| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۸ (کتاب الشتّٰی) |
الجواب اہل سنت وجماعت نصر ہم اللہ تعالی کا اجماع ہے کہ مرسلین ملائکہ ورسل وانبیائے بشر صلوات اللہ تعالی وتسلیماتہ علیھم کے بعد حضرات خلفائے اربعہ رضوان تعالی علیہم تمام مخلوق الہٰی سے افضل ہیں۔ تمام امم عالم اولین وآخرین کوئی شخص ان کی بزرگی وعظمت وعزت ووجاہت وقبول وکرامت وقرب وولایت کو نہیں پہنچتا ۔
ان الفضل بید اللہ یؤتیہ من یشاء ؕ واللہ ذوالفضل العظیم ۱۔
فضل اللہ تعالی کے ہاتھ میں ہے جسے چاہے عطا فرمائے ، اور اللہ بڑا فضل والا ہے (ت)
(۱القرآن الکریم ۵۷ /۲۹)
پھر ان میں باہم ترتیب یوں ہے کہ سب سے افضل صدیق اکبر ، پھر فاروق اعظم پھر عثمان غنی ، پھر مولی علی علیہ سید ہم ومولو ہم وآلہ وعلیہم وبارک وسلم ، اس مذہب مہذب پر آیات قرآن عظیم واحادیث کثیرہ حضور نر نبی کریم علیہ وعلی آلہ وصحبہ الصلوۃ والتسلیم وارشادات جلیہ واضحہ امیر المؤمنین مولی علی مرتضی ودیگر ائمئہ اہلبیت طہارت وار تضاواجماع صحابہ کرام وتابعین عظام وتصریحات اولیائے امت وعلمائے امت رضی اللہ تعالی عنہم اجمعین سے وہ دلائل باہر ہ وحجج قاہر ہ ہیں جن کا استیعاب نہیں ہوسکتا ۔ فقیر غفر اللہ تعالی لہ نے اس مسئلہ میں ایک کتاب عظیم بسیط وضخیم دو مجلد پر منقسم نام تاریخی مطلع القمر ین فی ابانۃ سبقۃ العمرین۱۲۹۷ھ سے متسم تصنیف کی اور خاص تفسیر آیہ کریمہ ان اکرمکم عند اللہ اتقکم اور اس سے افضیلت مطلقہ صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ کی اثبات واحقاق اور اوہام خلاف کے ابطال وازہاق میں ایک جلیل رسالہ مسمی بنام تاریخی الزلال الانقی من بحر سبقۃ الاتقی ۱۳۰۱ھ تالیف کیا اس مبحث کی تفصیل ان کتب پر موکول ، یہاں صرف چند ارشادات ائمہ اہلبیت کرام رضی اللہ تعالی عہنم پر پر اقتصار ہوتا ہے ، اللہ عزوجل کی بیشمار رحمت ورضوان وبرکت امیر المومنین اس حیدر حق گو حق دان حق پرورکرم اللہ تعالی وجہہ الاسنی پر کہ اس جناب نے مسئلہ تفضیل کو بغایت مفصل فرمایا اپنی کرسی خلافت وعرش زعامت پر بر سر منبر مسجد جامع ومشاہد ومجامع وجلوات عامہ وخلوات خاصہ میں بطریق عدیدہ تامدد مدیدہ سپیدوصاف ظاہر وواشگاف محکم ومفسر بے احتمال دگر حضرات شیخین کریمین وزیرین جلیلین رضی اللہ تعالی عنہما کا اپنی ذات پاک اور تمام امت مرحومہ سید لولاک صلی اللہ تعالی علیہ وسلم سے افضل وبہتر ہونا ایسے روشن وابین طور پر ارشاد کیا جس میں کسی طر ح شائبہ شک وترددنہ رہا مخالف مسئلہ کو منقری بتایا اسی کوڑے کا مستحق ٹھہرا ، حضرت سے ان اقوال کریمہ کے راوی اسی سے زیادہ صحابہ و تابعین رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین صواعق امام ابن حجر مکی میں ہے :
قال الذھبی وقد تواتر ذلک عنہ فی خلافتہ وکرسی مملکۃ وبین الجم الغفیرمن شیعتہ ثم بسط الاسانید الصحیحۃ فی ذلک قال ویقال رواہ عنہ نیف وثمانون نفساوعد د منہم جماعۃ ثم قال فقبح اللہ الرافضۃ مااجھلھم ۱انتہی
