Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۸ (کتاب الشتّٰی)
72 - 135
حدیث دہم : قال) رفع اللہ تعالٰی درجاتہ فی الفردوس (اخبرنا الشریف ابوعبداللہ محمد بن الخضرالحسینی الموصلی،قال سمعت ابی یقول کنت یوما جالسابین یدی سیدی الشیخ محی الدین عبدالقادررضی اللہ تعالٰی عنہ فخطر فی قلبی زیارۃ الشیخ احمد رفاعی رضی اللہ عنہ فقال لی الشیخ احمد؟قلت نعم فاطرق یسیرًا،ثم قال لی یاخضرھا الشیخ احمد فاذا انا بجانبہ فرأیت شیخًامھابافقمت الیہ وسلمت علیہ ،فقال لی یاخضرو من یری مثل  الشیخ عبدالقادر سید الاولیاء یتمنی رؤیۃ مثلی وھل انا الامن رعیتہ ثم غاب وبعدوفاۃ الشیخ انحدرت من بغداد الی ام عبیدۃ لازورہ ، فلما قدمت علیہ اذا ھو الشیخ الذی رأیتہ فی جانب الشیخ عبدالقادررضی اللہ تعالٰی عنہ  فی ذٰلک الوقت لم تجددرؤیتہ عندی زیادۃ معرفۃ بہ فقال لی یاخضر الم تکفک الاولٰی۱؂۔
مصنف نے کہا(اللہ تعالٰی جنت فردوس میں اس کے درجے بلند فرمائے )کہ ہم کو سید حسینی ابو عبداللہ محمد بن خضر موصلی نے خبر دی کہ میں نے اپنے والد ماجد کو فرماتے سنا کہ ایک روز میں حضرت سرکار غوثیت رضی اللہ تعالٰی عنہ کےحضور حاضر تھا میرے دل میں خطرہ آیا کہ شیخ احمد رفاعی رضی اللہ تعالٰی عنہ کی زیارت کروں ، حضورنے  فرمایا : کیا شیخ احمد کو دیکھناچاہتے ہو؟میں نے عرض کی : ہاں ۔ حضور تھوڑی دیر سر مبارک جھکایا پھر مجھ سے فرمایا : اے خضر! لویہ ہیں شیخ احمد ۔ اب جو میں دیکھوں تو اپنے آپ کو حضرت احمد رفاعی کے پہلو میں پایااورمیں نے اُن کو دیکھا کہ رعب دار شخص ہیں میں کھڑا ہوا اورانہیں سلام کیا۔ اس پرحضرت رفاعی نے مجھ سے فرمایا : اے خضر! وہ جو شیخ عبداللہ کو دیکھے جو تمام اولیاء کے سردار ہیں وہ میرے دیکھنے کی تمنا میں تو انہیں کی رعیت میں سے ہوں۔یہ فرماکر میری نظر سے غائب ہوگئے پھر حضور سرکار غوثیت رضی اللہ تعالٰی عنہ کے وصال اقدس کے بعد بغداد شریف سے حضرت سید ی احمد رفاعی کی زیارت کو ام عبیدہ گیا انہیں دیکھا تو وہی شیخ تھے جن کو میں نے اس دن حضرت  شیخ عبدالقادر رضی اللہ تعالٰی عنہ کے پہلو میں دیکھا تھا۔ اس وقت کے دیکھنے نے کوئی اورزیادہ ان کی شناخت مجھے نہ دی۔حضرت رفاعی نے فرمایا : اے خضر !کیا پہلی تمہیں کافی نہ تھی!
 (۱؂بہجۃ الاسرارذکر احمد بن ابی الحسن الرفاعی مصطفی البابی مصرص۲۳۸،۲۳۷)
حدیث یازدہم: (قال جمعنا اللہ تعالٰی وایاہ یوم الحشر تحت لواء الحضرۃ الغوثیۃ) اخبرنا ابوالقاسم محمد بن عبادۃ الانصاری الحلبی قال سمعت الشیخ العارف ابااسحٰق ابراھیم بن محمود البعلبکی المقری قال سمعت شیخنا الامام ابا عبداللہ محمد البطائحی ، قال انحدرت فی حیاۃ سید الشیخ محی الدین عبدالقادر رضی اللہ تعالٰی عنہ الٰی ام عبیدۃ ، واقمت برواق الشیخ احمد رضی ا للہ تعالٰی عنہ ایاماًفقا ل لی الشیخ احمد یوماً اذکر لی شیئامن مناقب الشیخ عبدالقادر وصفاتہ فذکرت لہ شیئامنھا، فجاء رجل فی اثناء حدیثی فقال لی مہ لاتذکر عندنا مناقب غیر مناقب ھذا ، اواشارالی الشیخ احمد فنظرالیہ الشیخ احمد مغضبا، فرفع الرجل من بین یدیہ میتًاثم قال ومن یستطع وصف مانقب الشیخ عبدالقادر ومن یبلغ مبلغ الشیخ عبدالقادر ذٰلک رجل بحر الشرعۃ عن یمینہٗ ،وبحرالحقیقۃ عن یسارہ، من ایھما شاء اغترف الشیخ عبدالقادر لاثانی لہ فی عصرنا ھٰذا ، قال وسمعتہ یوما یوصی اولاد اختہٖ واکابر اصحابہ، وقدجاء رجل یوعدہ مسافرًا الی بغداد قال لہ  اذا دخلت الی بغداد فلا تقدم علٰی زیارۃ الشیخ عبدالقادر شیئًا ان کان حیا ولا علی زیارۃ قبرہ ان کان میتا، فقد اخذلہ العھد ایما رجل من اصحاب الاحوال دخل بغداد ولم یزرہ سلب حالہ ولو قبیل الموت، ثم قال والشیخ محی الدین عبدالقادر حسرۃ علی من لم یرہ رضی اللہ عنہ۱؂۔
مصنف نے کہا(اللہ تعالٰی ہمیں اوراسے یوم محشر کو غوث اعظم کے جھنڈے کے نیچے جمع فرمائے )کہ ہم کو ابوالقاسم محمد بن عبادہ انصاری حلبی نے خبر دی کہ میں نے شیخ عارف باللہ ابواسحٰق ابراہیم بن محمود بعلبکی مقری کو فرماتے سنا ، کہا میں نے اپنے مرشد امام ابوعبداللہ بطائحی کو سنا کہ فرماتے تھے : میں حضور سرکارغوثیت رضی اللہ تعالٰی عنہ کے زمانے میں ام عبیدہ گیا اورحضرت سید ی احمد رفاعی رضی اللہ تعالٰی عنہ کی خانقاہ میں چند روز مقیم رہا ایک روز حضرت رفاعی نے مجھ سے فرمایا ہمیں حضرت شیخ عبدالقادر کے کچھ مناقب واوصاف سناؤ،میں نے کچھ مناقب شریف ان کے سامنے بیان کئے میرے اثنائے بیان میں ایک شخص آیا اور اس نے مجھ سے کہا کیا ہے اورحضرت سید رفاعی کی طرف اشارہ کر کے کہا ہمارے سامنے ان کے سوا کسی کے مناقب ذکر نہ کرو، یہ سنتے ہی حضرت  سید رفاعی رضی اللہ تعالٰی عنہ نے اس شخص کو ایک غضب کی نگاہ سے دیکھا کہ فورًا اس کادم نکل گیا لوگ اس کی لاش اٹھاکر لے گئے ،پھر حضرت سید رفاعی رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا شیخ عبدالقادر کے مناقب کون بیان کرسکتاہے ، شیخ عبدالقادر کے مرتبہ کو کون پہنچ سکتاہے ، شریعت کا دریا ان کے دَہنےہاتھ پرہے  اورحقیقت کا دریا ان کے بائیں ہاتھ پر  جس میں سے چاہیں پانی پی لیں ، ہمارے اس وقت میں شیخ عبدالقادر کا کوئی ثانی نہیں۔ امام ابوعبداللہ فرماتے ہیں ایک دن میں نے حضرت رفاعی کو سنا کہ اپنے بھانجوں اور اکابر مریدین کو وصیت فرماتے تھے ایک شخص بغداد مقدس کے ارادے سے ان سے رخصت ہونے آیا تھا فرمایا جب بغداد پہنچو تو حضرت شیخ عبدالقادر اگر دنیا میں تشریف فرماہوں تو ان کی زیارت اورپردہ فرما جائیں تو ان کے مزار مبارک کی زیارت سے پہلے کوئی کام نہ کرنا کہ اللہ عزوجل نے ان سے عہد فرمارکھا ہے کہ جو کوئی صاحب حال بغداد آئے اوران کی زیارت کو نہ حاضر ہو اس کا حال سلب ہوجائے اگرچہ اس کے مرتے وقت پھر حضرت رفاعی رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا شیخ عبدالقادر حسرت ہیں اس پر جسے انکادیدار نہ ملا۔
 (۱؂بہجۃ الاسرارذکر الشیخ احمد بن الحسن الرفاعی مصطفی البابی مصرص۲۳۸)
یہ کمینہ بندہ بارگاہ عرض کرتاہے :    ؔ
اے حسرت آنا نکہ ندیدندجمالت 		        محروم مدارایں سگ خود راز نوالت
(جنہوں نے آپ کا جمال نہ دیکھا ان پر حسرت ہے ، اپنے اس کتے کو اپنی عطا سے محروم نہ رکھیں۔ت)
بحرمۃ جدک الکریم علیہ ثم علیک الصلوٰۃ والتسلیم
 (اپنے کریم نانا کے صدقے میں۔ ان پر پھر آپ پر درود وسلام ہو۔ت)

