| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۸ (کتاب الشتّٰی) |
خلاصہ جواب تھانوی دیوبند آنحضرت صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی طرف بلا دلیل شرعی کسی قول یافعل کو منسوب کرنا جمہورکے نزدیک حرام اور بعض کے نزدیک کفر ہے ۔ پس روح مقدس حضرت غوث اعظم پرآپکا سوارہوکر عرش پر پہنچنے کی نسبت فعل اور آپ کافرمانا کہ "میرے بعد نبی ہوتا تو پیران پیر ہوتے"قول کی نسبت بلادلیل ۔ پس سخت معصیت وحرام ہے ۔ اورچونکہ منقولین اور ان امور کے اصرارکرتے اور اس کومستحسن سمجھتے ہیں۔پس اصرارعلی المعصیۃ قریب کفر اوراس کا استحسان صریح کفرہے ۔ ایسے لوگوں کے ایمان میں کلام اوراشتباہ معلوم ہوتاہے،بلکہ درپردہ اس قصہ میں حضرت غوث اعظم کو فضیلت دینالازم آتاہے حضرت سرورکائنات صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم پر کہ آپ تو وہاں نہ پہنچ سکے اور حضرت غوث اعظم پہنچ گئے اوران کے ذریعے سے آپ کی رسائی ہوئی، نعوذباللہ منہ۔ قطع نظر اس سے سدرۃ المنتہٰی کو اس لئے سدرۃ المنتہٰی کہتے ہیں کہ وہ منتہٰی عروج مخلوقات کا ہے ۔پس جس کا عروج اس سے اوپر بالدلیل ہو، مستثنٰی ہے۔دوسرے کے عروج کا دعوٰی رجم بالغیب جس کی مذمت قرآن مجید میں منصوص ہے ۔ اسی طرح یہ اعتقاد کہ زنبیل چھین لی، مخلاف نص قرآنی منجرالی کفر ہے ۔ ایسے ہی حضرت عائشہ کا دودھ پلانا، اس کی بھی کچھ اصل نہیں ۔ اول تو حضرت عائشہ کے دودھ ہی نہ تھا، دوسرے روح منہ اورلب اورپیٹ سے پاک ہے۔یہ چیزیں خواص اجسام سے ہیں۔پھر دودھ پینے کے کیا معنی۔ اورحضرت ابوبکر سے کسی بھی صحابی کو افضل سمجھنا خلاف اجماع امت ہے نہ کہ ایک ولی کوکہ سخت معصیت وبدعت ومخالف سنن مشہور ہ کے ہے۔اوریہ قول کہ قدمی علٰی رقاب اولیاء"خود حضرت غوث صاحب سے ثقات نے نقل فرمایا ہے ،آنحضرت صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی طرف دروغ ہے۔ کتبہ محمد اشرف علی
28-10.jpg
۲۔فی الواقع یہ اوہام خیالات باطلہ اور جہالات فاسدہ ہیں جو جُہال معتقدین اپنے معتقدعلیہ کی نسبت شائع کیاکرتے تہیں۔
نعوذباللہ من تلک الکفریات والھفوات۔
حررہ خلیل احمد(انبھیٹھی) مدرسہ دیوبند ۳۔جواب صحیح ہے۔ رشید احمدگنگوہی
28-11.jpg
رسالہ تنزیہ المکانۃ الحیدریہ عن وصمۃ عھد الجاھلیۃ (۱۳۱۲ھ) (زمانہ جاہلیت کے عیب سے مقام حیدری کی پاکی کا بیان)
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم مسئلہ۱۹: از بنارس کندی گڈھ ٹولہ مسجد بی بی راجی شفاخانہ مرسلہ مولوی حکیم عبدالغفورصاحب ۹جمادی الاخری۱۳۱۲ھ بخدمت لازم البرکت ، جامع معقول ومنقول ، حاوی فروع واصول ، جناب مولٰینامولوی احمدرضا خان صاحب مداللہ فیضانہ(اللہ تعالٰی آپ کافیضان ہمیشہ جاری رکھے۔ت) ازجناب خادم الطلبہ عبدالغفورسلام علیک قبول باد، اس مسئلہ میں یہاں درمیان علماء کا اختلاف ہے لہذا مسئلہ ارسال خدمت لازم البرکت ہے امید کہ جواب سے مطلع فرمائیں۔ زید کہتاہے کہ جناب علی مرتضٰی کرم اللہ تعالٰی وجہہ چونکہ قبل از بلوغ ایمان لائے اورنہ پہلے بت پرستی شرک وکفر وغیرہ کے آ پ مبتلاہوئے نیز بلحاظ حدیث شریف:
کل مولود یولد علی الفطرۃ۱۔ ہربچہ فطرت اسلام پرپیداہوتاہے۔(ت)
