Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۸ (کتاب الشتّٰی)
71 - 135
حدیث ششم :(قال اعلٰی اللہ تعالٰی مقاماتہ) اخبرنا ابومحمد الحسن بن احمد بن محمدوخلف بن احمد بن محمد الحریمی قال اخبرنا جدی محمد بن دنف قال اخبرنا الشیخ ابوالقاسم بن ابی بکر بن احمد قال سمعت الشیخ خلیفۃ رضی اللہ تعالٰی عنہ وکان کثیرا الرؤیالرسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم یقول رأیت رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فقلت لہ یارسول اللہ لقد قال الشیخ عبدالقادر قدمی ھٰذہ علٰی رقبۃ کل ولی اللہ ، فقال صدق الشیخ عبدالقادروکفی لاوھو القطب واناارعاہ۳؂۔
مصنف نے کہا(اللہ تعالٰی اس کے مرتبے بلند فرمائے)کہ ہم کو ابومحمد حسن بن احمد بن محمد اورخلف بن احمد بن محمد حریمی نے خبردی کہ ہم کو میرے جد محمد بن دنف نے خبر دی کہ ہم کو شیخ ابوالقاسم بن ابی بکر احمد نے خبردی کہ میں نے شیخ خلیفہ اکبر ملکی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے سنا اوروہ حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے دیدار مبارک سے بکثرت مشرف ہوا کرتے تھے فرمایا خدا کی قسم بیشک میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کودیکھا عرض کی یارسول اللہ !شیخ عبدالقادرنے فرمایا کہ میرا پاؤں ہر ولی اللہ کی گردن پر ۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا:"عبدالقادرنے سچ کہا اورکیوں نہ ہوکہ وہی قطب ہیں اورمیں ان کا نگہبان۔"
 (۳؂بہجۃ الاسرارذکر اخبارالمشائخ بالکشف عن ہیئۃ الحال حین قال ذٰلک  مصطفٰی البابی مصرص۱۰)
کلب باب عالی عرض کرتا ہے الحمدللہ !اللہ نے ہمارے آقا کو اس کہنے کا حکم دیا ، کہتے وقت ان کے قلب مبارک پر تجلی فرمائی، نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے خلعت بھیجا ، تمام اولیاء اولین وآخرین  جمع کئے گئے ، سب کے مواجہ میں پہنایا گیا۔ ملائکہ کا جمگھٹ ہوا ، رجال الغیب نے سلامی دی ۔ تمام جہان کے اولیاء نے گردنیں جھکادیں۔ اب جو چاہے راضی ہو، جو چاہے ناراض ۔ جو راضی ہواس کے لئے رضا، جو ناراض ہوا س کیلئے ناراضی۔ جس کا جی چلے اس سے کہو
موتوابغیظکم ان اللہ علیم بذات الصدور۱؂۔
مرجاؤاپنی جلن میں بے شک اللہ دلوں کی جانتاہے ۔وللہ الحجۃ البالغہ۔
حدیث ہفتم:  (قال بیض اللہ تعالٰی وجہہ) اخبرنا الحسن بن نجیم الحور انی قال اخبرنا الشیخ العارف علی بن ادریس الیعقوبی قال سمعت الشیخ عبدالقادر رضی اللہ تعالٰی عنہ یقول الانس لھم مشائخ والملٰئکۃ لھم مشائخ وانا شیخ الکل، قال وسمعتہ فی مرض موتہ بقول لاولادہٖ بینی وبینکم وبین الخلق کلھم بعد مابین السماء والارض لاتقیسونی باحد ولا تقیسواعلیَّ احدا۲؂۔
مصنف نے کہا(اللہ تعالٰی اس کے چہرے کو روشن کرے )کہ ہم سے حسن بن نجیم حورانی نے حدیث بیان کی ، کہا ہم کو ولی جلیل حضرت علی بن ادریس یعقوبی رضی اللہ تعالٰی عنہ نے خبردی ، کہا میں نے حضرت سرکار غوثیت رضی اللہ تعالٰی عنہ کو سنا کہ فرماتے تھے: آدمیوں کے لئے پیرہیں،قوم جن کے لئے پیرہیں، فرشتوں کے لئے پیرہیں،اورمیں سب کا پیرہوں،اورمیں نے حضور کو اس مرض مبارک میں جس میں وصال اقدس ہوا سناکہ اپنے شاہزادگان کرام سے فرماتے تھے : مجھ میں اورتم میں اورتمام مخلوقات زمانہ میں وہ فرق ہے جو آسمان وزمین میں ۔ مجھ سے کسی کو نسبت نہ دو اورمجھے کسی پر قیاس نہ کرو۔ اے ہمارے آقا! آپ نے سچ کہا ،خدا کی قسم!آپ صادق مصدوق ہیں۔(ت)
 (۲؂بہجۃ الاسرارذکر کلمات اخبربہا عن نفسہ الخ   مصطفٰی البابی مصرص۲۲و۲۳)
