Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۸ (کتاب الشتّٰی)
88 - 135
الاول حدیث الاسود بن سریع وابی ھریرۃ معًامرفوعًا،اخرجہ احمد وابن راھویہ والبیہقی وصححہ وفیہ واماالذی مات فی الفترۃ فیقول رب مااتانی لک رسول ،فیأخذ مواثیقھم لیطیعنہ، فیرسل الیھم ان ادخلواالنار،فمن دخلھا کانت علیہ بردًاوسلامًا،ومن لم یدخلھاسحب الیہا۱؂۔
اول: اسود بن سریع اورابوہر یرہ دونوں حضرات کی حدیث مرفوع، جس کی تخریج امام احمداورابن راہویہ اوربیہقی نے کی ہے ۔ اوربیہقی نے اسے صحیح بھی کہا ہے ۔ اس حدیث میں ہے : لیکن وہ جو فترت میں مرگیا تو عرض کرے گاخداوندا !میرے پاس تیراکوئی رسول نہ آیا۔ تو ان سے عہد وپیمان لے گا کہ اب ضرور اس کا حکم مانیں گے۔ تو انہیں پیغام بھیجے گا کہ دوزخ میں داخل ہوجاؤ، جو داخل ہوگا اس پرٹھنڈک اورسلامتی ہوجائے گی۔جو نہ داخل ہوگااسے گھسیٹ کرلایاجائے گا۔
 (۱؂شرح الزرقانی علی المواہب اللدنیۃ بحوالہ السیوطی المقصد الاول، باب وفاۃ امہ الخ دارالمعرفۃ بیروت  ۱/۷۳۔۱۷۲)
والثانی حدیث ابی ھریرۃ موقوفًا، ولہ حکم الرفع لان مثلہ لایقال من قبل الرأی ۔اخرجہ عبدالرزاق وابن جریروابن ابی حاتم وابن المنذرفی تفاسیر ھم، اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین۲؂۔
 (۲؂شرح الزرقانی علی المواہب اللدنیۃ بحوالہ السیوطی المقصد الاول، باب وفاۃ امہ الخ دارالمعرفۃ بیروت ۱ / ۷۳۔۱۷۲)
دوم: حضرت ابوہریرہ کی حدیث موقوف، یہ بھی مرفوع کے حکم میں ہے کیونکہ ایسی بات رائے سے نہیں کہی جاسکتی ۔ اس کی تخریج عبدالرازق نے کی ہے اورابن جریروابن ابی حاتم وابن المنذرنے اپنی تفاسیر میں کی ہے ، اسکی اسنادصحیح برشرط شیخین ہے۔
والثالث حدیث ثوبان مرفوعًا، اخرجہ البزاروالحاکم فی المستدرک وقال صحیح علی شرط الشیخین ، واقرہ الذھبی۳؂۔الخ
سوم: حضرت ثوبان کیحدیث مرفوع ، جس کی تخریج بزار نے کی ہے ،اورحاکم نے مستدرک میں تخریج کر کے فرمایا کہ صحیح برشرط شیخین ہے، اورذہبی نے اسے مقرر رکھا۔
 (۳؂شرح الزرقانی علی المواہب اللدنیۃ بحوالہ السیوطی المقصد الاول، باب وفاۃ امہ الخ دارالمعرفۃ بیروت ۱ / ۷۳۔۱۷۲)
وذٰلک لان الامتحان یوجب الوقف والقول بشیئ یخالفہ بید ان تمام ورودہ انما ھو علی الاشاعرۃ الذین اطلقوا القول بالنجاۃ اما المفصلون من اصحابنا فلھم ان یقولوا ینجوھذا یعاقب ذاک۔ ولٰکن یکون ذٰلک بعدالامتحان ۔ ولی ھٰھنا کلام اٰخر فی تحقیق المرام لااذکرہ لخوف الاطالۃ وغرابۃ المقام فلنرجع الٰی ماکنافیہ۔
وجہ اعتراض یہ ہے کہ جب فیصلہ بعد امتحان ہوگا توہم پر توقف لازم ہے، اورکوئی صریح حکم لگا دینا اس کےخلاف ہے ، لیکن یہ سارا اعتراض ان اشاعرہ پرہے  جو مطلقًانجات کے قائل ہیں لیکن ہمارے اصحاب میں سے اہل تفصیل یہ جواب دے سکتے ہیں کہ یہ ناجی ہوگا وہ معاقب۔ لیکن فیصلہ بعدامتحان ہوگا ۔اوریہاں تحقیق مقصود میں میرا ایک دوسرا کلام ہے جسے خوف طوالت اوراجنبیت مقام کے باعث ترک کررہا ہوں، اب ہم اصلی بحث کی طرف رجوع کریں۔(ت)

