Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۸ (کتاب الشتّٰی)
70 - 135
حدیث سوم: اخبرنا الشیخ الصالح ابوحفص عمر بن ابی المعالی نصر بن محمد ابن احمد القرشی الھا شمی الطفسونجی المولد والدارالشافعی قال : اخبرنا الشیخ الاصل الصالح ابوعبداللہ محمد بن ابی الشیخ  الصالح ابی حفص عمر بن الشیخ القدوۃ ابی محمد عبدالرحمن الطفسونجی قال : اخبرنا ابوعمر قال : حنا ابی یومًاعنقہ بین اصحابہ بطفسونج وقال : علی رأسی ، فسألناہ فقال: قدقال الشیخ عبدالقادرالاٰن ببغداد: قدمی ھذہ علی رقبۃ کل ولی اللہ ، فأرخناہ عندنا،ثم جاء الخبرمن بغداد انہ قال ذٰلک فی الیوم الذی أرخناہ۱؂۔
ہمیں شیخ صالح ابو حفص عمر بن ابوالمعالی نصر بن محمد بن احمد قرشی ہاشمی طفسونجی شافعی نے خبردی کہ ہم سے شیخ اصل صالح ابوعبداللہ محمد بن ابوالشیخ صالح  ابو حفص عمربن شیخ قدوۃ ابومحمد عبدالرحمن طفسونجی نے حدیث بیان کی کہ ہم سے ابوعمرنے حدیث بیان کی کہ ایک دن طفسونج میں میرے والد نے اپنے مریدوں کے درمیان گردن جھکائی اورکہا کہ میرے سر پر ۔ ہمارے پوچھنے پر فرمایا کہ ابھی شیخ سید عبدالقادر علیہ الرحمۃ نے بغدادمیں فرمایا ہے کہ میرایہ پاؤں ہرولی اللہ کی گردن پر ہے ۔ہم نے اپنے پاس تاریخ نوٹ کرلی پھر بغدادسے خبر موصول ہوئی کہ شیخ عبدالقادرعلیہ الرحمۃ نے بالکل اسی دن یہ اعلان فرمایاتھا جو تاریخ ہم نے نوٹ کر رکھی تھی۔(ت)
 (۱؂بہجۃ الاسرارذکر من حنارأسہ من المشائخ عندماقال ذالک الشیخ الخ مصطفٰی البابی مصرص۱۳)
حدیث چہارم: اخبرنا الفقیہ ابوعلی اسحٰق بن علی بن عبداللہ بن عبدالدائم بن صالح الھمد انی الصوفی الشافعی المحدث قال : اخبرنا الشیخ الجلیل الاصل ابو محمد عبداللطیف ابن الشیخ ابی النجیب عبدالقاہر بن عبداللہ بن محمد بن عبداللہ السھروردی ثم البغدادی الفقیہ الشافعی الصوفی قال : حضرابی ابوالنجیب ببغدادبمجلس  الشیخ عبدالقادر رضی اللہ عنہما، فقال الشیخ عبدالقادرقدمی ھٰذہ علی رقبۃ کل ولی ا للہ، فطأفطأبی رأسہ حتی کادت تبلغ الارض،وقال علی رأسی علی رأسی علی رأسی یقولہا ثلاثا۲؂۔
ہم سے فقیہ ابوعلی اسحاق بن علی بن عبداللہ بن عبدالدائم بن صالح ہمدانی صوفی شافعی محدث نے حدیث بیان کی کہ ہم سے شیخ جلیل الاصل ابو محمد عبداللطیف بن شیخ ابونجیب عبدالقاہر بن عبداللہ بن محمد بن عبداللہ سہروردی ثم بغدادی فقیہ شافعی صوفی نے حدیث بیان کی کہ میرے والد ماجد ابو النجیب بغداد میں شیخ عبدالقادر رضی اللہ تعالٰی عنہ کی مجلس میں حاضر تھے شیخ عبدالقادررضی اللہ تعالٰی عنہ نے مجلس میں فرمایا: میرا یہ قدم ہر ولی اللہ کی گردن پر  ہے ۔ تو میرے والد نے اس حد تک سرجھکایاکہ وہ زمین کے قریب جاپہنچااورتین بارکہا: میرے سر پر ،میرے سرپر، میرے سرپر(عہ) (ت)
عہ: نوٹ: اعلٰی حضرت علیہ ا لرحمۃ نے تصریح فرمائی کہ یہاں ہم بہجۃ الاسرارسے گیارہ حدیثیں ذکرکرینگے مگر حدیث دوم ،سوم اورچہارم تین حدیثیں اصل(فتاوٰی رضویہ قدیم جلد۱۲) میں موجود نہیں ہیں بلکہ انکی  جگہ بیاض چھوڑاہوا ہے ۔ حدیث دوم کی سند کا ابتدائی حصہ اصل میں مذکورہونے کی وجہ سے اس کی نشان دہی ہوگئی مگر حدیث سوم وچہارم کے بارے میں معلوم نہیں ہوسکا کہ وہ کون سی تھیں،تاہم احادیث مذکورہ کے مضمون کو دیکھتے ہوئے حدیث دوم کے متصل بعد والی دو حدیثیں ہم نے بہجۃ الاسرار سےنقل کردی ہیں جن کامضمون کافی حد تک احادیث مذکورہ سے یگانگت رکھتاہے ۔ اس طرح گیارہ احادیث پوری ہوگئیں۔ واللہ تعالٰی اعلم بحقیقۃ الحال۔(مترجم)
