امام جلال الدین سیوطی نے"مناھل الصفا فی تخریج احادیث الشفاء"میں مرثیہ امیر المومنین فاروق اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ
"بابی انت وامی یارسول اللہ"۱
(یارسول اللہ!میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں۔ت)کی نسبت فرماتے ہیں :
لم اجدہ فی شیئ من کتب الحدیث الاثر (الٰی قولہ)بالاحکام۲۔
میں نے یہ روایت کسی کتاب حدیث میں نہ پائی مگرصاحب اقتباس الانواراورامام ابن الحاج نے اپنی مدخل میں اسے حدیث طویل کے ضمن میں ذکر کیا اورایسی روایت کو اسی قدرسند کفایت کرتی ہے کہ انہیں کچھ باب احکام سے تعلق نہیں ۔
(۱نسیم الریاض بحوالہ مناھل الصفافی تخریج احادیث الشفاء الفصل السابع مرکز اہلسنت برکات رضاگجرات ہند ۱/۲۴۸)
(۲نسیم الریاض بحوالہ مناھل الصفافی تخریج احادیث الشفاء الفصل السابع مرکز اہلسنت برکات رضاگجرات ہند۱/۲۴۸)
اوریہ تو کسی سے کہا جائے کہ حضرات مشائخ کرام قدست اسرارھم کے علوم اسی طریقہ سند ظاہری حدثنا فلان عن فلان میں منحصرنہیں، وہاں ہزارہا ابواب وسیعہ واسباب رفیعہ ہیں کہ اس طریقہ ظاہرہ کی وسعت ان میں سے کسی کے ہزارویں حصہ تک نہیں، تو اپنے طریقہ سے نہ پانے کو ان کی تکذیب کی حجت جاننا کیسی ناانصافی ہے۔
انسان کی سعادت کبرٰی ان مدارج عالیہ ومعارک غالیہ تک وصول رہے۔۔۔۔۔۔۔اوراس کی بھی توفیق نہ ملے تو کیا درجہ تسلیم، نہ کہ معاذاللہ انکار وتکذیب کو سخت مہلکہ ہائلہ ہے ، والعیاذباللہ رب العٰلمین(اوراللہ تعالٰی کی پناہ جو پروردگارہے تما م جہانوں کا۔ت)۔۔۔۔۔۔۔جیسے آج کل ایک بحرینی بے بہرہ نے رسالہ"لباب المعانی"سیاہ کر کے مصر میں چھپوایااورصرف اس پر کہ حضرت امام عارف باللہ، ثقہ، حجت ، فقیہ ، محدث، امام القراء، سیدی ابوالحسن علی نورالملۃ والدین شطنوفی قدس سرہ الصافی الصوفی نے کتاب بہجۃ الاسرارشریف میں باسنادصحیحہ حضرت امام اجل سیدی احمد رفاعی قدس سرہ الرفیع پرحضورپرنورسید الاولیاء حضرت غوث الورٰی رضی اللہ تعالٰی عنہ کی تفضیل روایت فرمائی ، نہ صرف اس امام جلیل وکتاب جمیل بلکہ خاک بدہن گستاخ جناب اقدس میں کوئی دقیقہ بے ادبی اٹھانہ رکھا۔
نعوذباللہ من الخذلان ولاحول ولاقوۃ الاباللہ القادرالمستعان
(ہم ذلت ورسوائی سے اللہ تعالٰی کی پناہ چاہتے ہیں جوقدرت والا ہے جس سے مددطلب کی جاتی ہے ۔ت)
یہ لباب عجاب اول تاآخرجہالات فاضحہ وخرافات واضحہ کا لب لباب ہے ۔ کثر ت مسائل کے نام فرصت عنقانہ ہوتاتو فقیر اس کا رد لکھ دیتا۔مگر الحمدللہ نارباطل خود منطفی (عہ۱) ہے اورہمارے بلاد میں اس کاشریکسرمنتفی (عہ۲)
فلاحاجۃ الٰی اشاعۃ خرافاتہ ولو علٰی وجہ الرد
(اس کی خرافات کو شائع کرنے کی کوئی ضرورت نہیں اگرچہ بطور ردہو۔ت)
عہ۱: بُجھی ہوئی۔ عہ۲: ختم، نیست ونابود۔
