امام نووی شارح صحیح مسلم رحمۃ اﷲ تعالٰی نے کتاب الزکار میں اس کی مثل حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے نقل فرمایا کہ حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما کے پاس کسی آدمی کا پاؤں سوگیا تو عبداﷲ بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا : تو اس شخص کو یاد کر جو تمہیں سب سے زیادہ محبوب ہے، تو اس نے یا محمداہ کہا، اچھا ہوگیا ۱ ؎ ۔ اور یہ امر ان دو صحابیوں کے سوا اوروں سے بھی مروی ہوا۔ اہلِ مدینہ میں قدیم سے اس یا محمداہ کہنے کی عادت چلی آتی ہے۔
علامہ شہاب خفا جی مصری نسیم الریاض شرح شفاء امام قاضی عیاض میں فرماتے ہیں۔
ھذا مما تعاھدہ، اھل المدینۃ۲ ؎ ۔
یہ اہل مدینہ کے معمولات میں سے ہے۔ (ت)
( ۲ ؎نسیم الریاض شرح الشفاء فصل فیماروی عن السلف مرکز اہلسنت برکاتِ رضا گجرات ۳ /۳۵۵)
حضرت بلال بن الحارث مُزنی سے قحطِ عام الرمادہ میں کہ بعد خلافتِ فاروقی ۱۸ ھ میں واقع ہوا، ان کی قوم بنی مزینہ نے درخواست کی کہ ہم مرے جاتے ہیں کوئی بکری ذبح کیجئے فرمایا بکریوں میں کچھ نہیں رہا ہے، انہوں نے اصرا ر کیا ، آخر ذبح کی ، کھال کھینچی تو نِری سرخ ہڈی نکلی، یہ دیکھ کر بلال رضی اللہ تعالٰی عنہ نے ندا کی ۔
یا محمداہ
پھر حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے خواب میں تشریف لا کر بشارت دی۔
ذکرہ فی الکامل ۳ ؎۔
(اس کو کامل میں ذکر کیا گیا۔ت)
( ۳ الکامل فی التاریخ لابن الاثیر ذکر القحط وعام الرمادہ دارصادر بیروت ۲ /۵۵۶)
امام مجتہد فقیہ اجل عبدالرحمن ہذلی کو فی مسعودی کہ حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ کے پوتی اور اجلہ تبع تابعین و اکابر ائمہ مجتہدین سے ہیں سرپر بلند ٹوپی رکھتے جس میں لکھا تھا :
محمد یا منصور "
اور ظاہر ہے کہ "
اَلْقَلَمُ اَحَدُ اللِّسَانَیْنِ
( قلم دو زبانوں میں سے ایک ہے۔ت)
ہثیم بن جمیل انطا کہ ثقات علمائے محدثین سے ہیں، انہیں امام اجل کی نسبت فرماتے ہیں :
رأیتہ وعلٰی رأسہ قلنسوتہ اطول من ذراع مکتوب فیہا مُحَمد یا منصورُ ذکرہ فی تہذیب التہذیب وغیرہ ۴ ۔
میں نے اُن کو دیکھا ان کے سر پر ہاتھ بھر سے لمبی ٹوپی تھی جس میں لکھا ہوا تھا۔محمد یا منصور۔ اس کو تہذیب التہذیب وغیرہ میں ذکر کیا ہے۔ت)
( ۴ ؎میزان الاعتدال فی نقدالرجل ترجمہ ۴۹۰۷ دارالمعرفۃ للطباعۃ ۲ /۵۷۴)
امام شیخ الاسلام شہاب رملی انصاری کے فتاوٰی میں ہے :
سُئل عمّا یقعُ من العامّۃِ من قولھم عند الشدائد یا شیخ فلان ونحوذٰلک من الاستغاثۃ بالانبیاء والمرسلین والصالحین وھل للمشائخ اِغاثۃ بعد موتھم ام لا؟ فاجاب بما نَصّہ، انّ الاستغاثۃ بالانبیاء والمرسلین والاولیاء والعلماء الصّالحین جائزۃ وللانبیا ء و للرسل والاولیاء والصالحین اِغاثۃ بعد موتھم الخ ۱ ؎۔
