امام عمر بن عبدالوہات عرضی حلبی نے اپنے نسخہ میں کتاب مبارکہ بہجۃ الاسرار شریف میں لکھا :
قد تتبعتھا فلم اجد فیھا نقلا الاولہ فیہ متابعون وغالب ما اوردہ فیھا نقلہ الیافعی فی اسنی المفاخر وفی نشرالمحاسن وروض الریاحین(عہ)
وشمس الدین الزکی الحلبی ایضا فی کتاب الاشراف و اعظم شیئ نقل عنہ انہ احیی الموتی کاحیائہ الدجاجۃ ولعمری ان ھذہ القصہ نقلھا تاج الدین السبکی ونقل ایضا عن ابن الرفاعی وغیرہ وانّٰی لغبی جاھل حاسد ضیع عمرہ فی فھم ما فی السطور وقنع بذٰلک عن تزکیۃ النفس واقبالھا علی اللہ سبحٰنہ وتعالٰی وان یفھم ما یعطی اللہ سبحٰنہ وتعالٰی اولیاء ہ من التصریف فی الدنیا والاٰخرۃ ولھذا قال الجنید التصدیق بطریقتنا ولایۃ۱۔
یعنی بیشک میں نے اس کتاب بہجۃ الاسرارشریف کو اول تاآخر جانچا تو اس میں کوئی روایت ایسی نہ پائی جسے اورمتعدداصحاب نے روایت نہ کیا ہو اوراس کی اکثر روایتیں امام یافعی نے اسنی المفاخر ونشرالمحاسن وروض الریاحین میں نقل کیں۔ یوں ہی شمس الدین زکی حلبی نے کتاب الاشراف میں اورسب سے بڑی چیز جو بہجہ شریفہ میں نقل کی حضور کا مردے جلاناہے ۔ جیسے وہ مرغ زندہ فرمادیا، اورمجھے اپنی جان کی قسم یہ روایت امام تاج الدین سبکی نے بھی نقل کی،اور یہ کرامت ابن الرفاعی وغیرہ اولیاء سے بھی منقول ہوئی، اورکہاں یہ منصب کسی غبی جاہل حاسد کو جس نے اپنی عمر تحریر سطور کے سمجھنے میں کھوئی اورتزکیہ نفس وتوجہ الی اللہ چھوڑ کر اسی پر بس کی کہ اسے سمجھ سکے جو کچھ تصرفوں کی قدرت اللہ عزوجل نے اپنے محبوبوں کو دنیا وآخرت میں عطافرماتاہے ، اسی لئے سیدنا جنید رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا : ہمارے طریقے کا سچ ماننا بھی ولایت ہے ۔
عہ : یرید تکملتہ ۱۲منہ غفرلہ
(۱حاشیۃ امام عمر بن عبدالوہاب علی ابہجۃ الاسرار)
اقول : بحمداللہ یہ تصدیق ہے امام مصنف قدس سرہٗ کے اس ارشاد کی خطبہ بہجہ کریمہ میں فرمایا کہ :
لخصتہ کتابا مفردامرفوع الاسانید معتمد افیھا علی الصحۃ دون الشذوذ۱۔
یعنی میں نے اس کتاب یکتا کر کے مہذب ومنقح فرمایا اوراس کی سندیں منتہٰی تک پہنچائیں جن میں خاص اس صحت پر اعتماد کیا کہ شذوذسے منزہ ہو،یعنی خالص صحیح ومشہورروایات لیں جن میں نہ ضعیف ہے ، نہ غریب وشاذ۔والحمدللہ رب العالمین۔
امام خاتم الحفاظ جلال الملۃ والدین سیوطی رحمۃ اللہ تعالٰی حسن المحاضرہ فی اخبار مصر والقاہرہ میں فرماتے ہیں:
علی بن یوسف بن جریراللخمی الشطنوفی الامام الاوحد نور الدین ابوالحسن شیخ القراء بالدیارالمصریۃ ولد بالقاھرۃ سنۃ اربع اربعین وستمائۃ وتصدر للاقراء بالجامع الازھر وتکاثرعلیہ الطلبۃ مات فی ذی الحجۃ سنۃ ثلاث عشروسبعمائۃ ۲۔
علی بن یوسف بن جریرلخمی شطنوفی امام یکتانورالدین ابوالحسن دیارمصرمیں شیخ القراء قاہرہ ہیں ۶۴۴ھ میں پیداہوئے ، اورجامع ازہر میں مسند تدریس پرجلوس فرمایا طلبہ کا ہجوم ہوا، ذی الحجہ ۷۱۳ھ میں انتقال فرمایا۔
