Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۸ (کتاب الشتّٰی)
96 - 135
امام اسحٰق بن راہو یہ ودارقطنی وابن عساکر وغیرہم بطرقِ عدیدہ واسانید کثیرہ راوی، دوشخصوں نےامیر المومنین مولٰی علی کرم للہ وجہہ الکریم سے ان کے زمانہ خلافت میں دربارۂ خلافت استفسارکیا اعھدعھدہ الیک النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ام رائ رایتہ ۔کیا یہ کوئی عھد وقرارداد حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی طرف سے ہے یا آپ کی رائے ہے بلکہ ہماری رائے ہے اما ان یکون عندی عھد من النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم عھدہ الی فی ذٰلک فلا، واللہ لئن کنت اول من صدق بہ فلاکون اول من کذب علیہ
رہا یہ کہ اسباب میں میرے لئے حضور پر نور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے کوئی عہدہ قرارداد فرمادیا ہو سو خدا کی قسم ایسا نہیں اگر سب سے پہلے میں نے حضور کی تصدیق کی تو میں سب سے پہلے حضور پر افتراء کرنے والا نہ ہوں گا ولو کان عندی منہ عھد فی ذٰلک ماترکت اخابنی تیم بن مرۃ وعمر بن الخطاب یثوبان علٰی منبرہ ولقاتلتھما بیدی ولولم اجد الابردتی ھذہ اوراگر اسباب میں حضور والا صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی طرف سے میرے پا س کوئی عہد ہوتا تو میں ابوبکر وعمر کو منبر اطہر حضوراقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم  پر جست نہ کرنے دیتا اوربیشک اپنے ہاتھ سے ان سے قتال کرتا اگرچہ اپنی اس چادر کے سواکوئی ساتھی نہ پاتا
ولٰکن رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم لم یقتل قتلا ولم یمت فجأہ مکث فی مرضہ ایاما ولیا لی یاتیہ المؤذن فیؤذنہ بالصلاۃ فیا مرا بابکر فیصلی بالناس وھو یری مکانی ثم یاتیہ المؤذن فیؤذنہ بالصلاۃ فیامر ابابکر فیصلی بالناس وھو یری مکانی
بات یہ ہوئی کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم معاذاللہ کچھ قتل نہ ہوئے نہ یکایک انتقال فرمایا بلکہ کئی دن رات حضور کو مرض میں گزرے ، مؤذن آتا نماز کی اطلاع دیتا، حضور ابوبکر کو امامت کا حکم فرماتے حالانکہ میں حضور کے پیش نظر موجودتھاپھر مؤذن آتا اطلاع دیتا حضور ابوبکر ہی کو امامت دیتے  حالانکہ میں  کہیں غائب نہ تھا
ولقد ارادت امرأۃ من نسائہ ان تصرفہ عن ابی بکر فابی وغضب وقال "انتن صواحب یوسف مرواابابکر فلیصل بالناس
اورخدا کی قسم ازواج مطہرات میں سے ایک بی بی نے اس معاملہ کو ابوبکر سے پھیرنا چاہاتھا، حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے نہ مانا اورغضب کیا اورفرمایا تم وہی یوسف (علیہ السلام)والیاں ہو ابوبکر کو حکم دو کہ امامت کرے
فلما قبض رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نظر نا فی امورنا فاخترنا لدنیا نامن رضیہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم لدیننا فکانت الصلٰوۃ عظیم الاسلام وقوام الدین ، فبایعنا ابابکر رضی اللہ تعالٰی عنہ فکان لذٰلک اھلالم یختلف علیہ منا اثنان
پس جبکہ حضورپرنور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے انتقال فرمایا ہم نے اپنے کاموں میں نظر کی تو اپنی دنیایعنی خلافت کے لئے اسے پسندکرلیا جسے رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلمنے ہمارے دین یعنی نماز کے لئے پسند فرمایاتھاکہ نماز تو اسلام کی بزرگی اوردین کی درستی تھی لہذا ہم نے ابوبکر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے بیعت کی اوروہ اس کے لائق تھےہم میں کسی نے اس بارہ میں خلاف نہ کیا۔ یہ سب کچھ ارشاد کر کے حضرت مولٰی علی کرم اللہ وجہہ الاسنٰی نے فرمایا:
فادیت الٰی ابی بکر حقہ وعرفت لہ طاعتہ وغزوت معہ فی جنودہ وکنت اٰخذ اذا اعطانی واغزو اذا غزانی واضرب بین یدیہ الحدودبسوطی ۱؂۔
پس میں نے ابوبکر کو ان کا حق دیا اوران کی اطاعت لازم جانی اوران کے ساتھ ہوکر ان کے لشکروں میں جہاد کیا جب وہ مجھے بیت المال سے کچھ دیتے میں لے لیتا اور جب مجھے لڑائی پر بھیجتے میں جاتا اورانکے سامنے اپنے تازیانہ سے حد لگاتا_____________۔
 (۱؂تاریخ دمشق الکبیر ترجمہ ۵۰۲۹ علی بن ابی طالب رضی اللہ تعالٰی عنہ داراحیاء التراث العربی بیروت   ۳۳۷/۴۵ تا ۳۳۹)

