وفی ردالمحتار: قولہ وسنّہٗ سبع وقیل ثمان وھو الصحیح ، واخرجہ البخاری فی تاریخہ عن عروۃ ۔ وقیل عشر اخرجہ الحاکم فی المستدرک ۔ وقیل خمسۃ عشر وھو مردود وتمام ذٰلک مبسوط فی الفتح ۴اھ
ردالمحتار میں ہے : قولہ ان کی عمر سات سال تھی اورکہا گیا کہ آٹھ سال تھی ۔ یہی صحیح ہے ، اسی کو امام بخاری نے اپنی تاریخ میں حضرت عروہ سے روایت کیا۔ اورکہا گیا کہ دس سال تھی، اسے حاکم نے مستدرک میں روایت کیا۔۔۔۔اورکہا گیا کہ پندرہ سال تھی، یہ قول مردود ونامقبول ہے ۔پوری تفصیل فتح القدیر میں ہے ۔اھ (ت)
(۴ردالمحتارکتاب الجہادباب المرتدداراحیاء التراث العربی بیروت ۳/۳۰۷)
وفی نکاحہٖ عن احکام الصغارللاستروشنی انہ قبل البلوغ تبع لابویہ فی الدین مالم یصف الاسلام اھ قال : فافادان التبعیۃ لاتنقطع الابالبلوغ اوبالاسلام بنفسہ وبہ صرح فی البحر(عہ) والمنح من باب الجنائزاھ۔
ردالمحتارکتاب النکاح میں احکام الصغارللاستروشنٰی سے نقل ہے : بچہ قبل بلوغ دین میں اپنے والدین کا تابع ہے جب کہ خود مسلمان نہ ہوا ہو، شامی نہ کہا : افادہ فرمایا کہ یہ تبیعت بالغ ہونے یا خود اسلام لانے ہی سے ختم ہوتی ہے ، اسی کی تصریح بحرالرائق اورمنح الغفار باب الجنائز میں بھی ہے اھ (ت)
(۱ردالمحتارکتاب النکاح باب نکاح الکافرداراحیاء التراث العربی بیروت ۲/۳۹۴)
ولفظہ : تبعیت بلوغ تک ختم نہیں ہوتی ، ہاں اس وقت تبعیت ختم ہوجاتی ہے جب ادیان کی سمجھ رکھ کر اپنے ماں باپ کے دین کے علاوہ کسی دین کا معتقد ہوجائے اب وہ (تابع نہ رہا )خو دمستقل ہوگیا۔(ت)
(۳بحرالرائق کتاب الجنائزفصل السلطان احق بصلوتہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲/۱۹۰)
تو بعد بعثت تو اس خیال شنیع کی زنہار گنجائش نہیں بلکہ اس سے پیشتر بھی کہ جب قریش مبتلائے قحط ہوئے تھے حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ابوطالب پرتخفیف عیال کے لئے امیر المومنین علی کرم اللہ تعالٰی وجہہ کو اپنی بارگاہ ایمان پناہ میں لے آئے تھے
کما ذکرہ ابن اسحٰق فی سیرتہ۲
(جیسا کہ اس کو ابن اسحٰق نے اپنی سیرت میں ذکر کیا۔ت)
(۲السیرۃ النبویۃ لابن ہشام ذکر ان علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ اول ذکر اسلم الجزئین الاولین، دارابن کثیربیروت ص۲۶۴)
حضرت مولٰی نے حضور مولی الکل سید الرسل صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے کنارِ اقدس میں پرورش پائی، حضو رکی گود میں ہوش سنبھالا، آنکھ کھلتے ہی محمد رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا جمال جہاں آراء دیکھا، حضور ہی کی باتیں سنیں ، عادتیں سیکھیں ، صلی اللہ تعالٰی علیہ وعلیہ بارک وسلم۔ تو جب سے اس جناب عرفان مآب کو ہوش آیا قطعًایقیناًرب عزوجل کو ایک ہی جانا ، ایک ہی مانا۔ ہر گزہرگزبتوں کی نجاست سے اس کا دامن پاک کبھی آلودہ نہ ہوا۔اسی لئے لقب کریم "کرم اللہ تعالٰی وجہہ "ملا۔