مسلمان ان احادیث صحیحہ جلیلہ کو دیکھے اوراس شخص کے مثل اپنا حال ہونے سے ڈرے جس کا خاتمہ حضرت غوثیت کی شان میں گستاخی اور حضرت سید رفاعی کے غضب پر ہوا، والعیاذباللہ رب العالمین۔اے شخص!ظاہرشریعت میں حضرت سرکار غوثیت کی محبت بایں معنٰی رکنِ ایمان نہیں کہ جو ان سے محبت نہ رکھے شرع اسے فی الحال کافر کہے یہ تو صرف انبیاء علیہم الصلوٰۃ والثناء کے لئے ہے مگر واللہ کہ ان کے مخالف سے اللہ عزوجل نے لڑائی کا اعلان فرمایا ہے خصوص کا انکار نصوص کے انکار کی طرف لے جاتاہے ، عبدالقادرکا انکار قادر مطلق عزجلالہ ٗ کے انکار کی طرف کیوں نہ لے جائے گا   ؂

بازاشہب کی غلامی سے یہ آنکھیں پھرنی 		دیکھ اڑجائے گا ایمان کا طوطاتیرا

شاخ پر بیٹھ کے جڑ کاٹنے کی فکر میں ہے		کہیں نیچا نہ دکھائے تجھے شجر اتیرا۱؂
 (۱؂حدائق بخشش وصل چہارم درمنافحت اعداء واستعانت از آقارضی اللہ عنہ مکتبہ رضویہ آرام باغ کراچی ص۹)
والعیاذباللہ القادر رب الشیخ عبدالقادر وصلی  اللہ تعالٰی وبارک وسلم علی جد الشیخ عبدالقادر ثم علی الشیخ عبدالقادر اٰمین۔
شیخ عبدالقادر کے قدرت والے معبود کی پناہ،شیخ عبدالقادر کے ناناجان پھر خود شیخ عبدالقادر پراللہ تعالٰی درود،برکت اور سلام نازل فرمائے ، آمین۔

تذئیل: اخیر میں ہم دو جلیل القدر اجلۃ المشاہیرعلماء کبارمکہ معظمہ  کےکلمات ذکر کریں جن کی وفات کو تین تین سو برس سے زائد ہوئے ، اول امام اجل ابن حجر مکی شافعی رحمہ اللہ تعالٰی ، دوم علامہ علی قاری مکی حنفی صاحبِ مرقاۃ شرح مشکوٰۃ وغیرہا کتب جلیلہ ۔ دوغرض سے :

ایک یہ کہ اگر دو مطرودوں ، مخذولوں ، گمناموں ، مجہولوں واسطی وقرمانی کی  طرح کسی کے دل میں کتاب مستطاب بہجۃ الاسرار شریف سے آگ ہوتو ان سے لاگ کی تو کوئی وجہ نہیں یہ بالاتفاق اجلہ اکابر علماء ہیں۔

دوسرے یہ کہ دونوں صاحب اکابر مکہ معظمہ سے ہیں ، تو اس افتراء کا جواب ہوگا جو مخالف نے اہل عرب پر کیا حالانکہ غالباً تاریخ الحرمین وغیرہ میں ے ، اورحاضری حرمین طیبین سے مشرف ہونےو الا جانتاہے کہ اہل حرمین طیبین بعدحضور پر نور سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے اٹھتے بیٹھتے حضور سیدنا غوث اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ کا ذکر کرتے ہیں اورحضور کے برابر کسی کا نام نہیں لیتے ۔ ان حضرات کی بھی گیارہ ہی عبارات نقل کریں۔:

(۱)	علامہ علی قاری حنفی مکی متوفی ۱۰۱۴ھ کتاب نزہۃ الخاطر الفاتر فی ترجمۃ سیدی الشریف عبدالقادر میں فرماتے ہیں :
  لقد بلغنی عن بعض الاکابر ان الامام الحسن ابن سیدنا علی رضی اللہ تعال عنہمالما ترک الخلافۃ لما فیھا من الفتنۃ والآفۃ عوضہ اللہ  سبحٰنہ وتعالٰی القطبیۃ الکبرٰی فیہ وفی نسلہ وکان رضی اللہ تعالٰی عنہ القطب الاکبر سیدنا السید الشیخ عبدالقادر ھو القطب الاوسط والمھدی خاتمۃ الاقطاب۱؂۔
بیشک مجھے اکابر سے پہنچا کہ سیدنا امام حسن مجتبٰی رضی اللہ تعالٰی عنہ نے جب بخیال فتنہ وبلایہ خلافت ترک فرمائی اللہ عزوجل نے اس کے بدلے ان میں اورانکی اولاد امجاد میں غوثیت عظمٰی کا مرتبہ رکھا۔ پہلے قطب اکبر خود حضور سید امام حسن ہوئے اوراوسط میں صرف حضور سیدنا سید عبدالقادر اورآخر میں حضرت امام مہدی ہوں گے رضی اللہ تعالٰی عنہم اجمعین۔
 (۱؂نزہۃ الخاطر الفاترفی ترجمہ سیدی الشریف عبدالقادر (قلمی)ص۶)
Flag Counter