(۵)ایک بی بی خدمت اقدس میں حاضر ہوئیں اورکچھ سوال کیا،حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے حکم فرمایا کہ پھر حاضر ہو۔انہوں نے عرض کی آؤں اورحضور کو نہ پاؤں ۔ فرمایا مجھے نہ پائے تو ابو بکر کے پاس آنا۔۔۔۔۔
رواہ الشیخان۲ عن جبیر بن مطعم رضی اللہ تعالٰی عنہ
(اس کو شیخین نے جبیربن مطعم رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا۔ت)
(۲صحیح البخاری مناقب اصحاب النبی صلی اللہ علیہ وسلم فضائل ابی بکر رضی اللہ عنہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۵۱۶ )
(صحیح البخاری کتاب الاحکام باب الاستخلاف قدیمی کتب خانہ کراچی ۱۰۷۲/۲)
(صحیح مسلم کتاب فضائل الصحابۃ باب من فضائل ابی بکر قدیمی کتب خانہ کراچی ۲۷۳/۲)
(۶)یونہی ایک مرد سے ارشادفرمایا مروی کہ میں نہ ہوں تو ابوبکر کے پاس آنا ۔ عرض کی جب آنہیں نہ پاؤں ۔فرمایا تو عمر کے پاس۔عرض کی جب وہ بھی نہ ملیں ۔فرمایا تو عثمان کے پاس۔
اخرجہ ابو نعیم۳فی الحلیۃ والطبرانی عن سھل بن ابی حیثمۃ رضی اللہ تعالٰی عنہ
(ابو نعیم نے حلیہ میں اورطبرانی نے سہل بن ابی حیثمہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے اس کی تخریج کی۔ت)
(۳ازالۃ الخفاء عن سہل بن ابی حثمۃ فصل پنجم مقصد اول سہیل اکیڈیمی لاہور۱۲۴/۱)
(۷)ایک شخص سے کچھ اونٹ قرضوں خریدے یہ واپس جاتاتھا کہ مولی علی کرم اللہ وجہہ ملے حال پوچھا ۔ اس نے بیان کیا ۔ فرمایا حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی خدمت میں پھر حاضرہو اورعرض کی اگر حضو کوکوئی حادثہ پیش آجائے تو میری قیمت کون اداکرے گا ۔ فرمایا ابوبکر۔پھر دریافت کرایااورجو ابوبکر کو کچھ حادثہ پیش آئے تو کون دے گا۔فرمایا عمر۔پھر دریافت کرایاانہیں بھی کچھ حادثہ درپیش ہو۔ فرمایا
ویحک اذا مات عمر فان استطعت ان تموت فمت
ہائے نادان جب عمر مرجائے تو اگرمرسکے تو مرجانا ۔ رواہ الطبرانی ۱فی الکبیر عن عصمۃ بن مالک رضی اللہ تعالٰی عنہ وھسنہ الامام جلال الدین سیوطی
(طبرنای نے کبیر میں اس کو عصمہ بن مالک رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا اور امام جلال الدین سیوطی علیہ الرحمہ نے اس کو حسن قراردیا۔ت)
(۸)انہیں اشارات جلیلہ سے ہے حضورپُرنور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا ایام مرض وفات اقدس میں صدیق اکبر رضی اللہ تعالٰی عنہ کو اپنی جگہ امامت مسلمین پر قائم کرنا اوردوسرے کی امامت پر راضی نہ ہونا غضب فرمانا جس سے امیر المومنین مولٰی علی کرم اللہ تعالٰی وجہہ الکریم نے استناد فرمایاکہ
رضیہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم لدیننا افلا نرضاہ لدنیا نا ۲
رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے انہیں چن لیا ہمارے دین کی پیشوائی کو، کیاانہیں ہم پسند نہ کریں اپنی دنیا کی امامت کو۔ت)
(۲الصواعق المحرقۃ بحوالہ ابن سعدالباب الاول الفصل الرابع دارالکتب العلمیۃ بیروت ص۴۳ ،۷۱ ،۹۳)
(۹)اورنہایت روشن صریح کے قریب نص وتصریح وہ ارشاد اقدس ہے کہ امام احمد وترمذی نے بافادہ تحسین اورابن ماجہ وابن حبان وحاکم نے بافادۂ تصحیح اورابوالمحاسن رویانی نے حضرت حذیفہ بن الیمان رضی اللہ تعالٰی عنہما اورترمذی وحاکم نے حضرت عبداللہ بن مسعودرضی اللہ تعالٰی عنہ اورطبرانی نے حضرت ابو درداء رضی اللہ تعالٰی عنہ اورابن عدی نے کامل میں اورحضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا کہ حضورپرنورسید یوم النشور صلی اللہ تعالٰی علیہ وعلٰی آلہ واصحابہ وبارک وسلم نے فرمایا:
