(الجواب بتعمیم الرسول العقل او تخصیص العذاب بعذاب الدنیا خلاف الظاھر فلا یصارالیہ الا بموجب ولاموجب اقو ل بلٰی احادیث صحیحۃ صریحۃ کثیرۃ بثیرۃ ناطقۃ بعذاب بعض اھل الفترۃ کعمروبن لحی وصاحب المحجن وغیرھما وبہ علم ان ردھا یجعلہا معارضۃ للقطعی کماصدرعن العلامۃ الابی والامام السیوطی و کثیرمن الاشعریۃ لاسبیل الیہ فان قطعیۃ الدلالۃ غیر مسلم فلا یھجم بمثل ذٰلک علٰی ردالصحاح والکلام ھٰھنا طویل لیس ھذا موضعہ ولا نحن بصددہ۔)
(اشاعرہ کے جواب میں یہ کہنا کہ رسول سے مراد عام ہے خواہ انسان ہو یا عقل یا یہ کہ عذاب سے مراد صرف عذاب دنیاہے (یعنی جب تک ہم کوئی رسول نہ بھیج لیں دنیا میں عذاب نہیں دیتے اورعذاب آخرت دعوت رسول پہنچے بغیر بھی ہوسکتاہے ) یہ (تاویل) خلاف ظاہر ہے جس کی طرف رجوع کا کوئی موجب نہیں۔
اقول کیوں نہیں بہت ساری صحیح صریح حدیثیں بعض اہل فترت کے عذاب(دنیاوی ) پر ناطق ہیں جیسے عمر وبن لحی اورٹیڑھے ڈنڈے والا آدمی جو اپنے ڈنڈے سے لوگوں کی چیزیں اچک کرچُرالیتا تھا ) اوران دونوں کے علاوہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس بیان سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ان صحیح حدیثوں کا رد کرنے کی کوئی وجہ نہیں یہ کہتے ہوئے کہ یہ احادیث نص قطعی کے خلاف ہیں جیسا کہ علامہ ابی، امام سیوطی اوربہت سے اشعریہ نے یہی کہہ کر رد کردیا ہے ۔ ہم کہتے ہیں کہ اس معنٰی پر آیت کی دلالت قطعی ہونا مسلم نہیں تو پھر غیر قطعی الدلالۃ نص سے احادیث صحیحہ کے رد کا ارتکاب نہیں کیا جاسکتا۔کلام یہاں پر طویل ہے جس کا یہ محل نہیں اورنہ ہی یہاں پر ہمارا مقصود ہے ۱۲مترجم ۔
خصوصاًجُہال عرب جنہیں قرآن عظیم جابجا امی وجاہل وبے خبر وغافل بتارہا ہے ، صاف ارشاد ہوتاہے :
اتاراہوا زبردست مہر والے کا کہ تو ڈرائے ان لوگوں کو کہ نہ ڈرائے گئے انکے باپ داداتو وہ غفلت میں ہیں۔
(۱القرآن الکریم ۳۶/۵و۶)
اورخود ہی ارشادہوتاہے :
ذٰلک ان لم یکن ربک مہلک القرٰی بظلم و اھلھاغٰفلون۲۔
یہ اس لئے کہ تیرارب بستیوں کو ہلاک کرنے والا نہیں ظلم سے جب کہ ان کے رہنے والے غفلت میں ہوں۔
(۲القرآن الکریم ۶/۱۳۱)
قلت ای وھذا وان کان ظاھرًافی عذاب الدنیا وعذاب الاٰخرۃ منتف بالفحوٰی فان الملک الکریم الذی لم یرض للغافل بعذاب منقطع لایرضٰی بعذاب دائم من باب اولٰی اقول لٰکن الغفلۃ انما ھی علٰی امرالرسالۃ والنبوۃ والسمعیات کبعث وغیرہ، وقد قلنا بموجبھافی ذٰلک ۔ اما التوحید فلاغفلۃ عنہ مع وضوح الدلائل وکفایۃ العقل وقد قال اللہ تعالٰی :
