اسی میں سیدی موسٰی ابو عمران رحمہ اﷲ تعالٰی کے ذکر میں لکھتے ہیں :
کان اذا ناداہُ مریدہ ، اجابہ من مسیرۃِ سنۃٍ اواکثر ۲ ؎ ۔
جب ان کا مرید جہاں کہیں سے انہیں نداء کرتا جواب دیتے اگرچہ سال بھر کی راہ پر ہوتا یا اس سے بھی زائد۔
(۲ ؎الو قح الانوار فی طبقا ت الاخیار ترجمہ ۳۱۳ الشیخ محمد بن احمد الفرغل مصطفٰی البابی مصر ۲ /۲۱)
حضرت شیخ محقق مولانا عبدالحق محدث دہلوی اخبار الاخیار شریف میں ذکر مبارک حضرت سید اجل شیخ بہاء الحق والدین بن ابراہیم عطا ء اﷲ الانصاری القادری الشطاری الحسینی رضی اللہ تعالٰی عنہ میں حضرت ممدوح کے رسالہ مبارکہ شطاریہ سے نقل فرماتے ہیں۔
ذکرِ کشفِ ارواح یا احمد یا محمد در دو طریق ست ، یک طریق آنست یا احمد را در راستابگوید و یا محمد را درچپا بگوید و دردل ضرب کند یا رسول اﷲ طریق دوم آنست کہ یا احمد را در راستا گوید وچپا یا محمد و در دل و ہم کندیا مصطفٰی دیگر ذکر یا احمد یا محمد یا علی یا حسن یا حسین یا فاطمہ شش طرفی ذکر کندکشف جمیع ارواح شود دیگر اسمائے ملائکہ مقرب ہمیں تاثیر دارند یا جبریل، یا میکائیل یا اسرافیل یا عزرائیل چہار ضربی ، دیگر ذکر اسم شیخ یعنی بگوید یا شیخ یا شیخ ہزار بار بگوید کہ حرفِ نداء را ازدل بکشدطرف راستابرد و لفظ شیخ را در دل ضرب کند ۱ ؎۔
کشف ارواح کے ذکریا احمد و یا محمد میں دو طریقے ہیں پہلا طریقہ یہ ہے کہ یا احمد دائیں طرف اور یا محمد بائیں طرف سے کہتے ہوئے دل پر یارسول اﷲ کی ضرب لگائے دوسرا طریقہ یہ ہے کہ یا احمد دائیں طرف اور یا محمد بائیں طرف سے کہتے ہوئے دل میں یا مصطفٰی کا خیال جمائے۔ اس کے علاوہ دیگر اذکار یا محمد ، یا احمد، یا علی ، یا حسن، یا حسین، یا فاطمہ کا چھ طرفی ذکر کرنے سے تمام ارواح کا کشف حاصل ہوجاتا ہے۔ مقرب فرشتوں کے ناموں کا ذکر بھی تاثیر رکھتا ہے، یا جبرائیل، یا میکائیل ، یا اسرافیل ، یا عزرائیل کا چار ضربی ذکر کرے، نیز اسم شیخ کا ذکر کرتے ہوئے یا شیخ یا شیخ ہزار بار اس طرح کرے کہ حرفِ ندا کو دل سے کھینچتے ہوئے دائیں طرف لے جائے اور لفظِ شیخ سے دل پر ضرب لگائے۔(ت)
( ۱ ؎ اخبار الاخبار ترجمہ شیخ بہاؤ الدین ابراہیم عطاء اﷲ انصاری مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ص۱۹۹)
(نفحات الانس ترجمہ مولانا جلال الدین رومی، کتاب فروشی محمودی ص ۴۶۲ و ۴۶۳)
حضرت سیدی نور الدین عبدالرحمن مولانا جامی قدس سرہ السامی نفحات الانس شریف میں حضرت مولوی معنوی قدس سرہ العلی کے حالات میں لکھتے ہیں کہ مولانا روح اﷲ روحہ، نے قریب انتقال ارشاد فرمایا :
ازرفتینِ من غمناک مشوید کہ نور منصور رحمۃ اﷲ تعالٰی بعد ازصدو پنجاہ سال برروحِ شیخ فرید الدین عطار رحمہ اﷲ تعالٰی تجلّٰی کردو مرشد او شد ۲؎ ۔
ہمارے جانے سے غمگین مت ہوں کہ حضرت منصور علیہ الرحمہ کا نور ایک سو پچاس سال بعد شیخ فرید الدین عطار کی روح پر تجلی کرتے ہوئے ان کا مرشد ہوگیا۔ (ت)
(۲ ؎ نفحات الانس ترجمہ مولانا جلال الدین رومی کتاب فروشی محمودی ص ۴۶۲ و ۴۶۳)
اور فرمایا :
درہرحالتے کہ باشید مرا یاد کنید تامن شمارا مِمدباشم درہرلبا سے کہ باشم ۳ ؎۔
