مسئلہ ۱۵۷ : از شفا خانہ فرید پور ڈاک خانہ خاص اسٹیشن پتنبر پور ضلع بریلی مسئولہ عظیم اﷲ کمپونڈر ۸ رمضان ۱۳۳۹ھ
اولیاء کرام بعد وفات کے حیات رہتے ہیں یا نہیں جیسے کہ رسول ا ﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم حیا ۃ النبی ہیں، اور اولیاء کرام کے مزار پر جان کر ان کے توسط سے التجاء کرنا اور ان سے دعا کرانا جائز ہے یا نہیں؟ بیّنوا تو جروا۔( بیان فرمائیے اجردیئے جاؤ گے۔ت)
الجواب : اولیائے کرام بعد وفات زندہ ہیں مگر نہ مثل حضرات انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام انبیاء کی حیات روحانی جسمانی دنیاوی ہے بعینہ اُسی طرح جسم کے ساتھ زندہ ہوتے ہیں جس طرح دنیا میں تھے اور اولیاء کی حیات اُن سے کم اور شہداء سے زائد، جن کے لیے قرآن عظیم میں دو جگہ ارشاد ہوا کہ " ان کو مردہ نہ کہو وہ زندہ ہیں۔" یہ حیات حیاتِ روحانی و جسمانی برزخ ہے۔ حیاتِ روح سب کو حاصل ہے کہ رُوح بعد موت فنا نہیں ہوتی، اس کا مفصل بیان ہماری کتاب " حیاۃ الموات" میں ہے۔
اولیائے کرام سے توسل اوراُن سے طلبِ دُعا بلاشبہ محمود ہے اور علماء وصلحاء میں معمول و معہود واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۵۸ : از بنگالہ ڈاکخانہ تالشہر موضع ایضاً مسئولہ عبدالصمد ۔۲۲ رمضان ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں، علمائے دین کہ حشر کے دن سب مسلمان قبر سے کفن لے کر اٹھیں گے یا برہنہ ؟ بینوا توجروا ( بیان فرمایئے اجر دیئے جاؤ گے۔ت)
الجواب : کفن میں اُٹھیں گے پھر وہ کفن طول مدت کی وجہ سے گل کر گر جائیں گے۔ واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۱۶۹ و۱۶۰ : از ناگل لکڑی ضلع گوڑگانوہ پوسٹ ڈھینا ریاست مسئولہ حافظ غلام کبریا ۳ رمضان ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ:
(۱) اولیاء اﷲ کو دُور سے مشکل کے واسطے پکارنا کیسا ہے؟ اولیاء اﷲ دور سے بعض وقت سُنتی ہیں یا سب وقت سُنتے ہیں؟
(۲) اگر کوئی یارسول اﷲ پکارے اور یہ اعتقاد رکھے کہ آپ بذاتِ خود سنتے ہیں، بعض کہتے ہیں کہ یہ اعتقاد کہتے ہیں کہ یہ اعتقاد ٹھیک نہیں۔ بینواتوجروا۔
الجواب : شاہ عبدالعزیز صاحب فرماتے ہیں :
روح را قرب و بُعد مکانی یکسانی ست ۱ ؎۔
روح کے مکانی قُرب و بُعد برابر ہیں (ت)
(۱)
تو وہ سب وقت سن سکتے ہیں مگر ملاء اعلٰی کی طرف توجہ اور اس میں استغراق اکثر کو ہر وقت سننے سے مانع ہوسکتا ہے مگر اکابر جن کو شاہ عبدالعزیز صاحب نے تفسیر عزیزی میں لکھا۔
استغراق آنہا بجہت کمال وسعت مدارک آنہا مانع توجہ بایں سمت نمی گرددوارباب حاجات ومطالب حل مشکلات خود راازانہامی طلبند ومی یابند ۱ ؎۔
