Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۹(کتاب الشتّٰی )
106 - 157
یہی شاہ صاحب قصیدہ " مدحیہ حمزیہ"  میں لکھتے ہیں :
ینادی ضارعاً لخضوع قلب	 	وذلّ وابتھال والتجاء

رسول اﷲ یا خیرالبرایا	        نوالک ابتغی یوم القضاء

اذا ما حلّ خطب مدلھم    	     فانت الحصن من کل البلاء

الیک توجھی وبک استنادی  	    وفیک مطامعی وبک ارتجائی ۲ ؎
اور خود ہی اس کی شرح و ترجمہ میں لکھتے ہیں :
فصل شمشم درمخاطبہ جناب عالی علیہ افضل الصلوات واکمل التحیات والتسلیمات ندا کند زادوخوارشدہ بشکستگی دل و اظہار بے قدری خود بہ اخلاص درمناجات و بہ پناہ گرفتن بایں طریق کہ اے رسولِ خدا اے بہترین مخلوقات عطائے مے خواہم روز فیصل کردن ،  وقتے کہ فرود آید کار عظیم درغایت تاریکی پس توئی پناہ ازہر بلا بسوئے تست رو آوردن من و بہ تست پناہ گرفتن من و درتست امید داشتنِ من اھ ملخصاً ۳؂ "
چھٹی فصل عالی مرتبت سرور عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو پکارنے کے بیان میں۔ آپ پر بہترین درود اور کامل ترین سلام ہو۔ ذلیل و خوار شخص شکستہ دل ،  ذلت و رسوائی عجزو انکسار کے ساتھ پناہ طلب کرتے ہوئے یوں پکارتا ہے،  اے اللہ تعالٰی کے رسول،  اے بہترین خلق ! میں فیصلے کے دن آپ کی عطا کا طلبگار ہوں،  جب انتہائی اندھیرے میں بہت بڑی مصیبت نازل ہو تو ہر بلائیں پناہ گاہ تو ہی ہے۔ میری توجہ تیری طرف ہے،  تجھ ہی سے میں پناہ لیتا ہوں،  تجھ ہی سے طمع وامید رکھتا ہوں اھ ملخصاً (ت)
 ( ۲ ؎اطیب النغم فی مدح سیدالعرب والعجم     فصل ششم     مطبع مجتبائی دہلی    ص۳۳)

 ( ۳ ؎اطیب النغم فی مدح سیدالعرب والعجم     فصل ششم     مطبع مجتبائی دہلی    ص۳۳ و ۳۴)
یہی شاہ صاحب "  انتباہ فی سلاسل اولیاء اﷲ"  میں قضائے حاجت کے لیے ایک ختم کی ترکیب یوں نقل کرتے ہیں۔

اوّل دورکعت نفل،
بعد ازاں یک صدو یازدہ بار درود و بعدازاں یک صدو یازدہ بار کلمہ تمجید ویک صدو یازدہ بارشیئاً ﷲ یا شیخ عبدالقادر جیلانی  ۱ ؎۔
پہلے دو رکعت پڑھے پھر ایک سو گیارہ بار درود شریف،  ایک سو گیارہ بار کلمہ تمجید ،  پھر ایک سو گیارہ بار یہ پڑھے،  اے شیخ عبدالقادر جیلانی خدارا کچھ عطا فرمائیں۔(ت)
 (۱؂ الانتباہ فی سلاسل اولیاء اللہ)
نوٹ  : الانتباہ دو حصوں پر مشتمل ہے ، پہلے حصہ میں سلاسلِ طریقت بیان کیے گیے ہیں اور دوسرے حصہ میں فقہ و حدیث کی سندیں بیان کی گئی ہیں  دوسرا حصہ مکتبہ سلفیہ لاہور نے "وصّاف النبیہ " کے نام سے شائع کیا تھا، ناشر نے مقدمہ میں تصریح کی ہے کہ اس حصہ کا ایک باب نہیں مل سکا اور وہ کچھ ضروری بھی نہ تھا، غالباً  یہ حوالہ اسی "غیر ضروری " حصہ میں قلم زد ہوگیا ہے ۱۲ شرف قادری
اسی انتباہ سے ثابت کہ یہی شاہ صاحب اور ان کے شیخ و استاذ حدیث مولانا طاہر مدنی جن کی خدمت میں مدتوں رہ کر شاہ صاحب نے حدیث پڑھی اور ان کے شیخ وا ستاذ و والد مولٰینا ابراہیم کُردی اوران کے استاذ الاستاذ مولٰینا احمد نخلی کہ یہ چاروں حضرات بھی شاہ صاحب کے اکثر سلاسلِ حدیث میں داخل اور شاہ صاحب کے پیرو مرشد شیخ محمد سعید لاہوری جنہیں انتباہ میں "شیخ معمر تقہ کہا اور اعیان مشائخ طریقت سے گنا اور ان کے پیرشیخ محمد اشرف لاہوری اور ان کے شیخ مولینا عبد المالک اور ان کے مرشد شیخ بایزید ثانی اور شیخ شناوی کے پیر حضرت سید صبغۃ اﷲ بروجی اور ان دو صاحبوں کے پیرو مرشد مولانا وجیہ الدین علوی شارح ہدایہ و شرح وقایہ اور ان کے شیخ حصرت شاہ محمد غوث گوالیاری علیہم رحمۃ الملک الباری،  یہ سب اکابر نادِ علی کی سندیں لیتے اور اپنے تلامذہ و مستفیدین کو اجازتیں دیتے اور یا علی یا علی کا وظفیہ کرتے واﷲ الحجۃ السامیہ،  جسے اس کی تفصیل دیکھنی ہو فقیرکے رسالہ
"  انھارالانوار وحیات الموات فی بیان سماع الاموات "
کی طرف رجوع کرے۔
شاہ عبدالعزیز صاحب نے بُستان المحدثین میں حضرتِ ارفع واعلٰی امام العلما نظام الاولیا حضرت سیدی احمد زرّوق مغربی قدس سرہ استاذ شمس الدین لقانی و امام شہاب الدین قسطلانی شارح صحیح بخاری کی مدحِ عظیم لکھی کہ وہ جناب ابدالِ سبعہ ومحققین صوفیہ سے ہیں،  شریعت و حقیقت کے جامع،  باوصفُ علوّباطن،  ان کی تصانیف علومِ ظاہری میں بھی نافع و مفید وبکثرت ہیں ،  اکابر علماء فخر کرتے ہیں کہ ہم ایسے جلیل القدر عالم و عارف کے شاگرد ہیں،  یہاں تک کہ لکھا :
"  بالجملہ مردے جلیل القدر ے ست کہ مرتبہ کمالِ اُوفوق الذکراست " ۔
خلاصہ یہ کہ وہ بڑی قدرو منزلت والے بزرگ ہیں کہ ان کا مقام و مرتبہ ذکر سے ماوراء ہے۔ (ت)
پھر اس جناب جلالت مآب کے کلامِ سے دو بیتیں نقل کیں کہ فرماتے ہیں، ع
انا لمریدی جامع لشتات 	         اذا ماسطاجورُ الزمان بنکبتہ

