| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۸ (کتاب الشتّٰی) |
فایاک یااخی ان تکون من المنکرین المتعجبین من حضور روحہ لیلۃ المعراج لانہ وقع من غیرہ فی تلک اللیلۃ کما ھو ثابت بالاحادیث الصحیحۃ کرؤیتہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ارواح الانبیاء فی السمٰوٰت وبلالا فی الجنۃ واویسا القرنی فی مقعدالصدق وامرأۃ ابی طلحۃ فی الجنۃ ، وسماعہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم خشخشۃ الغمیصاء بنت ملحان فی الجنۃ کما ذکرنا قبل ھذا ،
یعنی اے برادر! بچ اور ڈر اس سے کہ کہیں تُو انکار کر بیٹھے اورشعب معراج حضورغوث پاک رضی اللہ تعالٰی عنہ کی حاضری پر تعجب کرے کہ یہ امر توصحیح حدیثوں میں اوروں کے لئے وارد ہواہے ، مثلاً حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے آسمانوں میں ارواح انبیاءعلیہم الصلوٰۃ والسلام(عہ۱) کو ملاحظہ فرمایا، اورجنت میں بلال رضی اللہ تعالٰی عنہ(عہ۲) کو دیکھا اورمقعد صدق میں اویس قرنی اوربہشت میں زوجۂ ابوطلحہ(عہ۱) کو اورجنت میں غمیصاء بنت ملحان کی پہچل (عہ۲) سنی، جیسا کہ ہم اس سے قبل ذکر کرچکے ہیں ۔
عہ۱: تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو: الشفاء بتعریف حقوق المصطفٰی فصل فی تفضیلہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم المطبعۃ الشرکۃ الصحافیۃ ۱ /۱۴۵ عہ۲: حدیث شریف میں ہے : قال رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم لبلال صلوٰۃ الغداۃ یا بلال حدثنی بارجی عمل عملتہ عندک فی الاسلام منفعۃ فانی سمعت اللیلۃ خشف نعلیک بین یدی فی الجنۃ ۱،الحدیث ایک اورحدیث میں یوں ہے : عن ابن عباس قال لیلۃ اسری برسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم دخل الجنۃ فسمع فی جانبہا خشفا فقال یاجبریل من ھذا فقال ھذا بلال المؤذن فقال قدافلح بلال رأیت لہ کذاکذا۲۔
(۱صحیح مسلم کتاب الفضائل باب من فضائل ام سلیم، ام انس بن مالک وبلال ۲ /۲۹۲) (۲منتخب کنزالعمال علی ہامش مسند احمد بن حنبل المکتب الاسلامی بیروت ۴ /۲۶۹)
حضرت ابو امامہ کی روایت میں مرفوعاً ہے : فقیل ھذا بلال یمشی امامک۳۔
(۳ الکامل لابن عدی ترجمہ یحیٰی بن ابی حیۃ ابوجناب الکلبی دارالفکر بیروت ۷ /۲۶۷۰)
مذکورہ روایات اوراحادیث کا مفہوم یہ ہے کہ شب معراج حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے حضرت بلال رضی اللہ تعالٰی عنہ کو جنت میں ملاحظہ فرمایا۔
عہ۱: حدیث میں ہے : عن جابر بن عبداللہ ان رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم قال رأیت الجنۃ فرأیت امرأۃ ابی طلحۃ الحدیث۱۔ جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا : مجھے جنت دکھائی گئی تو میں نے جنت میں ابوطلحہ کی زوجہ کو دیکھا۔ عہ۲: حدیث شریف میں ہے : عن انس عن النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم قال دخلت الجنۃ فسمعت خشفۃ فقلت من ھذا قالوا ھٰذہ الغمیصاء بنت ملحان ام انس بن مالک ۲۔ ایک اور روایت میں یوں بیان ہوا: عن انس بن مالک قال قال رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم دخلت الجنۃ فسمعت خشخشۃ بین یدی فاذا ھی الغمیصاء بنت ملحان ام انس بن مالک۳۔ مسند احمد کی دوسری روایت یوں ہے : عن انس قال قال رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم دخلت فسمعت بین یدی خشفۃ فاذا انا بالغمیصاء بنت ملحان۴۔
(۱ صحیح مسلم کتاب الفضائل باب من فضائل ام سلیم، ام انس بن مالک وبلال ۲/۲۹۲) (۲ صحیح مسلم کتاب الفضائل باب من فضائل ام سلیم، ام انس بن مالک وبلال ۲/۲۹۲) (۳ مسند احمد بن حنبل عن انس رضی اللہ عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۳/۹۹) (۴ مسند احمد بن حنبل عن انس رضی اللہ عنہ المکتب الاسلامی بیروت۳/۱۰۶)
ان روایات کا مفہوم یہ ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے حضر ت انس بن مالک کی والدہ حضرت غمیصاء بنت ملحان رضی اللہ تعالٰی عنہماکی جنت میں پہچل سنی۔ نوٹ: یاد رہے کہ غمیصاء بنت ملحان یہی زوجۂ ابوطلحہ ہیں ۔ فاعلم ذٰلک (حاشیہ منجانب امام احمد رضا محدث بریلوی رضی اللہ تعالٰی عنہ )
وذکرفی حرز العاشقین وغیرہ من الکتب ان نبینا صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم لقی لیلۃ المعراج سیدنا موسٰی علیہ السلام فقال موسٰی مرحبابالنبی الصالح والاخ الصالح انت قلت علماء امتی کانبیاء بنی اسرائیل، ارید ان یحضراحد من علماء امتک لیتکلم معی فاحضر النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم روح الغزالی رحمہ اللہ تعالٰی الٰی موسٰی علیہ السلام (وساق القصۃ ثم قال)، وفی کتاب رفیق الطلاب لاجل العارفین الشیخ محمد الجشتی نقلا عن شیخ الشیوخ قال قال النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم انی رأیت رجالا من امتی فی لیلۃ المعراج ارانیھم اللہ تعالٰی (الخ ثم قال) وقال الشیخ نظام الدین الکنجوی کان النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم راکبا علی البراق وغاشیتہ علی کتفی انتھی
اورحرز العاشقین وغیرہ کتابوں میں کہ حضرت سیدنا موسٰی علیہ الصلوٰۃ والسلام کی درخواست پر حضور پُرنور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے روح امام غزالی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کو حکم حاضری دیا ۔ روحِ امام نےحاضرہوکر موسٰی علیہ الصلوٰۃ والسلام سے کلام کیا۔(عہ۱) اورعارف اجل شیخ محمد چشتی نے کتاب رفیق الطلاب میں حضرت شیخ الشیوخ قدست اسرارہم سے نقل کیاکہ حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے شب معراج کچھ لوگ اپنی امت کے ملاحظہ فرمائے(عہ۲) اورشیخ نظام الدین گنجوی رحمہ اللہ تعالٰی فرماتے تھے: جب حضورپُرنورصلوات اللہ تعالٰی وسلامہ علیہ رونق افروز پشت براق پر تھے اوربراق کا زین پوش میرے کندھے پرتھا۔
