مسئلہ دوم: از کٹھورضلع سورت اسٹیشن سائن پرب
مرسلہ مولوی عبدالحق صاحب ۱۶رمضان المبارک ۱۳۱۰ھ
مسئلہ ۱۳: کیافرماتے ہیں علمائے دین ان اقوال کے باب میں:
اول ، ایک رسالہ میں لکھا ہے کہ شب معراج میں حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو حضرت پیران پیر رحمۃ اللہ علیہ نےعرش معلّٰی پر اپنے اوپر سوار کر کے پہنچایا،یا کاندھا دےکر اوپر سوارکر کے پہنچایا،یاکاندھا دے کر اوپر جانے کی معاونت کی، یعنی یہ کام اوپر جانے کا براق اورحضرت جبریل علیہ السلام اوررسول کریم علیہ الصلوٰۃ والسلام سے انجام کو نہ پہنچا حضرت غوث الاعظم رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نے یہ مہم سرانجام کو پہنچائی۔
دوسرے یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر میرے بعد نبی ہوتا تو پیران پیر ہوتے۔
تیسرے یہ کہ زنبیل ارواح کی عزرائیل علیہ السلام سے حضرت پیران پیر نے ناراض اورغصہ میں ہوکر چھین لی تھی۔
چوتھے یہ کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے حضرت غوث الاعظم رحمہ اللہ تعالٰی کی روح کو دودھ پلایا پانچویں اکثر عوام کے عقیدے میں یہ بات جمی ہوءی ہے کہ غوث العظم رحمۃ اللہ علیہ حضرت ابوبکر صدیق سے زیادہ مرتبہ رکھتے ہیں ۔
ان اقوال کا کیا حال ہے ؟مفصل بیان فرماکر اجر عظیم اورثواب کریم پائیں اوررفع نزاع بین الفریقین فرمائیں۔
المستفتی
عبدالحق عفاعنہ کٹھور، ضلع سورت، گجرات (بھارت)
مؤرخہ ۱۶رمضان المبارک ۱۳۱۰ھ
الجواب
اللھم لک الحمد فقیر غفراللہ تعالٰی لہٗ کلمات چند مجمل وسودمند(عہ۱) گزارش کرے اگرچہ فریقین میں سےکسی کو پسند نہ آئیں مگر بعونہ تعالٰی حق وانصاف ان سے متجاوزنہیں
والحق احق ان یتبع واللہ الہادی الی صراط مستقیم
(اورحق ہی اتباع کے زیادہ لائق ہے ، اوراللہ تعالٰی سیدھی راہ دکھانے والاہے۔)
عہ۱: مفید
جواب سوال۲: یہ قول کہ"اگر نبوت ختم نہ ہوتی تو حضور غوث پاک رضی اللہ تعالٰی عنہ نبی ہوتے اگرچہ اپنے مفہوم شرطی پرصحیح وجائزالاطلاق ہے کہ بے شک مرتبہ علیہ رفیعہ حضورپُرنوررضی اللہ تعالٰی عنہ تلومرتبہ نبوت(عہ۲) "ہے ۔ خودحضور معلّٰی رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں : "جو قدم میرے جدِّاکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے اٹھایا میں نے وہیں قدم رکھا سوا اقدام نبوت کے ، کہ ان میں غیر نبی کا حصہ نہیں ؎
از نبی برداشتن گام از توبنہادن قدم غیر اقدام النبوۃ سدّممشاھا الختام۱
(نبی کا کام قدم اٹھانا اورآپ کا کام قدم رکھنا ہے علاوہ اقدام نبوت کے ، کہ وہاں ختم نبوت نے راستہ بند کردیاہے)
عہ۲ : مرتبہ غوثیت،مرتبہ نبوت کے پیچھے اوراس سے نیچے ہے۔
اورجواز اطلاق یوں کہ خود حدیث میں امیر المومنین عمر فاروق رضی اللہ تعالٰی عنہ کے لئے وارد :
لوکان بعدی نبی لکان عمر بن الخطاب رواہ احمد۲ والترمذی والحاکم عن عقبۃ بن عامر والطبرانی فی الکبیر عن عصمۃ بن مالک رضی اللہ تعالٰی عنہما۔
