رسالہ
انوارالانتباہ فی حل نداء یارسول اﷲ
(یارسُول اﷲ کہنے کے جواز کے بارے میں نورانی تنبیہیں)
مسئلہ ۱۶۴ : کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید موحّد مسلمان جو خدا کو خدا اور رسول کو رسول جانتا ہے۔ نماز کے بعد اور دیگر اوقات میں رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو بکلمہ یا ندا کرتا اور
الصلّوۃ والسلام علیک یارسول اﷲ یا اسئلک الشفاعۃ یارسول اﷲ
کہا کرتا ہے، یہ کہنا جائز ہے یا نہیں ؟ اور جو لوگ اسے اس کلمہ کی وجہ سے کافر و مشرک کہیں ان کا کیا حکم ہے؟
بینوا بالکتاب توجروا یوم الحساب
( کتاب سے بیان فرمائیے روزِ حساب اجر دیئے جاؤ گے۔ت)
کلماتِ مذکورہ بے شک جائز ہیںجن کے جواز میں کلام نہ کرے گا مگر سفیہ جاہل یا ضال مضل، جسے اس مسئلہ کے متعلق قدرے تفصیل دیکھنی ہو
شفاء السقام امام علام بقیۃ المجتہدین الکرام تقی الملۃ والدین علامہ زرقانی و مطالع المسرات علامہ فاسی ومرقاۃ شرح مشکوۃ علامہ علی قاری ولمعات و اشعۃ اللمعات شروح مشکوۃ و جذب القلوب الٰی دیار المحبوب و مدارج النبوۃ تصانیف شیخ عبدالحق محدث دہلوی و افضل القرٰی شرح اُمّ القرٰی امام ابن حجر مکی وغیرہا کتب وکلام علمائے کرام وضلائے عظام علیہم رحمۃ اﷲ العلام
کی طرف رجوع لائے یا فقیر کا رسالہ
الاھلال بفیض الاولیاء بعد الوصال
مطالعہ کرے۔
یہاں فقیر بعدرِ ضرورت چند کلمات اجمالی لکھتا ہے، حدیث صحیح مذیل بطراز گرانہائے تصحیح جسے امام نسائی و امام ترمذی وابن ماجہ وحاکم و بیھقی و امام الائمہ ابن خزیمہ و امام ابوالقاسم طبرانی نے حضرت عثمان بن حنیف رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا اور ترمذی نے حسن غریب صحیح اور طبرانی و بیہقی نے صحیح اور حاکم نے بر شرطِ بخاری و مسلم جس میں حضور ِ اقدس سیدعالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے ایک نابینا کو دُعا تعلیم فرمائی کہ بعد نمازیوں کہے :
" اللھم انی اسئلک واتوجّہ الیک بنبیک محمدٍ نبی الرحمۃ یا محمد انی اتوجہ بک الٰی ربی فی حاجتی ھذہ لتقضٰی لی اللھم فشفعہ فیِّ ۱ ؎۔
اے اﷲ ! میں تجھ سے مانگتا ہوں اور تیری طرف توجہ کرتا ہوں بوسیلہ تیرے نبی محمد صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے کہ مہربانی کے نبی ہیں، یارسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ! میں حضور کے وسیلے سے اپنے رب کی طرف اس حاجت میں توجہ کرتا ہو کہ میری حاجت روا ہو۔ الہٰی ان کے شفاعت میرے حق میں قبول فرما۔
( ۱ ؎جامع ترمذی ابواب الدعوات باب فی انتظار الفرج وغیر ذلک امین کمپنی دہلی ۲/ ۱۹۷)
(سنن ابن ماجہ باب ماجاء فی صلوۃ الحاجۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۱۰۰)
(المستدرک للحاکم کتاب الدعا مکتبہ اسلامیہ بیروت ۱ /۵۱۹ وصحیح ابن خزیمۃ باب صلوۃ الترغیب ۲ /۲۲۶)
امام طبرانی کی معجم میں یوں ہے :
" انّ رجلاً کان یختلف الٰی عثمان بن عفان رضی اللہ تعالٰی عنہ فی حاجۃ لہ وکان عثمان لایلتفت الیہ ولا ینظر فی حاجتہ فلقی عثمان بن حنیف رضی اللہ تعالٰی عنہ فشکٰی ذلک الیہ فقال لہ عثمان بن حنیف رضی اللہ تعالٰی عنہ ائتِ المیضاء ۃ فتوضّأ ثم ائت المسجد فصلّ فیہ رکعتین ثم قل اللّٰھمّ انّی اسئلک و اتوجّہالیک بنبینا نبی الرحمۃ یا محمد انی اتوجہ بک الٰی ربّی فیقضی حاجتی، وتذکر حاجتک ورُح الیّ حتّی ارُوح معک فانطلق الرجل فصنع ماقال لہ ثم اتٰی باب عثمان رضی اﷲ تعالٰی عنہ فجاء البوّابُ حتّٰی اخذہ بیدہ فادخلہ علٰی عثمان بن عفان رضی اﷲ تعالٰی عنہ فاجلسہ معہ، علی الطّنفسۃ وقال حاجتک ؟ فذکر حاجتہ فقضا ھالہ ثمّ قال ماذکرت حاجتک حتی کانت ھذہ الساعۃ وقال ماکان لک من حاجۃٍ فاتنا، ثم انّ الرجل خرج من عندہ فلقی عثمان بن حنیف رضی اللہ تعالٰی عنہ فقال لہ، جزاک اﷲ خیرا ماکان ینظر فی حاجتی ولا یلتفت الیّ حتّٰی کلّمتہ فی فقال عثمٰن بن حنیف رضی اللہ تعالٰی عنہ واﷲ ماکلّمتہ، ولٰکن شھدت رسول اﷲ لی اللہ تعالٰی علیہ وسلم واتاہ رجل ضریر فشکا الیہ ذھاب بصرہ فقال لہ النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ائت المیضأۃ فتوضّأ ثمّ صل رکعتین ثم ادع بھٰذہ الدعوات فقال عثمان بن حنیف رضی اﷲ تعالٰی عنہ فواﷲ ماتفرقنا وطال بنا الحدیث حتّٰی دخل علینا الرجل کانہ لم یکن بہ ضرّ قط ۱ ؎۔