قل لمن الارض ومن فیھا ان کنتم تعلمون۔سیقولون للہ ط قل افلا تذکرون۔ قل من رب السمٰوٰت السبع ورب العرش العظیم۔ سیقولون للہ ط قل افلا تتقون۔قل من بیدہ ملکوت کل شیئ وھو یجیر ولا یجار علیہ ان کنتم تعلمون۔سیقولون للہ ط قل فانی تسحرون۱۔ وقال تعالٰی : ولئن سالتھم من خلق السمٰوٰت والارض وسخر الشمس والقمر لیقولن اللہ فانی یؤفکون۲۔
الٰی غیر ذٰلک من الاٰیات۔ کل ذٰلک مع قولہ عزمن قائل ۔
ان تقولواانما انزل الکتٰب علٰی طائفتین من قبلنا وان کنا عن دراستھم لغٰفلین۳۔
فافھم۔
قلت یہ آیت اگرچہ غفلت والے سے عذاب دنیا کی نفی میں ظاہر ہے اورعذاب آخرت کی نفی مفہوم سے ہوجاتی ہے کیونکہ جس بادشاہ کریم نے غافل کےلئے دنیا کا فانی عذاب پسند نہ کیا وہ آخرت کا دائمی عذاب بدرجہ اولٰی پسند نہ فرمائیگا ۔اقول لیکن یہ وہ غفلت ہے جو رسالت، نبوت اورسمع عقائد بعث وغیرہ کے باب میں ہو ، اوراس باب میں موجب غفلت پائے جانے کے ہم قائل ہیں لیکن توحید سے غفلت کا کوئی موجب نہیں جبکہ اس کے دلائل واضح ہیں اورعقل اس کی رہنمائی کے لئے کافی ہے ۔ باری تعالٰی کا ارشاد ہے : تم فرماؤکس کی ہے زمین اورجو اس میں ہیں اگر تم جانتے ہو؟ بولیں گے اللہ کی ۔ تم فرماؤپھر تم کیوں دھیان نہیں دیتے ؟ تم فرماؤکون ہے ساتوں آسمانوں کا مالک اوربڑے عرش کا مالک؟ بولیں گے : یہ اللہ ہی کی شان ہے ۔فرماؤپھر تم کیوں نہیں ڈرتے ؟تم فرماؤکون ہے جس کے ہاتھ ہر چیز کا اقتدارہے اوروہ پناہ دینے والا ہے اوراس کے خلاف پناہ نہیں دی جاسکتی اگر تم جانتے ہو ؟ بولیں گے یہ اللہ ہی کی شان ہے ۔ فرماؤپھر تم کس جادو کے فریب میں پڑے ہو۔ اورارشاد باری ہے اوراگر تم ان سے پوچھو کس نے بنائے آسمان اورزمین اورکام میں لگائے سورج اورچاند، تو ضرورکہیں گے اللہ نے ۔ پھرکہاں اوندھے جاتے ہیں؟ اور ان کے علاوہ آیات۔ ساتھ ہی یہ ارشاد بھی ہے : کبھی تم کہو کہ کتاب تو ہم سے پہلے کے دوگروہوں پر نازل کی گئی تھی اورہم اس کے پڑھنے پڑھانے سے غافل تھے،غورکیجئے۔(ت)
ائمہ ماتریدیہ رضی اللہ تعالٰی عنہم سے ائمہ بخارا وغیرہم بھی اسی کے قائل ہوئے۔امام محقق کمال الدین ابن الہمام قدس سرہ نے اسی کو مختار رکھا۔
شرح فقہ اکبر میں ہے :
قال ائمۃ البخاری عندنا لایجب ایمان ولایحرم کفر قبل البعثت کقول الاشاعرۃ۱۔
ائمہ بخاری نے اشاعرہ کی طرح فرمایا: ہمارے نزدیک قبل بعثت وجوب ایمان اورحرمت کفر دونوں نہیں۔(ت)
(۱منح الروض الازہر فی شرح الفقہ الاکبرمعنی قرب الباری الخ دارالبشائر الاسلامیہ بیروت ص۳۰۷)
