Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۸ (کتاب الشتّٰی)
80 - 135
نہ ظاہر میں ام المومنین کے پاس شیر نہ ہونا کچھ اس کے منافی کہ امور خارقہ للعادہ(عہ۱) اسباب ظاہر پر موقوف نہیں ، نہ روح عام متکلمین کے نزدیک مجردات سے ہے اورفی نفسہامادیہ نہ سہی تاہم مادہ سے اس کا تعلق بدیہی ۔ نہ جسم ، جسم شہادت میں منحصر۔ جسم مثالی بھی کوئی چیز ہے کہ ہزاروں احادیث برزخ وغیرہ اس پر گواہ(عہ۲)،کیفما کان(عہ۳) شک نہیں کہ روح مفارق(عہ۴)کی طرف نصوص متواترہ میں نزول وصعود ووضع وتمکن وغیرہ اعراض جسم وجسمانیت قطعا منسوب اور وہ نسبتیں اہل حق کے نزدیک ظاہر پرمحمول (عہ۵) یالیت شعری جب ارواح شہداء کا میوہ ہائے جنت کھانا ثابت۔
عہ۱: عادت کے خلاف ، کرامت وغیرہ 

عہ۲: وہ احادیث جو احوال برزخ پر مشتمل ہیں ان میں جسم مثالی بکثرت ذکرآیا ہے لہذا وہ احادیث جسم مثالی کے وجود پر گواہ ہیں۔    عہ۳: کوئی بھی صورت ہو

عہ۴: جسم سے جدا روح   عہ۵: اہل سنت کے نزدیک اپنے ظاہری معنی پر ہے ان میں کوئی تاویل نہیں کی گئی۔ 

الترمذی عن کعب بن مالک قال قال رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ان ارواح الشہداء فی طیرخضر تعلق من ثمر الجنۃ۱؂۔

(امام ترمذی کعب ابن مالک سے روایت کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نےفرمایا بے شک شہداء کی ارواح سبز رنگ کے پرندوں میں میوہ ہائے جنت سے لطف اندوز ہوتی ہیں۔
 (۱؂ جامع الترمذی ابواب فضائل الجہاد باب ماجاء فی ثواب شہید امین کمپنی دہلی  ۱/۱۹۷)
جبکہ دوسری روایت میں ارواح عام مومنین کے لئے یہی ارشاد :
الامام احمد عن الامام الشافعی عن الامام مالک عن الزھری عن عبدالرحمن بن کعب بن مالک عن ابیہ رضی اللہ تعالٰی عنہ عن النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نسمۃ المؤمن طائر یعلق فی شجر الجنۃ حتی یرجعہ اللہ تعالٰی فی جسدہ یوم یبعثہ۲؂۔
امام احمد امام شافعی سے وہ امام مالک سے وہ زہری سے وہ عبدالرحمن بن کعب بن مالک سے وہ اپنے باپ سے اور وہ نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ ) مومن کی روح پرندہ کی صورت میں جنت کے درختوں میں رہتی ہے یہاں تک کہ قیامت کے روز اللہ تعالٰی اسے اپنے جسم کی طرف لوٹا دے گا۔
 (۲؂مسند احمدبن حنبل حدیث کرب بن مالک انصاری المکتب الاسلامی بیروت  ۳/۴۵۵)
تو دودھ پلانے میں کیا استحالہ ہے ۔ حال روح بعد فراق وپیش از تعلق میں فارق(عہ۱) کیا ہے ؟ آخر حضرت ابراھیم علی ابیہ الکریم وعلیہ الصلوٰۃ والتسلیم کے لئے صحیح حدیث میں ہے : "جنت میں دو دایہ ان کی مدتِ رضاعت پوری کرتی ہیں۔"
رواہ احمد ومسلم عن انس رضی اللہ تعالٰی عنہ عن النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ان ابراھیم ابنی وانہ مات فی الثدی وانہ لو ظئرین یکملان  رضاعہ فی الجنۃ۱؂۔
اس کو امام احمد ومسلم نے حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا کہ نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا : ابراہیم میرا بیٹا جو شیر خوارگی کی عمر میں وصال فرماگیا ہے بیشک جنت میں اس کیلئے دو دایہ ہیں جو اس کی مدت رضاعت پوری کریں گی۔(ت)
عہ۱: روح کے جسم سے جُدا ہونے کے بعد کی حالت اورجسم سے متعلق ہونے سے پہلے کی حالت میں کوئی فرق نہیں۔
 (۱؂صحیح مسلم کتاب الفضائل باب رحمتہ صلی اللہ علیہ وسلم الصبیان والعیال الخ قدیمی کتب خانہ ۲/۲۵۴)