(الصواعق المحرقۃ بحوالہ الدارقطنی وابن عساکر واسحٰق بن راہویہ الباب الاول الفصل الخامس دارالکتب العلمیۃ ص۷۰تا۷۲)
پھر بعینہٖ یہی مضمون امیرالمومنین فاروق اعظم وامیر المومنین عثمان غنی کی نسبت ارشاد فرمایا، رضی اللہ تعالٰی عنہم اجمعین۔ہاں البتہ اشارات جلیلہ واضحہ بارہافرمائے ، مثلاً:

(۱) ایک بار ارشادہوا میں نے خواب دیکھا کہ میں ایک کنویں پر ہوں اس پر ایک ڈول ہے میں اس سے پانی بھرتارہا جب تک اللہ نے چاہا پھر ابو بکر نے ڈول لیا دورایک بار کھینچا پھر وہ ڈول ایک پل ہوگیا جسے چرسہ کہتے ہیں اسے عمر نے لیا تو میں نے کسی سردار زبردست کو اس کام میں انکے مثل نہ دیکھا یہاں تک کہ تمام لوگوں کو سیراب کردیا کہ پانی پی پی کر اپنی فرودگاہ کو واپس ہوئے ۔
رواہ الشیخان۱؂۔ عن ابی ھریرۃ وعن ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہم
 (اس کو شیخین نے ابو ہریرہ اورابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہم سے روایت کیا۔ت)
 (۱؂صحیح البخاری فضائل اصحاب النبی صلی اللہ علیہ وسلم قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/  ۵۱۷ ، ۵۱۹ ،۵۲۰)

(صحیح البخاری کتاب التعبیر قدیمی کتب خانہ کراچی ۱۰۳۹/۲و۱۰۴۰)

(صحیح مسلم کتاب الفضائل باب من فضائل عمر قدیمی کتب خانہ کراچی ۲۷۵/۲)

( الصواعق المحرقۃ بحوالہ الشیخین الباب الاول الفصل الثالث دارالکتب العلمیۃ بیروت ص۳۹و۴۰)
 (۲) امیر المومنین مولی علی کرم اللہ تعالٰی وجہہ فرماتے ہیں میں نے بارہا بکثرت حضوراقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ ہوا میں اورابوبکروعمر ، کیا میں نے اورابوبکر وعمر نے ، چلا میں اورابوبکر ۔رواہ الشیخان ۲؂عن ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما (اس کو شیخین نے ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے روایت کیا۔ت)
(۲؂صحیح البخاری فضائل اصحاب النبی صلی اللہ علیہ وسلم قبیل مناقب عمر قدیمی کتب خانہ کراچی ۵۱۹/۱)

(مشکوٰۃ المصابیح بحوالہ متفق علیہ باب مناقب ابی بکر وعمر رضی اللہ عنہما قدیمی کتب خانہ کراچی ص۵۵۹)
(۳) ایک بار حضوراقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا آج کی رات ایک مرد صالح (یعنی خود حضور پر نور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم)نے خواب دیکھا کہ ابوبکر رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے متعلق ہیں اور عمر ابوبکر سے اورعثمان عمر سے جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ تعالٰی عنہما فرماتے ہیں جب ہم خدمت اقدس حضور والا صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے اٹھے آپ میں تذکرہ کیا کہ مرد صالح تو حضوراقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ہیں اوربعض کا بعض سے تعلق وہ اس امر کا والی ہونا جس کے ساتھ حضور پرنور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم مبعوث ہوئے ہیں،
رواہ عنہ ابوداودوالحاکم۳؂
 (اس کو جابر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے ابوداوداورحاکم نے روایت کیا۔ت)
 (۳؂سنن ابی داود کتاب السنۃ باب فی الخلفاء آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۲۸۱)

(المستدرک للحاکم کتاب معرفۃ الصحابۃ داراالفکر بیروت  ۳ / ۷۱ ،۷۲ و۱۰۲ )
 (۴) انس رضی اللہ تعالٰی  عنہ فرماتے ہیں مجھے بنی المصطلق نے خدمت حضور سید المرسلمین صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم میں  بھیجاگیا حضور سے دریافت کروں حضور کے بعد ہم اپنے اموال زکوٰۃ کس کے پاس بھیجیں، فرمایا ابو بکر کے پاس۔ عرض کی اگر انہیں کوئی حادثہ پیش آجائے تو کسے دیں؟فرمایاعمر کو۔عرض کی  جب ان کا بھی واقعہ ہو۔ فرمایا عثمان کو۔
رواہ عنہ فی المستدرک وقال ھٰذا حدیث صحیح الاسناد۱؂
 (اس کو انس رضی اللہ عنہ سے حاکم نے مستدرک میں روایت کیا اور فرمایا یہ حدیث صحیح الاسناد ہے ۔ت)
 (۱؂المستدرک للحاکم کتاب معرفۃ الصحابۃ دارالفکر بیروت۷۷/۳)
Flag Counter