حدیث ہشتم: (قال طیب اللہ تعالٰی ثراہ ) اخبرنا ابوالمعالی صالح بن احمد المالکی قال اخبرنا الشیخ ابوالحسن البغدادی المعروف بالخفاف والشیخ ابومحمد عبداللطیف البغدادی المعروف بالمطرزقال ابوالحسن اخبرنا شیخنا الشیخ ابوالسعود احمد بن ابی بکر الحریمی سنۃ ثمانین وخمسائۃ وقال ابو محمد اخبرنا شیخنا عبدالغنی بن نقطۃ قال اخبرنا شیخناابوعمروعثمٰن الصریفینی قالا واللہ ما اظھراللہ تعالٰی ولا یظھرالی الوجود مثلالشیخ محی الدین عبدالقادر رضی اللہ تعالٰی عنہ۱؂۔
مصنف (اللہ تعالٰی اس کی قبر کو خوشبوداربنائے) نے کہا کہ ہم کو ابوالمعالی صالح بن احمد مالکی نے خبر دی کہ ہم کو دو مشائخ کرام نے خبر دی، ایک شیخ ابوالحسن  بغدادی معروف بہ خفاف ، دوسرے شیخ ابو محمد عبداللطیف بغدادی معروف بہ مطرز۔ اول نے کہا ہمارے پیرومرشد حضرت شیخ ابوالسعود احمد بن ابی بکر حریمی قدس سرہٗ نے ہمارے سامنے ۸۵۰ھ میں فرمایا ، اوردوم نے کہا ہم کو ہمارے مرشد حضرت عبدالغنی بن نقطہ نے خبر دی کہ ان کے سامنے ان کے مرشد حضرت شیخ ابوعمر وعثمان صریفینی قدس سرہ نے فرمایا کہ خدا کی قسم اللہ عزوجل نے اولیاء میں حضرت شیخ محی الدین عبدالقادررضی اللہ تعالٰی عنہ کا مثل نہ پیدا کیا نہ کبھی پیدا کرے ۔
 (۱؂بہجۃ الاسرارذکر فصول من کلامہ مرصعًابشیئ من عجائب احوالہ مختصرًامصطفی البابی مصرص۲۵)
		 ع 		     بقسم کہتے ہیں شاہان صریفین وحریم

کہ ہوا ہے نہ ولی ہو کوئی ہمتا تیرا۲؂
 (۲؂حدائق بخشش فصل سوم درحسن مفاخرت از سرکار قادریت رضی اللہ عنہ مکتبہ رضویہ آرام باغ کراچی ص۶)
حدیث نہم: (قال رفع اللہ تعالٰی کتابہ فی علیین) اخبرنا الشیخ ابو المحاسن یوسف بن احمد البصری عقال سمعت الشیخ العالم اباطالب عبدالرحمٰن بن محمد الہاشمی الواسطی قال سمعت الشیخ القدوۃ جمال الدین ابا محمد بن عبدالبصری  بھا یقول وقد سئل عن الخضر علیہ الصلوٰۃ والسلام أحی ھو ام میت قال اجتمعت بابی العباس الخضر علیہ الصلوٰۃ والسلام وقلت اخبرنی عن حال الشیخ عبدالقادرقال ھو فرد الاحباب وقطب الاولیاء فی ھذا الوقت وما واللہ تعالٰی ولیا الی مقام الاوکان الشیخ عبدالقادر اعلاہٗ ولا سقی اللہ حبیبًاکأسامن حبہ الا وکان للشیخ عبدالقادراھناہ ، ولا وھب اللہ لمقرب حالا الا وکان الشیخ عبدالقادر اجلہٗ ، وقد اودعہ اللہ تعالٰی سرامن اسرارہ سبق بہ جمہور الاولیاء وما اتخذاللہ ولیا کان اول یکون الا وھو متأدب معہ الٰی یوم القیٰمۃ ۱؂۔
مصنف(اللہ تعالٰی اس کے نامۂ اعمال کو علیین میں بلند  کرے) نے کہاکہ  ہم کو شیخ ابوالمحاسن یوسف بن احمد بصری نے خبر دی کہ میں نے شیخ ابوطالب عبدالرحمن بن محمد ہاشمی واسطی سے سنا کہتے تھے میں نے شیخ امام جمال الملۃ والدین حضرت ابو محمد بن عبدبصر ی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے بصرہ میں سنا، ان سے سوال ہوا تھا کہ حضرت خضر علیہ الصلوٰۃ والسلام زندہ ہیں یا انتقال ہوا ؟ فرمایا : میں حضرت خضر علیہ الصلوٰۃ والسلام سے ملا اورعرض کی : مجھے حضرت شیخ عبدالقادر کے حال سے خبر دیجئے ۔ حضرت خضر نے فرمایا : وہ آج تمام محبوبوں میں یکتا اورتمام اولیاء کے قطب ہیں اللہ تعالٰی نے کسی ولی کوکسی مقام تک نہ پہنچایا جس سے اعلٰی مقام شیخ عبدالقادر کو نہ دیا ہو نہ کسی حبیب کو اپنا جام  محبت پلایا جس سے خوشگوار ترشیخ عبدالقادر نے نہ پیا ہو ، نہ کسی مقرب کو کوئی حال بخشاکہ شیخ عبدالقادر اس سے بزرگ تر نہ ہوں۔ اللہ نے ان میں اپنا وہ راز ودیعت رکھاہے جس سے وہ جمہوراولیاء پر سبقت لے گئے ، اللہ نے جتنوں کو ولایت دی اورجتنوں کو قیامت تک دے سب شیخ عبدالقادر کے حضور ادب کئے ہوئے ہیں۔
 (۱؂بہجۃ الاسرارذکر الشیخ ابو محمد القاسم بن عبدالبصری مصطفٰی البابی مصر ص۱۷۳)
		ع		جو ولی قبل تھے یا بعد ہوئے یا ہوں گے

سب ادب رکھتے ہیں دل میں مرے آقا تیرا۲؂
 (۲؂حدائق بخشش وصل سوم درحسن مفاخرت سرکار قادریت رضی اللہ عنہ مکتبہ رضویہ آرام باغ کراچی ص۶)
Flag Counter