Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۹(کتاب الشتّٰی )
104 - 157
اکابر علمائے کرام و اولیائے عظام مثل امام ابوالحسن نور الدین علی بن جریر لخمی شطنوفی وامام عبداﷲ بن اسد یافعی مکّی ،  مولانا علی قاری مکی صاحبِ مرقاۃ شرح مشکوۃ ،  مولینٰا ابوالمعالی محمد سلمی قادری و شیخ محقق مولانا عبدالحق محدثِ دہلوی وغیرہم رحمۃ اﷲ علیہم اپنی تصانیف جلیلہ بہجۃ الاسرار و خلاصۃ المفاخر و نزہۃ الخاطر وتحفہ قادریہ وزبدۃ الآثار وغیرہا میں یہ کلمات رحمت آیات حضور غوثِ اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ سے نقل و روایت فرماتے ہیں۔
یہ امام ابوالحسن نور الدین علی مصنف ِ بہجۃ الاسرار شریف اعاظمِ علماء وآئمۃ قراء ت و اکابر اولیاء وساداتِ طریقت سے ہیں،  حضور غوث الثقلین رضی اللہ تعالٰی عنہ تک صرف دو واسطے رکھتے ہیں،  امام اجل حضرت ابوصالح نصر قدس سرہ،  سے فیض حاصل کیا انہوں نے اپنے والد ماجد حضرت ابوبکر تاج الدین عبدالرزاق نور اﷲ مرقدہ،  سے انہوں نے اپنے والد ماجد حضور پُر نور سیدالسادات غوث اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ سے،
شیخ محقق رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہ زبدۃ الآثار شریف میں فرماتے ہیں : یہ کتاب بجۃ الاسرار کتاب عظیم و شریف و مشہور ہے اور اس کے مصنف علمائے قراء ت سے عالم معروف و مشہور اور ا ن کے احوالِ شریفہ (عہ) کتابوں میں مذکور و مسطور  ۱ ؎۔
عہ : اما م جلال الدین سیوطی نے ان جناب کو الامام الاوحد لکھا یعنی امام یکتا بے نظیر
 (۱؂ زبدۃ الاثار      بکسلنگ کمپنی بمبئی    ص ۲)
امام شمس الدین ذہبی کہ علمِ حدیث و اسماء الرجال میں جن کی جلالت شان عالم آشکار اس جنا ب کی مجلس درس میں حاضر ہوئے اور اپنی کتاب طبقات المقرئین میں ان کے مدائح لکھے۔

امام محدث محمد بن محمد بن الجزری مصنفِ حصن حصین اس جناب کے سلسلہ  تلامذہ میں ہیں انہوں نے یہ کتاب مسطاب بہجۃ الاسرار شریف اپنے شیخ سے پڑھی اور اس کی سند و اجازت حاصل کی ۲ ؎۔
 (۲؂  زبدۃ الاثار      بکسلنگ کمپنی بمبئی    ص ۲)
ان سب باتوں کی تفصیل اور اس نماز مبارک کا دلائل شرعیہ و اقوال وافعالِ علماء وا ولیاء سے ثبوتِ جلیل فقیر غفر اﷲ تعالٰی لہ، کے رسالہ
انہار الانوار من یم صلوۃ الاسرار
میں ہے ۔
فعلیک بما تجدفیہا مایشفی الصدورویکشف العمٰی والحمدﷲ ربّ العلمین۔
اس رسالہ کا مطالعہ تجھ پر لازم ہے اس میں تُو وہ کچھ پائے گا جو دلوں کو شفا دیتا ہے اور اندھا پن کو دور کرتا ہی اور سب تعریفیں اﷲ تعالٰی کے لیے ہیں جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے۔(ت)
امام عارف باﷲ سیدی عبدالوہاب شعرانی قدس سرہ ربانی کتاب مستطاب "  لوا قح الانوار فی طبقات الاخیار"  میں فرماتے ہیں :
امام عارف باﷲ سیدی عبدالوہاب شعرانی قدس سرہ ربانی کتاب مستطاب "  لوا قح الانوار فی طبقات الاخیار"  میں فرماتے ہیں :  سیدی محمد غمری رضی اللہ تعالٰی عنہ کے ایک مرید بازار میں تشریف لیے جاتے تھے ان کے جانور کا پاؤں پھسلا،  باآواز پکارا
یا سیدی محمد یا غمری ،
ادھر ابن عمر حاکمِ صعید کو بحکم سلطان چقمق قید کیے لیے جاتے تھے،  ابن عمر نے فقیر کا نداء کرنا سُنا ،  پوچھا یہ سیدی محمد کون ہیں؟ کہا میرے شیخ کہا میں ذلیل بھی کہتا ہوں،
یا سیدی یا غمری لاحِظنی
اے میرے سردار اے محمد غمری ! مجھ پر نظر عنایت کرو،  ان کا یہ کہنا کہ حضرت سیّدی محمد غمری رضی اللہ تعالٰی عنہ تشریف لائے اور مدد فرمائی کہ بادشاہ اور اس کے لشکریوں کی جان پر بن گئی،  مجبورانہ ابن عمر کو خلعت دے کر رخصت کیا ۱ ؎۔
 ( ۱ ؎لوا قح الانوار فی طبقات الاخیار     ترجمہ ۳۲۴ الشیخ محمد الغمری     مصطفٰی البابی مصر     ۲ /۸۸)
اسی میں ہے :