بالجملہ روایت نہ عقلاًدور نہ شرعًامہجور،اورکلمات مشائخ میں مسطوروماثوراورکتب احادیث میں ذکر معدوم نہ کہ عدم مذکور۔۔۔۔۔۔نہ روایاتِ مشائخ اس طریقہ سند ظاہری میں محصور،اورقدرت قادر وسیع وموفور، اورقدرقادری کی بلندی مشہور، پھر ردوانکارکیا مقتضائے ادب وشعور۔
(اورسب تعریفیں اللہ تعالٰی کے لئے ہیں جو عزت والا بہت بخشنے والا ہے اوراللہ سبحانہ تعالٰی خوب جانتاہے اوراس کا علم خوب تام اورخوب مضبوط ہے۔ت)
مسئلہ ثالثہ
مسئلہ۸: مسؤلہ مولوی نور محمد صاحب کانپوری ، ملازم کارخانہ میل کاٹ واقع دیوان،۹محرم الحرام ۱۳۳۸ھ۔
ماقولکم یا علماء الملۃ السمحۃ البیضاء ومفتی الشریعۃ الغراءفی ھٰذہٖ:
آپ کا کیا ارشاد ہے اے فراخ وروشن ملت کے عالمو اوراے چمکدارشریعت کے مفتیو!اس مسئلہ میں )ت)
مولودغلام امام شہید، صفحہ ۵۹سطر ۱۱میں لکھاہے کہ : "شب معراج میں حضرت غوث الاعظم شیخ محی الدین رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کی روح پاک نےحاضر ہوکر گردنِ نیاز صاحب لولاک کے قدم سراپا اعجاز کے نیچے رکھ دی اورخواجہ عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم گردن غوث اعظم پر قدم مبارک رکھ کر براق پر سوارہوئے اوراس روح پاک سے استفسارفرمایا کہ توکون ہے ؟عرض کیا: میں آپ کے فرزندوں اورذریات طیبات سے ہوں، اگر آج اس نعمت سے کچھ منزلت بخشئے گاتو آپ کے دین کو زندہ کروں گا۔ فرمایاکہ : "تو محی الدین ہے اورجس طرح میرا قدم تیری گردن پر ہے اسی طرح کل تیرا قدم تمام اولیاء اللہ کی گردن پر ہوگا۔"
اوراس روایت کی دلیل یہ لکھی ہے کہ صاحب منزل اثنا عشریہ بھی تحفۃ القادریہ سے لکھتے ہیں اسی کتاب کے صفحہ۵۸سطر۵ میں مرقوم ہے کہ :
"خواجہ عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم خوش ہوکر سوارہونے لگے براق نے شوخی شروع کی ،جبریل علیہ السلام نے کہا : کیا بیحرمتی ہے ، تو نہیں جانتا کہ تیر اراکب کون ہے ؟خلاصہ ہژدہ ہزار عالم محمد رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم (اٹھارہ ہزارجہانوں کے خلاصہ محمد مصطفٰی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم جو اللہ کے سچے رسول ہیں۔ ت)براق نے کہا کہ اے امین وحی الہٰی! تم اس وقت خفگی مت کرو مجھے رسول مقبول صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی جناب میں ایک التماس ہے ۔ فرمایا: بیان کرو۔ عرض کیا: آج دولت زیارت سے مشرف ہوں کل قیامت کے دن مجھ سے بہتر براق آپکی سواری کے واسطے آئیں گے، امیدوار ہوں کہ حضور سوائے میرے اورکسی براق کو پسند نہ فرمائیں۔"
صاحب تحفۃ القادریہ لکھتے ہیں کہ : "وہ براق خوشی سے پھولا نہ سمایااوراتنا بڑھا اوراونچا ہوا کہ صاحب معراج کا ہاتھ زین تک اورپاؤں رکاب تک نہ پہنچا۔"
