| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۹(کتاب الشتّٰی ) |
قرونِ ثلٰثہ کی بحث میں وہابیہ کو ہزاروں بار ان کے گھر پہنچا دیا گیا جس کا روشن بیان اصول الرشاد تصنیف لطیف امام العلماء حضرت سیدنا الوالدقدس سرہ الماجد میں ہے۔ مدرسہ دیوبند بایں قوانین مخترِعہ تو قرون اثناء عشر کے بعد قائم ہوا پہلے اس کی بنا ڈھائیں اینٹ سے اینٹ بجائیں، یا یہ مسئلہ صرف اِنہیں چیزوں کے حرام کرنے کو ہے جن میں تعظیم و محبتِ حضور سرور عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم والیاء کرام علیہم الرضوان الاتم ہے یہ قیام ذکر تشریف آوری کی تعظیم ہے دل میں عظمت ہو تو جانیں کہ تعظیم ذکر شریف مانندتعظیمِ ذات اقدس ہے۔
کما بینہ الامام القاضی عیاض رحمۃ اﷲ تعالٰی فی کتاب الشفاء والامام احمد القسطلانی فی المواھب الشریفۃ
جیسا کہ امام قاضی " عیاض رحمہ اﷲ تعالٰی نے کتاب الشفاء میں اور امام احمد قسطلانی نے مواہب شریفہ میں اسے بیان کیا۔ت)
دل کے اندھے اُسے بھلا کر خود ذات کریم کی تشریف آوری ڈھونڈتے ہیں اور بے ادبی گستاخ یہاں تک بڑھتے ہیں کہ " کیا اُسی وقت حضور کی پیدائش ہوتی ہے" ہم مدعی نہیں کہ ہر مجلس مبارک میں تشریف آوری ضرور ہے۔ ہاں ہوتی ہے، اکابر اولیاء نے بارہا مشاہدہ کی ہے جیسا بہجتد الاسرار امام اوحد ابوالحسن لخمی شطنوفی و تنویر الحوالک امام جلال الدین سیوطی و تصانیف شاہ ولی اﷲ دہلوی وغیرہا میں مذکور ہے اور اس پر بے ہود ہ تشقیق کہ فرش پر تشریف رکھتے ہیں یا منبر پر جہل سحیق ہے ، ایسا جاہلانہ سوال اُن تمام تشریف آوریوں پر ہوگا جن کا ذکرائمہ واکابر نے فرمایا اور خود ظاہری حیاتِ اقدس میں تشریف آوری اور تشریف فرمائی کس طرح ہوتی تھی ، اورصحیح بخاری شریف کی اُس حدیث کو تو بالکل چھیل کر پھینک دیا کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم مسجد کریم میں حسان بن ثابت انصاری رضی اللہ تعالٰی عنہ کے لیے منبر بچھاتے اور وہ اس پر قیام کرکے نعتِ اقدس سُناتے اس وقت حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کہاں تشریف رکھتے تھے، فرش پر حسان سے نیچے یا منبر پر حسان کے برابر ؟ جو وہاں جواب دے ویسا بلکہ اس سے اعلٰی یہاں موجود ہے کہ جلوہ فرمائی چشمِ ظاہر سے غیر مشہود ہے اور نور کی جلوہ افروزی فرش وغیرہ سے جدا متعالی از معہود ہے۔
علامہ علی قاری شرح شریف میں فرماتے ہیں :
ان روح النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم حاضرۃ فی بیوت اھل الاسلام۱ ؎۔
رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی روح پاک تمام مسلمانوں کے گھروںمیں تشریف فرما ہے،