یعنی ان سے استفتاء ہوا کہ عام لوگ جو سختیوں کے وقت انبیاء و مرسلین واولیاء وصالحین سے فریاد کرتے اور یا شیخ فلاں (یارسول اﷲ ، یا علی، یا شیخ عبدالقادر جیلانی) اور ان کی مثل کلمات کہتے ہیں یہ جائز ہے یا نہیں؟ اور اولیاء بعد انتقال کے بھی مدد فرماتے ہیں یا نہیں ؟ انہوں نے جواب دیا کہ بے شک انبیاء و مرسلین واولیاء و علماء سے مدد مانگنی جائز ہے اور وہ بعد انتقال بھی امداد فرماتے ہیں۔ الخ۔
علامہ خیر الدین رملی اُستاذ صاحبِ دُرمختار ، فتاوٰی خیر یہ میں فرماتے ہیں :
قولھم یا شیخ عبدالقادر فہونداء فما الموجب الحرمتہ ۲ ؎ ۔
لوگوں کا کہنا کہ: یا شیخ عبدالقادر " یہ ایک ندا ہے پھر اُس کی حرمت کا سبب کیا ہے۔
( ۲ ؎فتاوٰی خیریہ کتاب الکراھیۃ والاستحسان دارالمعرفۃ للطباعۃ بیروت۲ /۱۸۲)
سیدی جمال بن عبداﷲ بن عمر مکی اپنے فتاوٰی میں فرماتے ہیں :
سئلت ممن یقول فی حال الشدائد یارسول اﷲ اویا علی اویا شیخ عبدالقادر مثلاً ھل ھو جائز شرعاً ام لا؟ اجبت نعم الاستغاثۃ بالاولیاء ونداؤھم والتوسل بھم امر مشروع وشیئ مرغوب لاینکرہ الامکابر اومعاند وقد حرم برکۃ الاولیاء الکرام ۳ ؎الخ۔
یعنی مجھ سے سوال ہوا اس شخص کے بارے میں جو مصیبت کے وقت میں کہتا ہو یارسول اﷲ یا علی یا شیخ عبدالقادر، مثلاً آیا یہ شرعاً جائز ہے یا نہیں؟ میں نے جواب دیا: ہاں اولیاء سے مدد مانگنی اور انہیں پکارنا اور ان کے ساتھ توسّل کرنا شروع میں جائز اور پسندیدہ چیز ہے جس کا انکار نہ کرے گا مگر ہٹ دھرم یا صاحبِ عناد، اور بےشک وہ اولیاء کرام کی برکت سے محروم ہے۔
( ۳ ؎فتاوٰی جمال بن عبداﷲ بن عمر مکی)
امام ابن جوزی نے کتاب عیون الحکایات میں تین اولیائے عظام کا عظیم الشان واقعہ بسندِ مسلسل روایت کیا کہ وہ تین بھائی سوار ان دلاور ساکنانِ شام تھے کہ ہمیشہ راہِ خدا میں جہاد کرتے :
فاسرہ الروم مّرۃ قال لھم الملک انی اجعل فیکم الملک وازوّجکم بناتی و تدخلون فی النصرانیّۃ فابَوا وقالوا یا مُحَمَّدَاہُ ۱ ؎۔
یعنی ایک بار نصاری روم انہیں قید کرکے لے گئے بادشاہ نے کہا میں تمہیں سلطنت دوں گا اور اپنی بیٹیاں تمہیں بیاہ دوں گا تم نصرانی ہوجاؤ۔ انہوں نے نہ مانا اور ندا کی یا محمداہُ ۔
( ۱ ؎شرح الصدور بحوالہ عیون الحکایات باب زیادۃ القبور و علم الموتی الخ خلافت اکیڈمی منگورہ سوات ص ۸۹)
بادشاہ نے دیگوں میں تیل گرم کرا کر دو صاحبوں کو اس میں ڈال دیا، تیسرے کو اللہ تعالٰی نے ایک سبب پیدا فرما کر بچالیا۔ وہ دونوں چھ مہینے کے بعد مع ایک جماعت ملائکہ کے بیداری میں ان کے پاس آئے اور فرمایا :اللہ تعالٰی نے تمہاری شادی میں شریک ہونے کو بھیجا ہے انہوں نے حال پوچھا فرمایا :
بس وہی تیل کا ایک غوطہ تھا جو تم نے دیکھا اس کے بعد ہم جنت اعلی میں تھے۔
امام فرماتے ہیں :
