Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۸ (کتاب الشتّٰی)
76 - 135
رسالہ

فتاوٰی کرامات غوثیہ

مسئلہ اولٰی: از اوجین ریاست گوالیار مرسلہ جناب محمد یعقوب علی خاں صاحب ۱۷ربیع الآخر ۱۳۱۰ھ

مسئلہ ۱۲:کیافرماتے ہیں علمائے حق الیقین اورمفتیان پابند شرع متین اس مسئلہ میں کہ عبارت نظم "شام ازل اورصبح ابد"سے بیٹھ جانا براق کا وقت سواری آنحضرت صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے ثابت ہے۔

"مقولۂ جبرئیل علیہ السلام"

نظم

مسند نشین عرش معلٰی یہی تو ہے 	مفتاح قفل گنج فاوحٰی یہی تو ہے

مہتاب منزل شب اسرٰی یہی تو ہے 	               خورشید مشرق فتدلّٰی یہی تو ہے

ہمراز قرب ہمدم اوقاتِ خاصہ ہے		ہژدہ ہزار عالمِ رب کا خلاصہ ہے

سن کر یہ بات بیٹھ گیا وہ زمیں پر		تھامی رکاب طائرسدرہ نے دوڑکر

رونق افزائے دیں ہوئے سلطان بحروبر	               کی عرض پھر براق نے یا سید البشر

محشرکو جب قدم سے گہر پوش کیجئے	اپنے غلام کو نہ فراموش کیجئے

خیرالورٰی نے دی اسے تسکیں کہا کہ ہاں	خوش خوش وہ سوئے مسجداقصٰی ہوا رواں

صاحب"تحفہ قادریہ"لکھتے ہیں کہ براق خوشی سے پھولا نہ سمایا اوراتنا بڑا اوراونچا ہوگیا کہ صاحب معراج کا ہاتھ زین تک اورپاؤں رکاب تک نہ پہنچا۔ ارباب معرفت کے نزدیک اس معاملہ میں عمدہ ترحکمت یہ ہے کہ جس طرح آج کی رات محبوب اپنا دولت وصال سے فرح (خوشحال ) ہوتاہے اسی طرح محبوب کا محبوب بھی نعمت قرب خاص اور دولت اختصاص اورولایت مطلق اورغوثیت برحق اورقطبیت اصطفاء اورمحبوبیت مجدوعلاسے آج مالا مال ہی کردیاجائے۔

چنانچہ صاحب "منازل اثنا عشریہ" "تحفہ قادریہ سے لکھتاہے کہ اس وقت سیدی ومولائی مرشدی وملجائی ، قطب الاکرم، غوث الاعظم، غیاث الدارین وغوث الثقلین، قرۃ العین مصطفوی نوردیدۂ مرتضوی ، حسنی حسینی سروحدیقہ مدنی، نورالحقیقت والیقین حضرت شیخ محی الدین عبدالقادر جیلانی رضی اللہ تعالٰی عنہ کی روح پاک نے حاضرہوکر گردن نیاز صاحب لولاک کے قدم سراپا اعجاز کے نیچے رکھ دی اوراس طرح عرض کیا:  ؂  (بیت)
برسرودیدہ ام بنہ اے مہ نازنین قد	بودبسر نوشت من فیض قدم ازیں قدم
 (اے نازنین میرے سر اورآنکھوں پرقدم رکھئے تاکہ اس کی برکت سے میری تقدیر پر فیضان قدم ہو۔ت)

خواجہ عالم صلی اللہ تعالٰی  علیہ وسلم گردن غوث الاعظم پر قدم رکھ کر براق پر سوار ہوئے اوراس روح پاک سے استفسار فرمایا کہ تو کون ہے؟عرض کیا : میں آپ کے فرزندان ذریات طیبات سے ہوں اگر آج نعمت سے کچھ منزل بخشئے گا توآپ کے دین کو زندہ کروں گا۔فرمایا : تو محی الدین ہے اورجس طرح میرا قدم تیری گردن پر ہے کل تیرا قدم کُل اولیاء کی گردن پر ہوگا۔

بیت قصیدہ غوثیہ:
وکل ولی لہ قدم وانی	علٰی قدم النبی بدرالکمال۱؂
(ہرولی میرے قدم بقدم ہے اورمیں حضورسید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے نقش قدم پرہوں جو آسمان کمال کے بدرکامل ہیں۔ت)
(۱؂فتوح الغیب علی ھامش بہجۃ الاسرارالقصیدۃ الغوثیۃ مصطفٰی البابی مصرص۲۳۱)
پس ان دونوں عبارت کتب سے کون سی عبارت متحقق ہے ؟کس پر عمل کیاجائے ؟یا دونوں ازروئے تحقیق کے درست ہیں؟بیان فرمائیے۔ رحمۃ اللہ علیہم اجمعین۔
الجواب:

حضورپرنورسیدعالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی سواری کے وقت براق کا شوخی کرنا ، جبریل امین علیہ الصلوٰۃ والسلام کا اسے تنبیہ فرمانا کہ : 

"اے براق! کیا محمد صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے ساتھ یہ برتاؤ! واللہ !تجھ پرکوئی ایسا سوار نہ ہوا جو اللہ عزوجل کے حضوران سے زیادہ رتبہ رکھتاہو۔"

اس پر براق کا شرمانا، پسینہ پسینہ ہوکر شوخی سے باز رہنا، پھر حضور پرنور صلوات اللہ تعالٰی وسلامہ علیہ کا سوار ہونا، یہ مضمون تو ابوداود وترمذی ونسائی وابن حبان وطبرانی وبیہقی وغیرہم اکابر محدثین کی متعدد احادیث صحاح وحسان وصوالح سے ثابت ۔
کما بسط اکثرھاالمولی الجلال السیوطی قدس سرہ فی خصائصہ الکبرٰی۱؂ وغیرہ من العلماء الکرام فی تصانیفھم الحسنٰی ۔
جیسا کہ اس میں سے اکثرکی تفصیل امام جلال الدین سیوطی علیہ الرحمہ نے اپنی کتاب "الخصائص الکبرٰی "میں اوردیگر علماء کرام نےاپی شاندار تصانیف میں فرمائی ہے ۔(ت)
 (۱؂الخصائص الکبری     باب خصوصیتہ صلی اللہ علیہ وسلم بالاسراء    حدیث ام سلمہ     مرکز اہل سنت برکات رضا گجرات ہند  ۱/۱۷۹)

(المواہب اللدنیۃ المقصد الخامس المکتب الاسلامی بیروت۳/ ۴۱)

(السیرۃ النبویۃ لابن ہشام ذکر الاسراء والمعراج دارابن کثیر بیروت الجزأین، الاول والثانی ص۳۹۸)
اوراس کا حیا کے سبب براہ تذلل وانقیادپست ہوکر لپٹ جانا بھی حدیث میں وارد ہے ۔
ففی روایۃ عند ابن اسحٰق رفعا الی النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم قال فارتعشت حتی لصقت بالارض فاستویت علیہا۲؂۔
اورایک روایت میں ابن اسحٰق سے مرفوعًا مروی ہے کہ حضور پرنورصلوات اللہ وسلامہ علیہ فرماتے ہیں : جب جبریل نے اس سے کہا تو براق تھراگیا اورکانپ کر زمین سے چسپاں ہوگیا،پس مٰیں اس پر سوار ہوگیا۔ صلی اللہ تعالٰی علیہ  وعلٰی اٰلہٖ وصحبہ وبارک وسلم ۔
 (۲؂المواہب اللدنیۃ بحوالہ ابن اسحٰق المقصد الخامس المکتب الاسلامی بیروت ۳ / ۳۹)
اوریہ روایت کہ سوال میں تحفہ قادریہ سے ماثور،اس کی اصل بھی حضرات مشائخ کرام قدست اسرارہم میں مذکور ۔۔۔۔۔فاضل عبدالقادر قادری (عہ) بن شیخ محی الدین اربلی، تفریح الخاطر فی مناقب الشیخ عبدالقادررضی اللہ تعالٰی عنہ میں لکھتے ہیں کہ جامع شریعت وحقیقت شیخ رشید بن محمد جنیدی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کتاب حرزالعاشقین میں فرماتے ہیں :
ان لیلۃ المعراج جاء جبرئیل علیہ السلام ببراق الٰی رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم اسرع من البرق الخاطف الظاھر،ونعل رجلہ کالھلال الباھر،ومسمارہ کالانجم الظواھر،ولم یأخذ ہ السکون والتمکین لیرکب علیہ النبی الامین، فقال لہ النبی صلی اللہ علیہ وسلم ، لم لم تسکن یابراق حتی ارکب علٰی ظھرک ، فقال روحی فداءً لتراب نعلک یارسول اللہ اتمنی ان تعاھدنی ان لاترکب یوم القٰیمۃ علٰی غیر حین دخولک الجنۃ،فقال النبی صلی اللہ علیہ وسلم یکون لک ماتمنیت ، فقال البراق التمس ان تضرب یدک المبارکۃ علٰی رقبتی لیکون علامۃ لی یوم القٰیمۃ ، فضرب النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم یدہ علٰی رقبۃ البراق، ففرح البراق فرحا حتی لم یسع جسدہ روحہ ونمٰی اربعین ذراعامن فرحہ وتوقف فی رکوبہ لحظۃ لحکمۃ خفیۃ ازلیۃ ،فظھرت روح الغوث الاعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ وقال یا سیدی ضع قدمک علٰی رقبتی وارکب،فوضع النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم قدمہ علٰی رقبتہ ورکب، فقال قدمی علٰی رقبتک وقدمک علٰی رقبۃ کل اولیاء اللہ تعالٰی۱؂ انتہٰی۔
یعنی شب معراج جبریل امین علیہ الصلوٰۃ والسلام خدمت اقدس حضور پرنورصلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم میں براق حاضر لائے کہ چمکتی اُچک لے جانیوالی بجلی سے زیادہ شتاب روتھا،اوراس کے پاؤں کا نعل آنکھوں میں چکا جوند ڈالنے والا ہلال اوراس کی کیلیں جیسے روشن تارے ۔ حضور پُرنور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی سواری کے لئے اسے قراروسکون نہ ہوا، سیدِ عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے اس سے سبب پوچھا: بولا: میری جان حضور کی خاکِ نعل پر قربان، میری آرزو یہ ہے کہ حضور مجھ سے وعدہ فرمالیں کہ روز قیامت مجھی پر سوارہوکر جنت میں تشریف لے جائیں ۔ حضور معلّٰی صلوات اللہ تعالٰی وسلامہ علیہ نے فرمایا : ایسا ہی ہوگا ۔ براق نے عرض کی: میں چاہتاہوں حضور میری گردن پر دست مبارک لگادیں کہ وہ روز قیامت میرے لیے علامت ہو۔ حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے قبول فرمالیا۔ دست اقدس لگتے ہی براق کو وہ فرحت وشادمانی ہوئی کہ روح اس مقدار جسم میں نہ سمائی اورطرب سے پھول کر چالیس ہاتھ اونچا ہوگیا۔حضورپُرنورصلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو ایک حکمت نہانی ازلی کے باعث ایک لحظہ سواری میں توقف ہوا کہ حضور سیدنا غوث اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ کی روح مطہر نے حاضر ہوکر عرض کی : اے میرے آقا ! حضور اپنا قدم پاک میری گردن پر رکھ کر سوار ہوں ۔ سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم حضور غوث اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ کی گردن مبارک پر قدم اقدس رکھ کر سوارہوئے اورارشاد فرمایا : "میرا قدم تیری گردن پر اور تیرا قدم تمام اولیاء اللہ کی گردنوں پر۔"
عہ: حضرت علامہ عبدالقادرقادری بن محی الدین الصدیقی الاربلی جامع علوم شریعت وحقیقت تھے ۔  علماء کرام اورصوفیہ عظام میں عمدہ مقام پایا۔ آپ کے اساتذہ میں الشیخ عبدالرحمن الطالبانی جیسے اجلّہ فضلاء شامل ہیں ۔ اورفہ میں ۱۳۱۵ھ/۱۸۹۷ء میں وصال پایا۔آپ کی تصانیف میں سے مشہور کتابیں یہ ہیں  :

۱۔ آداب المریدین ونجاۃ المسترشدین

 ۲۔تفریح الخاطرفی مناقب الشیخ عبدالقادر

  ۳۔ النفس الرحمانیۃ فی معرفۃ الحقیقۃ الانسانیہ

  ۴۔الدرالمکنون فی معرفۃ السرالمصون

  ۵۔ حدیقۃ الازھار فی الحکمۃ والاسرار

  ۶۔شرح الصلاۃ المختصرۃ للشیخ اکبر

  ۷۔ الدررالمعتبرۃ فی شرح الابیات الثمانیہ عشرہ 

 ۸۔ شرح اللمعات للفخرالدین العراقی

۹۔القواعد الجمعیۃ فی الطریق الرفاعیۃ 

 ۱۰۔ مجموعۃ الاشعارفی الرقائق والاثار

 ۱۱۔مرآۃ الشہودفی وحدۃ الوجود

۱۲۔مسک الختام فی معرفۃ الامام ،  مختصرفی کراستہ

۱۳۔الالہامات الرحمانیہ فی مراتب الحقیقۃ الانسانیۃ

۱۴۔حجۃ الذاکرین وردالمنکرین ۔ 

 ۱۵۔الطریقۃ الرحمانیہ فی الرجوع والوصول الی الحضرۃ العلیۃ ۔

تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو :

ا۔ معجم المولفین،عمر رضاکحالہ ، الجزء الخامس ص۳۵۴

ب۔ ہدیۃ العارفین ، اسماعیل باشاالبغدادی جلد اول ص۶۰۵
 (۱؂تفریح الخاطر فی مناقب الشیخ عبدالقادرالمنقبۃ الاولی سنی دارالاشاعت علویہ رضویہ فیصل آباد ص۲۵ ،۲۴)
نوٹ: زیر نظرنسخہ حضرت مولانا ابوالمنصورمحمد صادق قادری فاضل جامعہ رضویہ فیصل آبادکے ترجمہ کے ساتھ شائع ہوا ہے ۔)
Flag Counter