Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۸ (کتاب الشتّٰی)
78 - 135
امام خاتمۃ المحدثین جلال الملۃ والدین سیوطی قدس سرہ الشریف نے "مناھل الصفاء فی تخریج احادیث الشفاء "میں اس روایت کی نسبت کہ امیر المومنین عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے حضو رپُرنور صلوات اللہ تعالٰی وسلامہ علیہ کے وصال اقدس کے بعد کلام طویل میں حضور کو ہرجملہ پر بکلمہ "بابی انت وامی یارسول اللہ"(یارسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیک وسلم !میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں۔ت) نداکرکے فضائل جلیلہ وخصائص جمیلہ بیان کئے ، تحریر فرمایا :
لم اجدہ فی شیئ من کتب الاثرلکن صاحب اقتباس الانوار وابن الحاج فی مدخلہ ذکراہ فی ضمن حدیث طویل وکفٰی بذلک سندا لمثلہ فانہ لیس ممایتعلق بالاحکام۱؂۔
یعنی میں نے یہ روایت کسی کتابِ حدیث میں نہ پائی مگر صاحب اقتباس الانوار اورامام ابن الحاج نے اپنی مدخل میں اسے ایک حدیث طویل کے ضمن میں ذکر کیا اورایسی روایت کو اسی قدر سند کفایت کرتی ہے کہ انہیں کچھ باب احکام سے تعلق نہیں انتہٰی۔
علامہ شہاب الدین خفاجی مصری رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے نسیم الریاض۲؂ شرح شفاء قاضی عیاض میں نقل کیا اور مقرررکھا۔
 (۱و۲؂ نسیم الریاض  بحوالہ مناہل الصفا فی تخریج احادیث الشفاء  الفصل السابع  برکات رضا گجرات ہند  ۱/ ۲۴۸)
بالجملہ روح مقد س کا شب معراج کوحاضر ہونا اورحضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا حضرت غوثیت کی گردن مبارک پر قدم اکرم رکھ کر براق یا عرش پر جلوہ فرمانا، اورسرکارابدقرارسے فرزند ارجمند کو اس خدمت کے صلہ میں یہ انعام عظیم عطاہونا ۔۔۔۔ ان میں کوئی امر نہ عقلاً اورشرعاً مہجور اورکلماتِ مشائخ میں مسطور وماثور،کتبِ حدیث میں ذکر معدوم ، نہ کہ عدم مذکور، نہ روایات مشائخ اس طریقہ سند ظاہری میں محصور، اورقدرت قادر وسیع وموفور، اورقدر قادری کی بلندی مشہور پھر ردوانکارکیا مقتضائے ادب وشعور۔

اب یہ رہا کہ اس حدیث میں کہ براق برق رفتار زمین سے لپٹ گیا ۔ اوراس روایت میں کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم گردنِ حضور غوث اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ پر قدم رکھ کر زیب پشتِ براق ہوئے ، بظاہر تنافی ہے ۔

اقول اصلاً منافات نہیں، بلکہ جب اسی روایت میں مذکور کہ براق فرط فرحت سے چالیس ہاتھ اونچا ہوگیا اورپُرظاہر کہ جو مَرۡکَب(عہ۱) اس قدر بلند ہووہ کیسا ہی زمین سے ملصق (عہ۲) ہوجائے تاہم قامتِ انسان سے بہت بلند رہے گا اوراس پر سواری کے لئے ضرور حاجتِ نردبان(عہ۳) ہوگی۔  اب ایک چھوٹے سے جانور فیل(عہ۴) ہی کو دیکھئے کہ جب ذرا بلند وبالاہوتاہے اسے بٹھا کر بھی بے زینہ سواری قدرے دقت رکھتی ہے ۔ تو اگر براق بوجہ حیاء وتذلل حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی سواری کے لئے زمین سے لپٹ گیا ہو اورپھر بھی بوجہ طول ارتفاع حاجت زینہ ہو جس کے لئے روح سرکار غوثیت مدار رضی اللہ تعالٰی عنہ سے حاضر ہوکر اپنے مہربان باپ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے زیر قدم اکرم اپنا شانہ مبارک رکھا ہو ،  کیا جائے استعجاب (عہ۵) ہے۔
عہ۱: مرکب بمعنی سواری  

 عہ۲: ملصق ہونا : چمٹ جانا،مل جانا 

 عہ۳: سیڑھی

عہ۴: ہاتھی 

عہ۵: تعجب
وصلی اللہ تعالٰی علی الحبیب الاکرم واٰلہٖ وصحبہ اھل الکرم وابنہ الکریم الغوث الاعظم وعلینا بجاھھم وبارک وسلم۔
اللہ تعالٰی اپنے حبیب اکرم ، آپ کے کرم والے آل واصحاب ، آپ کے کریم بیٹے غوث اعظم اور ان کے صدقے میں ہم پر رحمت، برکت اور سلام نازل فرمائے ۔(ت)
واللہ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
Flag Counter