من مشائخہ حمادالدباس رضی اللہ تعالٰی عنہ روی ان یوما کان سید نا عبدالقادر عندہ فی رباطہ ولما غاب من حضرتہ قال ان ھذا الاعجمی الشریف قدماً یکون علٰی رقاب اولیاء اللہ یصیر مامورا من عند مولاہ بان یقول قدمی ھٰذا علی رقبۃ کل ولی اللہ ویتواضع لہ جمیع اولیاء اللہ فی زمانہ ویعظمونہ لظہورشانہ۱۔
حضرت حماد دباس حضور سیدنا غوث اعظم کے مشائخ سےہیں رضی اللہ تعالٰی عنہم اجمعین ایک روز انہوں نے سرکار غوثیت کی غیبت میں فرمایا ، ان جو ان سید کا قدم تمام اولیاء کی گردن پر ہو گا انہیں اللہ عزوجل حکم دے گا کہ فرمائیں میرا یہ پاؤں ہر ولی اللہ کی گردن پر، اوران کے زمانےمیں جمیع اولیاء اللہ انکے لئے سرجھکائیں گے ، اور ان کے ظہور مرتبہ کے سبب ان کی تعظیم بجا لائیں گے۔
مامور من اللہ ہونا ملحوظ رہے اورجمیع اولیاء زمانہ میں بے شک حضرت سیدی رفاعی رضی اللہ تعالٰی عنہ بھی داخل۔
(۳) اسی میں حضور سیدنا غوث اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ کا "قدمی ھذہ علی رقبۃ کل ولی اللہ "۲ فرمانا اوراولیاء حاضرین وغائبین کا گردنیں جھکانا اورقدم مبارک اپنی گردنوں پر لینا اور ایک شخص کا انکار کرنا اور اس کی ولایت سلب ہوجانا بیان کر کے فرماتے ہیں :
وھذا تنبیہ بینۃ علی انہ قطب الاقطاب والغوث الاعظم۳۔
یہ روشن دلیل قاطع ہے اس پرکہ حضور تمام قطبوں کے قطب اورغوث اعظم ہیں۔
ومن کلامہ رضی اللہ تعالٰی عنہ تحدثا بنعم اللہ تعالٰی علیہ بینی وبینکم وبین الخلق کلھم بعد مابین السماء والارض فلاتقیسونی باحد ولاتقیسواعلی احدًا یعنی فلایقاس الملوک بغیر ھم وھٰذا کلہ من فتوح الغیب المبرء من کل عیب۔
حضور سیدنا غوث اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ نے اللہ عزوجل کی اپنے اوپرنعمتیں ظاہر فرمانے کا جو کلام ارشاد فرمائے ان میں سے یہ ہے کہ فرمایا مجھ میں اورتمام مخلوقات زمانہ میں وہ فرق ہے جو آسمان وزمین میں،مجھے کسی سے نسبت نہ دو اورمجھ پر کسی کو قیاس نہ کرو۔اس پرعلامہ علی قاری فرماتے ہیں اس لئے کہ سلاطین کا رعیت پر قیاس نہیں ہوتا اوریہ سب غیب کے فتوحات سے ہے جوہر عیب سے پاک وصاف ہے۔
(۵) اسی میں ہے :
وعن عبداللہ بن علی بن عصر ون التمیمی الشافعی قال دخلت وانا شاب الٰی بغدادفی طلب العلم وکان ابن السقایومئذ رفیقی فی الاشتغال بالنظامیۃ وکنانتعبد ونزور الصالحین وکان رجل ببغدادیقال لہ الغوث، وکان یقال عنہ انہ یظھر اذا شاء وخفی اذا شاء فقصدت انا وابن السقا والشیخ عبدالقادرالجیلانی وھو شاب یومئذالٰی زیارتہ فقال ابن السقاونحن فی الطریق الیوم اسألہ عن مسئلۃ لایدری لہا جوابا، فقلت وانا اسئلہ(نزہۃ الخاطروالفاترفی ترجمۃ سید الشریف عبدالقادر(قلمی نسخہ)ص۳۰) عن مسئلۃ فانظر ماذایقول فیھا وقال سیدی الشیخ عبدالقادر قدس سرہ الباھر معاذا للہ ان اسألہ شیئا،وانا بین یہ اذًا انظر برکات رویتہ فلما دخلنا علیہ لم نرہ فی مکانہ فمکثنا ساعۃ فاذا ھوجالس فنظر الی ابن السقامغضباوقال لہ ویلک یا ابن السقا تسألنی عن مسئلۃ لم أردلہا جوابا،ھی کذا وجوابھا کذا،انی لاری نارالکفرتلھب فیک۔ثم نظرالی وقال یاعبداللہ تسألنی عن مسألۃ لتنظر مااقول فیھا ھی کذاوجوابھا کذا لتخرن علیک الدنیا الٰی شحمتی اذنیک باساء ۃ ادبک۔ ثم نظر الٰی سید عبدالقادر وادناہ منہ واکرمہ وقال لہ یا عبدالقادر لقد ارضیت اللہ ورسولہ بادبک کانّی اراک ببغدادوقد صعدت علی الکرسی متکلما علی الملا وقلت قدمی ھٰذہٖ علٰی رقبۃ کل ولی اللہ ، وکانّی اری الاولیاء فی وقتک وقد حنوا رقبھم اجلالا لک، ثم غاب عنا لوقتہ فلم نرہ بعد ذٰلک ، قال واما سیدی الشیخ عبدالقادر فانہ ظھرت امارۃ قربہٖ من اللہ عزوجل واجتمع علیہ الخاص والعام، وقال قدمی ھٰذہٖ علٰی رقبۃ کل ولی اللہ واقرت الاولیاء بفضلہ فی وقتہ واما ابن السقافرأی بنتا للملک حسینۃ ففتن بھا وسأل ان یزوجہا بہ فابٰی الاان یتنصّرفاجابہ الٰی ذٰلک ۔ والعیاذباللہ تعالٰی۔ واما انا فجئت الٰی دمشق واحضرنی السلطان نورالدین الشھید وولانی علی الاوقات فولیتھا واقبلت علی الدنیا اقبالا کثیراقدصدق کلام الغوث فینا کلنا۔
امام عبداللہ بن علی بن عصرون تمیمی شافعی سے روایت ہے میں جوانی میں طلب علم کے لئے بغداد گیا اس زمانے میں ابن السقامدرسہ نظامیہ میں میرے ساتھ پڑھا کرتاتھا، ہم عبادت اورصالحین کی زیارت کرتے تھے، بغداد میں ایک صاحب کو غوث کہتے ، اور ان کی یہ کرامت مشہور تھی کہ جب چاہیں ظاہرہوں جب چاہیں نظروں سے چھپ جائیں ، ایک دن میں اورابن السقااوراپنی نوعمری کی حالت میں حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی ان غوث کی زیارت کوگئے ، راستے میں ابن السقا نے کہا آج ان سے وہ مسئلہ پوچھوں گاجس کا جواب انہیں نہ آئے گا۔ میں نے کہا میں بھی ایک مسئلہ پوچھوں گا دیکھوں کیا جواب دیتے ہیں ، حضرت شیخ عبدالقادر قدس سرہ الاعلی نے فرمایا معاذاللہ کہ میں ان کے سامنے ان سے کچھ پوچھوں میں تو انکے دیدار کی برکتوں کا نظارہ کروں گا۔جب ہم ان غوث کے یہاں حاضر ہوئے ان کو اپنی جگہ نہ دیکھا تھوڑی دیر میں دیکھا تشریف فرما ہیں ابن السقا کی طرف نگاہ غضب کی اورفرمایا : تیری خرابی اے ابن السقا! تو مجھ سے وہ مسئلہ پوچھے گا جس کا مجھے جواب نہ آئے تیرا مسئلہ یہ ہے اوراس کا جواب یہ ہے ، بے شک میں کفرکی آگ تجھ میں بھڑکتی دیکھ رہا ہوں۔ پھر میری طرف نظر کی اورفرمایا اے عبداللہ !تم مجھ سے مسئلہ پوچھو گے کہ میں کیا جواب دیتاہوں تمہارا مسئلہ یہ ہےاور اس کا جواب یہ ، ضرور تم پر دنیا اتنا گوبر کرے گی کہ کان کی لُو تک اس میں غرق ہوگے، بدلہ تمہاری بے ادبی کا ۔ پھرحضرت شیخ عبدالقادر کی طرف نظر کی اورحضور کو اپنے نزدیک کیا اورحضور کا اعزاز کیا اورفرمایا : اے عبدالقادر! بے شک آپ نے اپنے حسن ادب سے اللہ ورسول کو راضی کیا گویا میں اس وقت دیکھ رہا ہوں کہ آپ مجمع بغداد میں کرسی وعظ پر تشریف لے گئے اور فرمارہے ہیں کہ میرا یہ پاؤں ہر ولی اللہ کی گردن پر، اورتمام اولیائے وقت نے آپکی تعظیم کیلئے گردنیں جھکائی ہیں۔ وہ غوث یہ فرما کر ہماری نگاہوں سے غائب ہوگئے پھر ہم نے انہیں نہ دیکھا ۔ حضرت شیخ عبدالقادر رضی اللہ تعالٰی عنہ پر تو نشان قرب ظاہر ہوئے کہ وہ اللہ عزوجل کے قرب میں ہیں خاص وعام ان پرجمع ہوئے اورانہوں نے فرمایا : میرا یہ پاؤں ہر ولی اللہ کی گردن پر۔ اوراولیاء وقت نے اس کا ان کے لئے اقرار کیا ، اورابن السقا ایک نصرانی بادشاہ کی خوبصورت بیٹی پر عاشق ہوا اس سے نکا ح کی درخواست کی اس نے نہ مانا مگر یہ نصرانی ہوجائے، اس نے یہ نصرانی ہونا قبول کرلیا، والعیاذباللہ تعالٰی۔رہا میں ، میرا دمشق جاناہوا وہاں سلطان نورالدین شہید نے مجھے افسر اوقاف کیا اوردنیا بکثرت میری طرف آئی۔غوث کا ارشاد ہم سب کے بارے میں جو کچھ تھا صادق آیا۔