فواتح الرحموت میں ہے :
عندالاشعریۃ والشیخ ابن الھمام لایؤاخذون ولو اتوا بالشرک والعیاذباللہ تعالٰی۲۔
اشعریہ اورشیخ ابن الہمام کے نزدیک ان سے مواخذہ نہیں اگرچہ مرتکب شرک ہوں ، والعیاذباللہ تعالٰی ۔(ت)
(۲فواتح الرحموت بذیل المستصفی المقالۃ الثانیۃ الباب الاول منشورات الشریف الرضی قم ایران ۱/۲۹)
حاشیہ طحطاویہ علی الدر المختار میں ہے :
اھل الفترۃ ناجون ولو غیروا وبدلواعلی ماعلیہ الاشاعرۃ وبعض المحققین من الماتریدیہ ونقل الکمال فی التحریر عن ابن عبدالدولۃ انہ المختارلقولہ تعالٰی : وماکنا معذبین حتی نبعث رسولا۔۔۔۔۔۔۔ وما فی الفقہ الاکبر من ان والدیہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ماتاعلی الکفرفمدسوس علی الامام۳ الخ۔
اہل فترت ناجی ہیں اگرچہ تغیروتبدیل کے مرتکب ہوں۔ اس پر اشاعرہ اوربعض محققین ماترید یہ ہیں ۔ کمال ابن ہمام تحریر میں ابن عبدالدولہ سے ناقل ہیں کہ یہی مختار ہے کیونکہ ارشاد باری تعالٰی ہے : ہم عذاب فرمانے والے نہیں جب تک کہ کوئی رسول نہ بھیج لیں۔۔۔۔۔۔۔اورفقہ اکبر میں جو ہے کہ حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے والدین نے حالت کفر میں انتقال کیا تویہ مصنف فقہ اکبر امام اعظم پردسیسہ کاری ہے (ت)
(۳حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختارکتاب النکاح باب نکاح الکافرالمکتبۃ العربیہ کوئٹہ ۲/۸۰)
اس قول پر توظاہر کہ اہل فترت کو تازمان فترت کافرنہ کہاجائے گا کہ وہ ناجی ہیں، اوکافر ناجی نہیں تو شکل ثانی نے صاف نتیجہ دیا کہ وہ کافر نہیں ۔
وعلٰی ھذا استدل بہ السید العلامۃ علٰی نزھۃ الابوین الشریفین عن الکفر۔ رضی اللہ تعالٰی عنہما وعن کل من احب اجلالھما اجلالا لرسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم۔
اسی بنیاد پر اس سے سید علامہ طحطاوی نے والدین کریمین کے کفر سے منزہ ہونے پر استدلال کیا ہے ۔ اللہ تعالٰی ان دونوں سے راضی ہوا اورہر اس شخص سے جو رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے اکرام کی خاطر ان کا اکرام پسندکرے۔(ت)
ولہذا ائمہ اشاعرہ میں کوئی انہیں مسلم کہتا ہے کوئی معنی مسلم میں۔
قال الزرقانی "ثم اختلف عبارۃ الاصحاب فیمن لم تبلغہ الدعوۃ فاحسنھا من قال انہ ناج، وایاھا اختارالسبکی ، ومنھم من قال علی الفترۃ(عہ) منھم من قال مسلم قال الغزالی والتحقیق ان یقال فی معنٰی مسلم۱۔"