وان کنت فی ضَیقٍ وکربٍ ووحشۃٍ	فنادبیازرّوق اٰت بسُرعتہ۱ ؎
یعنی میں اپنے مرید کی پریشانیوں میں جمعیت بخشنے والا ہوں جب ستمِ زمانہ اپنی نحوست سے اس پر تعدی کرے اور توتنگی و تکلیف و وحشت میں ہو تو یوں نداء کر: یازروق میں فوراً آ موجود ہوں گا۔
 ( ۱؂ بستان المحدثین      حاشیہ سید زروق فاسی علیالنجاری ایچ ایم سعید کمپنی کراچی      ص۳۲۲ )
علامہ زیادی،  پھر علامہ اجہوری صاحبِ تصانیفِ کثیرہ مشہورہ پھر علامہ داؤدی محشی شرح منہج ،  پھر علامہ شامی صاحبِ ردالمحتار حاشیہ درمختار گم شدہ چیز ملنے کے لیے فرماتے ہیں کہ : بلندی پر جا کر حضرت سیّدی احمد بن علوان یمنی قدس سرہ،  کے لیے فاتحہ پڑھے پھر انہیں نداء کرے کہ یا سیدی احمد یا ابن علوان۲ ؎۔
 ( ۲؂ حواشی الشامی علی ردالمحتار         کتاب اللقطہ          دار احیاء التراث العربی بیروت    ۳/ ۳۲۴ )
شامی مشہور و معروف کتاب ہے،  فقیر نے اس کے حاشیہ کی یہ عبارت اپنے رسالہ حیاۃ الموات کے ہامش تکملہ پر ذکر کی۔

غرض یہ صحابہ کرام سے اس وقت ت ک کے اس قدر ائمہ اولیاء و علماء ہیں جن کے اقولِ فقیر نے ایک ساعتِ قلیلہ میں جمع کیے۔ اب مشرک کہنے والوں سے صاف صاف پوچھنا چاہیے کہ عثمان بن حنیف و عبداﷲ بن عباس و عبداﷲ بن صحابہ کرام رضیا للہ تعالٰی عنہم سے لے کر شاہ ولی اﷲ و شاہ عبدالعزیز صاحب اور ان کے اساتذہ و مشائخ تک سب کو کافر و مشرک کہتے ہو یا نہیں؟ اگر انکار کریں تو الحمدﷲ ہدایت پائی اور حق واضح ہوگیا اور بے دھڑک ان سب پر کفر و شرک کا فتوٰی جاری کریں تو ان سے اتنا کہئے کہ اﷲ تمہیں ہدایت کرے۔ ذرا آنکھیں کھول کر دیکھو تو کسے کہا اور کیا کچھ کہا
"  انّا ﷲ وانّا الیہ راجعون "
اور جان لیجئے کہ مذہب کی بنا پر صحابہ سے لے کر اب تک کے اکابر سب معاذ اﷲ مشرک و کافر ٹھہریں۔ وہ مذہب خدا و رسول کو کس قدر دشمن ہوگا۔
Flag Counter