Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۸ (کتاب الشتّٰی)
75 - 135
امام ابن ابی عصرون فرماتے ہیں پھر ایک دن میں اسے دیکھنے گیا اسے پایا کہ گویا اس کا سارابدن آگ سے جلاہوا ہے ، وہ نزع میں تھا،میں نے اسے قبلہ کی طرف کیا ہو وہ پُورب کو پھرگیا،میں نے پھر قبلہ کو کیا وہ پھر پھرگیا۔ اسی طرح میں جتنی بار اسے قبلہ رخ کرتاوہ پُورب کو پھر جاتایہاں تک کہ پورب ہی کی طرف منہ کئے اس کادم نکل گیا ، وہ ان غوث کا ارشاد یا دکیا کرتا اورجانتاتھا کہ اسی گستاخی نے اس بلا میں ڈالا۱؂۔ والعیاذباللہ تعالٰی انتہٰی۔"
 (۱؂الفتاوی الحدیثیۃ مطلب فی قول الشیخ عبدالقادرقدمی ہذہ علی رقبۃ الخ داراحیاء  التراث العربی بیروت ص۴۱۵)
اگر کہے پھر اسلام کیوں نہیں لاتاتھا، کلمہ پڑھ لینا کیا مشکل تھا اقول اس کا جواب قرآن عظیم دے گا:
وما تشاءُون الا ان یشاء اللہ رب العٰلمین۲؂۔
تم کیا چاہو جب تک اللہ نہ چاہے جو مالک سارے جہان کا ہے ۔
 (۲؂القران آلکریم ۸۱/۲۹)
اورفرماتاہے :
کلابل ران علی قلوبھم ماکانوایکسبون۳؂۔
کوئی نہیں بلکہ ان کی بداعمالیوں نے ان کے دلوں پر زنگ چڑھا دی ہے ۔
 (۳؂القران الکریم۸۳/۱۴)
اورفرماتاہے :
ذٰلک بانھم اٰمنوا ثم کفروافطبع علٰی قلوبھم فھم لایفقہون۴؂۔
یہ اس لئے کہ وہ ایمان لائے پھر کفر کیا تو ان کے دلوں پر مُہر لگا دی گئی کہ اب انہیں کچھ سمجھ نہ رہی والعیاذباللہ تعالٰی۔
 (۴؂القرآن الکریم ۶۳/۳)
امام ابن حجر فرماتے ہیں :
وفی ھذہ ابلغ زجر واکد ردع عن الانکار علی اولیاء اللہ تعالٰی خوفا من ان یقع المنکر فیماوقع فیہ ابن السقامن تلک الفتنۃ المھلکۃ الابدیۃ التی لا اقبح منہا،نعوذباللہ من ذٰلک ، ونسألہ بوجہہ الکریم وحبیبہ الرؤف الرحیم ان یؤمننا من ذٰلک ومن کل فتنۃ ومحنۃ وبمنہ وکرمہ وفیھا ایضا اتم حث علی اعتقادھم والادب معھم وحسن الظن بھم ما امکن ۱؂۔
اس واقعہ میں اولیاء کرام پر انکار سے کمال جھڑکنا اورسخت منع ہے اس خوف سے کہ منکر اس مہلک فتنے میں پڑجائے گا جو ہمیشہ ہمیشہ کا ہلاک ہے اورجس سے بدتر کوئی خباثت نہیں جس میں ابن السقاپڑگیا ، اللہ  عزوجل کی پناہ ۔ ہم اللہ عزوجل سے اس کے وجہ کریم اوراس کے حبیب رؤف رحیم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے وسیلے سے مانگتے ہیں کہ ہم کو اپنے احسان وکرم کے ساتھ اس سے  اورہرفتنہ ومحنت سے امان بخشے ۔نیز اس واقعہ میں کمال ترغیب ہے اس کی کہ اولیاء کرام کے ساتھ عقیدت وادب رکھیں اورجہاں تک ہو ان پر نیک گمان کریں۔
 (۱؂الفتاوی الحدیثیۃ مطلب فی قول الشیخ عبدالقادرقدمی ہذہ علی رقبۃ الخ داراحیاء  التراث العربی بیروت ص۴۱۵)
فقیر کوئے قادری امید کرتاہے کہ اتنے بیان میں اہل انصاف وسعادت کے لئے کفایت ہو۔ اللہ عزوجل مسلمان بھائیوں کو اتباع حق وادب اولیاء کی توفیق دے اورابن السقابجہنم اس شخص کے حال سے پناہ دے جس نے بزعم خود حضرت سید احمد کبیر رفاعی رضی اللہ تعالی عنہ کے بارگاہ میں حق نیاز مندی ادا کیا اورنتیجہ معاذاللہ وہ ہوا کہ سید کبیر کے غضب اورحضورغوثیت کی سرکار میں اساءتِ ادب پر خاتمہ ہوا، والعیاذباللہ تعالٰی۔

اے برادر! مقتضائے محبت اتباع وتصدیق ہے نہ کہ نزاع وتکذیب ۔ سچا محب حضرت احمد کبیر کے ارشادات کو بالائے سرلے گا اورجس بارگاہ ارفع کو انہوں نے سب سے ارفع بتایا اوران کا قدم اقدس اپنے سرمبارک پر لیا انہیں کوارفع واعظم مانے گا ۔ عبدالرزاق محدث شیعی تھا مگر حضرات عالیہ شیخین رضی اللہ تعالٰی عنہما کوحضرت امیر المومنین مولٰی علی کرم اللہ وجہہٗ سے افضل کہتا،اس سے پوچھا جاتاتو جواب دیتا
کفٰی بی ازرا ان احب علیاثم اخالفہ ۲؂
یعنی امیرالمومنین نےخود حضرات شیخین کو اپنے نفس کریم سے افضل بتایا ہے مجھے یہ گناہ بہت ہے کہ علی سے ٘محبت رکھوں پھر انکا خلاف کروں ۔ واقعی تکذیب مخالفت اگرچہ بزعم عقیدت ومحبت ہو اعلٰی درجہ کی عداوت ہے ، والعیاذباللہ تعالٰی، اللہ عزوجل اپنے محبوبوں کا حسن ادب روزی کرے اورانہیں کی محبت پر خاتمہ فرمائے اورانہیں کے گرو ہ پاک میں اٹھائے ، آمین ! آمین۔
 (۲؂میزان الاعتدال ترجمہ ۵۰۴۴عبدالرازق بن ہمام دارالمعرفۃ بیروت ۲/۶۱۲)
اٰمین بجاھھم عندک یا ارحم الراحمین وصلی اللہ تعالٰی علٰی سیدنا ومولانا واٰلہ وصحبہ وابنہ وحزبہ اجمعین الی یوم الدین عددکل ذرۃ ذرۃ الف الف مرۃ فی کل اٰن وحین الٰی ابدالاٰبدین ، اٰمین ، والحمدللہ رب العالمین۔
اے بہترین رحم فرمانے والے ان محبوبوں کا تیرے نزدیک جو مرتبہ ہے اس کے صدقے ہماری دعا قبول فرما۔ اللہ ہمیشہ ہمیشہ قیامت کے روز تک ہر گھڑی ہر لمحے ہمارے آقاومولٰی ، انکی آل ، صحابہ ، بیٹے اوران کے گروہ سب پرکروڑوں درود بھیجے ، آمین ۔ اورسب تعریفیں اللہ کے لئے ہیں جو رب ہے تمام جہانوں کا۔(ت) واللہ تعالٰی اعلم۔

رسالہ

طرد الافاعی عن حمی ھادٍ رفع الرفاعی

ختم ہوا۔
Flag Counter