ان دونوں قولوں پر بس حکم کفر کے لئے صراحۃاختیارشرک ، یابر قول آخر وصف مہلت تامل، ترکِ توحید کا ثبوت لازم ۔ ہم پوچھتے ہیں مخالف کے پاس کیاحجت ہے کہ زمانہ فترت میں حضرت فاطمہ بنت اسد رضی اللہ تعالٰی عنہا موحدہ یا غافلہ نہ تھیں حالانکہ بہت عورتوں کی نسبت یہی مظنون
کما قدمنا عن الزرقانی عن السیوطی
 (جیسا کہ ہم بحوالہ زرقانی امام سیوطی سے ماقبل میں ذکر کرچکے ہیں۔ت) مخالف جو دلیل رکھتاہے پیش کرے اورجب نہ پیش کرسکے تو رجمًابالغیب حکم تبعیت پر کیونکر منہ کھول دیا۔ کیااطلاق کفر اوروہ بھی معاذاللہ ایسی جگہ محض اپنے تراشیدہ اوہام پر ہوسکتاہے ؟کیامحتمل نہیں کہ وہ اس وقت بھی ان لوگوں میں ہوں جو بالاتفاق ناجی ہیں، تو ولد انہیں کاتابع ہوگا اور بالتبع بھی حکم کفر ہرگزصحیح نہ ہوسکے گا۔علامہ شامی قدس سرہ السامی ردالمحتارمیں مسلم وکافرہ سے مولودبالزناکی نسبت فرماتے ہیں :
یظھر لی الحکم بالاسلام للحدیث الصحیح کل مولود یولد علی الفطرۃ حتی یکون ابواہ ھما اللذان یھودانہ اوینصرانہ ، فانھم قالواانہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم جعل اتفاقھما ناقلالہ عن الفطرۃ فاذا لم یتفقابقی علی اصل الفطرۃ، وایضاًحیث نظروا للجزئیۃ فی تلک السائل احتیاطافلینظر الیہا ھنا احتیاطا ایضا، فان الاحتیاط بالدین اولٰی ولان الکفر اقبح القبیح فلاینبغی الحکم بہ علٰی شخص بدون امر صریح ۱؂اھ ملخصا۔
مجھے اس کے مسلمان ہونے کا حکم کرنا ہی سمجھ میں آتاہے اس لئے کہ حدیث صحیح ہے کہ ہر بچہ دین فطرت پر پیداہوتا ہے یہاں تک کہ اس کے ماں باپ دونوں ہی اس کو یہودی یا نصرانی بناتے ہیں ۔ علماء نے فرمایا کہ حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے ماں اورباپ دونوں کے اتفاق کو دین فطرت سے منتقل کرنے والا ٹھہرایا۔تو اگر دونوں متفق نہ ہوں تو بچہ اصل فطرت پر رہے گا۔دوسری وجہ یہ ہے کہ علماء نے جب ان مسائل میں احتیاطاًجز ئیت کا لحاظ کیا تو یہاں بھی احتیاطاًلحاظِ جزئیت ہونا چاہئے کیونکہ دین کے معاملہ میں احتیاط ہی اولٰی ہے ۔اوراس لئے بھی کہ کفر سب سے بدتر قبیح ہے تو کسی شخص پر کسی امر صریح کے بغیر حکم کفر لگانا مناسب نہیں ۔اھ ملخصًا(ت)
 (۱؂ردالمحتارکتاب النکاح باب نکاح الکافرداراحیاء التراث العربی بیروت۲/۳۹۴)
سبحان اللہ !اس جرأت کی کوئی حد ہے کہ مدعاعلیہ اسداللہ الغالب اوردلیل وگواہ مفقودوغائب ، انا للہ وانا الیہ راجعون(ہم اللہ ہی کے مال ہیں اور ہم کو اسی کی طرف لوٹنا ہے۔ت)