ذہبی نے کہا امیر المومنین حضرت علی مرتضی رضی اللہ تعالی عنہ سے ان کے زمانہ خلافت میںجبکہ آپ کرسی اقتدار پر جلوہ گر تھے تواتر سے ثابت ہے کہ آپ نے اپنی جماعت کے جم غفیر میں افضلیت شیخین کو بیان فرمایا ۔ کہا جاتا ہے کہ اسی سے زائد افراد نے اس بارے میں آپ سے روایت کی ہے ۔ ذہبی نے ان میںسے کچھ کے نام گنوائے ہیں ۔ پھر فرمایا کہ اللہ تعالی رافضیوں کا براکرے وہ کس قدر جاہل ہیں انتہی (ت)
(۱ الصواعق المحرقۃ الباب الثالث الفصل الاول دار الکتب العلمیۃ بیروت ص ۹۰ و ۹۱)
یہاں تک کہ بعض منصفان شیعہ مثل عبدالرزاق محدث صاحب مصنف نے باوصف تشیع تفضیل شیخین اختیار کی اور کہا جب خود حضرت مولی کرم اللہ تعالی وجہہ الاسنی انہیں اپنے نفس کریم پر تفضیل دیتے تو مجھے اس کے اعتقاد سے کب مفر ہے مجھے یہ کیا گناہ تھوڑا ہے کہ علی سےمحبت رکھوں اور علی کا خلاف کرو ں ۔
صواعق میں ہے :
مااحسن ماسلکہ بعض الشیعۃ المنصفین کعبد الرزاق فانہ قال افضل الشیخین بتفضیل علی ایا ھما علی نفسہ والا لما فضلتھما کفی بی وزراان احبہ ثم اخالفہ ۱
کیا ہی اچھی راہ چلے ہیں بعض منصف شیعہ جیسے عبدالرزاق کہ اس نے کہا میں اس لئے شیخین کو حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ پر فضیلت دیتا ہو ں کہ حضرت علی نے انہیں فضیلت دی ہے ورنہ میں انہیں آپ پر فضیلت نہ دیتا میرے لئے یہ گناہ کافی ہے کہ میں آپ سے محبت کروں پھر آپ کی مخالفت کروں(ت)
(۱الصواعق المحرقۃ الباب الثالث الفصل الاول دار الکتب العلمیۃ بیروت ص۹۳)
اب چند احادیث مرتضوی سنے : حدیث اول : صحیح بخاری شریف میں سیدنا وابن سیدنا امام محمد بن حنفیہ صاحبزادہ مولی علی کرم اللہ تعالی وجوہما سے مروی :
قلت لابی ای النا س خیر بعد النبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم قال ابوبکر قال قلت ثم من قال عمر۲۔
میں نے اپنے والد ماجد کرم اللہ تعالی وجہہ سے عرض کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سب آدمیون میں بہتر کون ہے ؟ فرمایا ابوبکر میں نے عرض کی پھر کون ؟ فرمایا عمر رضی اللہ تعالی عنہم اجمعین۔
(۲ الصواعق المحرقہ الباب الثالث الفصل الاول دار الکتب بیروت ص ۹۳)
حدیث دوم : امام بخار اپنی صحیح اور ابن ماجہ سنن میں بطریق عبداللہ بن سلمہ امیر المنین کرم اللہ تعالی وجہہ سے روای کہ فرماتے تھے ۔
خیر الناس بعد رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ابوبکر وخیر الناس بعد ابوبکر عمر ۳رضی اللہ تعالی عنہما ، ھذا حدیث ابن ماجۃ۔
بہترین مرد بعد سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم ابوبکر ہیں او ربہترین مرد بعد ابوبکر عمر رضی اللہ تعالی عنہما ۔ یہ حدیث ابن ماجہ کی ہے ۔(ت)
(۳صحیح البخاری مناقب اصحاب النبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم مناقب ابی بکر قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۵۱۸)