زرقانی نے فرمایا : پھر اصحاب (ائمہ رحمہم اللہ کی عبارتیں اس کے بارے میں مختلف ہوگئیں جسے دعوت نہ پہنچی سب سے عمدہ عبارت اس کی ہے جس نے کہا وہ ناجی ہے ۔ اسی کو امام سبکی نے اختیار کیا ، کسی نے کہا وہ فترۃ پر ہے ۔ کسی نے کہا مسلم ہے ۔ امام غزالی نے فرمایا کہ تحقیق یہ ہے کہ اسے معنٰی مسلم میں کہاجائے۔(ت)
(۱شرح الزرقانی علی المواہب اللدنیۃ المقصد الاول باب وفاۃ امہ الخ دارالمعرفۃ بیروت ۱/۱۷۲)
عہ: ھکذا فی نسختی بالتاء ویترأای لی انہ''الفطرۃ"بالطاء ۱۲منہ۔
اعلٰی حضرت علیہ الرحمہ فرماتے ہیں ) میرے نسخہ میں اسی طرح تاسے ہے میرا خیال ہے کہ یہ طاکے ساتھ "فطرۃ"ہے ۱۲منہ (ت)
اس طور تو خود ابوطالب پر حکم کفر اس وقت سے ہوا جب بعد بعثت اقدس تسلیم واسلام سے انکار کیا ، اوریہ وقت وہ تھا کہ حضرت مولٰی علی کرم اللہ وجہہ الاسنٰی خود اسلام لاکر حکم تبعیت سے قطعًامنزہ ہوچکے تھے وللہ الحمد۔
بعض علماء قائل تفصیل ہوئے کہ اہل فترت کے مشرک معاقب اورموحد وغافل مطلقًاناجی۔ یہ قول اشاعرہ سے اما مین جلیلین نووی ورازی رحمہااللہ تعالٰی کا ہے ۔
وتعقبہ الامام الجلال السیوطی فی رسائلہ فی الابوین الکریمین رضی اللہ تعالٰی عنہما بما یرجع الی القول بالامتحان ۔ والعلامۃ ابوعبداللہ محمد بن خلف ن الابی فی اکمال الاکمال شرح صحیح مسلم کما نقل کلامہ فی المواھب ۔ اقول لکنہ عاد، اٰخر الٰی تسلیمہ حیث قال اولا لما دلّت القواطع علی انہ لاتعذیب حتی تقوم الحجۃ علینا انھم غیر معذبین ۱اھ ثم استشعر ورودالاحادیث وقسمھم اٰخر الکلام الی موحد ومبدل وغافل، ثم قال فیحمل من صح تعذیبہ علی اھل القسم الثانی لکفرھم بما تعدوابہ من الخبائث، واللہ سبحٰنہ وتعالٰی قدسمّٰی جمیع ھٰذا القسم کفاًرا ومشرکین فانا نجدالقرآن کلما حکٰی حال احد سجل علیھم بالکفر والشرک ، کقولہ تعالٰی "ماجعل اللہ من بحیرۃ ولاسائبۃ "ثم قال اللہ تعالٰی ولکن الذین کفروایفترون علی اللہ الکذب ط واکثرھم لایعقلون۱۔ الخ، فھذا کماترٰی رجوع الٰی ما قالہ ھٰذاان الامامان من تعذیب من اشرک منھم۔ اقول وفی استدلالہ بالاٰیۃ خفاء ظاھر اذلیست نصًّافی ان المراد بھم من اخترع ذٰلک من اھل الفترۃ ،بل الکفار لما تدینوا بتلک الاباطیل سجل علیھم بانھم یفترون علی اللہ الکذب۔۔۔۔۔ وبالجملۃ فمفاد الاٰیۃ ان الکافرین یفترون لا ان المفترین کلھم کافرون، حتی یکون تسجیلاعلٰی کفر اھل الفترۃ۔