(۱صحیح البخاری کتاب الجنائزباب ماقیل فی اولاد المشرکین قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/۱۸۵) (سنن ابی داودکتاب السنۃ باب فی ذراری المشرکین آفتاب عالم پریس لاہور۲/۲۹۲) (جامع الترمذی ابواب القدرباب ماجاء کل مولودیولد علی الملۃ امین کمپنی دہلی ۲/۳۶) (مسنداحمد بن حنبل عن ابی ہریرۃ رضی اللہ عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۲/۲۳۳)
یہ کہنا کہ آپ پہلے کافر تھے بعدازاں مسلمان ہوئے صحیح نہیں ، اورجملہ مذکورہ بہ نسبت آپ کے سوئے ادب میں داخل ہے ۔ عمرو کہتاہے چونکہ اطفال تابع والدین کے ہوتے ہیں اوروالدین آپکے حالت کفرپر تھے، لہذا ہم کہہ سکتے ہیں کہ پہلے علی مرتضی کافرتھے بعدازاں مسلمان ہوئے فقط۔ اس صورت میں زید کا قول صحیح ہے یاعمروکا؟بینواتوجروا۔(بیان فرمائیے اجردیے جاؤگے۔ت)
الجواب بسم اللہ الرحمٰن الرحیم، الحمدللہ الذی کرم وجہ علی ن المرتضٰی : فلم یزل محظوظا منہ بعین الرضٰی : والصلوٰۃ والسلام علی السیدالعلی الرضی الارضٰی : شفیع المذنبین یوم فصل القضا : وعلٰی اٰلہ وصحبہٖ بعددکل من یاتی ومضٰی:
اللہ کے نام سے شروع نہایت مہربان رحم والا ہے ۔ساری تعریف اللہ کے لئے جس نےعلی مرتضی کے چہرے کو عزت وکرامت بخشی تو وہ ہمیشہ اس کی رضاوخوشنودی سے بہرہ ور رہے۔ اوردرودوسلام ہو بلند ، پسندیدہ ، پسندیدہ تر سردار، فیصلہ قضا کے دن گنہگاروں کے شفیع پر اوران کی آل اوران کے اصحاب پر تمام اگلے پچھلوں کی تعداد کے برابر۔(ت) قول زید حق وصحیح قول عمروباطل وقبیح ہے۔
اقول وباللہ التوفیق
(میں کہتاہوں اورتوفیق اللہ تعالٰی سے ہے۔ت) یہ توظاہر ومعلوم وثابت ہے کہ حضرت امیر المومنین مولی المسلمین سیدنا علی مرتضٰی کرم اللہ وجہہ الاسنٰی وقت بعثت سراپابرکت حضور پرنورسیدالمرسلین صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فورًا مشرف بتصدیق وایمان ہوئے، اس وقت عمر مبارک حضرت مرتضوی آٹھ دس سال تھی اوربالیقین جو عاقل بچہ اسلام لائے حکم اسلام میں مستقل بالذات ہے پھر کسی کی تبعیت سے اس پرحکم دیگر حلال نہیں۔
فی المواھب : کان سن علی رضی اللہ تعالٰی عنہ اذذاک عشر سنین فیما حکاہ الطبری۱ اھ
مواہب اللدنیہ میں ہے : اس وقت حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ کی عمر دس سال تھی، جیسا کہ طبری نے ذکر کیا ہے اھ۔
(۱المواہب اللدنیہ المقصد الاول اول من اٰمن المکتب الاسلامی بیروت ۱/۲۱۶)
قال الزرقانی : وھو قول ابن اسحٰق واقتصر المصنف علیہ لقول الحافظ انہ ارجح الاقوال۲۔
زرقانی نے فرمایا: یہی ابن اسحٰق کا بھی قول ہے ، مصنف نے صرف اسی قول کو اس لئے ذکر کیا ہے کہ حافظ ابن حجر نے فرمایا ہے کہ سب سے راجح قول یہی ہے ۔(ت)
(۲شرح الزرقانی علی المواہب اللدنیہ اول من اٰمن دارالمعرفۃ بیروت ۱/۲۴۲)
وروی ابن سفٰین باسناد صحیح عن عروۃ قال اسلم علی وھو ابن ثمان سنین وصدربہٖ فی العیون الخ۳۔
اورابن سفٰین نے بسند صحیح حضرت عروہ سے روایت کی ہے کہ حضرت علی آٹھ برس کی عمر میں اسلام لائے۔ عیون الاثر(لابن سید الناس ) میں اسی قول کو پہلے ذکر کیا ۔ (ت)
(۳شرح الزرقانی علی المواہب اللدنیہ اول من اٰمن دارالمعرفۃ بیروت ۱/۲۴۲)