ذٰلک فضل اللہ یؤتیہ من یشاء ذوالفضل المبین
(یہ اللہ تعالٰی کا فضل ہے جسے چاہے عطافرمائے وہ نمایاں فضل والا ہے ۔ت)
اب رہ گئے صرف چند برس جو روز پیدائش سے بالکل ناسمجھی کے ہوتے ہیں جن میں بچہ نہ کچھ ادراک رکھتاہے ، نہ سمجھ سکتاہے ۔ ظاہر ہے کہ اس عمر میں حقیقۃً تو کوئی بچہ کافر نہیں کہاجاسکتاکہ صدق مشتق قیام مبدء کو مستلزم ۔ کفر تکذیب ہے ، اورتکذیب بے ادراک وتمیز نامتصور(عہ) بلکہ اس وقت تک ہر بچے کا دین فطری اسلام ہے
کما نطقت بہ صحاح الاحادیث
(جیسا کہ صحیح احادیث اس پر ناطق ہیں۔ت)
عہ: نتیجہ یہ نکلا کہ کفر بے ادراک وتمیز غیر متصورہے ۔ لہذا ناسمجھ بچہ کفرسے خالی ہوگا ۔ جب کفر اس کے ساتھ قائم نہیں تواس پرکافر کا اطلاق بھی درست نہیں کیونکہ کافر، کفرسے مشتق ہے اور کسی پر مشتق صادق ہونے کے لئے مصدر سے اس کا متصف ہونا لازم ہے جیسے لفظ عالم کسی پر صادق آنے کے لئے علم سے اس کا متصف ہونا لازم ہے ۔ لہذا بچہ جب مبدأ(کفر) سے خالی ٹھہراتو اس پر مشتق (کافر)کا اطلاق بھی نہیں ہوسکتا۱۲محمد احمد مصباحی۔
ہاں جس کے والدین کافرہوں اس پر ان کی تبعیت کا حکم کیا جاتاہے جبکہ تبعیت متصوربھی ہو ورنہ نہیں، جیسے وہ بچہ جسے دارالاسلام میں اسیر کرلائیں اوراس کے کافرماں باپ دارالحرب میں رہیں ، کہ بوجہ اختلافِ دار تبعیت ابوین منقطع ہوگئی ، اب بہ تبیعت دار اسے مسلم کہاجائیگا۔
فی جنائز الدر"صبی سبی مع احد ابویہ لایصلی علیہ لانہ تبع لہٗ ولو سبی بدونہ فمسلم تبعًاللداراوللسابی ۱اھ ملخّصا۔"
درمختارکتاب الجنائز میں ہے : کوئی بچہ اپنےحربی والدین میں سےکسی ایک کے ساتھ (دارالحرب سے)گرفتارکر کے (دارالاسلام میں)لایاگیا (اورمرگیا) تو اس کی نماز جنازہ نہیں پڑھی جائے گی کیونکہ وہ (کافر حربی کے )تابع ہے ۔ ہاں اگرتنہاگرفتارہوتو دارالاسلام یاگرفتارکرنے والے کے تابع ہونے کے باعث مسلم ہے اھ ملخصاً۔(ت)
(۱الدرالمختارکتاب الصلوٰۃ باب صلوٰۃ الجنازۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱/۱۲۳)
درمختار کتاب النکاح میں ہے : باعتبار دین ماں باپ میں سے جو بہترہوبچہ اسی کا تابع ہوتاہے اگردار ایک ہو الخ(ت)
(۱الدرالمختارکتاب النکاح باب نکاح الکافرمطبع مجتبائی دہلی ۱/۲۱۰)
جب یہ امر منقح ہولیا اب یہاں اس نرے ناسمجھ کی عمر پربھی یہ ناگوار وناسزا خیال دوامر کے ثبوت کافی کا محتاج:
امر اول حضرت فاطمہ (عہ۱) بنت اسد رضی اللہ تعالٰی عنہا اورابوطالب دونوں کا اس وقت تک کافرہونا کہ ان میں ایک بھی موحد ہوتوبچہ اس کی تبیعت سے موحد کہا جائے گاکافر کی تبعیت ہرگز نہ کرے گا
لما نصواعلیہ قاطبۃ من ان الولد یتبع خیرالابوین دینا۲
(کیونکہ تمام علماء نے نص فرمایا کہ ماں باپ میں سے باعتباردین جو بہتر ہوبچہ اسی کے تابع ہوتاہے۔ت)
(۲الدرالمختارکتاب النکاح باب نکاح الکافرمطبع مجتبائی دہلی۲۱۰/۱)
عہ۱: حضرت علی مرتضٰی کرم اللہ تعالٰی وجہہ کی والدہ ماجدہ جو صحابیہ ہوئیں ۱۲محمد احمد