(۱ شرح الشفاء لمنلا علی القاری علی ھامش نسیم الریاض فصل فی المواطن التی یستحب فیھا الصلٰوۃ الخ ۳/ ۴۶۴)
یہ تشریف فرمائی زمین پر ہے کہ چھت والے اونچے ہوں یا چھت پر کہ دو منزلہ والے بلند، اور جن کے چھت نہیں ایک نیچا چھپر ہے اور اس کے گرد مکان اس گھر میں تشریف فرمائی کس طرح ہے،
بلکہ رب عزوجل فرماتا ہے :
ونحن اقرب الیہ من حبل الورید ۲ ؎۔
ہم آدمی سے اس کی رگِ گردن سے بھی زیادہ قریب ہیں۔
(۲ القرآن ۵۰/ ۱۶ )
اب ایک شخص لیٹا، دوسرا بیٹھا، تیسرا کھڑا، چوتھا سامنے کی چھت پر چڑھا ہے ، رب عزوجل کہ اس لیٹے کی شہ رگ سے قریب ہے کیا یہ تینوں اُس سے اونچے ہیں، کیسی سخت بے ادبی و گستاخی ہے، یونہی حدیث قدسی میں ہے، رب عزوجل فرماتا ہے :
" انا جلیس من ذکرنی ۳ ؎۔
میں اپنے یاد کرنے والے کا ہمنشین ہوں۔
(۳کشف الخفا حدیث ۶۱۱ دارالکتب العلمیہ بیروت ۱/ ۱۸۳)
یاد وہ بھی کررہے ہیں جو فرش پر ہیں اور وہ بھی جو منبر پر ، تو کیا ان سب کے برابر ہوا اور منبر والے سے نیچا ؟
و لٰکن الوھابیۃ قوم لا یعقلون ولا حول ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم وصلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم علٰی سیدنا ومولانا وذویہ اجمعین ،واللہ تعالٰی اعلم ،وانما زدنا الوجھین الآخرین لابانۃ جھلہ فی قیاس الشاھد علی الغائب فاعلم وربک اعلم ۔
لیکن وہابی بے عقل قوم ہے، اﷲ تعالٰی کی توفیق کے بغیر نہ گناہ سے بچا جاسکتا ہے اور نہ ہی کوئی نیکی کرنے کی طاقت ہوتی ہے۔ ہمارے سردار و مالک اور ان کے تمام اصحاب پر اﷲ تعالٰی درود و سلام بھیجے، اور اﷲ تعالٰی خوب جانتا ہے۔ آخری دونوں وجہیں ہم نے صرف اس لیے زیادہ کردی ہیں تاکہ شاہد کو غائب پر قیاس کرنے کے سلسلہ میں اس کی جہالت ظاہر ہوجائے، تو جان لے اور تیرا پروردگار خوب جانتا ہے۔ (ت)
مسئلہ ۱۵۱ : از شہر محلہ بانخانہ مسئولہ محمد بخش صاحب ۲۳ جمادی الاولٰی ۱۳۳۹ھ کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص میلاد شریف بھی کراتا ہے اور تمام اولیاء اﷲ کی نیاز نذر بھی کرتا ہے اور سب کو مانتا ہے، اور وہ شخص یہ بات کہتا ہے کہ تمام کام کرو لیکن وہ شخص ان باتوں کو منع کرتا ہے کہ مزار شریف پر جا کر مرادیں مت مانگو بلکہ ا ﷲ سے مراد مانگو اور مزار پر جا کر نیاز نذر سب کچھ کرو ۔ اور کہتا ہے کہ مرادیں اس طریقہ پر مت مانگو کہ فلاں فلاں میری حاجت رفع ہو۔ مزار پر جا کر مت مانگو، مزار پر جا کر فاتحہ پڑھو، ثواب پہنچاؤ، زیارت کرو کہ کیسے کیسے بزرگ آدمی گزرے ہیں، کچھ کرو لیکن مراد مت مانگو خدا سے عرض کرو۔