میرے بعد نبی ہوتا تو عمر ہوتا(اس کو امام احمد، ترمذی اورحاکم نے عقبہ بن عامر سے جبکہ طبرانی نے معجم کبیر میں عصمہ بن مالک رضی اللہ تعالٰی عنہما سے روایت کیا۔ت)
(۲جامع الترمذی ابواب المناقب مناقب عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ امین کمپنی دہلی۲/۲۰۹)
(المستدرک للحاکم کتاب معرفۃ الصحابۃ لوکان بعدی نبی لکان عمر دارالفکر بیروت ۳/۸۵)
(المعجم الکبیر حدیث۴۷۵ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ۱۷ /۱۸۰)
(مسند امام احمد بن حنبل حدیث عقبہ بن عامر المکتب الاسلامی بیروت۴/ ۱۵۴)
دوسری حدیث میں حضرت ابراہیم صاحبزادہ حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے لئے وارد:
لو عاش ابراھیم لکان صدیقانبیا۔رواہ ابن عساکر۳ عن جابر بن عبداللہ وعن ابن عباس وعن ابن ابی اوفٰی والباوردی عن انس بن مالک رضی اللہ تعالٰی عنہم۔
اگر ابراہیم جیتے تو صدیق وپیغمبر ہوتے۔ (اس کو ابن عساکر نے جابر بن عبداللہ اورابن عباس اورابن ابی اوفٰی سے ، جبکہ الباوردی نےحضرت انس بن مالک سے روایت کیا، اللہ تعالٰی ان سے راضی ہو۔)
(۳ تاریخ دمشق الکبیر باب ذکر بنیہ وبناتہ علیہ الصلوۃ والسلام وازواجہ داراحیاء التراث العربی بیروت ۳/ ۷۵تا۷۹)
(کنزالعمال بحوالہ الباوردی عن انس وابن عساکر عن جابر بن عبداللہ ،ابن عباس وابن ابی اوفٰی حدیث ۳۲۲۰۴ ۱۱/۴۶۹)
علماء نے امام ابو محمد جوینی قدس سرہٗ کی نسبت کہا ہے کہ :" اگر اب کوئی نبی ہوسکتا تو وہ ہوتے۔"
امام ابن حجر مکی اپنے فتاوٰی حدیثیہ میں فرماتے ہیں:
قال فی "شرح المہذب "نقلا عن الشیخ الامام المجمع علی جلالتہ وصلاحہ وامامتہ ابی محمد الجوینی الذی قیل فی ترجمتہ لو جاز ان یبعث اللہ فی ھذہ الامۃ نبیا لکان ابا محمد الجوینی۱۔
شرح مہذب میں کہا نقل کرتے ہوئے اس شیخ وامام سے جن کی جلالت وصلاحیت وامامت پر اجماع ہے یعنی ابو محمد جوینی علیہ الرحمہ جن کے تعارف میں کہا گیا ہے کہ اگر اب اللہ تعالٰی کی طرف سے اس امت میں کسی نبی کو بھیجنا جائزہوتا تو وہ ابو محمد جوینی ہوتے(ت)
(۱ الفتاوی الحدیثیہ مطلب قیل لو جاز ان یبعث اللہ فی ھٰذہ الامۃ نبیا الخ داراحیاء التراث العربی بیروت ص۳۲۴،۳۲۵)
مگر ہر حدیث حق ہے، ہر حق حدیث نہیں ۔ حدیث ماننے اورحضور اکرم سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی طرف نسبت کرنے کے لئے ثبوت چاہیے ، بے ثبوت نسبت جائز نہیں ، اورقول مذکور ثابت نہیں ۔واللہ تعالٰی اعلم۔
جواب سوال ۴: حضرت ام المومنین محبوبہ سید المرسلین صلی اللہ تعالٰی علیہ وعلیہا وسلم کا روح اقدس سیدنا الغوث الاعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ کو دودھ پلانا ، بعض مداحین حضور اسے واقعہ خواب بیان کرتے ہیں
کما رأیت فی بعض کتبھم التصریح بذٰلک
(جیسا کہ میں نے ان کی بعض کتابوں میں اس پر تصریح دیکھی۔ت)
اس تقدیر پر تو اصلاًاستبعاد(عہ۱) نہیں اوراب اس پرجو کچھ ایرادکیا گیا سب بے جاو بے محل ہے اوراگر بیداری ہی میں مانا جاتاہو، تاہم بلاشبہہ عقلاًاورشرعًاجائز اوراس میں درایۃً کوئی استحالہ(عہ۲) درکنا راستبعادبھی نہیں۔