 (۲؂بہجۃ الاسرارذکر من حنارأسہ من المشائخ عندماقال ذالک الشیخ الخ مصطفٰی البابی مصرص۱۳و۱۴)
حدیث پنجم: اخبرنا الفقیہ الجلیل ابوغالب رزق اللہ ابن ابی عبداللہ محمد بن یوسف الرقی قال اخبرنا الشیخ الصالح ابواسحٰق ابراھیم الرقی قال اخبرنا منصور قال اخبرنا القدوۃ الشیخ ابوعبداللہ محمد بن ماجد الرقی ح واخبرنا عالیا ابوالفتوح نصراللہ بن یوسف بن خلیل البغدادی المحدث قال اخبرنا الشیخ ابوالعباس احمد بن اسمٰعیل بن حمزۃ الازجی قال اخبرنا الشیخان ابوالمظفر منصوربن المبارک والامام ابو محمد عبداللہ بن ابی الحسن الاصبہانی قالو ا سمعنا السیدالشریف الشیخ القدوۃ ابا سعید القیلوی رضی اللہ تعالٰی عنہ یقول لما قال الشیخ عبدالقاد قدمی ھذہٖ علی رقبۃ کل ولی اللہ تجلی الحق عزوجل علٰی قلبہ وجاء تہ خلعۃ من رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ و سلم علٰی یدطائفۃ من الملٰئکۃ المقربین والبسھا بمحضر من جمیع الاولیاء من تقدم منھم وما تاخر الاحیاء باجسادھم والاموات بارواحھم وکانت الملٰئکۃ ورجال الغیب حافین بمجلسہ واقفین فی الھوأصفوفاحتی استد الافق بھم ولم یبق ولی فی الارض الاحناعنقہ۱؂۔
مصنف قدس سرہٗ نے کہا کہ ہم  سے فقیہ جلیل القدر رزق اللہ بن ابوعبداللہ محمد بن یوسف رقی نے حدیث بیان کی کہ ہم کو شیخ  صالح ابواسحق ابراہیم رقی نے خبر دی کہ ہم کو شیخ امام ابوعبداللہ محمد بن ماجد رقی نے خبردی ۔ نیز ہمیں سند عالی سے ابوالفتح نصراللہ بن یوسف بن خلیل بغدادی محدث نے خبر دی کہ ہم کو شیخ اوالعباس احمد بن اسمٰعیل بن حمزہ ازجّی نے خبر دی کہ ہم کو شیخ ابوالمظفر منصور بن مبارک وامام ابو محمد عبداللہ بن ابی الحسن اصبہانی نے خبردی ان  سب حضرات نے فرمایا کہ ہم نے سید شریف شیخ امام ابو سعید قیلوی رضی اللہ تعالٰی عنہ کو فرماتے سنا کہ جب حضرت شیخ عبدالقادر نے فرمایا کہ میرا یہ پاؤں ہر ولی اللہ کی گردن پر۔ اس وقت اللہ عزوجل نے ا ن کے قلب مبارک پر تجلی فرمائی اورحضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک گروہ ملائکہ مقربین کےہاتھ انکے لیے خلعت بھیجی اورتمام اولیائے اولین وآخرین کا مجمع ہوا ، جو زندہ تھے وہ بدن کے ساتھ حاضر ہوئے اورجو انتقال فرماگئے تھے ان کی ارواح طیبہ آئیں ، ان سب کے سامنے وہ خلعت حضرت غوثیت کو پہنایا گیا ،ملائکہ اوررجال الغیب کا اس وقت ہجوم تھا ہوا میں پَرے باندھے کھڑے تھے ، تمام افق ان سے بھرگیا تھا اور روئے زمین پر کوئی ولی ایسا نہ تھا جس نے گردن نہ جھکادی ہو۔ (ت)
 (۱؂بہجۃ الاسرارذکر اخبارالمشائخ بالکشف عن ہیئۃ الحال حین قال ذٰلک  مصطفٰی البابی مصرص۸و۹)
والحمدللہ رب العالمین۔   ؂
واہ کیا مرتبہ اے غوث ہے بالاتیرا		اونچے اونچوں کے سروں سے قدم اعلٰی تیرا

سربھلا کیا کوئی جانے کہ ہے کیسا تیرا	اولیاء ملتے ہیں آنکھیں وہ ہے تلواتیرا۱؂

تاج فرق عرفا کس کے قدم کوکہئے		سرجسے باج دیں وہ پاؤں ہے کس کاتیرا

گردنیں جھک گئیں سربچھ گئے دل ٹوٹ گئے	     کشف ساق آج کہاں یہ تو قدم تھا تیرا۲؂
 (۱؂و ۲؂حدائق بخشش وصل  دوم درمنقبت آقائے اکرم غوث اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ مکتبہ رضویہ کراچی ص۴ و ۸)
Flag Counter