Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۸ (کتاب الشتّٰی)
74 - 135
(۹) پھر فرمایا:
وممن طأطأرأسہ ابوالنجیب(۱ )السھروردی وقال علٰی رأسی واحمد(۲ ) الرفاعی قال علی رقبتی وحمیدمنھم وسئل فقال الشیخ عبدالقادر یقول کذا وکذا،وابو مدین (۳) فی المغرب وانا منھم اللھم انی اشھدک واشھدملٰئکتک انی سمعت واطعت ، وکذا الشیخ عبدالرحیم(۴) القناوی مدّعنقہ وقال صدق الصادق المصدوق۱؂۔
حضور کے ارشاد پر جنہوں نے اپنے سرجھکائے ان میں سے (سلسلہ عالیہ سہروردیہ کے پیران پیر) حضرت سید عبدالقاہر ابوالنجیب سہروردی رضی اللہ تعالٰی عنہ ہیں انہوں نے اپنا سرمبارک جھکادیا اور کہا (گردن کیسی) میرے سر پر میرے سرپر۔اوران میں سے حضرت سید احمد کبیر رفاعی رضی اللہ تعالٰی عنہ ہیں انہوں نے کہا میری گردن پر، اورکہایہ چھوٹا سا احمد بھی انہیں میں ہے جن کی گردن پر حضو رکا پاؤں ہے ، اس کہنے اورگردن جھکانے کا سبب پوچھاگیا تو فرمایا کہ اس وقت حضرت شیخ عبدالقادر نے بغداد مقدس میں ارشاد فرمایا ہے کہ " میرا پاؤں ہر ولی کی گردن پر"لہذا میں نے بھی سرجھکایا اورعرض کی کہ یہ چھوٹاسا احمد بھی انہیں میں ہے ،اور انہیں میں حضرت سید ابو مدین شعیب مغربی رضی اللہ تعالٰی عنہ ہیں انہوں نے سرمبارک جھکایا اور کہا میں بھی انہیں میں ہوں الہٰی میں تجھے اورتیرے فرشتوں کو گواہ کرتاہوں کہ میں نے قدمی کا ارشادسنا اورحکم مانا۔ اسی طرح حضرت سید ی شیخ عبدالرحیم قناوی رضی اللہ تعالٰی عنہ نے اپنی گردن مبارک بچھائی اورکہا سچ فرمایا سچے مانے ہوئے سچے نے ، رضی اللہ تعالٰی عنہم اجمعین۔
 (۱؂الفتاوی الحدیثیۃ مطلب فی قول الشیخ عبدالقادرقدمی ہذاعلی رقبہ الخ داراحیاء  التراث العربی بیروت ص۴۱۴)
 (۱۰) پھر فرمایا :
ذکر کثیرون من العارفین  الذین ذکرنا ھم وغیرھم انہ لم یقل الابامراعلاما بقطبیتہ فلم یسع احدًا التخلف بل جاء باسانید متعددۃ عن کثیرین انھم اخبر واقبل مولدہ بنحو مائۃ سنۃ انہ سیولدبارض العجم مولودلہ مظھر عظیم یقول ذٰلک فتندرج الاولیاء فی وقتہ تحت قدمہ۲؂۔
اولیاء کرام کہ ہم نے ذکر کئے یعنی حضرت نجیب الدین سہروردی وحضرت سید احمد رفاعی وحضرت شعیب مغربی وحضر ت عبدالرحیم قناوی رضی اللہ تعالٰی عنہم انہوں نے اوران کے سوااور بہت عارفین کرام نے تصریح فرمائی کہ حضور سیدنا شیخ عبدالقادرجیلانی رضی اللہ تعالٰی عنہ نے اپنی طرف سے ایسا نہ فرمایا بلکہ اللہ عزوجل نے ان کی قطبیت کبرٰی ظاہر فرمانے کے لئے انہیں اس فرمانے کاحکم دیا ولہذا کسی ولی کو گنجائش نہ ہوئی کہ گردن نہ بچھاتا اورقدم مبارک اپنی گردن پر نہ لیتابلکہ متعدد سندوں سے بہت اولیاء کرام متقدمین سے مروی ہوا کہ انہوں نے سرکارغوثیت کی ولادت مبارکہ سے تقریباً سوبرس پہلے خبر دی تھی کہ عنقریب عجم میں ایک صاحب عظیم مظہر والے پیداہونگے اوریہ فرمائیں گے کہ "میرا یہ پاؤں ہر ولی اللہ کی گردن پر"اس فرمانے پر اس وقت کے تمام اولیاء ان کے قدم کے نیچے سررکھیں گے اوراس قدم کے سایہ میں داخل ہوں گے۔
