صحیح حدیثوں میں آیا کہ " جو مسلمان کو کافر کہے خود کافر ہے ۱ ؎۔
( ۱صحیح البخاری کتاب الادب باب من اکفر اخاہ بغیر تاویل قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۹۰۱)
(صحیح مسلم کتاب الایمان باب بیان حال الایمان من قال الخیہ المسلم یا کافر قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۵۷)
اور بہت ائمہ دین نے مطلقاً اس پر فتوٰی دیا جس کی تفصیل فقیر نے اپنے رسالہ
" النھی الاکیدعن الصلوۃ وراء عدی التقلید "
میں ذکر کی۔ ہم اگرچہ بحکم احتیاط تکفیر نہ کریں تاہم اس قدر میں کلام نہیں کہ ایک گروہ ائمہ کے نزدیک یہ حضرات کہ یارسول اللہ و یاعلی و یا حسین و یا غوث الثقلین کہنے والے مسلمانوں کو کافر و مشرکین کہتے ہیں خود کافر ہیں تو ان پر لازم کہ نئے سِرے سے کلمہ اسلام پڑھیں اور اپنی عورتوں سے نکاح جدید کریں۔
درمختار میں ہے :
مافیہ خلاف یؤمر بالاستغفار و التوبۃ وتجدید النکاح ۲ ؎۔
اور جس چیز کے کفر میں اختلاف ہو اس کے مرتکب کو استغفار و توبہ اور تجدید نکاح کا حکم دیا جائے گا۔(ت)
(۲ الدرالمختار کتاب الجھاد باب المرتد مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۵۹ )
فائدہ : حضور سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو نداء کرنے کے عمدہ دلائل سے " التحیات" ہے جسے ہر نمازی ہر نماز کی دو رکعت پر پڑھتا ہے اوراپنے نبی کریم علیہ افضل الصلوۃ والتسلیم سے عرض کرتا ہے
السلام علیک ایہاالنبی و رحمۃ اﷲ وبرکاتہ سلام
حضور پر اے نبی اور اﷲ کی رحمت اور اس کی برکتیں۔
اگر ندا معاذ اﷲ شرک ہے، تو یہ عجب شرک ہے کہ عین نماز میں شریک و داخل ہے۔
ولاحول ولاقوۃ الا باﷲ العلی العظیم ۔
اور یہ جاہلانہ خیال محض باطل کہ التحیات زمانہ اقدس سے ویسے ہی چلی آتی ہے تو مقصود ان لفظوں کی ادا ہے نہ کہ نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی نداء حاشا وکلا شریعتِ مطہرہ نے نماز میں کوئی ایسا ذکر نیں رکھا ہے جس میں صرف زبان سے لفظ نکالے جائیں اور معنی مراد نہ ہوں، نہیں نہیں بلکہ قطعاً یہی درکار ہے ۔
التحیاتُ ﷲ والصلوات
سے حمدِ الہٰی کا قصد رکھے اور
السلام علیک ایھاالنبی و رحمۃ اﷲ وبرکاتہ،
سے یہ ارادہ کرے کہ اس وقت میں اپنے نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو سلام کرتا اور حضور سے بالقصد عرض کررہا ہوں کہ سلام حضور اے نبی اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں۔
فتاوائے عالمگیری میں شرح قدوری سے ہے :
لایّدَّ من ان یقصد بالفاظ التشہد معا نیہا التی وضعت لہا من عندہ کانہ یُحیِّ اﷲ تعالٰی ویسلم علی النبی صلی اللہ تعالٰی علی وسلم وعلٰی نفسہ وعلٰی اولیاء اﷲ تعالٰی ۱ ؎۔
تشہد کے الفاظ سے ان معانی کا قصد کرنا ضروری ہے جن کے لیے ان الفاظ کو وضع کیا گیا ہے اور جو نمازی کی طرف سے مقصود ہوں ہوں۔ گویا کہ نماز ی اﷲ تعالٰی کی بارگاہ میں نذرانہ عبادت پیش کررہا ہے، اور نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم پر، خود اپنی ذات پر اور اولیاء اﷲ پر سلام بھیج رہا ہے۔(ت)
( ۱ ؎الفتاوٰی الھندیۃ کتاب الصلوۃ الفصل الثانی نورانی کتب خانہ پشاور ۱ /۷۲)
تنویر الابصار اور اس کی شرح دُرمختار میں ہے :