الجواب : اگر وہ شخص اور کوئی بات وہابیت کی نہیں رکھتا اور وہابیوں اور دیوبندیوں کو کافر جانتاہے تو اتنا کہنے سے وہابی نہیں ہوسکتا۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۵۲ تا ۱۵۶ : از قصبہ نظام آباد ضلع اعظم گڈھ مسئولہ سیّدِ علی اصغر ۹ شعبان چہار شنبہ ۱۳۳۹ھ کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین مسائل ذیل میں کہ: (۱) حنفی کس کو کہتے ہیں، پوری پوری تعریف کیا ہے؟ (۲) زید ایک فارغ التحصیل علومِ عربیہ کا ہے اور اپنے کو حنفی مذہب کا مقلد کہتا ہے، آمین بالجہر ، رفع یدین، قراء ت فاتحہ خلف الامام کا قائل نہیں، تراویح بیس ۲۰ رکعت پڑھتا ہے اور وتر تین رکعت، کتب فقہیہ پر عمل کرتا ہے۔ مسلمانوں کو زید کے پیچھے نماز پڑنا چاہیے یا نہیں؟اور ایسی صورت میں زید کو حنفی کہیں گے یا نہیں؟ (۳) محفلِ میلاد شریف میں قیام کرنا کیسا ہے ؟ (۴) زید محفل میلاد شریف میں شریک ہوتا ہے اور قیام کو مستحب کہتا ہے اور خود کرتا ہے اس کو حنفی کہیں گے یا وہابی؟ (۵) وہابی یا غیر مقلد کس کو کہتے ہیں؟ اور اس کی پہچان کیا ہے " بَیّنُوا تُوجروا ( بیان فرمائیے اجر دیئے جاؤ گے۔ت)
الجواب (۱) علماء کی اصطلاح میں حنفی وہ کہ فروع میں مذہب حنفی کا پیرو ہو، پھر اگر اصول میں بھی حق کا متبع ہے تو سُنی حنفی ہے ورنہ گمراہ جیسے معتزلہ، واﷲ تعالٰی اعلم۔ (۲) ان باتوں سےاگر ثابت ہوا تو اتنا کہ زید فروعاً حنفی ہے اور اس قدر سے اس کے پیچھے صحتِ نماز لازم نہیں، پہلے تو معتزلہ تھے اب قطعی مرتد فرقے ایسے ہیں کہ اپنے آپ کو حنفی کہتے اور فروع میں فقہ حنفی پر چلنے کا دعوٰی رکھتے ہیں اُن کی حنفیت انہیں کیا مفید ہوسکتی ہے، امامت کے لیے سُنّی صحیح العقیدہ صحیح الطہارۃ صحیح القراء ۃ جامع شرائط صحت وحلت ہونا چاہیے ، واﷲ تعالٰی اعلم۔ (۳) مستحسنِ علمائے کرام ہے واﷲ تعالٰی اعلم۔
(۴) مجلس میلاد و مبارک و قیام چاروں مذہب کے علماء و عام اہل اسلام کرتے ہیں یہ کچھ حنفیہ سے خاص نہیں اور بعض وہابیہ بھی براہِ تقیہ ان کے عامل ہوتے ہیں جیسا کہ بارہا کا مشاہدہ ہے تقویۃ الایمان کو گمراہی وضلالت اور دیوبندیت کو کفر وردت صراحۃً بلا غرض بکشادہ پیشانی مانے تو اسے وہابی نہ کہا جائے گا اور قلب کا علم عالم الغیب کو۔ واﷲ تعالٰی اعلم، (۵) اسمعیل دہلوی وتقویۃ الایمان کو ماننے والا یا اس کے مطابق عقائد رکھنے والا اگرچہ زبان سے اس کا ماننا نہ کہے وہابی ہے ، اور یہ ہی اس کی پہچان کو بس ہے، پھر اگر فقہ پر چلنے کا ادعا کرے تو مقلد وہابی ہے، اور اگر اس کے ساتھ فقہ کو بھی نہ مانے تو غیر مقلد وہابی ہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