Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۸ (کتاب الشتّٰی)
90 - 135
تکمیل بحمداللہ تعالٰی یہی فضل اجل واجمل ، بلکہ اس سے بھی اعلٰی واکمل ، نصیب حضرت امیر المومنین ، امام المشاہدین، افضل الاولیاء المحمدیین، سیدنا ومولانا صدیق اکبر رضی اللہ تعالٰی عنہ ہے ۔ حکم تبعیت تو انہیں وجوہ بالا سے باطل ۔ چند برس کی عمر شریف ہوئی کہ پرتوشانِ خلیل اللہی بت خانہ میں بت شکنی فرمائی۔ان کے والد ماجد سیدنا ابو قحافہ رضی اللہ تعالٰی عنہ (کہ وہ بھی صحابی ہوئے) اس زمانۂ جاہلیت میں انہیں بت خانے لے گئے اوربتوں کو دکھا کر کہا:
ھٰذہٖ اٰلہتک الشم العلٰی فاسجدلہا
یہ تمہارے بلند وبالا خدا ہیں انہیں سجدہ کرو۔ وہ تو یہ کہہ کرباہر گئے ، سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالٰی عنہ قضائے مبرم کی طرح  بت کے سامنے تشریف لائے اور براہ اظہار عجز  صنم وجہل صنم پرست ارشادفرمایا :
انی جائع فاطعمنی
میں بھوکا ہوں مجھے کھانا دے ۔ وہ کچھ نہ بولا۔فرمایا :
انی عارفاکسنی
میں ننگاہوں مجھے کپڑا پہنا۔ وہ کچھ نہ بولا ۔ صدیق اکبر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے ایک پتھر ہاتھ میں لے کرفرمایا: میں تجھ پر پتھر ڈالتاہوں۔
فان کنت الٰہًافامنع نفسک
اگر توخدا ہے تو اپنے آ پ کو بچا ۔ وہ اب بھی نرابت بنارہا۔ آخر بقوت صدیقی پتھر پھینکا کہ وہ خدائے گمراہاں منہ کے بل گرا۔ والد ماجد واپس آتے تھے  یہ ماجرا دیکھا ، کہا : اے میرے بچے !یہ کیا کیا؟ فرمایا: وہی جوآپ دیکھ رہے ہیں؟ وہ انہیں ان کی والدہ ماجدہ حضرت ام الخیر رضی اللہ تعالٰی عنہا کے پاس (کہ وہ صحابیہ ہوئیں) لے کر آئے اور ساراواقعہ ان سے بیان کیا انہوں نے فرمایا : اس بچے سے کچھ نہ کہو ، جس رات یہ پیدا ہوئے میرے  پاس کوئی نہ تھا ، میں نے سنا کہ ہاتف کہہ رہا ہے ۔
یا امۃ اللہ علی التحقیق : ابشری بالولد العتیق : اسمہٗ فی السماء الصدیق : لمحمد صاحب ورفیق : رواہ القاضی ابوالحسین احمد بن محمد ن الزبیدی بسندہ فی"معالی الفرش الی عوالی العرش ۱؂" وقد ذکرنا الحدیث بطولہ فی کتابنا المبارک ان شاء اللہ تعالٰی مطلع القمرین فی ابانۃ سبقۃ العمرین۔
اے اللہ کی سچی لونڈی! تجھے خوشخبری ہو اس آزاد بچے کی، اس کا نام آسمانوں میں صدیق ہے محمد صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا یار ورفیق ہے ۔ (اسے قاضی ابوالحسین احمد بن محمد زبیدی نے )"معالی الفرش الی عوالی العرش"میں اپنی سند کے ساتھ روایت کیا ہے اورہم نے پوری حدیث طویل اپنی کتاب "مطلع القمرین فی ابانۃ سبقۃ العمرین"میں بیان کیا ہے جو بابرکت (کتاب ) ہے اگر اللہ نے چاہا۔ت)
(۱؂ارشاد الساری شرح صحیح البخاری بحوالہ معالی الفرش الی عوالی العرش باب اسلام ابی بکر دارالکتاب العربی بیروت      ۶/۱۸۷،۱۸۸ )