اللھم لک الحمد صل علی محمد وابنہ وذریتہ ۔
(۲؂ الفتاوی الحدیثیۃ مطلب فی قول الشیخ عبدالقادرقدمی ہذاعلی رقبہ الخ داراحیاء  التراث العربی بیروت ص۴۱۴)
 (۱۱)	پھر فرمایا :
وحکی امام الشافعیۃ فی زمنہ ابوسعید عبداللہ بن ابی عصرون قال دخلت بغدادفی طلب العلم فوافقت ابن السقاورافقتہ فی طلب العلم بالنظامیۃ ، وکنا نزورالصالحین وکان ببغداد رجل یقال لہ الغوث۱؂۔ (الٰی اٰخر الحدیث المذکور)
"امام ابوسعید عبداللہ بن ابی عصرون نے کہ اپنے زمانہ میں شافعیہ کے امام تھے ذکر فرمایا کہ میں بغداد مقدس میں طلب علم کے لئے گیا ابن السقااورمیں مدرسہ  نظامیہ میں شریک درس تھے اوراس وقت بغداد میں ایک شخص کو غوث کہتے تھے (وہی پوری حدیث کہ نمبر ۵ میں گزری ، ان غوث کا ہمارے حضور رضی اللہ تعالٰی عنہ کو بشارت دینا کہ آپ برسرمنبر مجمع میں فرمائیں گے "میرا یہ پاؤں ہر ولی اللہ کی گردن پر"اورتمام اولیائے عصر آپ کے قدم پاک کی تعظیم کےلئے اپنی گردنیں خم کریں گے ، اورپھر ایسا ہی واقع ہونا،حضورکا یہ ارشادفرمانا اور تمام اولیائے عالم کا اقرارکرنا کہ بےشک حضور کا قدم ہم سب کی گردن پر ہے )
 (۱؂الفتاوی الحدیثیۃ مطلب فی قول الشیخ عبدالقادرقدمی ہذہ علی رقبہ الخ داراحیاء  التراث العربی بیروت ص۴۱۴)
آخر میں ابن حجر نے فرمایا:
وھٰذہ الحکایۃ التی کادت ان تتواتر فی المعنی لکثرۃ ناقلھاوعدالتھم۲؂۔
یعنی یہ حکایت قریب تواتر ہے کہ اس کے ناقلین بکثرت ثقہ عادل ہیں۔
 (۲؂الفتاوی الحدیثیۃ مطلب فی قول الشیخ عبدالقادرقدمی ہذہ علی رقبہ الخ داراحیاء  التراث العربی بیروت ص۴۱۵)
فتاوٰی حدیثیہ نے ابن السقا کی بدانجامی میں یہ اورزائد کیا کہ جب وہ بدبخت کہ بہت بڑا عالم جیّداورعلوم شرعیہ میں اپنے اکثراہل زمانہ پرفائق اور حافظ قرآن اورعلم مناظرہ میں کمال سربرآوردہ تھاجس سے جس علم میں مناظرہ کرتا اسے بند کردیتا، ایسا شخص جب شان غوث میں گستاخی کی شامت سے معاذاللہ معاذاللہ نصرانی ہوگیا بادشاہ نصارٰی نے اسے بیٹی تو دے دی مگر جب بیمارپڑا اسے بازار میں پھنکوادیا بھیک مانگتااورکوئی نہ دیتا، ایک شخص کہ اسے پہچانتا تھا گزرا اس سے پوچھا تو توحافظ تھا اب بھی قرآن کریم میں سے کچھ یاد ہے ۔ کہا سب محو ہوگیا صرف ایک آیت یاد رہ گئی ہے ۔
ربما یودالذین کفروالو کانوا مسلمین۳؂۔
کتنی تمنائیں کریں گے وہ جنہوں نے کفر اختیار کیا کہ کسی طرح مسلمان ہوتے ۔
 (۳؂ القرآن الکریم ۱۵/۲)
Flag Counter