انی لاادعری مابقائی فیکم فاقتدوابالذین من بعدی ابی بکر۳۔ وفی لفظ اقتداوابالذین من بعدی من اصحابی ابی بکر وعمر۱
میں نہیں جانتا میرا رہنا تم میں کب تک ہو لہذا تمہیں حکم فرماتاہوں کہ میرے ان دوصحابیوں کی پیروی کرو جو میرے بعد ہوں گے ابو بکر وعمر رضی اللہ تعالٰی عنہما۔
(۳مسند احمد بن حنبل حدیث حذیفہ بن الیمان المکتب الاسلامی بیروت ۵/ ۳۸۵ و۳۹۹ و۴۰۲)
(جامع الترمذی ابواب المناقب مناقب ابی بکر وعمار بن یاسر امین کمپنی دہلی ۲/ ۲۰۷و۲۲۱)
(سنن ابن ماجہ فضل ابی بکر الصدیق رضی اللہ عنہ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ص ۱۰)
(کنزالعمال حدیث ۳۳۱۱۵موسسۃ الرسالہ بیروت ۶۴۰/۱۱)
(مواردالظمآن حدیث۲۱۹۳المطبعۃ السلفیۃ ص۵۳۹)
(۱ الکامل لابن عدی ترجمہ حماد بن دلیل دار الفکر بیروت ۲ /۶۶۶)
(المستدر للحاکم کتاب معرفۃ الصحابۃ دار اکفر بیروت ۳ / ۷۵)
(کنز العمال حدیث ۷۵۶۲۳وموسستہ الرسالہ بیروت ۱۱ /۵۶۰و۷۵۵)
(المعجم الکبیر حدیث ۶۲۴۸المکتبۃ الفیصلیہ بیروت ۹ /۶۸)
(مسند احمد بن حنبل عن حذیفہ المکتب الاسلامی بیروت ۵ٖٖٖ /۳۸۲)
(۱۰)ایک بار آخر حیات اقدس میں نص صریح بھی فرمادینا چاہاتھا پھر خدا اور مسلمانوں پر چھوڑ کر حاجت نہ سمجھی ، امام احمد وامام بخاری وامام مسلم ام المومنین صدیقہ محبوبہ سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ وعلیھم وعلیہا وسلم سے راوی کہ وہ ارشاد فرماتی ہیں :
قال لی رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم فی مرضہ الذی مات فیہ ادعی لی اباک واخاک حتی اکتب کتابا فانی اخاف ان یتمنی متمن ویقول قال انا اولی ویابی اللہ والمو منون الا ابا بکر۲۔
حضرت اقدس سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم جس مرض میں انتقال فرمانے کو ہیں اس میں مجھ سے فرمایا اپنے باپ اور بھائی کو بلالے کہ میں ایک نوشتہ تحریر فرمادوں کہ مجھے خوف ہے کوئی تمنا کر نیوالا تمنا کرے اور کوئی کہنے والا کہہ اٹھے کہ میں زیادہ مستحق ہوں او راللہ نہ مانے گا اور مسلمان نہ مانیں گے مگر ابوبکر کو ۔
(۲صحیح البخاری کتاب المرض ۲/ ۸۴۶ وکتاب الاحکام باب الاستخلاف ۲ /۱۰۷۲ قدیمی کتب خانہ کراچی)
(صحیح مسلم کتاب فضائل اصحاب النبی صلی اللہ علیہ وسلم ، باب من فضائل ابی بکر قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/۲۷۳)
(مسند احمد بن حنبل عن عائشہ رضی اللہ عنہا المکتب الاسلامی بیروت ۶ / ۱۴۴)
(الصواعق المحرقۃ الباب الاول الفصل الثالث دار الکتب العلمیہ بیروت ص۳۷)
امام احمد کے ایک لفظ یہ ہیں کہ فرمایا ادعی لی عبدالرحمن بن ابی بکر اکتب ابی بکر کتابا لا یختلف علیہ احد ثم قال دعیہ معاذ اللہ ان یختلف المومنون فی ابی بکر۳
عبدالرحمن بن ابی بکر کو بلا لوکہ میں ابوبکر کے لئے نوشتہ لکھ دو ں کہ ان پر کوئی اختلاف نہ کرے ۔ پھر فرمایا: رہنے دو خدا کی پناہ کہ مسلمان اختلاف کریں ابوبکر کے بارے میں ۔
صلی اللہ تعالی علی الحبیب والہ وصحبہ وبارک وسلم ۔ واللہ سبحنہ وتعالی اعلم وعلمہ احکم ۔
(۳الصواعق المحرقۃ الباب الاول الفصل الثالث دار الکتب العلمیہ بیروت ص۳۷)
(مسند احمد بن حنبل عن عائشہ رضی اللہ عنہا المکتب الاسلامی بیروت۶ /۱۴۴)