پس استفسار اس امر کا ہے کہ آیا یہ روایت صحاح ستہ وغیرہ احادیث وشفائے قاضی عیاض وغیرہ کتب معتبرہ فن میں موجود ہے یا نہ ۔بیان کاف وشاف بالاسانید من المعتبرات المعتقدات بالبسط والتفصیل جزاکم اللہ خیرا۔بینواتوجروا(معتبرومعتمد سندوں کے ساتھ کافی و شافی بیان پوری شرح وتفصیل کے ساتھ ارشادفرمائیں۔ اللہ تعالٰی آپ کو جزائے خیرعطافرمائے۔بیان کرو اجرپاؤگے۔ت)
الجواب
کتب احادیث وسِیَرمیں اس روایت کا نشان نہیں ۔ رسالہ غلام امام شہید محض نامعتبر،بلکہ صریح اباطیل وموضوعات پر مشتمل ہے ۔ منازل اثنا عشریہ کوئی کتاب فقیر کی نظر سے نہ گزری نہ کہیں اس کا تذکرہ دیکھا۔
تحفہ قادریہ شریف اعلٰی درجہ کی مستند کتاب ہے اس کے مطالعہ بالاستیعاب سے بارہامشرف ہوا، جو نسخہ میرے پاس ہے یا اورجومیری نظر سے گزرا ان میں یہ روایات اصلا نہیں۔(عہ۱)
عہ۱: تحفہ قادریہ ،حضرت شاہ ابوالمعالی قادری(۱۱۱۶ھ)کی فارسی تالیف ہے جس میں حضورغوث الورٰی رضی اللہ تعالٰی عنہ کے حالات اورکرامات کا تذکرہ ہے ۔ آپ اپنے وقت کے سربرآوردہ مشائخ میں شمار ہوتےہیں حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمہ اللہ نے آپ کے ارشاد پر اشعۃ اللمعات اورشرح فتوح الغیب مکمل فرمائی۔آپکا مزارلاہور میں واقع ہے۔
تحفہ قادریہ کے قلمی نسخے اکثرکتب خانوں میں موجودہیں، اصل فارسی نسخہ تاحال طبع نہ ہوا، البتہ اس کااردوترجہ (۱) سیرت الغوث مولفہ محمد باقر نقشبندی(۱۳۲۳ھ) مطبع منشی نولکشور پریس لاہور اور(۲) تحفہ قادریہ(اردوترجمہ) مولفہ مولانا عبدالکریم(۱۳۲۴ھ) ملک فضل الدین تاجرکتب لاہورکے ناموں سے شائع ہوچکے ہیں۔
بایں ہمہ اس زمانہ کے مفتیان جہول،مخطیان غفول(عہ۲) نے جو اس کا بطلان یوں ثابت کرنا چاہاکہ سدرۃ المنتہٰی سے بالاعروج کیا اوراس میں معاذاللہ حضور اقدس وانورصلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم پر حضور پرُنورغوث اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ کی تفضیل نکلتی ہے(عہ۳) یہ محض تعصب وجہالت ہےجس کا رد فقیر نے ایک مفصل فتوٰی میں سترہ سال ہوئے کیا،جبکہ ۱۶ رمضان المبارک ۱۳۱۰ھ کٹھورضلع سورت سے ایک سوال آیاتھا۔(عہ۴)
عہ۲: جاہل، غافل اورخطاکارمفتی۔
عہ۳: دیوبندیوں کےحکیم الامت مولوی اشرف علی تھانوی، مدرسہ دیوبند کے اساطین مولوی خلیل احمد اورمولوی رشیدا حمد انبیٹھوی کے فتاوٰی کی تردید ہورہی ہے ، یہ فتاوٰی موجودہ رسالہ مبارکہ میں شامل کردیے گئے ہیں۔
عہ۴: ملاحظہ ہو مسئلہ ثانیہ رسالہ ہذا
فاضل عبدالقادرقادری ابن شیخ محی الدین اربلی نے کتاب "تفریح الخاطر فی مناقب الشیخ عبدالقادر" رضی اللہ تعالٰی عنہ میں یہ روایت لکھی ہے(عہ۵) اوراسے جامع شریعت وحقیقت شیخ رشید بن محمد جنیدی رحمہ اللہ کی کتاب حرزالعاشقین سے نقل کیا ہے۔ اور ایسے امور میں اتنی ہی سندبس ہے ۔ اس کا بیان فقیر کے دوسرے فتوے میں ہے جس کا سوال۱۷ربیع الآخرشریف۱۳۱۰ھ کو اوجین سے آیاتھا،(عہ۱) وباللہ التوفیق، واللہ تعالٰی اعلم (اورتوفیق اللہ تعالٰی کی طرف سے ہے،اوراللہ تعالٰی خوف جانتاہے۔ت)