Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۸ (کتاب الشتّٰی)
86 - 135
امر دوم اس وقت حکم تبعیت صادق وثابت ہونا

ان دوامر سے اگر ایک بھی پایہ ثبوت سے ساقط رہے گا تو یہ بیہودہ خیال ، خیال کرنے والے  کے منہ پرماراجائے گا ، مگر مولٰی علی کے رب جل وعلاکو حمد وثنا ہے کہ بفضلہٖ تعالٰی ان دو میں سے ایک بھی ثٓابت نہیں ۔

اولا اہل فترت جنہیں انبیاء اللہ صلوات اللہ وسلامہ علیھم کی دعوت نہ پہنچی تین قسمیں ہیں : 

اول موحد جنہیں ہدایت ازلی نے اس عالمگیر اندھیرے میں بھی راہ توحید دکھائی جیسے قس بن ساعدہ(عہ۲) وزید بن عمروبن نفیل وعامر بن الظرب عدوانی وقیس بن عاصم تمیمی وصفوان بن ابی امیہ کنانی وزہیر بن ابی سلمٰی ۱؂شاعر وغیرہم رحمۃ اللہ تعالٰی علیہم۔
 (۱؂شرح الزرقانی علی المواہب اللدنیۃ المقصد الاول  باب وفاۃ امہ وما یتعلق بابویہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم دارالمعرفۃ بیروت  ۱/۱۸۳)
عہ۲: یہ دونوں مقبو ل بندے زمانہ جاہلیت میں نہ صرف موحد تھے بلکہ پیش از بعثت محمدیہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم بعثت شریفہ پر بھی ایمان رکھتے ۔ قس نے بازار عکاظ کے خطبے میں اپنی قوم سے فرمایا: عنقریب ادھر سے ایک حق ظاہر ہونے والا ہے ۔ اورمکہ کی طرف اشارہ کیا،لوگوں نے کہا وہ حق کیا ہے ؟لوی بن غالب کی اولاد سے ایک مرد کہ تمہیں کلمہ اخلاص اورہمیشہ کے چین اوردائمی نعمت کی طرف دعوت فرمائے گا تم اس کی بات ماننا،اگر میں جانتا کہ اس کی بعثت تک زندہ رہوں گا تو سب سے پہلے میں اس کی طرف دوڑ کر جاتا
رواہ ابو نعیم فی دلائل النبوۃ۲؂ عن ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما
 (اس کو ابو نعیم نے دلائل النبوۃ میں ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے روایت کیا۔ت)
(۲؂شرح الزرقانی علی المواہب اللدنیۃ بحوالہ ابی نعیم فی دلائل النبوۃ المقصد الاول دارالمعرفۃ بیروت  ۱/۱۸۳)
عامر بن ربیعہ رضی اللہ تعالٰی عنہما فرماتے ہیں : مجھ سے زید بن عمرو نے کہا میں اپنی قوم کامخالف اوردین ابراہیم واسماعیل کا تابع ہوا ، وہ دونوں بتوں کو نہ پوجتے اوراس قبلہ کی طرف نماز پڑھتے تھے ، میں اولاد اسماعیل سے ایک نبی کے انتظار میں ہوں مگر میرے خیال میں اس کا زمانہ نہ پاؤں گا میں اس پرایمان لاتاہوں ، میں اس کی تصدیق کرتاہوں ، میں گواہی دیتاہوں کہ وہ نبی ہے ، اے عامر! اگر تمہاری عمر وفاکرے تو انہیں میرا سلام پہنچانا ۔ عامر فرماتے ہیں : جب میں نے حضور پر نور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے زید کا یہ قصہ بیان کیا حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے سلام کا جواب دیا اوران کے حق میں دعائے رحمت فرمائی اورارشادفرمایا: میں نے اسے دیکھا کہ جنت میں دامن کشاں سیر کررہاہے ۔
رواہ ابن سعد والفاکھی عنہ۳؂ رضی اللہ تعالٰی عنہ ۱۲منہ غٖفرلہ
 (اس کو ابن سعد اورفاکہی نے عامر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا۔ت)
(۳؂شرح الزرقانی علی المواہب اللدنیۃ بحوالہ ابن سعد والفاکہی المقصد الاول دارالمعرفۃ بیروت ۱/۱۸۳)
دوم مشرک کہ اپنی جہالتوں ضلالتوں سے غیر خدا کو پوجنے لگے ، جیسے کہ اکثر عرب۔ 