( مسند احمد بن حنبل عن انس بن مالک المکتب الاسلامی بیروت۳/۱۱۲)
بایں ہمہ یہ باتیں نافی استحالہ یں نہ مثبت وقوع(عہ۲) قول بالوقوع تاوقتیکہ نقل ثابت نہ ہو جزاف (عہ۳) وبے اصل ہے ۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
عہ۲: ان دلائل سے استحالہ کی نفی ہوتی ہے لیکن اس کا واقع ہونا ثابت نہیں ہوتا

عہ۳: من گھڑت ، جھوٹ ، بے ہودہ
جواب سوال ۳: زنبیل ارواح(عہ۴) چھین لینا خرافات مخترعہ جہّال سے ہے ۔سیدنا عزرائیل علیہ الصلوٰۃ والسلام رسل ملائکہ سے ہیں اوررسل ملائکہ ، اولیاء بشر سے بالاجماع افضل۔ تو مسلمانوں کو ایسے اباطیل واہیہ سے احترام لازم (عہ)۔ واللہ الہادی الٰی سبیل الرشاد۔
عہ۴: روحوں کاتھیلا۔
عہ:  تنبیہ : مبنائے انکار یہ طرز ادا ہے ورنہ ممکن کہ سیدنا عزرائیل علیہ الصلوۃ والسلام نے کچھ روحیں بامر الہٰی قبض فرمائی ہوں اورحضور غوث اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ کی دعا سے باذن الہٰی پھر اپنے اجسام کی طرف پلٹ آئی ہوں کہ احیاء مردہ حضور پرنور ودیگر محبوبان خدا سے ایسا ثابت ہے کہ جس کے انکار کی گنجائش نہیں۔

یوں ہی ممکن کہ حضرت ملک الموت نے بنظرِ صحائف محوواثبات قبض بعض ارواح شروع کیا اور علم الہٰی میں قضائے ابرام نہ پایاتھا ببرکت دُعائے محبوب قبض سے بازرکھے گئے ہوں۔

امام عارف باللہ سیدی عبدالوہاب شعرانی قدس سرہ الربانی کتاب لواقح الانوارمیں حالات حضرت سیدی شیخ محمد شربینی قدس سرہٗ میں لکھتے ہیں: لما ضعف ولدہ احمد واشرف علی الموت وحضرعزرائیل لقبض روحہ قال لہ الشیخ ، ارجع الٰی ربک فراجعہ فان الامر نسخ فرجع عزرائیل وشفی احمد من تلک الضعفۃ وعاش بعدھا ثلاثین عاما۱؂۔

