یہ رسول کیساہے کہ ہماری طرح کھاناکھاتاہے اوربازاروں میں چلتاہے۔
(۲القرآن الکریم ۲۵/۷)
اورپُر ظاہر کہ حکم ، بے تصورمحکوم علیہ محال قطعی۔ تو جس چیز سے ذہن اصلاً خالی اس کی تصدیق وتکذیب دونوں ممتنع عقلی۔
وقد قال تعالی :
ماانذر اٰباؤھم فھم غفلون۳۔
بے شک اللہ تعالٰی نے فرمایا : ان کے باپ دادا نہ ڈرائے گئے تو وہ بے خبر ہیں۔(ت)
(۳القرآن الکریم ۳۶/۶)
لہذا اس زمانے میں صرف توحید مدار اسلام ومناطِ نجات ونافی کفر تھی ۔ موحد ان جاہلیت کا مسئلہ اجماعیہ کسے نہیں معلوم؟بایں ہمہ وہ اسلام ضروری تھا کہ اس وقت اسی قدرممکن تھا اصل دین ومرضی رب العٰلمین جسے
ان الدین عنداللہ الاسلام۴
(بے شک اللہ کے یہاں اسلام ہی دین ہے ۔ت) فرمایا گیا تمام ایمانیات پر ایمان لانا ہے ،
کل اٰمن باللہ وملٰئکتہ وکتبہ ورسلہ۔
سب نے مانا اللہ اوراس کے فرشتوں ، اس کی کتابوں اوراس کے رسولوں کو۔ (ت)
(۴القرآن الکریم ۳/۱۹) (۵القرآن الکریم ۲/۲۸۵)
یہ بغیر بعثت وبلوغ دعوت ناممکن ۔۔۔۔۔او راس کا بھی فرد اکمل وہ ہے جس کی نسبت ابراہیم خلیل واسمٰعیل ذبیح صلی اللہ تعالٰی علیہما وسلم نے دعا کی :
ومن ذریتنا امۃ مسلمۃ لک۶۔
اورہماری اولاد میں سے ایک امت تیری فرمانبردار۔(ت)
(۶القرآن الکریم ۲/۱۲۸)
جس کی نسبت ارشادہوتاہے :
ھو سماکم المسلمین من قبل۱۔
اللہ نے تمہارا نام مسلمان رکھا ہے اگلی کتابوں میں ۔(ت)
(۱القرآن الکریم ۲۲/۷۸)
یعنی اس نبی کر یم افضل المسلمین خاتم النبیین صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم وعلیہم اجمعین کی امت مرحومہ میں داخل ہونا ۔ یہ اسلام کا اطلاق اخص واکمل واجل واجمل ہے ۔ان دونوں معنوں پر ان حضرات عالیات رضی اللہ تعالٰی عنہما کی نسبت کہا جاتاہے کہ وہ آٹھ یا دس برس کی عمر میں اسلام لائے، یہ ارشاد اقدس سنتے ہی فوراً بلاتامل مسلمان ہوئے۔ معہذا اس میں ایک سِرّ یہ ہے کہ بعد بعثت وبلوغ دعوت صرف اس اسلام ضروری پر قناعت کافی ووجہ نجات نہیں ۔ اگرکوئی شخص فترت میں صدہا سال موحد رہتا اوربعد دعوت تصدیق نہ کرتا وہ اسلام سابق یقینا زائل ہوکر
یعنی اس نبی کر یم افضل المسلمین خاتم النبیین صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم وعلیہم اجمعین کی امت مرحومہ میں داخل ہونا ۔ یہ اسلام کا اطلاق اخص واکمل واجل واجمل ہے ۔ان دونوں معنوں پر ان حضرات عالیات رضی اللہ تعالٰی عنہما کی نسبت کہا جاتاہے کہ وہ آٹھ یا دس برس کی عمر میں اسلام لائے، یہ ارشاد اقدس سنتے ہی فوراً بلاتامل مسلمان ہوئے۔ معہذا اس میں ایک سِرّ یہ ہے کہ بعد بعثت وبلوغ دعوت صرف اس اسلام ضروری پر قناعت کافی ووجہ نجات نہیں ۔ اگرکوئی شخص فترت میں صدہا سال موحد رہتا اوربعد دعوت تصدیق نہ کرتا وہ اسلام سابق یقینا زائل ہوکر کافر مخلد فی النار ہوجاتا۔ تو جس نے فورًا تصدیق کی اس پرحکم اسلام اس وقت سے تام وقائم ومحکم ومستقر ہوا۔
علاوہ بریں رب العز ت عزوجل اپنے خلیل جلیل سیدنا ابراہیم علیہ الصلوۃ والتسلیم کی نسبت فرماتاہے :
اذقال لہ ربہ اسلم قال اسلمت لرب العٰلمین۲۔
جب اس سے فرمایا اس کے رب نے کہ اسلام لا، بولامیں اسلام لایا رب العالمین کیلئے۔
(۲القرآن الکریم ۲/۱۳۱)
