Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۸ (کتاب الشتّٰی)
89 - 135
الثالث عقلیان ولیساموجبین للحکم ولا کاشفین عن تعلقہ وھو مختارالشیخ ابن الھمام وتبعہ المصنف ورأیت فی بعض الکتب وجدت مشائخنا الذین لاقیتھم قائلین مثل قول الاشعریۃ ۱؂اھ بتلخیص۔
سوم حسن وقبح عقلی ہیں۔ اوراتنے ہی سے وہ تعلق حکم کے موجب یا مظہر نہیں۔یہی شیخ ابن الہمام کا مختار ہے اورمصنف نے اسی کا اتباع کیاہے ۔میں نے بعض کتابوں میں پڑھا کہ میں نے اپنے ان مشائخ کو جن سے میں نے ملاقات کی ہے اشعریہ کے قول کاقائل پایااھ بتلخیص۔(ت)
 (۱؂فواتح الرحموت بذیل المستصفی المقالۃ الثالثہ الباب الاول منشورات الشریف الرضی قم ایران ۱/۲۹)
ان دونوں قولوں پر قبل شرح حکم اصلا نہیں ، تو عصیان نہیں ، کہ عصیان مخالفت حکم کا نام ہے ۔
ولذا قال الامام ابن الھمام کیف تحقق طاعۃ اومعصیۃ قبل ورودامرونھی۔
اسی لئے ابن الہمام نے فرمایا کہ امرونہی وارد ہونے سے پہلے کسی طاعت یا معصیت کا تحقق کیسے!(ت)

اورجب عصیان نہیں کفر بالاولٰی نہیں کہ وہ اخبث معاصی ہے اورانتفائے عام مستلزم انتفائے خاص۔یوں بھی خود ابوطالب پرتا زمان فترت حکم کفر نہ تھا ، جب کفرکیا تبعیت کا اصلاًمحل نہ تھا۔

جماہیر ائمہ ماتریدیہ رضی اللہ تعالٰی عنہم اگرچہ عقل کو معرف حکم مانتے ہیں، مگر نہ مطلقًاکہ یہ توسفاہت سفہائے معتزلہ وروافض وکرامیہ وبراہمہ
خذلھم اللہ تعالٰی
(اللہ تعالٰی ان کو رسواکرے۔ت) ہے ۔بلکہ امثال توحیدوشکر وترک کفران وکفر وغیرہا امورعقلیہ غیر محتاج سمع میں ۔اس مذہب پر پھر وہی سوال ہوگا کہ حضرت فاطمہ بنت اسد کا زمان فترت میں ارتکاب شرک واجتناب توحیدثابت کرو۔اگر نہ ثابت کرسکو توکیا مولی المسلمین ولی رب العٰلمین حبیب سید المرسلین صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم پر ایسے شنیع لفظ کا اطلاق بے دلیل کردیا جائے گا؟

ثالثاً اس سب سے تنزل کیجئے اورتاظہور بعثت ان دونوں زن وشوکا کفر مان ہی لیجئے تو اب ایک ذرا نظر انصاف درکار کہ امردوم کا پتا نہ لگارہا نہ رہے۔

ناسمجھ بچے کو بہ تبعیت والدین یا دارکافر کہنے کے ہرگز ہرگز  یہ معنی نہیں کہ وہ حقیقۃًکافر ہے کہ یہ تو بداہۃً باطل ۔ وصف کفر یقینًا اس سے قائم نہیں ، بلکہ اسلام فطری سے متصف ہے کما قدمنا (جیسا کہ پہلے گزر چکا ۔ت) یہ اطلاق صرف ازروئے حکم ہے یعنی شرعًا اس پر وہ احکام ہیں جو اس کے باپ یا اہل دار پر ہیں وہ بھی نہ مطلقًابلکہ صرف دنیوی ، مثلاً وہ اپنے کافر مورث کا ترکہ پائے گا نہ مسلم کا ،کافر وارث کو اس کا ترکہ ملے گا نہ مسلم کو ، کافرہ سے اس کانکاح ہوسکتا ہے نہ مسلمہ سے ، وہ مرجائے تو اس کے جنازے کی نماز نہ پڑھیں گے، مسلمانوں کی طرح غسل وکفن نہ دیں گے ، مقابر مسلمین میں دفن نہ کریں گے
الی غیر ذٰلک من الاحکام الدنیویۃ
 (اس کے علاوہ دیگر دنیوی احکام ۔ت)