 سیدی شمس الدین محمد حنفی رضی اللہ تعالٰی عنہ اپنے حجرہ خلوت میں وضو فرمارہے تھے ناگاہ ایک کھڑاؤں ہوا پر پھینکی کے غائب ہوگئی حالانکہ حجرے میں کوئی راہ اس کے ہوا پر جانے کی نہ تھی۔ دوسری کھڑاؤں اپنے خادم کو عطا فرمائی کہ اسے اپنے پاس رہنے دے جب تک وہ پہلی واپس آئے،  ایک مدت کے بعد ملکِ شام سے ایک شخص وہ کھڑاؤں مع اور ہدایا کے حاضر لایا اور عرض کی کہ اﷲ تعالٰی حضرت کو جزائے خیر دی جب چور میرے سینہ پر مجھے ذبح کرنے بیٹھا میں نے اپنے دل میں کہا ۔
"  یاسیدی محمد یا حنفی "
اُسی وقت یہ کھڑاؤں غیب سے آکر اس کے سینہ پر لگی کہ غش کھا کر الٹا ہوگیا اور مجھے یہ برکتِ حضرت اﷲ عزوجل نے نجات بخشی۲ ؎۔
( ۲ ؎ لواقح الانوار فی طبقات الاخیار     ترجمہ ۳۲۵ سیدنا و مولانا شمس الدین حنفی مصطفٰی البابی مصر  ۲ /۹۵)
اسی میں ہے : ولیِ ممدوح قدس سرّہ کی زوجہ مقدسہ بیماری سے قریبِ مرگ ہوئیں تو وہ یوں نداکرتی تھیں :
"  یاسیدی احمد یا بدویُّ خاطرک معی "
اے میرے سردار اے احمد بدوی ! حضرت کی توجہ میرے ساتھ ہے۔ ایک دن حضرت سیدی احمد کبیر بدوی رضی اللہ تعالٰی عنہ کو خواب میں دیکھا کہ فرماتے ہیں، کب تک مجھے پکارے گی اور مجھ سے فریاد کرے گی تو جانتی نہیں کہ تو ایک بڑے صاحبِ تمکین ( یعنی اپنے شوہر ) کی حمایت میں ہے،  اور جو کسی ولیِ کبیر کی درگاہ میں ہوتا ہے ہم اس کی نداء پر اجابت نہیں کرتے،  یوں کہہ
یا سیدی محمد یا حنفی
کہ یہ کہے گی تو اﷲ تعالٰی تجھے عافیت بخشے گا۔

ان بی بی نے یونہی کہا،  صبح کو خاصی تندرست اُٹھیں ،  گویا کبھی مرض نہ تھا ۱ ؎۔
 ( ۱ ؎ لواقح الانوار فی طبقات الاخیار ترجمہ    ۳۲۵   سیدنا ومولٰنا شمس الدین الحنفی مصطفٰی  البابی مصر ۲ /۹۶)
اسی میں ہے حضرت ممدوح رضی اللہ تعالٰی عنہ اپنے مرضِ موت میں فرماتے تھے۔
من کانت حاجۃ فلیأت الٰی قبری و یطلب حاجتہ اقضہالہ فانّ مابینی وبینکم غیر ذراعٍ من تراب وکل رجل یحجبہ عن اصحٰبہ ذراع من تراب فلیس برجل۲ ؎۔
جسے کوئی حاجت ہو وہ میری قبر پر حاضر ہو کر حاجت مانگے میں رَوا فرمادوں گا کہ مجھ میں تم میں یہی ہاتھ بھر مٹی ہی تو حائل ہے اور جس مرد کو اتنی مٹی اپنے اصحاب سے حجاب میں کردے وہ مرد کا ہے کا۔
 (۲ ؎ لواقح الانوار فی طبقات الاخیار ترجمہ    ۳۲۵   سیدنا ومولٰنا شمس الدین الحنفی مصطفٰی  البابی مصر ۲ /۹۶)
اسی طرح حضرت سیدی محمد بن احمد فرغل رضی اللہ تعالٰی عنہ کے احوال شریفہ میں لکھا :
کان رضی اللہ تعالٰی عنہ یقول انا من المتصرفین فی قبورھم فمن کانت لہ حاجۃ فلیأت الٰی قبالۃ وجھی ویذکرھا لی اقضہالہ ۳ ؎۔
فرمایا کرتے تھے میں اُن میں ہوں جو اپنی قبور میں تصرف فرماتے ہیں جسے کوئی حاجت ہو میرے پاس میرے چہرہ مبارک کے سامنے حاضر ہو کر مجھ سے اپنی حاجت کہے میں روا فرمادوں گا۔
 ( ۳ ؎لواقح الانوار فی طبقا ت الاخیار ترجمہ ۳۲۹ الشیخ محمد بن احمد الفرغل مصطفٰی  البابی مصر ۲ /۱۰۵)
اسی میں ہے  :  مروی ہوا ایک بار حضرت سیدی مدین بن احمد اشمونی رضی اللہ تعالٰی عنہ نے وضو فر ماتے ہیں ایک کھڑاؤں بلاد مشرق کی طرف پھینکی،  سال بھر کے بعد ایک شخص حاضر ہوئے اور وہ کھڑاؤں ان کے پاس تھی انہوں نے حال عرض کیا کہ جنگل میں ایک بدوضع نے ان کی صاحبزادی پر دست درازی چاہی،  لڑکی کو اس وقت اپنے باپ کے پیرو مرشد حضرت سیدی مدین کا نام معلوم نہ تھا یوں ندا کی
"  یا شیخ ابی لاحظنی "
اے میرے باپ کے پیر مجھے بچائیے،  یہ ندا کرتے ہی وہ کھڑاؤں آئی لڑکی نے نجات پائی وہ کھڑاؤں اُن کی اولاد میں اب تک موجود ہے۔ ۱ ؎۔
 ( ۱ ؎لواقح الانوار فی طبقا ت الاخیار ترجمہ ۳۲۶  الشیخ محمد بن احمد الفرغل مصطفٰی  البابی مصر ۲ /۱۰۲)
Flag Counter