| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۸ (کتاب الشتّٰی) |
رسالہ غایۃ التحقیق فی امامۃ العلی والصدیق (۱۳۳۱ھ) (تحقیق کی انتہاء حضرت علی مرتضٰی اورحضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہما کی امامت کے بارےمیں ) بسم اللہ الرحمن الرحیم اللہ رب محمد صلی علیہ وسلّما
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں : مسئلہ۲۲:اول: رسول مقبول صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہٖ وعترتہ وسلم نے وقتِ رحلت یا کسی اوروقت اپنے بعد اپنا جانشین کس کو مقرر کیا؟
الجواب جانشینی ونیابت دو قسم ہے : اول ۱: جزئی مقید کہ امام کسی خاص کام یا خاص مقام پر عارضی طور پرکسی خاص وقت کے لئے دوسرے کو اپنانائب کرے ، جیسے بادشاہ کالڑائی میں کسی کو سردار بنا کر بھیجنا یا کسی کوضلع کی حکومت دینا یا تحصیل خراج پر مامورکرنا ،یا کہیں جاتے ہوئے انتظام شہر سپردکرجانا، اس قسم کا استخلاف صریح حضورپرنورسید یوم النشورصلی اللہ تعالٰی علیہ وعلٰی آلہ وعترتہٖ وازواجہ وصحابتہ اجمعین وبارک وسلم سے بازرہا واقع ہوا، جیسے بعض غزوات میں امیر المومنین صدیق اکبربعض میں حضرات اسامہ بن زید۔ غزوہ ذات السلاسل میں حضرت عمروبن العاص رضی اللہ تعالٰی عنہم کو سپہ سالاربنا کر بھیجا۔تحصیل زکوٰۃ پر امیر المومنین فاروق اعظم وحضرت خالد بن ولید وغیرہما رضی اللہ تعالٰی عنہم کو مقرر فرمایا۔یہ بھی یقینا حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی نیابت تھی کہ اخذصدقات اصل کام حضور والا صلوات اللہ تعالٰی علیہ وعلٰی آلہٖ واصحابہ کا ہے ۔قال تعالی:
خذ من اموالھم صدقۃ تطھرھم وتزکیھم بھا وصل علیھم ان صلاتک سکن لھم۔۱
اے محبوب ان کے مال میں سے زکوٰۃ تحصیل کروجس سے تم انہیں ستھرا اورپاکیزہ کردواوران کےحق میں دعائے خیر کرو بے شک تمہاری دعاان کے دلوں کا چین ہے ۔(ت)
(۱ القرآن الکریم ۹/۱۰۳)
تعلیم قرآن ودین کے لئے قرائے کرام شہدئے عظام کو مقرر فرمایا۔ حضرت عتاب بن اسید کو مکہ معظمہ ، حضرت معاذ بن جبل کو ولایت جَنَد ، حضرت ابو موسٰی اشعری کو زبید و عدن، حضرت ابوسفیان والد امیرمعاویہ یا حضرت عمرو بن حزم کو شہر نجران، حضرت زیاد بن لبید کو حضرموت، حضرت خالد سعید اموی کو صنعا، حضرت عمرو بن العاص کو عمان کاناظم صوبہ کیا۔باذان بن سباسان کیانی مغل کو صوبہ داری یمن پر مقرر رکھا۔ امیر المومنین مولی علی کرماللہ تعالٰی وجہہ کو ملک یمن کا عہد ۂ قضا بخشا۔۸ ھ میں حضرت عتّاب ، ۹ ھ میں حضرت ابو بکرصدیق اکبر کو امیر الحاج بنایا۔ بعض وقائع میں امیر المومنین فاروق اعظم ، بعض میں حضرت معقل بن یسار، بعض میں حضرت عقبہ کو حکم قضا دیا۔ غزوۂ تبوک کو تشریف لے جاتے وقت امیر المومنین علی مرتضٰی کو اہلبیت کرام، اورغزوہ بدر میں حضرت ابولبابہ ، اورتیرہ غزوات واسفار کو نہضت فرماتے حضرت عمرو ابن ام مکتوم کو مدینہ طیبہ کا امیر ووالی فرمایا۔ازانجملہ غزوہ ابواء کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا پہلا غزوہ تھا وغزوہ بواط وغزوہ ذی العبّرہ وغزوہ طلب کر زبن جابر وغزوۂ سویق وغزوۂ غطفان وغزوۂ احد وغزوۂ حمرا ء الاسد وغزوہ نجران وغزوہ ذات الرقاع وسفرحجۃ الوداع کہ حضور پرنور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا پچھلا سفر تھا رضی اللہ تعالٰی علیہم اجمعین۔
