Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۹(کتاب الشتّٰی )
108 - 157
رسالہ

اسماع الاربعین فی شفاعۃ سیدالمحبوبین

(محبوبوں کے سردار کی شفاعت کے بارے میں چالیس حدیثیں سنانا)
بسم اللہ الرحمن الرحیم
مسئلہ ۱۶۵ : کیا فرماتے ہیں علماء دین اس مسئلہ میں کہ نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا شفیع ہونا کس حدیث سے ثابت ہے؟ بینوا توجروا ( بیان فرمائیے اجردیئے جاؤ گے ۔ت)
الجوا ب

الحمدﷲ البصیر السمیع والصلوۃ والسلام علی البشیر الشفیع وعلٰی الہ وصحبہ کل مساء وسطیع
سب تعریفیں اﷲ تعالٰی کے لیے جو دیکھنے والا سننے والا ہے،  اور درود و سلام نازل ہو بشارت دینے والے شفاعت کرنے والے پر اور اس کے آل و اصحاب پر ہر شام کو اور ہر صبح کو۔(ت)
سُبحان اﷲ !
ایسے سوال سُن کر تعجب آتا ہے کہ مسلمان و مدعیان سنیت اور ایسے واضح عقائد میں تشکیک کی آفت،  یہ بھی قُربِ قیامت کی ایک علامت ہے ۔"
انّا ﷲ واناّ الیہ راجعون "
احادیثِ شفاعت بھی ایسی چیز ہیں جو کسی طرح چھپ سکیں،  بیسیوں صحابہ،  صدہا تابعین،  ہزار ہا محدثین ان کے راوی ،  حدیث کی ہر گو نہ کتابیں صحاح،  سُنن،  مسانید،  معاجیم،  جوامع ،  مصنفات ان سے مالا مال۔ اہل سنت کا ہر متنفس یہاں تک کہ زنان و اطفال بلکہ دہقانی جہال بھی اس عقیدے سے آگاہ،  خدا کا دیدار محمد کی شفاعت ایک ایک بچے کی زبان پر جاری ،
صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم و بارک و شرف ومجدوکرم۔
فقیر غفرلہ اﷲ تعالٰی لہ نے رسالہ
"  سمع وطاعۃ الاحادیث الشفاعۃ"
میں بہت کثرت سے ان احادیث کی جمع و تلخیص کی، (یہاں ) بہ نہایت اجمال صرف چالیس حدیثوں کی طرف اشارت،  اور ان سے پہلے چند آیاتِ قرآنیہ کی تلاوت کرتا ہوں۔
الآیات
آیتِ اُولٰی : قال اﷲ تعالٰی
 ( اﷲ تعالٰی نے فرمایا) :
عسٰی ان یبعثک ربّک مقاما محموداً  ۱ ؎۔
قریب ہے کہ تیر ارب تجھے مقامِ محمود میں بھیجے۔
 ( ۱ ؎ القرآن الکریم     ۱۷ /۷۶)
حدیث شریف میں ہے حضور شفیع المذنبین صلی ا ﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے عرض کی گئی ،  مقامِ محمود کیا چیز ہے : فرمایا  :
ھوالشفاعۃ ۲؂۔
وہ شفاعت ہے۔
( ۲ ؎ جامع الترمذی ابواب التفسیر سورۃ بنی اسرائیل امین کمپنی دہلی ۲ /۱۴۲)
آیتِ ثانیہ : قال اﷲ تعالٰی
 ( اﷲ تعالٰی نے فرمایا):
ولسوف یعطیک ربّک فترضٰی۳ ؎۔
اور قریب تر ہے تجھے تیرا رب اتنا دے گا کہ تُو راضی ہوجائے گا۔
 ( ۳ ؎ القرآن الکریم       ۹۳/ ۵)
دیلمی مسند الفردوس میں امیر المومنین مولٰی علی کرم اﷲ تعالٰی وجہہ،  سے راوی،  جب یہ آیت اتری حضور شفیع المذنبین صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا :
اذًا لاارضٰی وواحد من امتی فی النار۴ ؎۔اللھّٰم صلّ وسلم وبارِ ک علیہ۔
یعنی جب اﷲ تعالٰی مجھ سے راضی کردینے کا وعدہ فرماتا ہے تو میں راضی نہ ہوں گا اگر میرا ایک امتی بھی دوزخ میں رہا۔
 ( ۴ ؎ مفاتیح الغیب (التفسیر الکبیر) تحت آیۃ ۹۳ /۵     المطبعۃ البہیۃ المصریۃ مصر     ۳۱ /۲۱۳)
طبرانی معجم اوسط اور بزار مسند میں جناب مولٰی المسلمین رضی اللہ تعالٰی عنہ سے راوی حضور شفیع المذنبین صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
اشفع الامتی حتی ینادینی ربی قدارضیت یا محمد فاقول ای ربّ قد رضیت۱ ؎
میں اپنی امت کی شفاعت کروں گا یہاں تک کہ میرا رب پکارے گا اے محمد! تو راضی ہوا؟ میں عرض کروں گا: اے رب میرے ! میں راضی ہوا۔
 ( ۱ ؎ المعجم الاوسط     حدیث ۲۰۸۳مکتبۃ المعارف ریاض        ۳ /۴۴)