اولیاءِ وقت میں حضرت رفاعی بھی ہیں ۔ یہ مبارک روایت بہجۃ الاسرار شریف ۱میں دوسندوں سے ہے، اورایک یہی کیا ۔ علامہ علی قاری نے اس کتاب میں چالیس روایات اوربہت کلمات کہ ذکر کئے سب بہجۃ الاسرار شریف سے ماخوذ ہیں ، یونہی اکابر ہمیشہ اس کتاب مبارک کی احادیث سے استناد کرتے آئے مگر محروم محروم ۔
قال رضی اللہ تعالٰی عنہ وعزّۃ ربّی ان السعداء والاشقیاء یعرضون علی وان بؤبؤعینی فی اللوح المحفوظ انا حجۃ اللہ علیکم جمیعکم انا نائب رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ووارثہ فی الارض ویقول الانس لھم مشائخ والجن لھم مشائخ والملٰئکۃ لھم مشائخ وانا شیخ الکل، رضی اللہ تعالٰی عنہ ، ونفعنابہ۲۔
حضورسیدنا غوث اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا "مجھے عزت پروردگار کی قسم!بے شک سعید وشقی مجھ پر پیش کئے جاتے ہیں، بیشک میری آنکھ پُتلی لوح، محفوظ میں ہے ، میں تم سب پر اللہ کی حجت ہوں، میں رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا نائب اور تمام زمین میں ان کا وارث ہوں۔ اورفرمایا کرتے : آدمیوں کے پیر ہیں،قوم جن کے پیرہیں ، فرشتوں کے پیر ہیں اور میں ان سب کا پیرہوں۔"علی قاری اسے نقل کر کے عر ض کرتے ہیں : اللہ عزوجل کی رضوان حضور پر ہو اورحضور کے برکات سے ہم کو نفع دے ۔
(۲نزہۃ الخاطر الفاتر فی ترجمۃ سید الشریف عبدالقادر (قلمی نسخہ)ص۳۲)
(۷) اسی میں ہے :
روی عن السید الکبیر القطب الشھیر سید احمد الرفاعی رضی اللہ تعالٰی عنہ انہ قال الشیخ عبدالقادر بحر الشریعۃ عن یمینہ وبحرالحقیقۃ عن یسارہ من ایھما شاء اغترف السید عبدالقادرلاثانی لہ فی عصرنا ھذا رضی اللہ تعالٰی عنہ۱۔
سید کبیر قطب شہیر سید احمد الرفاعی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے فرمایا : شیخ عبدالقادر وہ ہیں کہ شریعت کا سمندر ان کے دہنے ہاتھ ہے اور حقیقت کا سمندر ان کے بائیں ہاتھ ،جس میں سےچاہیں پانی پی لیں ۔ اس ہمارے وقت میں سید عبدالقادر کا کوئی ثانی نہیں رضی اللہ تعالٰی عنہ۔
(۱نزہۃ الخاطر الفاتر فی ترجمۃ سید الشریف عبدالقادر (قلمی نسخہ)ص۳۴)
(۸) امام ابن حجر مکی شافعی متوفی ۹۷۴ھ اپنے فتاوٰی حدیثیہ میں فرماتے ہیں :
انھم قد یؤمرون تعریفا لجاھل اوشکرا وتحدثا بنعمۃ اللہ تعالٰی کما وقع الشیخ عبدالقادر رضی اللہ تعالٰی عنہ انہ بینما ھو بمجلس وعظہ واذا ھو یقول قدمی ھٰذہٖ علٰی رقبۃ کل ولی اللہ تعالٰی فاجابہ فی تلک الساعۃ اولیاء الدنیا قال جماعۃ بل واولیاء الجن جمیعھم وطأطئوارء وسھم وخضعوالہ واعترفوابماقالہ الارجل باصبھان فابٰی فسلب حالہ۲۔
کبھی اولیاء کو کلمات بلند کہنے کا حکم دیاجاتاہے کہ جو ان کے مقامات عالیہ سے ناواقف ہے اسے اطلاع ہویا شکر الہٰی اوراس کی نعمت کا اظہار کرنے کے لئے جیسا کہ حضور سیدنا غوث اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ کے لئے ہوا کہ انہوں نے اپنی مجلس وعظ میں دفعۃً فرمایا کہ میرا یہ پاؤں ہر ولی اللہ کی گردن پر ، فورًا تمام دنیا کے اولیاء نے قبول کیا (اورایک جماعت کی روایت ہے کہ جملہ اولیاء جن نے بھی)اورسب نے اپنے سرجھکادئے اورسرکارغوثیت کے حضور جھک گئے اوران کے اس ارشاد کا اقرار کیا مگر اصفہان میں ایک شخص منکر ہوا فورًا اس کا حال سلب ہوگیا۔