سوم غافل کہ براہ سادگی یا انہماک فی الدنیا انہیں اس مسئلہ سے کوئی بحث ہی نہ ہوئی بہائم کے مثل زندگی کی۔ اعتقاد یات میں نظر سے غرض ہی نہ رکھی یا نظر وفکر کی مہلت نہ پائی۔ بہت زنان (عورتوں) وچوپایوں واہل بوادی (صحراجنگل والوں)کی نسبت یہی مظنون (گمان) ہے۔
قال العلامۃ الزرقانی: ومن جاھلیۃ عم الجھل فیھا شرقًاوغربًاوفقد فیھا من یعرف الشرائع ویبلغ الدعوۃ علٰی وجھھا الانفرایسیرا من احبار اھل الکتاب مفرقین فی اقطارالارض کالشام وغیرہا واذاکان النساء الیوم مع فشو الاسلام شرقًاوغربًالایدرین غالب احکام الشریعۃ لعدم مخالطتہن الفقہاء ، فما ظنک بزمان الجاھلیۃ والفترۃ الذی رجالہ لایعرفون ذٰلک فضلاعن نسائہ ، ولذالما بعث صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم تعجب اھل مکۃ وقالواأبعث اللہ بشرارسولا، وقالوالوشاء ربنالانزل ملٰئکۃ ، ربما کانوا یظنون ان ابراھیم علیہ السلام بعث بما ھم علیہ فانھم لم یجدوامن یبلغھم شریعتہ علٰی وجھھالدثورھا وفقد من یعرفھا ، اذکان بینھم وبینہ ازید من ثلثۃ اٰلاف سنۃ ،قالہ فی مسالک الحنفاء والدرج المنیفۃ اھ باختصار۱؂۔
علامہ زرقانی نے کہا: ایسا عہد جاہلیت جس میں مشرق ومغرب ہر طرف جہالت عام ہے ۔احکام شریعت جاننے والے اورصحیح طور سے دعوت کی تبلیغ کرنے والے ناپید ہیں، صرف چند علماء اہل کتاب ہیں جواطراف زمین شام وغیرہ میں منتشرہیں۔۔۔۔۔ اور آج جبکہ اسلام شرق وغرب میں پھیل چکا ہے عورتوں کا یہ حال ہے کہ اکثر احکام شرع سے بے خبر رہتی ہیں کیونکہ علماء سے ان کا ربط اوروابستگی نہیں۔ پھر عہد جاہلیت اورزمانہ فترت کی عورتوں کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے جبکہ عورتیں درکنارمر دبھی ان سب سے نآشنا ہوتے تھے ، اسی لئے تو جب رسول خدا صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی بعثت ہوئی تو اہل مکہ کو تعجب ہوا، بولے : کیا اللہ نے کسی انسان کو رسول بناکر مبعوث کیا ہے ؟ اوربولے : اگر ہمارا رب چاہتاتوفرشتے اتارتا۔ وہ تو یہاں تک سمجھا کرتے تھے کہ جو کچھ وہ کر رہے ہیں ان ہی باتوں کو لے کر حضرت ابراہیم علیہ السلام مبعوث ہوئے تھے ، اس غلط خیال کی یہی وجہ تھی کہ شریعت ابراہیمی کو صحیح طور سے کوئی پہنچانے والا ہی انکو نہ ملا، کیونکہ اس کے نشانات مٹ گئے تھےاوراس کے جاننے والے بھی ناپید ہوچکے تھے ، اس لئے کہ ان اہل مکہ اورحضرت ابراہیم علیہ السلام کے درمیان تین ہزار سال سے زیادہ کا عرصہ تھا۔ یہ مسالک الحنفاء اورالدرج المنیفہ میں فرمایا گیاہے اھ باختصار(ت)
 (۱؂شرح الزرقانی علی مواہب اللدنیۃ المصد الاول باب وفاۃ امہ وما یتعلق بابویہ دارالمعرفۃ بیروت   ۱/۱۸۴)
جماہیر ائمہ اشاعرہ رحمہم اللہ تعالٰی کے نزدیک جب تک بعثت اقدس حضور خاتم النبیین صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ہوکر  دعوتِ الہٰیہ انہیں نہ پہنچی یہ سب فرقے ناجی وغیر معذب تھے ۔
لقولہ تعالٰی
وما کنا معذبین حتی نبعث رسولا۱؂۔
اللہ تعالٰی کے اس قول کے مطابق : ہم عذاب فرما نے والے نہ تھے یہاں تک کہ بھیج لیں رسول ۔
 (۱؂القرآن الکریم ۱۵/۱۷)
Flag Counter