کامل وسعت مدارک کی وجہ سے ان کا استغراق اس طرف متوجہ ہونے سے مانع نہیں ہوتا اور غرض مند محتاج لوگ اپنی مشکلات کا حل ان سے طلب کرتے اور پاتے ہیں۔(ت)
(۱ ؎ فتح العزیز (تفسیر عزیزی) پارہ عم سورۃ الانشفاق مسلم بکڈپو لال کنواں دہلی ص ۲۰۶)
یہ ہر وقت سنتے اور حاجت روائی فرماتے ہیں کہ باذنہ تعالٰی اسم قاضی الحاجات کے مظہر ہیں۔
(۲) بذاتِ خود کے اگر یہ معنی کہ بے عطائے الہٰی خود اپنی ذاتی قدرت سے سُنتے ہیں تو یہ بے شک باطل بلکہ کفر ہے اور یہ ہر گز کسی مسلمان کا خیال بھی نہیں۔ اور اگر بذاتِ خود کے یہ معنی کہ بعطائے الٰہی حضور کی قوتِ سامعہ تمام شرق و غرب کو محیط ہے سب کی عرضیں آوازیں خود سنتے ہیں اگرچہ آداب دربار شاہی ہر ذرہ اُن کے پیشِ نظر ہے اور ارض و سما کی ہر آواز ان کے گوش مبارک میں ہے۔
شاہ ولی اﷲ کی فیوض الحرمین میں ہے :
" لایشغلہ شأن عن شان ۲ ؎۔
اس کی ایک حالت اس کو دوسری حالت سے غافل نہیں کرتی ۔(ت) "وھوتعالٰی اعلم "
(۲ ؎ فیوض الحرمین مشہد آخر ا یعنی دقائق اور ان کے اثرات کے بیان میں محمد سعید اینڈ سنز قرآن محل کراچی ص ۲۷۱)
مسئلہ ۱۶۱ : از دہلی بازار چتلی قبر چھتا موم گراں مسئولہ محمد صاحب داد خاں ۶ شوال ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ قادیانی کہتے ہیں حضرت عیسٰی علیہ الصلو ۃ والسلام زندہ آسمان پر نہیں گئے بلکہ اپنی موت مرے، زندہ آسمان پر جانا نہ قرآن سے ثابت ہے نہ حدیث شریف سے، کیونکہ اس میں حضرت رسولِ مقبول محمد مصطفی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی شانِ پاک گھٹتی ہے کہ حضور دونوں عالم سے افضل و اعلٰی ہو کر وفات پائیں اور زمین کے نیچے رہیں اور حضرت عیسٰی آسمان پر چلے جائیں یہ ممکن نہیں، اس خرافات کا کیا جواب ہے؟ بیّنوا توجروا۔
الجواب : قادیانی مکاروں کا فریب ہے کہ مرزا کے صریح کفر اور انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام خصوصاً سیدنا عیسٰی علیہ الصلوۃ والسلام کو جو اس نے سڑی سڑی گالیاں دی ہیں چھپاتے اور مسئلہ حیات و موتِ سیدنا عیسٰی علیہ الصلوۃ والسلام میں بحث کرتے ہیں جس کے ماننے نہ ماننے پر کچھ اسلام و کفر کا مدار نہیں۔
جمہورائمہ کرام کا مذہب یہی ہے کہ سیدنا عیسٰی علیہ الصلوۃ والسلام نے ابھی انتقال نہ فرمایا، قریب قیامت نزول فرمائیں گے، دجال کو قتل کریں گے، برسوں رہ کر انتقال فرمائیں گے ، روضہ پاک حضور سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم میں ایک مزار کی جگہ خالی ہے وہاں دفن ہوں گے۔ اُس کا وہ جاہلانہ احمقانہ خیال تو یہیں سے دفع ہوگیا۔ اوفقط آسمان پر ہونا اگر موجبِ فضل ہو تو فرشتوں کو توآسمان پر مانے گا۔
قال تعالٰی وکم من ملک فی السمٰوٰت ۱