یعنی ایک حاجتمند اپنی حاجت کے لیے امیر المومنین عثمان غنی رضی اللہ تعالٰی عنہ کی خدمت میں آتا جاتا، امیر المومنین نہ اس کی طرف التفات فرماتے نہ اس کی حاجت پر نظر فرماتے، اس نے عثمان بن حنیف رضی اللہ تعالٰی عنہ سے اس امر کی شکایت کی، انہوں نے فرمایا وضو کرکے مسجد میں دو رکعت نماز پڑھ پھر دعا مانگ " الہٰی میں تجھ سے سوال کرتا ہوں اور تیری طرف اپنے نبی محمد صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے وسیلے سے توجہ کرتا ہوں، یارسول اﷲ ! میں حضور کے توسل سے اپنے رب کی طرف متوجہ ہوتا ہوں کہ میری حاجت روا فرمائے۔" اور اپنی حاجت ذکر کر، پھر شام کو میرے پاس آنا کہ میں بھی تیرے ساتھ چلوں۔ حاجتمند نے ( کہ وہ بھی صحابی یا لاقل کبار تابعین میں سے تھے۔) یوں ہی کیا، پھر آستانِ خلافت پر حاضر ہوئے، دربان آیا اور ہاتھ پکڑ کر امیر المومنین کے حضور لے گیا، امیر المومنین نے اپنے ساتھ مسند پر بٹھالیا، مطلب پوچھا ، عرض کیا، فوراً روا فرمایا، اور ارشاد کیا اتنے دنوں میں اس وقت اپنا مطلب بیان کیا، پھر فرمایا: جو حاجت تمہیں پیش آیا کرے ہمارے پاس چلے آیا کرو۔ یہ صاحب وہاں سے نکل کر عثمان بن حنیف سے ملے اور کہا اﷲ تعالٰی تمہیں جزائے خیر دے امیر المومنین میری حاجت پر نظر اور میری طرف توجہ نہ فرماتے تھے یہاں تک کہ آپ نے ان سے میری سفارش کی، عثمان بن حنیف رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا : خدا کی قسم ! میں نے تو تمہارے معاملے میں امیر المومنین سے کچھ بھی نہ کہا مگر ہوا یہ کہ میں نے سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو دیکھا حضور کی خدمتِ اقدس میں ایک نابینا حاضر ہوا اور نابینائی کی شکایت کی حضور نے یونہی اس سے ارشاد فرمایا کہ وضو کرکے دو رکعت نماز پڑھے پھر یہ دعا کرے۔ خدا کی قسم ہم اُٹھنے بھی نہ پائے تھے باتیں ہی کررہے تھے کہ وہ ہمارے پاس آیا گویا کبھی وہ اندھا نہ تھا۔
( ۱ ؎ الترغیب والترھیب بحوالہ الطبرانی الترغیب فی صلوۃ الحاجۃ حدیث ا مصطفٰی البابی مصر ۱ /۲۷۴ تا ۲۷۶)
(مجمع الزوائد بحوالہ الطبرانی باب صلوۃ الحاجۃ دارالکتاب بیروت ۲ /۲۷۹)
امام طبرانی پھر امام منذری فرماتے ہیں
والحدیث صحیح ۲ ؎۔
(یہ حدیث صحیح ہے)۔
(۲ ؎ الترغیب والترھیب بحوالہ الطبرانی الترغیب فی صلوۃ الحاجۃ حدیث ا مصطفٰی البابی مصر ۱ /۲۷۴ تا ۲۷۶)
(مجمع الزوائد بحوالہ الطبرانی باب صلوۃ الحاجۃ دارالکتاب بیروت ۲ /۲۷۹)
امام بخاری کتاب الادب المفرد (عہ) میں اور امام ابن السنی وامام ابن بشکوال روایت کرتے ہیں :
انّ ابن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنھما خدرت رجلہ فقیل لہ، اذکراحب الناس الیک فصاح یا محمداہ فانتشرت ۳ ؎۔
یعنی حضرت عبداﷲ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہماکا پاؤں سوگیا ، کسی نے کہا انہیں یاد کیجئے جو آپ کو سب سے زیادہ محبوب ہیں۔ حضرت نے باآواز بلند کہا۔ یا محمداہ ! فوراً پاؤں کھل گیا۔
عہ : ولفظ البخاری فی الادب المفرد خدرت رجل ابن عمر فقال لہ رجل اذکراحب الناس الیک فقال یا محمد۴ اھ ۱۲ منہ۔
( ۳ ؎عمل الیوم واللیلۃ حدیث ۱۶۸ دائرۃ المعارف النعمانیہ ص ۴۷)
( ۴ ؎الادب المفرد حدیث ۹۶۴ مکتبۃ الاثریۃ سانگلہ s ص ۲۵۰)