(ویقصدبالفاظ التشہد) معانیہا مرادۃ لہ علٰی وجہ (الانشاء) کانہ یحیّ اﷲ تعالٰی ویسلم علٰی نبیہ و علٰی نفسہ واولیائہ (لاالاخبار) عن ذلک ذکرہ، فی المجتبٰی ۲ ؎۔
الفاظِ تشہد سے اُن کے معانی مقصودہ کابطور انشآء قصد کرے ، گویا کہ وہ اﷲ تعالٰی کی بارگاہ میں اظہارِ بندگی کررہا ہے اور اس کے نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم، خود اپنی ذات اور اولیاء اﷲ پر سلام بھیج رہا ہے، ان الفاظ سے حکایت و خبر کا قصد نہ کرے اس کو مجتبی میں ذکر کیا ہے۔(ت)
( ۲ ؎الدرالمختار شرح تنویر الابصار کتاب الصلوۃ باب صفۃ الصلوۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۷۷ )
علامہ حسن شرنبلالی مراقی الفلاح شرح نور الایضاح میں فرماتے ہیں :
قصد کرے معنی مقصودہ کا بایں طور کہ نمازی اپنی طرف سے تحیّہ اور سلام پیش کررہا ہے۔ت)
( ۱ ؎مراقی الفلاح علی ھامش حاشیۃ الطحطاوی کتاب الصلوۃ نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ص۱۵۵)
اسی طرح بہت علماء نے تصریح فرمائی۔ اس پر بعض سفہائے منکرین یہ عذر گھڑتے ہیں کہ صلوۃ وسلام پہنچانے پر ملائکہ مقرر ہیں تو ان میں ندا ء جائز اور ان کے ماوراء میں ناجائز ، حالانکہ یہ سخت جہالت بے مزہ ہے قطع نظر بہت اعتراضوں سے جو اس پر وارد ہوتے ہیں ان ہوشمندوں نے اتنا بھی نہ دیکھا کہ صرف درود و سلام ہی نہیں بلکہ اُمت کے تمام اقوال و افعال و اعمال روزانہ دو قت سرکار عرش وقار حضور سیدالابرار صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم میں عرض کیے جاتے ہیں۔ احادیث کثیرہ میں تصریح ہے کہ مطلقاً اعمالِ حسنہ و سیّہ سب حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی بارگاہ میں پیش ہوتے ہیں، اور یونہی تمام انبیائے کرام علیہم الصلوۃ والسلام اور والدین و اعزاء و اقارب سب پر عرضِ اعمال ہوتی ہے۔ فقیر نے اپنے رسالہ
"سلطنۃ المصطفٰی فی ملکوت کل الورٰی "
میں وہ سب حدیثیں جمع کیں ، یہاں اسی قدر بس ہے کہ امام اجل عبداﷲ بن مبارک رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہ حضرت سعید بن المسیب رضی اللہ تعالٰی عنہما سے راوی :
لیس من یومٍ الاوتعرض علی النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم اعمال اُمّتہ غدوۃ وعشیاّ فیعرفھم بسیماھم واعمالھم ۲ ؎۔
یعنی کوئی دن ایسا نہیں جس میں سیّد عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم پر اعمالِ اُمت ہر صبح و شام پیش نہ کیے جاتے ہوں، تو حضور کا اپنے امتیوں کو پہچاننا ان کی علامت اور ان کے اعمال دونوں وجہ سے ہے۔( صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم وعلٰی آلہ وصحبہ وشرف وکرم)۔
( ۲ ؎المواھب اللدنیہ بحوالہ ابن المبارک عن سعید ابن مسیب المقصد الرابع الفصل الثانی بیروت ۲ /۶۹۷ )
فقیر غفراﷲ تعالٰی لہ، بتوفیق اﷲ عزوجل
اس مسئلے میں ایک کتاب مبسوط لکھ سکتا ہے مگر منصف کے لیے اسی قدر دانی ، اور خدا ہدایت دے تو ایک حرف کافی۔
اے کفایت فرمانے والے ! ہماری طرف سے گمراہ کرنے والوں کے شرکا دفاع فرما۔ ہمارے آقا و مولٰی محمد مصطفٰی پر درود نازل فرما۔ جو شفاء عطا فرمانے والے ہیں اور آپ کے آلِ و اصحاب پر جو دین صافی کے حمایتی ہیں آمین