اس قول کا امام جلال الدین سیوطی نے اسلام والدین کریمین رضی اللہ تعالٰی عنہما سے متعلق اپنے رسائل میں تعاقب کیاہے جس کا مآل یہ ہے کہ پہلے اہل فترت کا امتحان (پھر فیصلہ )۔علامہ ابوعبداللہ محمد بن خلف ابی مالکی نے بھی اکمال الاکمال شرح صحیح مسلم میں قول مذکور کا تعاقب کیا ہے جیسا کہ مواہب لدنیہ میں ان کاکلام منقول ہے ، اقول مگر آخر میں چل کر انہوں نے اس قول کو تسلیم کرلیا ہے اس طرح کہ پہلے فرمایا کہ جب قطعی نصوص نے بتایا کہ حجت قائم ہوئے بغیر عذاب نہ دیاجائے گا تو ہم نے جانا کہ ان پر عذاب نہ ہوگا اھ۔پھر انہیں خیال پیداہوا کہ تعذیب کے بارے میں تو حدیثیں بھی وارد ہیں توآخر کلام میں اہل فترت کو انہوں نے تین قسموں موحد(۱)، مبدّل(۲)،اورغافل(۳) میں تقسیم کیا۔ پھر فرمایاکہ جن کی تعذیب کی صحت ثابت ہے انہیں قسم ثانی والوں پرمحمول کیاجائیگا اس لئے کہ وہ اپنے برے افکار واعمال کے ذریعے حد سے تجاوز کرنے کے باعث کافرہوئے اوراللہ تعالٰی نے اس قسم کے سارے لوگوں کو کفار ومشرکین کے نام سے موسوم کیا ہے کیونکہ ہم دیکھتے ہیں کہ قرآن ان میں سے جب کسی کا حال بیان فرماتاہے تو صاف صاف انکے کافرومشرک ہونے کا حکم ثبت فرمادیتاہے جیسے یہ ارشادباری ہے : اللہ نے مقررنہ کیا بحیرہ(کان چِرا) اورنہ سائبہ ۔پھر یہ ارشاد ہے: لیکن جو لوگوں نے کفر کیا وہ اللہ پرجھوٹ باندھتے ہیں اوران میں اکثر بے عقل ہیں الخ۔تویہ جیسا کہ تم دیکھ رہے ہو اسی کی طرف رجوع ہے ،جو امام نووی وامام رازی نے فرمایا کہ اہل فترت کے مشرکوں پر عذاب ہوگا۔
(۱المواہب اللدنیۃ المقصد الاول قضیہ نجاۃ والدیہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم الخ المکتب الاسلامی بیروت ۱/۱۷۹)
(۱المواہب اللدنیۃ المقصد الاول قضیۃ نجاۃ والدیہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم المکتب الاسلامی بیروت ۱/۱۸۱)
اقول (میں کہتاہوں ) ہاں علامہ ابی نے آیت مذکورہ سےجو استدلال کیا ہے اس میں کھلا ہوا خفا ہے کیونکہ آیت اس بارے میں نص نہیں ان سے اہل فترت ہی کے (بحیرہ وغیرہ کا اختراع کرنیوالے مراد ہیں، بلکہ کفار نے جب ان باطل چیزوں کو اپنے دین واعتقاد میں داخل کرلیا توان کے بارےمیں یہ حکم ثبت فرمایا کہ وہ اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں ۔ حاصل کلام یہ کہ آیت کا مفادیہ ہے کہ کافرین افتراکرتے ہیں ، نہ یہ کہ سارے افتراکرنے والے کافر ہیں کہ اہل فترت کے فکر کی تصریح ہو۔(ت)
ردالمحتار میں یہی قول ائمہ بخاراکی طرف نسبت کیا:
علی خلاف ماقدمنا عن القاری والطحطاوی وبحرالعلوم رحمھم اللہ تعالٰی، حیث قال"نعم البخاریّون من الماتریدیۃ وافقوا الاشاعرۃ، وحملواقول الامام ، لاعذرلاحدفی الجھل بخالقہ، علٰی مابعد البعثۃ، واختارہ المحقق ابن الھمام فی التحریر ۔ لکن ھذا فی غیر من مات معتقدا للکفر۔ فقد صرح النوری والفخر الرازی بان من مات قبل البعثۃ مشرکا فھو فی النار، وعلیہ حمل بعض المالکیۃ ماصح من الاحادیث فی تعذیب اھل الفترۃ ۱الخ۔"
