| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۸ (کتاب الشتّٰی) |
فرض کیجئے کہ ہنگام بت شکنی حضرت امیر المومنین مولٰی علی کرم اللہ وجہہٗ کی عرض قبول فرمائی جاتی اور حضور پرنور افضل صلوات اللہ واکمل تسلیماتہ علیہ وعلٰی آلہٖ ان کے دوش مبارک پر قدم رکھ کربت گراتے تو کیا اس کایہ مفاد ہوتا کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم تو معاذاللہ اس کام میں عاجز اورحضرت مولٰی علی کرم اللہ تعالٰی وجہہ قادر تھے ۔ غرض ایسے معنے محال، نہ ہرگز عبارت قصہ سے مستفاد، نہ ان کے قائلین بے چاروں کو مراد،
واللہ الہادی الٰی سبیل الرشاد
(اوراللہ تعالٰی ہی درست راستے کی طرف ہدایت عطافرمانے والاہے۔ت) یہ بیان ابطال استحالہ واثبات صحت بمعنی امکان کے متعلق تھا۔رہا اس روایت کے متعلق بقیہ کلام ، وہ فقیر غفراللہ تعالٰی کے مجلد دوم(عہ۲) العطایا النبویۃ فی الفتاوی الرضویۃ کی کتاب مسائل شتی میں مذکور کہ یہ سوال پہلے بھی اوجین سے آیا اوراس کا جواب قدرے مفصل دیاگیا تھا۔
یہ بیان ابطال استحالہ واثبات صحت بمعنی امکان کے متعلق تھا۔رہا اس روایت کے متعلق بقیہ کلام ، وہ فقیر غفراللہ تعالٰی کے مجلد دوم(عہ۲) العطایا النبویۃ فی الفتاوی الرضویۃ کی کتاب مسائل شتی میں مذکور کہ یہ سوال پہلے بھی اوجین سے آیا اوراس کا جواب قدرے مفصل دیاگیا تھا۔
عہ۲: یاد رہے کہ فتاوٰی رضویہ قدیم میں یہ مسائل شاملِ اشاعت نہیں ہوسکے تھے اب ان کواشاعت جدید میں کتاب الشتّی کے پیش نظر جلد میں شامل کردیاگیاہے۔
خلاصہ مقصد اس کا مع زیادات جدیدہ یہ کہ اس کی اصل کلمات بعض مشائخ میں مسطور ، اس میں عقلی وشرعی کوئی استحالہ نہیں، بلکہ احادیث واقوال اولیاء وعلماء میں متعددبندگان خدا کے لئے ایسا حضور روحانی وارد۔ (۲،۱) مسلم اپنی صحیح اورابوداود طیالسی مسند میں جابر بن عبداللہ انصٓاری اورعبد بن حمید بسند حسن انس بن مالک رضی اللہ تعالٰی عنہم سے راوی ، حضور سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
ودخلت الجنۃ فسمعت خشفۃ فقلت ماھذہ قالواھذا بلال ثم دخلت الجنۃ فسمعت خشفۃ فقلت ماھذہ قالوا ھذہ الغمیصاء بنت ملحان۱۔
میں جب جنت میں داخل ہوا تو ایک پہچل سنی،میں نے پوچھا : یہ کیاہے؟ ملائکہ نے عرض کی: یہ بلال ہیں۔ پھر تشریف لے گیا، پہچل سنی، میں نےپوچھایہ کیاہے؟عرض کیا: غمیصاء بنت ملحان ، یعنی ام سلیم مادرِ انس رضی اللہ تعالٰی عنہما۔
(۱ کنزالعمال بحوالہ عبد بن حمید عن انس والطیالسی عن جابر حدیث۳۳۱۶۱موسسۃ الرسالہ بیروت ۱۱/۶۵۳) ( مسندابی داودالطیالسی عن جابر حدیث ۱۷۱۹ دارالمعرفۃ بیروت الجز ء السابع ص۲۳۸) (صحیح مسلم کتاب الفضائل باب من فضائل ام سلیم الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/۲۹۲)
ان کا انتقال خلافت امیر المومنین عثمان رضی اللہ تعالٰی عنہ میں ہوا کما ذکرہ الحافظ فی التقریب ۲
(جیسا کہ حافظ نے تقریب میں اس کو ذکر کیا ۔ت)
(۲ تقریب التہذیب ترجمہ ۸۷۸۰ ام سلیم بنت ملحان دارالکتب العلمیہ بیروت۲/۶۸۸)
(۳) امام احمدوابویعلٰی بسند صحیح حضرت عبداللہ بن عباس اور (۴)طبرانی کبیر اورابن عدی کا مل بسندحسن ابو امامہ باہلی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روای، حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
دخلت الجنۃ فسمعت فی جانبھا وجسافقلت یا جبرئیل ماھذا قال ھذا بلال المؤذن۳۔
میں شب معراج جنت میں تشریف لے گیا اس کے گوشہ میں ایک آواز نرم سنی ، پوچھا: اے جبریل ! یہ کیا ہے ؟ عرض کی : یہ بلال مؤذن ہیں رضی اللہ تعالٰی عنہ۔
(۳کنزالعمال حدیث۳۳۱۶۲و۳۳۱۶۳مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱۱/۶۵۳) (الکامل لابن عدی ترجمہ یحیٰی بن ابی حبۃ ابن جناب الکلبی دارالفکر بیروت۷/۲۶۷۰)
(۵) امام احمد ومسلم ونسائی انس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے راوی، حضور والا صلوات اللہ تعالٰی وسلامہٗ علیہ فرماتے ہں :
دخلت الجنۃ فسمعت خشفۃ بین یدی، فقلت ماھذہ الخشفۃ، فقیل الغمیصاء بنت ملحان۴۔
(میں بہشت میں رونق افروز ہوا ، اپنے آگے ایک کھٹکا سنا، پوچھا: اے جبریل!یہ کیا ہے ؟عرض کی گئی: غمیصاء بنت ملحان۔
(۴صحیح مسلم کتاب الفضائل باب من ام سلیم الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/۲۹۲) (مسند احمد بن حنبل عن انس رضی اللہ تعالٰی عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۳/۹۹)