فتح القدیر میں ہے :
تبعیۃ الابوین اواحدھما ای فی احکام الدنیا لافی العقبٰی۱؂۔
والدین یا ان میں سےکسی ایک کے تابع ہونا یعنی دنیوی احکام میں ہے نہ کہ اخروی احکام میں (ت)
(۱؂فتح القدیر باب الجنائز فصل فی الصلوٰۃ علی المیت مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر۲/۹۴)
بحرالرائق میں ہے :
اعلم ان المراد بالتبعیۃ التبعیۃ فی احکام الدنیا لافی العقبٰی۲؂۔
تو جان لے کہ تابع ہونے سےمراد دنیاوی احکام میں تابع ہونا ہے نہ کہ اخروی احکام میں ۔(ت)
 (۲؂بحرالرائق کتاب الجنائز فصل السلطان احق بصلوٰتہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲/۱۹۰)
شرنبلالیہ میں ہے :
التبعیۃ انما ھی فی احکام الدنیا لافی العقبٰی ۳؂۔
تابع ہونا تومحض دنیاوی احکام میں ہے نہ کہ اخروی احکام میں ۔(ت)
(۳؂غنیۃ ذوی الاحکام حاشیۃ علی الدررباب الجنائز میر محمد کتب خانہ کراچی ۱/۱۶۶)
درمختار میں ہے :
تبع لہ ای فی احکام الدنیا لاالعقبی لما مر انھم خدم اھل الجنۃ۱؂
بچہ والدین میں سے کسی کے تابع ہے یعنی دنیاوی احکام میں نہ کہ اخروی احکام میں، کیونکہ گزرچکا ہے کہ انکے بچے جنتیوں کے خادم ہوں گے۔(ت)
(۱؂الدرالمختارباب صلوٰۃ الجنائز مطبع مجتبائی دہلی ۱/۱۲۳)
اورجب یہ تبعیت صرف احکام دنیوی میں ہے تو اس کا ثبوت احکام دنیاکے وجود پر موقوف ۔ اگردنیا میں کوئی حکم ہی نہ ہو تو تبعیت کس چیز میں ہوگی ؟ اورپر ظاہر کہ قبل بعثت ان امور میں کوئی حکم شرعی اصلاً اجماعاًمتحقق نہ تھا۔ تو اس وقت تک کسی ناسمجھ بچے کا بہ تبعیت والدین کافر قرار پانا ہرگز وجہ صحت نہیں رکھتا کہ نہ حکم نازل ، نہ تبعیت حاصل ۔
ھکذاینبغی التحقیق واللہ سبحٰنہ ولی التوفیق
(یونہی تحقیق چاہیے اوراللہ سبحٰنہ وتعالٰی توفیق کا مالک ہے ۔ت)

اس تحقیق انیق سے بتوفیق اللہ تعالٰی روشن ہوگیا کہ بحمدہ سبحٰنہ تبعًا حکمًا اسمًا وہماکسی طرح کسی نوع یہ لفظ شنیع حضرت مولی کرم اللہ تعالٰی وجہہ الاسنٰی پر صادق نہ ہوا۔
روز الست سے ابدالآباد تک ان کادامن ایمان مامن اس لوث(آلودگی) سے اصلاً جزمًا قطعًامطلقًاپاک وصاف منزہ رہا۔ والحمدللہ رب العٰلمین (سب تعریفیں اللہ تعالٰی کے لئے ہیں جو پروردگارہے تمام جہانوں کا۔ت)
ھذا کلہ ما فاض علی قلب الفقیر: من فیض اللطیف الخبیر: واسأل اللہ تعالٰی ان یجعلہ ذریعۃ مقبولۃ لحفظ ایمان ھٰذا الضعیف الحقیر لیوم لقاء الملک الجواد القدیر۔ولاحول ولاقوۃ الاباللہ العلی الکبیر : وصلی اللہ تعالٰی وبارک وسلم علی الامان المؤمن المولی النصیر الشفیع الرفیع المبشر البشیر: وعلی اٰلہ وصحبہٖ واھلہٖ وحزبہٖ وعلی ن المرتضٰی الامام الامیر : وعلینابھم ولھم وفیھم ، اٰمین یاربنا السمیع البصیر۔
یہ سب وہ ہے جو قلب فقیر پر لطیف خیبر کے فیض سے فائض ہوا اورمیں اللہ تعالٰی سے سوال کرتاہوں کہ اس کو بادشاہ جوادقدیر کی ملاقات کے دن تک اس ضعیف حقیر کے ایمان کی حفاظت کاذریعہ مقبولہ بنادے، اورکوئی طاقت وقوت نہیں مگر اللہ علی کبیر ہی سے ، اوراللہ رحمت وبرکت وسلامتی نازل فرمائے امن دینے والے امان، نصرت فرمانے والے مولٰی، بلند شفیع ، خوشخبری دینے والے مبشر پر اوران کی آل، اصحاب، اہل جماعت اورعلی مرتضٰی امام امیر پر، اورہم پر ان حضرات کے وسیلہ اوران کے سبب سے اوران کے زمرہ میں ، قبول فرما اے ہمارے سننے دیکھنے والے رب!
Flag Counter