ثانیًاباجماع ائمہ اشاعرہ قدست اسرارھم، حسن وقبح مطلقًاشرعی ہیں۔ تو قبل شرع اصلاًکسی شیئ کی نسبت ایجاب یا تحریم کچھ نہیں ۔بعض ائمہ ماتریدیہ تمت انوارھہم بھی بآنکہ قائل عقلیت ہیں مگر تعرف عقل قبل سمع کو مستلزم حکم وشغل ذمہ مکلف(عہ) نہیں جانتے۔ یہی مذہب امام ابن الہمام نے اختیار فرمایا اور انہیں کی تبعیت فاضل محب اللہ بہاری نے کی ۔
عہ: یعنی بعض ائمہ ماتریدیہ مانتے ہیں کہ کچھ اشیاء کے حسن وقبح کا ادراک عقل سے ہوتا ہے مگر وہ اس کے قائل نہیں کہ شریعت آنے سے پہلے ہی محض عقل کے ادراک پر مکلف بندہ  ذمہ دار ہوجائے اوراس پر کسی کام کاکرنا یا نہ کرنا لازم ہوجائے۱۲محمد احمد
مسلم الثبوت وفواتح الرحموت میں ہے :
 (عندنا) وعند المعتزلۃ عقلی لٰکن عند نا من متاخری الماتریدیہ لایستلزم ھذا الحسن والقبح حکمًا من اللہ سبحٰنہ فی العبد فمالم یحکم اللہ تعالٰی بارسال الرسل وانزال الخطاب لیس ھناک حکم اصلاً ومن ھٰھنا اشترطنا بلوغ الدعوۃ فی تعلق التکلیف فالکافر الذی لم تبلغہ الدعوۃ غیر مکلف بالایمان ایضًاولا یؤاخذبکفرہٖ۱؂ اھ ملخصًا۔
اشیاء کاحسن وقبح ہمارے نزدیک اورمعتزلہ کے نزدیک عقلی ہے لیکن ہم متاخرین ماتریدیہ کے نزدیک یہ حسن وقبح بندے کے بارے میں اللہ سبحٰنہٗ کی طرف سے کسی حکم کو مستلزم نہیں ، تو جب تک اللہ نے رسولوں کوبھیج کر اورخطاب نازل فرماکر کوئی حکم نہ فرمایا یہاں بالکل کوئی حکم نہیں۔ یہیں سے ہم نے کہا کہ مکلف ہونے کا تعلق اس شرط کے ساتھ ہے کہ دعوت پہنچی ہو تو وہ کافر جسے دعوت نہ پہنچی وہ ایمان کا بھی مکلف نہیں اوراس کے کفر پربھی اس سے مواخذہ نہ ہوگا۔اھ ملخصًا(ت)
(۱؂فواتح الرحموت بذیل المستصفی المقالۃ الثانیہ الباب الاول منشورات الشریف الرضی قم ایران ۱/۲۵)
حاصل البحث ان ھٰھنا ثلٰثۃ اقوال :
حاصل بحث یہ ہے کہ یہاں تین اقوال ہیں:
الاول مذھب الاشعریہ ان الحسن والقبح فی الافعال شرعی وکذٰلک الحکم۔
اول مذہب اشعریہ کہ افعال کا حسن وقبح شرعی ہے ۔ اسی طرح حکم افعال بھی شرعی ہے ۔
الثانی انھما عقلیان وھما مناطان لتعلق الحکم۔فاذاادرک فی بعض الافعال کالایمان والکفر والشرک والکفر ان یتعلق الحکم منہ تعالٰی بذمۃ العبد وھو مذھب ھٰؤلاء الکرام والمعتزلۃ ، الا انہ عندنا لاتجب العقوبۃ بحسب القبح العقلی کما لاتجب بعدورودالشرع لاحتمال العفوبخلاف ھٰؤلاء۲؂۔
دوم حسن وقبح عقلی ہیں اوران پر تعلق حکم کا مدار ہے ۔ تو جب بعض افعال میں حکم کا ادراک ہوجائے جیسے ایمان کفر،شرک اور کفران میں تواللہ تعالٰی کی طرف سے بندے کے ذمہ حکم متعلق ہوجائے گا، یہی ان علمائے کرام اور معتزلہ کا مذہب ہے ، مگر یہ ہے کہ ہمارے نزدیک قبح عقلی کے اعتبار سے عقوبت واجب نہیں ہوجاتی جیسا کہ ورودشرع کے بعد واجب نہیں کیونکہ عفو کا احتمال ہے بخلاف معتزلہ کے کہ وہ واجب مانتے ہیں۔
 (۲؂فواتح الرحموت بذیل المستصفی المقالۃ الثانیہ الباب الاول منشورات الشریف الرضی قم ایران ۱/۲۹)
Flag Counter