Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۸ (کتاب الشتّٰی)
82 - 135
(۶)امام احمد ونسائی وحاکم باسناد صحیحہ ام المومنین صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے راوی، حضور سیدالمرسلین صلی اللہ  تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
دخلت الجنۃ فسمعت فیہا قراء ۃ ، فقلت من ھذا ؟ قالواحارثۃ بن نعمان کذٰلکم البر کذٰلکم البر ۱؂۔
میں بہشت میں جلوہ فرما ہوا ، وہاں قرآن کریم پڑھنے کی آواز آئی،پوچھا: یہ کون ہے ؟عرض کی گئی: حارثہ بن نعمان۔ نیکی ایسی ہوتی ہے نیکی ایسی ہوتی ہے ۔
 (۱؂مسند احمد بن حنبل عن عائشہ رضی اللہ عنہاالمکتب الاسلامی بیروت ۶/۳۶)

(المستدرک للحاکم کتاب معرفۃ الصحابۃ مناقب حارثہ بن نعمان دارالفکر بیروت ۳/۲۰۸)

(الاصابۃ فی تمییزالصحابۃ بحوالہ النسائی ترجمہ ۱۵۳۲ حارثہ بن نعمان دارصادربیروت  ۱/۲۹۸)
یہ حارثہ رضی اللہ تعالٰی عنہ خلافتِ امیرمعاویہ رضی اللہ تعالٰی عنہ میں راہی جنان ہوئے
قالہ ابن سعد فی الطبقات وذکرہ الحافظ فی الاصابۃ۲؂
 (ابن سعد نے طبقات میں اورحافظ نے اصابہ میں اس کو ذکر کیا۔ت)
 (۲؂ الاصابۃ فی تمییزالصحابۃ بحوالہ النسائی ترجمہ ۱۵۳۲حارثہ بن نعمان دارصادربیروت  ۱/۲۹۹)

(الطبقات الکبرٰی لابن سعدترجمہ حارثہ بن نعمان دارالفکر بیروت ۳/۴۸۸)
 (۷) ابن سعد طبقات میں ابوبکرعدوی سے مرسلاًراوی حضور سید المرسلین صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
دخلت الجنۃ فمسعت نحمۃ من نعیم۳؂۔
میں جنت میں تشریف فرما ہوا تو نعیم کی کھکارسنی۔
 (۳؂ الطبقات الکبرٰی لابن سعدالطبقۃ الثانیۃ من المہاجرین والانصارترجمہ نعیم بن عبداللہ المعروف النحام دارصادر بیروت۴/۱۳۸)
یہ نعیم بن عبداللہ عدوی معروف بہ نحام(کہ اسی حدیث کی وجہ سے ان کا یہ عرف قرارپایا)

خلافت امیر المومنین فاروق اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ میں جنگ اجنادین میں شہیدہوئے۔
کما ذکرہ موسٰی بن عقبۃ فی المغازی عن الزھری وکذا قالہ ابن اسحٰق ومصعب الزبیری واٰخرون کما فی الاصابۃ۴؂۔
جیسا کہ موسٰی بن عقبہ نے مغازی میں زہری کے حوالے سے اس کو ذکر کیا یوں ہی کہا ابن اسحٰق اورمصعب زبیری اوردیگرعلماء نے جیسا کہ اصابہ میں ہے ۔(ت)
(۴؂الاصابۃ فی تمییزالصحابۃ ترجمہ نعیم بن عبداللہ ۸۷۷۶دارصادر بیروت ۳/۵۶۸)
سبحان اللہ! جب احادیث صحیحہ سے احیائے عالم شہادت کا حضور ثابت تو عالم ارواح سے بعض ارواح قدسیہ کا حضور کیا دور۔

(۸) امام ابو بکر بن ابی الدنیا ، ابوالمخارق سے مرسلاً راوی، حضور پرنورصلوات اللہ سلامہ علیہ فرماتے ہیں :
مررت لیلۃ اسرٰی بی برجل مغیب نورالعرش ، قلت : من ھذا، املک؟ قیل: لا ۔ قلت: نبی؟ قیل: لا۔ قلت : من ھذا؟قال: ھذا رجل کان فی الدنیا لسانہ رطب من ذکر اللہ تعالٰی وقلبہ معلق بالمساجد ولم یستسب لوالدیہ قط۱؂۔
یعنی شب اسرٰی میرا گزر ایک مرد پر ہوا کہ عرش کے نور میں غائب تھا ، میں نے فرمایا : یہ کون ہے ، کوئی فرشتہ ہے ؟عرض کی گئی:نہ ۔ میں نے فرمایا : نبی ہے عرض کی گئی:نہ ۔ میں نے فرمایا کون ہے ؟عرض کرنے والے نے عرض کی : یہ ایک مرد ہے دنیا میں اس کی زبان یادِالہٰی سے تر تھی اوردل مسجدوں سے لگا ہوا ، اور(اس نے کسی کے ماں باپ کو براکہہ کر) کبھی اپنے ماں باپ کو برا نہ کہلوایا۔
 (۱؂ الدرالمنثوربحوالہ ابن ابی الدنیا تحت الآیۃ ۱۵۲/۲ مکتبہ آیۃ اللہ العظمی قم ایران ۱/۱۴۹) 