تم جس حالت میں رہو مجھے یاد کرو تاکہ میں تمہارا مددگار بنوں میں چاہے جس لباس میں ہوں۔(ت)
(۳ ؎ نفحات الانس ترجمہ مولانا جلال الدین رومی، کتاب فروشی محمودی ص ۴۶۲ و ۴۶۳)
اور فرمایا:
در عالم مارا دو تعلق ست، یکے بہ بدن و یکے بشما ، و چوں بہ عنایت ِ حق سبحانہ و تعالٰی فردومجرد شوم و عالم تجرید و تفرید روئے نماید آں تعلق نیز ازآں شما خواہد بود ۱ ؎۔
دنیا میں ہمارےدو تعلق ہیں ایک بدن کے ساتھ اور دوسرا تمہارے ساتھ، جب حق تعالٰی کی عنایت سے میں فرد و مجرد ہوجاؤں گا اور عالمِ تفرید و تجرید ظاہر ہوجائے گا تو یہ تعلق بھی تمہارے لیے ہوگا۔ (ت)
( ۱ ؎ نفحات الانس ترجمہ مولانا جلال الدین الرومی کتاب فروشی محمودی ص ۴۶۲و ۴۶۳)
شا ہ ولی اﷲ صاحب دہلوی اطیب النغم فی مدح سیّدالعرب والعجم میں لکھتے ہیں۔
وصلّٰی علیک اﷲ یا خیر خلقہ ویاخیرمامول ویاخیرَ واھب
ویاخیرمن یرجٰی لکشف رَزِیّۃٍ ومن جودہ، قد فاق جودالسحائب
وانت مجیری من ھجوم مُلمَّۃٍ اذا انشبت فی القلب شرّ المخالب۲ ؎
اور خود اس کی شرح وترجمہ میں کہتے ہیں:
(فصل یازدہم در ابتہال بجناب آنحضرت صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم) رحمتِ فرستد برتو خدائے تعالٰی اے بہترین خلقِ خدا ، واے بہترین کسیکہ امید داشتہ شود، اے بہترین عطا کنندہ وائے بہترین کسیکہ امیدداشتہ باشد برائے ازالہ مصیبتے واے بہترین کسیکہ سخاوتِ او زیادہ است از باراں، بارہا گواہی میدہم کہ تو پناہ دہندہ منی از ہجوم کردن مصیبتے وقتے کہ بخلاند در دل بدترین چنگالہارا ۳ ؎ اھ ملخصاً
(گیارھویں فصل حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی بارگاہ میں عاجزانہ فریاد کے بارے میں) اے خلقِ خدا سے بہتر! آپ پر اﷲ تعالٰی درود بھیجے، اے بہترین شخص جس سے امید کی جاتی ہے اور اے بہترین عطا کرنے والے اے بہترین شخص کہ مصیبت کو دور کرنے میں جس سے امید رکھی جاتی ہے، اور جس کی سخاوت بارش پر فوقیت رکھتی ہے۔ آپ ہی مجھے مصیبتوں کے ہجوم سے پناہ دینے والے ہیں جب وہ میرے دل میں بدترین پنجے گاڑتی ہیں۔(ت)
( ۲ ؎ اطیب النغم فی مدح سید العرب والعجم فصل یازدہم مجتبائی دہلی ص ۲۲)
( ۳ ؎ اطیب النغم فی مدح سید العرب والعجم فصل یازدہم مجتبائی دہلی ص ۲۲)
اسی کے شروع میں لکھتے ہیں :
ذکر بعد حوادث زماں کہ دراں حوادث لابدست ازاستمدا د بروحِ آنحضرت صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم۴ ۔
بعض حوادثِ زمانہ کا ذکرجن حوادث میں حضور انور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی روح اقدس سے مدد طلب کرنا ضروری ہے۔ت)
( ۴ ؎ اطیب النغم فی مدح سید العرب والعجم فصل اول مجتبائی دہلی ص ۲)
اسی کی فصل اول میں لکھتے ہیں :
بہ نظرنمی آیدمرامگر آنحضرت صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کہ جائے دست زدن اندوہگین ست در ہرشد تے ۱ ؎ ۔
مجھے حضور انور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے سوا کوئی نظر نہیں اتا کیونکہ ہر سختی میں غمزدوں کی پناہ گاہ آپ ہی ہیں۔(ت)
( ۱ ؎اطیب النغم فی مدح سیدالعرب والعجم فصل اول مجتبائی دہلی ص۴)