Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۸ (کتاب الشتّٰی)
93 - 135
امام حافظ الحدیث خیثمہ بن سلیمان قرشی وامام دارقطنی و محب الدین طبری وغیرہم حضرت امام حسن مجبتٰی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے راوی حضرت سیدنا علی مرتضٰی وجہہ الکریم فرماتے ہیں :
ان ابا بکرٍ سبقنی الٰی اربعٍ لم اوتھن،سبقنی الٰی افشاء السلام، وقدم الہجرۃ، مصاحبتہ فی الغارواقام الصلوۃ وانا یومئذٍ بالشعب ، یظھر اسلامہ واخفیہ۱؂۔الحدیث
بیشک ابوبکر چارباتوں کی طرف سبقت لے گئے کہ مجھے نہ ملیں : انہوں نے مجھ سے پہلے اسلام آشکار اکیا، اورمجھ سے پہلے ہجرت کی، نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے یارغارہوئے، اورنماز قائم کی اس حالت میں کہ میں ان دنوں گھروں میں تھا۔ وہ اپنا اسلام ظاہر کرتے اور میں چھپاتاتھا۔
 (۱؂المواہب اللدنیہ بحوالہ خیثمہ بن سلیمٰن ذکر اول من اٰمن، اسلام علی رضی اللہ عنہ المکتب الاسلامی بیروت  ۱/ ۲۱۸و۲۱۹)
امام قسطلانی مواہب اللدنیہ میں فرماتے ہیں :
اول من اسلم علی ابن ابی طالب وھو صبی لم یبلغ الحلم ، وکان مستخفیا باسلامہ، واول رجل عربی بالغ اسلم واظھر اسلامہ ابو بکر بن ابی قحافۃ رضی اللہ تعالٰی عنہما۲؂۔
سب سے پہلے ایمان لانے والے مذکر حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ تعالٰی عنہ ہیں جبکہ آپ بچے تھے اورسِنِّ بلوغ کو نہ پہنچے تھے وہ اپنے اسلام کو پوشیدہ رکھتےتھے، اورسب سے پہلے ایمان لانے والے عربی مرد جنہوں نے اسلام ظاہر کیا وہ ابوبکر بن ابی قحافہ رضی اللہ تعالٰی عنہماہیں۔(ت)
(۲؂المواہب اللدنیہ بحوالہ خیثمہ بن سلیمٰن ذکر اول من اٰمن، اسلام علی رضی اللہ عنہ المکتب الاسلامی بیروت  ۱/ ۲۱۹)
امام ابو عمر ابن عبدالبر روایت فرماتے ہیں :
سئل محمد بن کعب القرظی عن اول من اسلم ولی او ابوبکر رضی اللہ تعالٰی عنہما : قال سبحان اللہ علیّ اولھما اسلامًا وانما شبّہ علی الناس لان علیّا اخفٰی اسلامہ من ابی طالب واسلم ابو بکر فاظھر اسلامہ۱؂۔
محمد بن کعب قرظی سے سوال کیا گیا کہ ابو بکر وعلی میں سے پہلے اسلام لانے والا کون ہے؟ تو انہوں نے کہا سبحان اللہ ان دونوں میں سے حضرت علی پہلے اسلام لائے مگر انہوں نے اسلام کو اپنے والد سے پوشیدہ رکھاجس وجہ سے ان کا اسلام لوگوں پر مشتبہ رہا جبکہ ابو بکررضی اللہ تعالٰی عنہ نے اپنا اسلام ظاہر فرمایا۔(ت)
 (۱؂الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب ترجمہ ۱۸۷۵علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ دارالکتب العلمیۃ بیروت۳/۱۹۹)
ولہذا احادیث حضور سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم وآثار صحابہ کرام واہلبیت عظام رضی اللہ تعالٰی عنہم سے ثابت کہ صدیق کا اسلام سب کے اسلام سے افضل، اوران کا ایمان تمام امت کے ایمان سے ازید واکمل ہے
کما بیناہ فی کتابناالمذکور المبارک ان شاء اللہ تعالٰی
(جیسا کہ ہم نے اس کو بیان کردیا ہے کتاب مذکو رمیں جو ان شاء اللہ بابرکت ہوگی۔ت)

رہے امیر المومنین فاروق وامیر المومنین غنی رضی اللہ تعالٰی عنہما مذہب جمہور اہلسنت میں امیر المومنین حیدر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے تو وہ دونوں افضل اورامیر المومنین صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ اگرچہ سب سے افضل مگر اس وجہ سے افضل نہیں کہ یہ قدیم الاسلام ہیں وہ جدید الاسلام ، کہ یہ فضل جُزئی ہے جو مفضول کو بھی افضل پر مل سکتاہے ۔ فضل کلی اورشیئ ہے جس کی تحقیق انیق ہم نے کتاب مذکور میں ذکر کی۔ قدم اسلام اگر موجب افضلیت ہوتو لازم آئے کہ من وتو زید وعمروکہ بعونہ تعالٰی باپ داداپرداداپشت ہاپشت سے مسلمان چلے آتے ہیں ۔ عمر وعثمان ، ابو ذرو سلمان وحمزہ وعباس وغیرہم صحابہ کرام واہلیبت عظام رضی اللہ تعالٰی عنہم سے معاذاللہ افضل ٹھہریں ، تو اس بنا پر دعوی افضلیت محض جہالت اورفضل جُزئی وکلی کے تفرقہ سے غفلت ہے۔
واللہ الھادی وولی الایادی واللہ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم وعلمہٗ جل مجدہ اتم واحکم۔
اللہ تعالٰی ہدایت دینےو الا اورنعمتوں کا مالک ہے اوراللہ سبحانہ وتعالٰی خوب جانتاہے اوراس کا علم اتم اورمستحکم ہے ۔(ت)
Flag Counter