لخصنا کل ذٰلک من صحیح البخاری وشروحہ ولمواھب اللدنیۃ بالمنح المحمدیۃ وشرحہا للزرقانی والاصابۃ فی تمییز الصحابۃ للامام الحافظ العسقلانی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہم اجمعین۔
یہ سب ہم نے تلخیص کی صحیح بخاری اوراس کی شرحوں ، مواہب اللدنیہ بالمنح المحمدیہ اوراسکی شرح زرقانی اورحافظ ابن حجر عسقلانی کی تصنیف الاصابہ فی تمییزالصحابہ سے ۔ اللہ تعالٰی ان سب پر رحمت نازل فرمائے۔(ت) دوم کلی مطلق کہ حیات مستحلف سے جمع نہیں ہوسکتی یعنی امام کا اپنے بعد کسی کیلئے امامت کبرٰی کی وصیت فرمانا اس کا نص صریح علی الاعلان بتصریح نام حضور اعلٰی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نےکسی کے واسطے نہ فرمایا، ورنہ صحابہ کرام رضی اللہ تعالٰی عنہم ضرورپیش کرتے اورقریش وانصار میں دربارہ خلافت مباحثے مشاورے نہ ہوتے، امیر المومنین امام الاشجعین اسد اللہ الغالب علی مرتضٰی کرم اللہ تعالٰی وجہہ الکریم سے باسانید صحیحہ قویہ ثابت کہ جب ان سے عرض کی گئی
استخلف علینا
ہم پر کسی کو خلیفہ کردیجئے ۔ فرمایا :
لاولٰکن اترککم کما ترککم رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم
میں کسی کو خلیفہ نہ کروں گا بلکہ یونہی چھوڑوں گا جیسے رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم چھوڑگئے تھے
اخرجہ الامام احمد ۱ بسند حسن والبزاربسندی قوی والدارقطنی وغیرہم
(اس کو امام احمد نے بسند حسن اوربزارنے بسند قوی اوردارقطنی وغیرہم نے رویت کیا۔ت)
(۱مسند امام احمدبن حنبل عن علی رضی اللہ تعالٰی عنہ المکتب اسلامی بیروت۱۳۰/۱) (الصواعق المحرقۃ الباب الاول الفصل الخامس دارالتکب العلمیۃ بیروت ص۷۰) (کشف الاستارعن زوائد البزارباب فی قتلہ حدیث۲۵۷۲موسسۃ الرسالۃ بیروت ۲۰۳/۳) (کنزالعمال بحوالہ ک وابن السنی حدیث۳۶۵۶۲موسسۃ الرسالۃ بیروت ۱۳ / ۱۸۹ )
بزار کی روایت میں بسندصحیح ہے حضرت مولٰی علی کرم اللہ تعالٰی وجہہ نے فرمایا:
مااستخلف رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فاستخلف علیکم ۲
رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے کسی کو خلیفہ نہ کیا کہ میں کروں۔
(۲ الصواعق المحرقۃ بحوالہ البزارالباب الاول الفصل الخامس دارالکتب العلمیۃ بیروت ص۷۰)
دارقطنی کی روایت میں ہے ، ارشادفرمایا :
دخلنا علٰی رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فقلنا یارسول اللہ استخلف علینا قال لا، ان یعلم اللہ فیکم خیرا یول علیکم خیرکم قال علی رضی اللہ تعالٰی عنہ فعلم اللہ فینا خیرا فولی علینا ابابکر (رضی اللہ تعالٰی علیہم اجمعین۱ )
ہم نے خدمت اقدس حضور سید المرسلین صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم میں حاضرہوکر عرض کی: یارسول اللہ ہم پر کسی کو خلیفہ فرمادیجئے ۔ ارشاد ہوا: نہ ، اگر اللہ تعالٰی تم میں بھلائی جانے گا تو جوتم سب میں بہتر ہے اسے تم پر والی فرمادے گا۔حضرت مولی علی کرم اللہ وجہہ نے فرمایا: رب العزۃ جل وعلانے ہم میں بھلائی جانی پس ابوبکر کوہمارا والی فرمایا رضی اللہ تعالٰی عنہم اجمعین۔
(۱ الصواعق المحرقہ بحوالہ الدارقطنی الباب الاول الفصل الخامس دارالکتب العلمیۃ بیروت ص۷۰)