Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۸ (کتاب الشتّٰی)
91 - 135
مسئلہ۲۰: از بنارس محلہ پترکنڈہ مرسلہ مولوی محمد عبدالحمیدصاحب (رحمہ للہ تعالٰی ) ۶رجب ۱۳۱۲ھ 

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین
ابقاھم اللہ تعالٰی الی یوم الدین
 (اللہ تعالٰی انہیں روز جزا ء تک قائم رکھے ۔ت) اس میں کہ حضرت علی کرم اللہ تعالٰی وجہہ ہمیشہ کے مسلمان تھے یا کہ
علی مافی تاریخ الخلفاء للسیوطی وردالمحتار لابن عابدین وجامع المناقب وغیرہ
(جیسا کہ امام سیوطی کی تاریخ الخلفاء ، علامہ ابن عابدین کی ردالمحتاراورجامع المناقب وغیرہ میں ہے ۔ ت) تیرہ یا دس یا نو یا آٹھ برس کے سن میں ایمان لائے ہیں ، اگر ہمیشہ مسلمان تھے تو پھر ایمان لانا چہ معنٰی دارد۔
بینوا بالتفصیل توجروابالاجر الجزیل
 (تفصیل سے بیان کرو اجر عظیم دیے جائے گا۔ت)
الجواب : حضرت امیر المومنین،  مولی المسلمین ، امام الواصلین ، سیدناعلی المرتضٰی مشکل کشا،کرم اللہ تعالٰی وجہہ الاسنٰی اورحضرت امیر المومنین امام المشاہدین افضل الاولیاء المحمدیین سیدنا ومولانا صدیق اکبر عتیق اطہر علیہ الرضوان الاجل الاظہردونوں حضرات عالمِ ذریت سے روزِ ولادت،روزِولادت سے سنِّ تمیز، سنِّ تمیزسے ہنگامِ ظہورپرنور آفتاب بعثت،ظہورِ بعثت سے وقتِ وفات ، وقتِ وفات سے ابدالآبادتک بحمداللہ تعالٰی موحدموقن ومسلم ومومن وطیب وزکی وطاہر ونقی تھے ، اورہیں، اوررہیں گے،کبھی کسی وقت کسی حال میں ایک لحظہ ایک آن کو لوثِ کفروشرک وانکار ان کے پاک، مبارک ، ستھرے دامنوں تک اصلاً نہ پہنچا نہ پہنچے،
والحمدللہ رب العٰلمین
 (سب تعریفیں اللہ تعالٰی کے لئے ہیں جو پروردگارہے تمام جہانوں کا۔ت)

عالم ذریت سے روزِ ولادت تک اسلام میثاقی تھا کہ
الست بربکم، قالوابلٰی۱؂
(کیا  میں تمہارا رب نہیں ہوں، انہوں نے کہا کیوں نہیں۔)
 (۱؂القرآن الکریم ۷/۱۷۲)
روز ولادت سے سنِّ تمیز تک اسلام فطری کہ
کل مولود یولد علی الفطرۃ۲؂
ہربچہ فطرت اسلام پر پیداہوتاہے ۔(ت)
 (۲؂صحیح البخاری کتاب الجنائزباب ماقیل فی اولادالمشرکین قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/۱۸۵)

(سنن ابی داود کتاب السنۃ ۲۹۲/۲وجامع الترمذی ابواب القدر۲/۳۶)

(مسند احمد بن حنبل عن ابی ہریرۃ رضی اللہ عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۲/۲۳۳)
سنِّ تمیز سے روز بعثت تک اسلام توحیدی کہ ان حضرات والاصفات نے زمانہ فترت میں بھی کبھی بت کو سجدہ نہ کیا، کبھی غیر خدا کو خدا نہ قراردیا ہمیشہ ایک ہی جانا،ایک ہی مانا ، ایک ہی کہا ، ایک ہی سے کام رہا۔
ذٰلک فضل اللہ یؤتیہ من یشاء واللہ ذوالفضل العظیم۳؂۔
یہ اللہ کا فضل ہے جسے چاہے عطافرماتاہے اوراللہ عظیم فضل والا ہے۔(ت)
 (۳؂القرآن الکریم ۶۲/۴)
پھر ظہور بعثت سے ابدالآبادتک حال تو ظاہر وقطعی ومتواتر ہے
والحمدللہ رب العٰلمین
 (سب تعریفیں اللہ تعالٰی کےلئے ہیں جو پروردگارہے تمام جہانوں کا۔ت)فقیر غفرلہ اللہ المولی القدیرنے یہ نفسی مطلب بقدر حاجت اپنے رسالہ موجزہ تنزیہ المکانۃ الحیدریۃ عن وصمۃ عہد الجاھلیۃ میں واضح کیا۔
ثم اقول وباللہ التوفیق
(میں پھر کہتاہوں اورتوفیق اللہ کی طرف سے ہے ) ظاہر ہے کہ تا اوان (وقت) فترت اس زمان جاہلیت ومکان اُمیت وہیجان غفلت میں سمعیات پر اطلاع کے تو کوئی معنی ہی نہ تھے، اسی طرح نبوت وکتاب کہ وہ لوگ ان امور سے واقف ہی نہ تھے ، ولہذابراہِ عجب کہتے ہیں:
أبعث اللہ بشرارسولا۱؂
کیا خدا نے آدمی کو رسول بنایا۔
 (۱؂القرآن  الکریم  ۱۷/۹۴)
Flag Counter