کانا مشہورین بذلک معروفین بالشام فی الزمن الاوّل ۔
یہ حضرات زمانہ سلف میں مشہور تھے اوران کا یہ واقعہ معروف ۔
پھر فرمایا : شعراء نے ان کی منقبت میں قصیدے لکھے ، ازانجملہ یہ بیت ہے۔ ؎
سیعطی الصادقین بفضل صدق نجاۃ فی الحیاۃ وفی الممات۲
قریب ہے کہ ا ﷲ تعالٰی سچے ایمان والوں کو ان کے سچ کی برکت سے حیات و موت میں نجات بخشے گا۔
( ۲ ؎شرح الصدور بحوالہ عیون الحکایات باب زیادۃ القبور و علم الموتی الخ خلافت اکیڈمی منگورہ سوات ص ۹۰)
یہ واقعہ عجیب، نفس و روح پرور ہے، میں بخیالِ تطویل اسے مختصر کر گیا، تمام و کمال امام جلال الدین سیوطی کی شرح الصدور میں ہے
من شاء فلیرجع الیہ
( جو تفصیل چاہتا ہے اس کی طرف رجوع کرے۔ت) یہاں مقصود اس قدر ہے کہ مصیبت میں " یارسول اﷲ " کہنا اگر شرک ہے تو مشرک کی مغفرت و شہادت کیسی، اور جنت الفردوس میں جگہ پائی کیا معنے، اور ان کی شادی میں ۔
فرشتوں کو بھیجنا کیونکر معقول ؟ اور ان ائمہ دین نے یہ روایت کیونکر مقبول اور ان کی شہادت و ولایت کس وجہ سے مسلم رکھی۔ اور وہ مردانِ خدا خود بھی سلفِ صالح میں تھے کہ واقعہ شہر طرطوس کی آبادی سے پہلے کا ہے
" کما ذکرہ فی الرِّوایۃ نفسہا "
( جیسا کہ خود روایت میں ذکر کیا ہے۔ت) اور طرطوس ایک ثغر ہے یعنی دارالاسلام کی سرحد کا شہر جسے خلیفہ ہارون رشید نے آباد کیا
" کما ذکرہ الامام السیوطی ۱ فی تاریخ الخلفاء "
جیسا کہ امام جلال الدین سیوطی علیہ الرحمۃ نے تاریخ الخلفاء میں اس کاذکر کیا ہے۔ت)
( ۱ ؎ شرح الصدور باب زیارۃ القبور مصطفٰی البابی مصر ص ۸۹)
ہارون رشید کا زمانہ زمانہ تابعین و تبع تابعین تھا تو یہ تینوں شہدائے کرام اگر تابعی نہ تھے لا اقل تبع تابعین سے تھے واﷲ الہادی ( اور اللہ ہی ہدایت دینے والا ہے۔ت)
حضور پرنور سیدنا غوث اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ ارشاد فرماتے ہیں :
من استغاث بی فی کربۃٍ کشفت عنہ و من نادی باسمی فی شدۃ فرجت عنہ من توسّل بی الی اﷲ عزوجل فی حاجَۃٍ قضیت لہ ومن صلّٰی رکعتین یقرأفی کل رکعۃٍ بعد الفاتحۃ سورۃ اخلاص اِحدٰی عشرۃ مرَّۃً ثم یصلّی علی رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم بعد السلام ویسلم علیہ ویذکر نی ثم یخطوالٰی جہۃ العراق احدٰی عشرۃ خطوۃ یذکرھا اسمی ویذکر حاجتہ فانہا تقضٰی باذن اﷲ۲ ؎۔
یعنی جو کسی تکلیف میں مجھ سے فریاد کرے وہ تکلیف دفع ہواور جو کسی سختی میں میرا نام لے کر ندا کرے وہ سختی دور ہو اور جو کسی حاجت میں اﷲ تعالٰی کی طرف مجھ سے توسل کرے وہ حاجت بر آئے۔ اور جو دو رکعت نماز ادا کرے ہر رکعت میں فاتحہ کے بعد سورہ اخلاص گیارہ بار پڑھے پھر سلام بھیجے اور مجھے یاد کرے، پھر عراق شریف کی طرف گیارہ قدم چلے ان میں میرا نام لیتا جائے اور اپنی حاجت یاد کرے اس کی وہ حاجت روا ہو اﷲ کے اذن سے۔