(الترغیب الترہیب      کتاب البعث فصل فی الشفاعۃ         مصطفٰی البابی مصر        ۴ /۴۴۶)

(الدرالمنثور     تحت الآیۃ ۹۳/ ۵     مکتبۃ آیۃ اﷲ     العظمٰی قسم ایران        ۶ /۳۶۱)
آیت ثالثہ ۳: قال اﷲ تعالٰی
 (اﷲ تعالٰی نے فرمایا) :
واستغفرلذنبک وللمؤمنین والمؤمنٰت ۲ ؎۔
اے محبوب ! اپنے خاصوں اور عام مسلمان مردوں اور عورتوں کے گناہوں کی معافی مانگی۔
 ( ۲ ؎ القرآن الکریم         ۴۷ /۱۹ )
اس آیت میں اﷲ تعالٰی اپنے حبیب کریم علیہ افضل الصلوۃ والتسلیم کو حکم دیتا ہے کہ مسلمان مردوں اور مسلمان عورتوں کے گناہ مجھ سے بخشواؤ،  اور شفاعت کا ہے کا نام ہے۔
آیت رابعہ ۴ : قال اﷲ تعالٰی
 (اﷲ تعالٰی نے فرمایا) :
ولوانھم اذظلموا انفسھم جاء وک فاستغفروا اﷲ واستغفر لہم الرسول لوجد وااﷲ توّاباً رحیما ۳ ؎۔
  اور اگر وہ اپنی جانوں پر ظلم کریں،  تیرے پاس حاضر ہوں،  پھر خدا سے استغفار کریں،  اور رسول ان کی بخشش مانگے تو بیشک اﷲ تعالٰی کو توبہ قبول کرنے والا مہربان پائیں۔
 ( ۳ ؎ القرآن الکریم        ۴ /۶۴)
اس آیت میں مسلمانوں کو ارشاد فرماتا ہے کہ گناہ کرکے اس نبی کی سرکار میں حاضر ہو اور اُس سے درخواستِ شفاعت کرو،  محبوب تمہاری شفاعت فرمائے گا۔ تو ہم یقیناً تمہارے گناہ بخش دیں گے۔
آیتِ خمسہ ۵:  قال اﷲ تعالٰی
 (اﷲ تعالٰی نے فرمایا) :
واذاقیل لہم تعالوا یستغفر لکم رسول اﷲ لوّوا رء وسھم ۱ ؎۔
جب ان منافقوں سے کہا جائے کہ آؤ رسول اﷲ تمہاری مغفرت مانگیں تو اپنے سر پھیر لیتے ہیں۔
( ۱ ؎ القرآن الکریم ۶۳ /۵)
اس آیت میں منافقوں کا حال بد مآل ارشاد ہوا کہ وہ حضور شفیع المذنبین صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے شفاعت نہیں چاہتے،  پھر جو آج نہیں چاہتے وہ کل نہ پائیں گے۔ اﷲ دنیا و آخرت میں ان کی شفاعت سے بہرہ مند فرمائے۔ ؎

حشر میں ہم بھی سیر دیکھیں گے	منکر آج ان سے التجا نہ کرے
وصلی اﷲ تعالٰی علٰی شفیع المذنبین واٰلہ وصحبہ وحزبہ اجمعین ۔
اﷲ تعالٰی درودنازل فرمائے گنہگاروں کی شفاعت فرمانے والے پر اور ان کی آل،  اصحاب اور تمام امت پر۔(ت)
Flag Counter