سولہ برس کی عمر میں حضور پرنورسید عالم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے قدم پکڑے کہ عمر بھرنہ چھوڑے ، اب بھی پہلوئے اقدس میں آرام کرتے ہیں، روز قیامت دست بدست حضور اٹھیں گے ، سایہ کی طرح ساتھ ساتھ داخل خلد بریں ہوں گے ۔ جب حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم مبعوث ہوئے فورًا بے تامل ایمان لائے ، ولہذا سید نا امام  ابوالحسن اشعری رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں :
لم یزل ابوبکر الصدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ بعین الرضا منہ۱؂۔
حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ ہمیشہ سرکار اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی خوشنودی میں رہے۔(ت)
 (۱؂ارشاد الساری شرح صحیح البخاری باب اسلام ابی بکر رضی اللہ عنہ دارالکتاب العربی بیروت ۶/۱۸۷)
امام قسطلانی ارشاد الساری شرح صحیح البخاری میں فرماتے ہیں :
  اختلف الناس فی مرادہ بھٰذا الکلام فقیل لم یزل مؤمنا قبل البعثۃ وبعدھا وھو الصحیح المرتضٰی۲؂
اس کلام سے امام اشعری کی مراد میں لوگوں کا اختلاف ہے ۔ بیان مراد میں ایک قول یہ ہے کہ وہ ہمیشہ مومن رہے ، قبل بعثت بھی، بعد بعثت بھی ۔ یہی قول صحیح وپسندیدہ ہے (ت)
 (۲؂ارشاد الساری شرح صحیح البخاری باب اسلام ابی بکر رضی اللہ عنہ دارالکتاب العربی بیروت ۶/۱۸۷)
امام اجل سید ابوالحسن علی بن عبدالکافی تقی الدین سبکی قدس سرہ الملکی فرماتے ہیں :
الصواب ان یقال ان الصدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ لم یثبت عنہ حالۃ کفرباللہ کما ثبتت عن غیرہ ممن اٰمن ۔ وھوالذی سمعناہ من اشیاخنا ومن یقتدٰی بہ وھو الصواب ان شاء اللہ تعالٰی ۳؂۔
صحیح یہ کہنا ہے کہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے متعلق کوئی حالت کفر ثابت نہ ہوئی جیسا کہ دوسرے ایمان والوں سے متعلق ثابت ہوئی۔ یہی ہم نے اپنے شیوخ اورپیشواؤں سے سنا ہے اوریہی حق ہے ان شاء اللہ تعالٰی ۔(ت)
(۳؂ارشاد الساری شرح صحیح البخاری باب اسلام ابی بکر رضی اللہ عنہ دارالکتاب العربی بیروت ۶/۱۸۷)
الحمدللہ یہ اجمالی جواب ، موضح ، نہم جمادی الاخری روز شنبہ کو تمام اوربلحاظ تاریخ"تنزیہ المکانۃ الحیدریۃ عن وصمۃ عھد الجاھلیۃ"نام ہوا۔
واٰخر دعوٰناان الحمدللہ رب العٰلمین، وصلی اللہ تعالٰی علٰی خیر خلقہ وسراج افقہ سیدنا ومولانا محمد واٰلہ وصحبہ اجمعین، واللہ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم، وعلمہ جل مجدہ اتم وحکمہ عزشانہٗ احکم۔
اورہماری دعا کا اختتام یہ ہے کہ تمام تعریفیں اللہ رب العالمین کے لئے ہیں ۔ اللہ تعالٰی درود نازل فرمائے بہترین مخلوق، اس کے افق کے سراج ہمارے آقاومولٰی محمد پر، آپ کی آل پر اورآ پ کے تمام صحابہ پر۔ اوراللہ تعالٰی خوب جانتاہے ۔ اس کا علم اتم اور اس کا حکم مضبوط ہے۔(ت)

رسالہ تنزیہ المکانۃ الحیدریۃ عن وصمۃ عہد الجاھلیۃ 

ختم ہوا۔
Flag Counter