳) ( ۴ ؎ صحیح مسلم کتاب الایمان باب اثبات الشفاعۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۱۳) (مسند احمد بن حنبل عن انس رضی اللہ تعالٰی عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۳ /۲۰۸) ( ۵ ؎ مسند احمد بن حنبل عن ابی موسٰی الاشعری رضی اللہ عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۴ /۴۱۶)
اللّٰھم ارزقنا بجاھہ عندک اٰمین !
اے اﷲ ! ہمیں ان کی اس وجاہت کے صدقے میں عطا فرما جو اُن کو تیری بارگاہ میں حاصل ہے۔(ت) اﷲ اکبر ! اے گنہگار ان اُمّت! کیا تم نے اپنے مالک و مولٰی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی یہ کمال رأفت و رحمت اپنے حال پر نہ دیکھی کہ بارگاہِ الہٰی عزوجلالہ سے تین سوال حضور کو ملے کہ جو چاہو مانگ لو عطا ہوگا۔ حضور نے ان میں کوئی سوال اپنی ذات پاک کے لیے نہ رکھا، سب تمہارے ہی کام میں صرف فرمادیئے دو سوال دنیا میں کیے وہ بھی تمہارے ہی واسطے ، تیسرا آخرت کو اٹھا رکھا، وہ تمہاری اس عظیم حاجت کے واسطے جب اس مہربان مولٰی رؤف و رحیم آقا صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے سوا کوئی کام آنے والا، بگڑی بنانے والا نہ ہوگا۔( صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم) حق فرما یا حضرت حق عزوجل نے :
عزیز علیہ ماعنتم حریص علیکم بالمؤمنین رؤف رحیم ۱ ؎۔
اُن پر تمہارا مشقّت میں پڑنا گراں ہے، تمہاری بھلائی کے نہایت چاہنے والے، مسلمانوں پر کمال مہربان ۔(ت)
(۱ القرآن الکریم ۹/ ۱۲۸)
واﷲ العظیم !
قسم اس کی جس نے انہیں آپ پر مہربان کیا ہر گز ہر گز کوئی ماں اپنے عزیز پیارے اکلوتے بیٹے پر زنہار اتنی مہربان نہیں جس قدر وہ اپنے ایک امتی پر مہربان ہیں۔(صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم)الہٰی ! تو ہمارا عجزو ضعف اور اُن کے حقوقِ عظیمہ کی عظمت جانتا ہے۔ اے قادر ! اے واجد!ہماری طرف سے اُن پر اور اُن کی آل پر وہ برکت والی درودیں نازل فرما جو ان کے حقوق کو وافی ہوں اور ان کی رحمتوں کو مکافی۔
اللھم صلّ وسلم وبارک علیہ وعلٰی الہ وصحبہ قدر رأفتہ و رحمۃ بامتہ وقدرأفتک ورحمتک بہ اٰمین اٰمین الہ الحق امین۔
اے اﷲ ! درود و سلام اور برکت نازل فرما آپ پر، آپ کی آل پر اور آپ کے اصحاب پر جتنا کہ وہ اپنی اُمت پر مہربان ہیں اور جس قدر تو ان پر مہربان ہے۔ اے معبود برحق ! ہماری دُعا قبول فرما۔ت
سبحن اﷲ !
امتیوں نے ان کی رحمتوں کا یہ معاوضہ رکھا کہ کوئی افضلیت میں تشکیلیں نکالتا ہے۔ کوئی ان کی تعریف اپنی سی جانتا ہے، کوئی ان کی تعظیم پر بگڑ کر کرّاتاہے۔ افعالِ محبت کا بدعت نام اجلال وادب پر شرک کے احکام،
انّا ﷲ وانّا الیہ راجعون ، وسیعلم الذین ظلمواایّ منقلب ینقلبون ، ولا حول ولاقوۃ الا باﷲ العلی العظیم۔
بے شک ہم اﷲ تعالٰی کے لیے ہیں اور ہم کو اسی کی طرف لوٹنا ہے، عنقریب ظالم جان لیں گے کہ کس کروٹ پر پلٹتے ہیں، اور اﷲ بلند و عظیم کی توفیق کے بغیر نہ تو گناہ سے بچنے کی طاقت ہے اور نہ ہی نیکی کرنے کی قوت ۔(ت)