(الترغیب والترھیب      بحوالہ ابن ابی الدنیاکتاب الذکروالدعاء،      الترغیب فی الاکثارمن ذکراللہ الخ   مصطفٰی البابی مصر۲/ ۳۹۵)
ثم اقول وباللہ التوفیق
 (پھر میں کہتاہوں اورتوفیق اللہ ہی کی طرف سے ہے۔ت)کیوں راہ دور سے مقصد قرب نشان دیجئے، فیض قادریت جوش پر ہے، بحر حدیث سے خاص گوہر مراد حاصل کیجئے۔ حدیث مرفوع مروی کتب مشہورہ ائمہ محدثین سے ثابت کہ حضور سیدنا غوث اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ مع اپنے تمام مریدین واصحاب وغلامان بارگاہ آسمان قباب کے شب اسرٰی اپنے مہربان باپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اورحضور اقدس کے ہمراہ بیت المعمور میں گئے حضور پرنورکےپیچھے نماز پڑھی، حضور کے ساتھ باہر تشریف لائے۔
والحمدللہ رب العٰلمین
 (سب تعریفیں اللہ کے لئے ہیں جو پروردگارہے تمام جہانوں کا۔ت)

اب ناظر غیروسیع النظرمتعجبانہ پوچھے گاکہ یہ کیونکر؟۔۔۔۔۔۔۔۔ہاں ہم سے سنے۔ واللہ الموفق۔ ابن جریروابن ابی حاتم وابویعلٰی وابن مردویہ وبیہقی وابن عساکر حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالٰی عنہ سے حدیث طویل معراج میں راوی، حضور اقدس سرورعالم صلی اللہ تعالٰی  علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ثم صعدت الی السماء السابعۃ فاذاانا بابراھیم الخلیل مسندا لظھرہ الی البیت المعمور(فذکرالحدیث الی ان قال) واذابامتی شطرین شطرعلیھم ثیاب بیض کانھاالقراطیس وشطرعلیھم ثیاب رمد فدخلت البیت المعمور ودخل معی الذین علیھم الثیاب البیض وحجب الاخرون الذین علیھم ثیاب رمد وھم علی خیر فصلیت انا ومن معی من المومنین فی البیت المعمورثم خرجت انا ومن معی ۱؂(الحدیث)
پھر میں ساتویں آسمان پر تشریف لے گیا،ناگاہ وہاں ابراہیم خلیل اللہ ملے کہ بیت المعمور سے پیٹھ لگائے تشریف فرماہیں اورناگاہ اپنی امت دوقسم پائی،ایک قسم کے سپید کپڑے ہیں کاغذکی طرح، اوردوسری قسم کا خاکستری لباس۔میں بیت المعمورکے اندر تشریف لے گیااورمیرے ساتھ سپیدپوش بھی گئے، میلے کپڑوں والے روکے گئے مگرہیں وہ بھی خیر وخوبی پر۔پھر میں نے اورمیرے ساتھ کے مسلمانوں نے بیت المعمورمیں نماز پڑھی ۔ پھر میں اورمیرے ساتھ والے باہر آئے۔
 (۱؂تاریخ دمشق الکبیر باب ذکر عروجہ الی السماء الخ داراحیاء التراث العربی بیروت۳/۲۹۴)

(دلائل النبوۃ للبیہقی    باب الدلیل علی ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم عرج بہ الی السماء        دارالکتب العلمیۃ بیروت۲/ ۹۴۔۳۹۳)

(الدرالمنثوربحوالہ ابن جریروابن حاتم وغیرہ الخ تحت الآیۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/۱۷۲)
ظاہر ہے کہ جب ساری امت مرحومہ بفضلہ عزوجل شریف باریاب سے مشرف ہوئی یہاں تک کہ میلےلباس والے بھی۔ تو حضور غوث الورٰی اورحضور کے منتسبان باصفا تو بلاشبہہ ان اجلی پوشاک والوں میں ہیں ، جنہوں نے حضور رحمت عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے ساتھ بیت المعمورمیں جاکر نماز پڑھی، والحمدللہ رب العالمین(سب تعریفیں اللہ تعالٰی کے لئے ہیں جو پروردگارہے تمام جہانوں کا۔ت)

اب کہاں گئے وہ جاہلانہ استبعاد کہ آج کل کے کم علم مفتیوں کے سدراہ ہوئے، اور جب یہاں تک بحمداللہ ثابت تو معاملۂ قدم میں کیاوجہ انکارہے کہ قولِ مشائخ کو خواہی نخواہی رد کیاجائے۔ہاں سند محدثانہ نہیں ۔۔۔۔۔پھر نہ ہو۔۔۔۔۔اس جگہ اسی قدربس ہے۔سند معنعن(عہ) کی حاجت نہیں،کما بیناہ فی رسالتنا "ھدی الحیران فی نفی الفئی عن سیدالاکوان"(جیسا کہ ہم نے اپنے رسالہ"ہدی الحیران فی نفی الفیئی عن سیدالاکوان"میں اسے بیان کیاہے۔)
عہ: ایسی روایت جس میں ایک راوی دوسرے راوی سے"عن فلان"کے لفظ سے روایت کرے۔
Flag Counter