جب خلیل کبریا علیہ الصلوٰۃ والثناء کو اسلام لانے کا حکم ہونا اورانکا عرض کرنا کہ اسلام لایا، معاذاللہ ان کے ایمان قدیم واسلام مستمر کامنافی نہ ہوا کہ حضرات انبیاء علیہم التحیۃ والثناء کی طرف بعد نبوت وپیش از نبوت کبھی کسی وقت ایک آن کے لئے بھی غیر اسلام کو اصلاً راہ نہیں، توصدیق ومرتضٰی رضی اللہ تعالٰی عنہما کی نسبت یہ الفاظ کہ فلاں دن مسلما ن ہوئے اس روز اسلام لائے، انکے اسلام سابق کے معاذاللہ کیا مخالفت ہوسکتے ہیں۔
ھذا کلہ واضح مبین۔ والحمدللہ رب العالمین۔
یہ سب واضح نمایاں ہے اورتمام تعریفیں اللہ تعالٰی کے لئے ہیں جوپروردگارہے کل جہانوں کا۔(ت)
بحمداللہ تعالٰی فقیر کی اس تقریر سے جس طرح روافض کا نفیِ خلافت صدیقی رضی اللہ تعالٰی عنہ کےلئے براہ عناد ومکابرہ آیہ کریمہ
لاینال عھدی الظٰلمین۱
(میرا عہد ظالموں کو نہیں پہنچتا۔ت) سے سفیہانہ استدلال ، جس کا نہ صغرٰی صحیح نہ کبرٰی ٹھیک، ہباءً منثورا ہوگیا، یونہی تفضیلیہ کا وہ باطل خیال کہ "قدم اسلام خاصہ حضرت مرتضوی کرم اللہ تعالٰی وجہہ ہے لہذا خلفائے ثلٰثہ رضی اللہ تعالٰی عنہم سے افضل"مدفوع ومقہور ہوگیا۔
(۱القرآن الکریم۲/۱۲۴)
فاقول وباللہ التوفیق
(پس میں کہتاہوں اورتوفیق اللہ ہی کی طر ف سے ہے۔ت) صدیق اکبر رضی اللہ تعالٰی عنہ کے لحاظ سے تو یہ تخصیص ہی غلط کہ وہ بھی اس فضل جلیل میں شریک حضرت اسداللہ الغالب ، بلکہ انصاف کیجئے تو شریک غالب ہیں اگرچہ دونوں حضرات قدیم الاسلام ہیں کہ ایک آن ایک لمحہ کو ہر گز ہرگز متصف بکفر نہ ہوئے ، مگر اسلام میثاقی واسلام فطری کے بعد اسلام توحیدی واسلام اخص دونوں میں صدیق اکبر کا پایہ ارفع واعلٰی ہے ۔توحیدی میں یوں کہ صدیق اکبر کی ایک عمر کثیر اس زمانہ ظلمت وجہالت میں گزری۔ ابتداء میں مدتوں حضور پرنور سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی بارگاہِ اسلام پناہ سے دوری رہی۔ اس پر بچپنے کی کچی سمجھ میں انکے والد ماجد رضی اللہ تعالٰی عنہ کا کہ اس وقت تک مبتلائے شرک تھے اپنے دین باطل کی تعلیم دینا، ،بت خانے میں لے جاکرسجدہ بت کی تفہیم کرنا،غرض رہنما مفقود، رہزنی موجود۔بایں ہمہ انکا توحید خالص پر قائم رہنا ، اللہ اکبرکیسا اجل واعظم ہے ۔حضرت امیر المومنین مولا علی کرم اللہ تعالٰی وجہہ الاسنٰی نے آنکھ کھولی تو محمد رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ہی کا جمال جہاں آرا ء دیکھا ، حضور ہی کی گود میں پرورش پائی، حضور ہی کی باتیں سنیں، حضو رہی کی عادتیں سیکھیں، شرک وبت پرستی کی صورت ہی اللہ تعالٰی نے کبھی نہ دکھائی، آٹھ یا دس سال کے ہوئے کہ آفتاب جہاں تابِ رسالت اپنی عالمگیر تابشوں کے ساتھ چمک اٹھا، والحمدللہ رب العٰلمین (اورسب تعریفیں اللہ تعالٰی کے لئے ہیں جو پروردگارہے تمام جہانوں کا۔ت) اسلام اخص میں یوں کہ صدیق اکبر نے فورًا اپنا اسلام سب پر ظاہر وآشکار کردیا ، ہدایتیں فرمائیں ، کفار کےہاتھوں سے اذیتیں پائیں ، جن کی تفصیل ہماری کتاب مطلع القمرین فی ابانۃ سبقۃ العمرین وغیرہ کتب حدیث میں ہے ۔
اورامیر المومنین مولٰی علی کی نسبت آیا کہ کچھ دنوں اپنے باپ ابو طالب کےخوف سے کہ لازمہ صغرسنّ ہے اپنے اسلام کا اخفافرمایا ،