(جیسا کہ امام سیوطی کی تاریخ الخلفاء ، علامہ ابن عابدین کی ردالمحتاراورجامع المناقب وغیرہ میں ہے ۔ ت) تیرہ یا دس یا نو یا آٹھ برس کے سن میں ایمان لائے ہیں ، اگر ہمیشہ مسلمان تھے تو پھر ایمان لانا چہ معنٰی دارد۔
بینوا بالتفصیل توجروابالاجر الجزیل
(تفصیل سے بیان کرو اجر عظیم دیے جائے گا۔ت)
الجواب : حضرت امیر المومنین، مولی المسلمین ، امام الواصلین ، سیدناعلی المرتضٰی مشکل کشا،کرم اللہ تعالٰی وجہہ الاسنٰی اورحضرت امیر المومنین امام المشاہدین افضل الاولیاء المحمدیین سیدنا ومولانا صدیق اکبر عتیق اطہر علیہ الرضوان الاجل الاظہردونوں حضرات عالمِ ذریت سے روزِ ولادت،روزِولادت سے سنِّ تمیز، سنِّ تمیزسے ہنگامِ ظہورپرنور آفتاب بعثت،ظہورِ بعثت سے وقتِ وفات ، وقتِ وفات سے ابدالآبادتک بحمداللہ تعالٰی موحدموقن ومسلم ومومن وطیب وزکی وطاہر ونقی تھے ، اورہیں، اوررہیں گے،کبھی کسی وقت کسی حال میں ایک لحظہ ایک آن کو لوثِ کفروشرک وانکار ان کے پاک، مبارک ، ستھرے دامنوں تک اصلاً نہ پہنچا نہ پہنچے،
(سب تعریفیں اللہ تعالٰی کے لئے ہیں جو پروردگارہے تمام جہانوں کا۔ت)
عالم ذریت سے روزِ ولادت تک اسلام میثاقی تھا کہ
(کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں، انہوں نے کہا کیوں نہیں۔)
روز ولادت سے سنِّ تمیز تک اسلام فطری کہ
کل مولود یولد علی الفطرۃ۲
ہربچہ فطرت اسلام پر پیداہوتاہے ۔(ت)
(۲صحیح البخاری کتاب الجنائزباب ماقیل فی اولادالمشرکین قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/۱۸۵)
(سنن ابی داود کتاب السنۃ ۲۹۲/۲وجامع الترمذی ابواب القدر۲/۳۶)
(مسند احمد بن حنبل عن ابی ہریرۃ رضی اللہ عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۲/۲۳۳)
سنِّ تمیز سے روز بعثت تک اسلام توحیدی کہ ان حضرات والاصفات نے زمانہ فترت میں بھی کبھی بت کو سجدہ نہ کیا، کبھی غیر خدا کو خدا نہ قراردیا ہمیشہ ایک ہی جانا،ایک ہی مانا ، ایک ہی کہا ، ایک ہی سے کام رہا۔
ذٰلک فضل اللہ یؤتیہ من یشاء واللہ ذوالفضل العظیم۳۔
یہ اللہ کا فضل ہے جسے چاہے عطافرماتاہے اوراللہ عظیم فضل والا ہے۔(ت)
پھر ظہور بعثت سے ابدالآبادتک حال تو ظاہر وقطعی ومتواتر ہے
(سب تعریفیں اللہ تعالٰی کےلئے ہیں جو پروردگارہے تمام جہانوں کا۔ت)فقیر غفرلہ اللہ المولی القدیرنے یہ نفسی مطلب بقدر حاجت اپنے رسالہ موجزہ تنزیہ المکانۃ الحیدریۃ عن وصمۃ عہد الجاھلیۃ میں واضح کیا۔
(میں پھر کہتاہوں اورتوفیق اللہ کی طرف سے ہے ) ظاہر ہے کہ تا اوان (وقت) فترت اس زمان جاہلیت ومکان اُمیت وہیجان غفلت میں سمعیات پر اطلاع کے تو کوئی معنی ہی نہ تھے، اسی طرح نبوت وکتاب کہ وہ لوگ ان امور سے واقف ہی نہ تھے ، ولہذابراہِ عجب کہتے ہیں:
کیا خدا نے آدمی کو رسول بنایا۔