یعنی جب ان کے صاحبزارے احمد ناتواں ہوکر قریب مرگ ہوئے اورحضرت عزرائیل علیہ الصلوٰۃ والسلام ان کی روح قبض کرنے آئے حضرت شیخ نے ان سے گزارش کی کہ اپنے رب کی طرف واپس جائیے اس سے پوچھ لیجئے کہ حکم موت منسوخ ہوچکا ہے ۔ عزرائیل علیہ الصلوٰۃ والسلام پلٹ گئے ، صاحبزادے نے شفاپائی اوراس کے بعد تیس برس زندہ رہے ۔ واللہ تعالٰی اعلم۔(۱؂ الطبقات الکبرٰی (لواقح الانوار)خاتمۃ الکتاب ترجمہ ۲۰ شیخ محمد الشربینی دارالفکر بیروت  ۲/۱۸۵)
جواب سوال ۵: یونہی جس کا عقیدہ ہو کہ حضور پرنورسید نا غوث اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ حضرت جناب افضل الاولیاء المحمدیین سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے افضل ہیں یا ان کے ہمسر ہیں، گمراہ بد مذہب ہے ۔ سبحان اللہ ، اہل سنت کا اجماع ہے کہ حضور صدیق اکبررضی اللہ تعالٰی عنہ حضرت امام اولیاء مرجع العرفاء امیر المومنین مولی المسلمین سیدنا مولٰی علی کرم اللہ وجہہ سے بھی اکرم وافضل واتم واکمل ہیں جو اس کا خلاف کرے اسے بدعتی، شیعی، رافضی مانتے ہیں ، نہ کہ حضورغوثیت مآب رضی اللہ تعالٰی عنہ کی تفضیل(عہ) دینی کہ معاذاللہ انکار آیات قرآنیہ واحادیث صحیحہ وخرق اجماع امت مرحومہ ہے لاحول ولا قوۃ الاباللہ العلی العظیم۔
عہ: فضیلت دینا
یہ مسکین اپنے زعم میں سمجھا جائے کہ میں نے حق محبت حضورپر نور سلطان غوثیت رضی اللہ تعالٰی عنہ کا ادا کیا کہ حضور کو ملک مقرب پر غالب یا افضل بتایا ، حالانکہ ان بیہودہ کلمات سے پہلے بیزار ہونے والے سیدنا غوث اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ ہیں، وباللہ التوفیق۔

جواب سوال ۱: رہا شب معراج میں روح پر فتوح حضور غوث الثقلین رضی اللہ تعالٰی عنہ کا حاضر ہوکر پائے اقدس حضور پرنورسید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے نیچے گردن رکھنا، اوروقتِ رکوب براق یا صعودعرش زینہ بننا،  شرعاً وعقلاً اس میں کوئی بھی استحالہ نہیں۔

سدرۃ المنتہٰی اگر منتہائے عروج ہے تو باعتبار اجسام نہ بنظرارواح۔ عروج روحانی ہزاروں اکابر اولیاء کو عرش بلکہ مافوق العرش تک ثابت وواقع ، جس کا انکار نہ کرے گا مگر علوم اولیاء کا منکر۔ بلکہ باوضو سونے والے کے لئے حدیث میں وارد کہ : 

"اس کی روح عرش تک بلند کی جاتی ہے۔"

نہ اس قصہ میں معاذاللہ بوئے تفضیل یا ہمسری حضورسیدنا غوث اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ کے لئے نکلتی ہے ، نہ اس کی عبارت یا اشارت سے کوئی ذہن سلیم اس طرف جاسکتاہے ۔ کیا عجب سواری براق سے بھی یہی معنی تراشے جائیں کہ اوپر جانے کا کام حضرت جبرائیل علیہ السلام اوررسول کریم علیہ الصلوٰۃ والتسلیم سے انجام کو نہ پہنچا براق نے یہ مہم سرانجام کو پہنچائی۔ درپردہ اس میں براق کو فضیلت دینا لازم آتاہے کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم بہ نفس نفیس تو نہ پہنچ سکے اوربراق پہنچ گیا اس کے ذریعے سے حضور کی رسائی ہوئی۔

یا ھذاخدمت کے افعال جو بنظر تعظیم واجلال سلاطین بجالاتے ہیں کیا ان کے یہ معنٰی ہوتے ہیں کہ بادشاہ ان امور میں عاجز اورہمارامحتاج ہے ؟۔۔۔۔۔۔۔علاوہ بریں کسی بلندی پر جانے کے لئے زینہ بننے سےیہ کیونکر مفہوم کہ زینہ بننے والا خود بے زینہ وصول پر قادر۔۔۔۔۔۔نردبان(عہ۱) ہی کو دیکھیں کہ زینہ صعود ہے اورخود اصلاً صعود پر قادر نہیں ۔
عہ۱: سیڑھی
Flag Counter