آسمانوں میں بہتیرے فرشتے ہیں۔ خود حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کو دونوں عالم سے افضل کہہ رہا ہے کیا ملائکہ سے افضل نہ مانے گا یا حضور کے وفات پا کر زمین پر رہنے اور ملائکہ کے آسمان پر ہونے سے معاذ اﷲ شانِ اقدس کا گھٹ ناجانے گا، اور فرشتے بھی نہ سہی چاند سورج ستارے تو آسمان پر سے افضل ہے خصوصاً محلِ تربت اقدس کہ عرشِ اعظم سے بھی اعلٰی وافضل ہے اندھوں نے جہت میں اوپر نیچے دیکھ لیا اور یہ نہ جانا کہ دل تمام اعضاء کا سلطان اور سب سے افضل ہے اگرچہ بہت اعضاء اس سے اوپر ہیں۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
( ۱ ؎القرآن الکریم ۵۳/ ۲۶)
مسئلہ ۱۶۲ : کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ میلاد شریف کب سے نکلا اور کس نے نکالا؟اپنے امام اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ کے زمانے میں تھا یا نہیں؟ اپنے امام صاحب نے اس کو کیا ہے یا نہیں؟ صحابہ کے زمانے میں تھا یا نہیں؟ کسی نے محفل کی تھی یا نہیں؟ بینوا تو جروا ۔
الجواب : بیان میلادِ شریف قرآن مجید نے نکالا اور اس نے متعدد آیتوں میں اس کا حکم دیا، کارڈ میں آیتیں نہیں لکھی جاسکتیں غرض مقصود سے ہے، نام نیا ہونے سے شَی نئی نہیں ہوسکتی ، جو اس سے مقصود ہے وہ خود حضور اقدس علیہ افضل الصلوۃ والسلام نے کیا۔
صحیح بخاری ۱ ؎ شریف میں ہے خود حضور اقدس علیہ افضل الصلوۃ والسلام مسجد مدینہ طیبہ میں حضرت حسان بن ثابت انصاری علیہ الرضوان کے لیے منبر بچھاتے اور وہ اس پر قیام کرکے نعتِ اقدس سُناتی ، حضور اور صحابہ کرام سُنتے ، وھو تعالٰی اعلم۔
( ۱ ؎جامع الترمذی ابواب الادب باب ماجاء ان من الشعرحکمۃ امین کمپنی دہلی ۲ /۱۰۷)
(احیاء العلوم بحوالہ الصحیحین کتاب آداب السماع والوجد مطبعۃ مشہد الحسینی قاہرہ ۲ /۲۷۴)
مسئلہ ۱۶۳: از ضلع ہوشنگ آباد مقام و ڈاکخانہ و اسٹیشن ۵۱ رموسارے مسئولہ دولت الدین ۱۲ شوال ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ بعض عالم و مولوی اعتراض کرتے ہیں کہ یا شیخ عبدالقادر جیلانی شیئا ﷲ کا وظیفہ کرنا ناجائز ہے ، مہربانی فرما کر خلاصہ مسئلہ تحریر فرمائیں۔ بینوا توجروا۔
الجواب : یہ مبارک وظیفہ بے شک جائز ہے۔ فتاوٰی خیر یہ علامہ خیر الدین رملی استاذ صاحبِ درمختار میں ہے :
اما قولھم " یاشیخ عبدالقادر" فنداء فما الموجب لحرمتہ ۲ ؎۔
ان کا "یا شیخ عبدالقادر" کہنا نداء ہے تو اس کی حرمت کا موجب کیا ہے۔(ت)
یہاں اس کو ناجائز کہنے والے وہابی ہیں اور وہابیہ بے دین ہیں ان کی بات سننی جائز نہیں۔ وھوتعالٰی اعلم۔
( ۲ ؎الفتاوٰی الخیریۃ کتاب الکراھیۃ والاحسان دارالمعرفۃ بیروت ۲ /۱۸۲)