اس کے برخلاف جو پہلے ہم نے مولانا علی قاری، طحطاوی اوربحرالعلوم رحمہم اللہ تعالٰی سے نقل کیا، علامہ شامی نے اس طرح فرمایاکہ ہاں ماتریدیہ میں سے ائمہ بخارا اشاعرہ کے موافق ہوئے انہوں نے امام اعظم کے قول"اپنے خالق سے جاہل رہنے میں کسی کے لئے کوئی عذر نہیں۔"کو مابعد بعثت پر محمول کیا، اسی کو محقق ابن الہمام نے تحریر میں اختیارکیالیکن یہ قول جو لوگ کفر کا عقیدہ رکھتے ہوئے مرگئے ان کے علاوہ کے بارے میں ہے ۔ امام نووی اورفخر الدین رازی نے تصریح فرمائی ہے کہ جو قبل بعثت حالت شرک میں مرگئے جہنم میں ہوں گے۔اسی پر بعض مالکیہ نے تعذیب اہل فترت سے متعلق احادیث صحیحہ کو محمول کیاہے ۔(ت)
(۱ردالمحتارکتاب النکاح باب نکاح الکافرداراحیاء التراث العربی بیروت ۲/۳۸۶)
جمہور ائمہ ماتریدیہ قدست اسرارھم کے نزدیک اہل فترت کے مشرک(۱)، معاقب ، موحد(۲) ،ناجی،غافلوں(۳) میں جس نے مہلت فکروتامل نہ پائی ، ناجی،پائی(۴) ، معاقب۔
وھو المؤید بما نقل عن امام المذھب رضی اللہ عنہ من قولہ لاعذر لاحد۲الخ وحمل البخار یین لایجری فی قولہ الاٰخر فیما نقل عنہ وانہ لو لم یبعث اللہ رسولا لو جب علی الخلق معرفتہ بعقولھم لٰکن اولہ المحقق بحمل الوجوب علی العرفی ۔ ای لکان ینبغی لھم ذلک۔ اقول ویرد علٰی ظواھر ھذہ الاقوال جمیعااحادیث الامتحان وھی صحیحۃ کثیرۃ ولا ترد ولا ترام۔
یہی قول تائید یافتہ ہے اس سے جو امام مذہب رضی اللہ تعالٰی عنہ سے منقول ہے کہ کسی کے لئے اپنے خالق سے جاہل رہنے میں کوئی عذر نہیں الخ اوراہل بخاراکا بعدِ بعثت والوں پر اس قول کو محمول کرنا امام سے منقول اس دوسرے قول میں نہ چل سکے گاکہ اگراللہ تعالٰی کوئی رسول مبعوث نہ فرماتا تو بھی مخلوق پر اپنی عقلوں کے ذریعہ خالق کی معرفت واجب ہوتی۔ لیکن محقق ابن الہمام نے اسے وجوب عرفی پر محمول کرکے تاویل کی ہے یعنی ان کے لئے یہی مناسب ہوتا۔ اقول ان تمام اقوال کے ظاہر پر احادیث امتحان سے اعتراض وارد ہوگا۔ اوریہ حدیثیں صحیح بھی ہیں کہ کثیر بھی ۔ اس قابل نہیں کہ رد کی جائیں یا انہیں رد کرنے کا ارادہ کیاجائے۔
(۲ردالمحتارکتاب النکاح باب نکاح الکافرداراحیاء التراث العربی بیروت ۲/۳۸۶)
وقد عدالسیوطی جملۃ منھا قال"والمصح منھاثلٰثۃ۔
امام سیوطی نے ان میں کچھ حدیثیں شمارکرائی ہیں، فرمایاکہ ان میں صحیح یافتہ تین ہیں۔