عہ۱: (الف) نبر اس شرح شرح عقائد، علامہ عبدالعزیز پرہاروی ، ص۳۸۸ (ب) مقابیس المجالس اردوترجمہ از واحد بخش سیال ص۲۵۵ (ج) معراج النبی از علامہ سید احمد سعید کاظمی ص۲۸ اورمابعد (د) عرفان شریعت(مجموعہ فتاوٰی امام احمد رضا) مرتبہ مولانا محمد عرفان علی حصہ سوم ص۸۴تا۹۱ عہ۲: رفیق الطلاب مجتبائی دہلی ص۲۸ عہ۳: عمدۃ الفضلاء المحققین امام نجم الدین غیطی فرماتے ہیں: واماالرفرف فیحتمل ان المراد بہ السحابۃ التی غشیتہ وفیھا من کل لون التی رواھا ابن ابی حاتم عن انس وعندما غشتہ تاخرعنہ جبریل۔(کتاب المعراج (مؤلفہ رجب ۹۹۹ھ) مطبوعہ مصر،ص۸۹)
وقال عمدۃ المحدثین الامام نجم الدین الغیطی فی کتاب المعراج ثم رفع الی سدرۃ المنتہٰی فغشیہ سحابۃ فیہا من کل لون فتأخر جبریل علیہ السلام ثم عرج لمستو سمع فیہ صریف الاقلام ورأی رجلا مغیبا فی نور العرش فقال من ھذا أملک؟ قیل : لا ۔ قال : أنبی؟ قیل: لا، ھذا رجل کان فی الدنیالسانہ رطب من ذکر اللہ تعالٰی وقلبہ معلق بالمساجد ولم یستسب لوالدیہ قط۱ الخ مافی التفریح ملخصا۔
اورعمدۃ المحدثین امام نجم الدین غیطی کتاب المعراج میں فرماتے ہیں : جب حضورمعلی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سدرۃ المنتہٰی تک تشریف لے گئے اس پر ایک ابر چھایا(عہ۳)جس میں ہر قسم کا رنگ تھا ، جبریل امین علیہ الصلوٰۃ والسلام پیچھے رہ گئے ۔ سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم مستوٰی پر جلوہ (عہ۱) فرماہوئےوہاں قلموں کے لکھنےکی آواز گوشِ اقدس میں آئی اورایک شخص کو ملاحظہ فرمایا کہ نورعرش میں چھپاہوا ہے ،حضور نے دریافت فرمایا : کیا یہ فرشتہ ہے ؟جواب ہوا۔ : نہیں ۔پوچھاکیا یہ نبی ہے ؟کہا : نہیں بلکہ یہ ایک مرد ہے کہ دنیا میں اس کی زبان یا دخدا میں تررہتی اوردل مسجدوں میں لگا رہتا۔کبھی کسی کے ماں باپ کو بُراکہہ کر اپنے والدین کو بُرا نہ کہلوایا (عہ۲) انتہی۔
(۱تفریح الخاطر فی مناقب الشیخ عبدالقادر المنقبۃ الاولٰی سنی دارالاشاعت علویہ رضویہ فیصل آباد ص۲۸تا۲۵)
عہ۱: امام نجم الدین غیطی فرماتے ہیں : ثم عرج بہ حتی ظھر لمستوی سمع فیہ صریف الاقلام۔(کتاب المعراج ، مطبوعہ مصر،ص۸۷،۸۹) عہ۲: تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو: کتاب المعراج ص۹
یعنی جب معراج میں اتنے لوگوں کی ارواح کا حاضر ہونااحادیث واقوال علماء واولیاء سے ثابت ہے تو روح اقدس حضور پرنورسید الاولیاء غوث الاصفیاء رضی اللہ تعالٰی عنہ کی حاضری، کیا جائے تعجب وانکار ہے بلکہ ایسی حالت میں حاضرنہ ہونا ہی محل استعجاب ہے اک ذرا انصاف واندازہ قدرقادریت درکار ہے ۔ اقول وباللہ التوفیق : (میں کہتاہوں اوراللہ ہی کی طرف سے توفیق ہے۔ت)فقیر غفرلہ المولی القدیر نے اپنے رسالہ ''ھدی الحیران فی نفی الفئی عن سیدالاکوان''میں بعونہ تعالٰی ایک فائدہ جلیلہ لکھا کہ مطالب چند قسم ہیں،ہر قسم کا مرتبہ جدااورہر مرتبہ کا پایہ ثبوت علیحدہ ۔ اس قسم مطالب احادیث میں ظہورنہ ہونا مضر نہیں،بلکہ کلمات علماء ومشائخ میں ان کاذکر کافی ۔