(۲حسن المحاضرہ فی اخبارمصر والقاہرۃ)
شیخ محقق مولاناعبدالحق محدث دہلوی رحمہ اللہ زبدۃ الآثارمیں فرماتے ہیں :
بہجۃ الاسرارمن تصنیف الشیخ الامام الاجل الفقیہ العالم المقری الاوحد البارع نور الدین ابی الحسن علی بن یوسف الشافعی اللخمی وبینہ وبین الشیخ واسطتان۳۔
بہجۃ الاسرارتصنیف شیخ امام اجل فقیہ عالم مقری یکتا بارع نورالدین ابوالحسن علی بن یوسف شافعی لخمی ان میں اورحضور سیدنا غوث اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ میں دو واسطے ہیں۔
(۳زبدۃ الآثارمقدمۃ الکتاب بکسنگ کمپنی واقع جزیرہ ص۵)
نیز اپنے رسالہ صلاۃ الاسرار میں فرماتے ہیں :
کتاب عزیز بہجۃ الاسرارومعدن الانوار معتبر ومقررومشہور ومذکورست ومصنف آں کتاب از مشاہیر مشائخ وعلماء ست ، میان وے وحضرت شیخ رضی اللہ تعالٰی عنہ دو واسطہ است ومقدم است برامام عبداللہ یافعی رحمۃ اللہ علیہ کہ ایشان نیز از منتسبان سلسلہ ومحبان جناب غوث الاعظم اند۱۔
کتاب عزیز "بہجۃ الاسرار ومعدن الانوار"قابل اعتبار،پختہ اورمشہورومعروف ہے ۔ اس کتاب کے مصنف علیہ الرحمہ مشہور علماء ومشائخ میں سے ہیں۔آپ کے اورسر کارغوث اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ کے درمیان دوواسطے ہیں، آپ امام عبداللہ یافعی علیہ الرحمہ پر مقدم ہیں۔ امام یافعی علیہ الرحمہ بھی سیدنا غوث اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ کے سلسلہ عالیہ سے نسبت رکھنے والوں اورآپ سے محبت رکھنے والوں میں سے ہیں۔(ت)
(۱رسالہ صلوٰۃ الاسرار)
اسی میں ہے :
ایں فقیر درمکہ معظمہ وددرخدمت شیخ اجل اکرم اعدل شیخ عبدالوہاب متقی کہ مرید امام ہمام حضرت شیخ علی متقی قدس اللہ سرہما بودند فرمودند بہجۃ الاسرارکتاب معتبرست، مانزیک ایں زمان مقابلہ کردہ ایم وعادت شریف چناں بودکہ اگرکتابے مفید ونافع باشد مقابلہ می کردند وتصحیح می نمودند دریں وقت کہ فقیر رسید بمقابلۂ بہجۃ الاسرارمشغول بودند۲۔
یہ فقیر مکہ مکرمہ میں انتہائی جلالت ، کرم اورعدل کے مالک شیخ عبدالوہا ب متقی کی خدمت اقدس میں حاضرتھا جو امام ہمام حضرت شیخ علی متقی قدس اللہ سرہ کے مرید ہیں ، آپ نے ارشاد فرمایا کہ "بہجۃ الاسرار"ہمارے نزدیک معتبر کتاب ہے جس کا ہم نے حال ہی میں مقابلہ کیا ہے ۔ آپ کی عادت شریف یہ تھی کہ اگر کوئی کتاب فائدہ مند اورنفع بخش ہوتی تو اس کا مقابلہ کرتے اورتصحیح فرماتے تھے ،جس وقت یہ فقیر وہاں پہنچا توآپ بہجۃ الاسرارکے مقابلہ میں مصروف تھے۔(ت) (۲رسالہ صلوٰۃ الاسرار)
الحمدللہ ان عبارات ائمہ واکابر سے واضح ہوا کہ امام ابوالحسن علی نورالدین مصنف کتاب مستطاب بہجۃ الاسرارامام اجل امام یکتا محقق بارع فقیہ شیخ القراء منجملہ مشاہیر مشاءخ علماء ہیں،اوریہ کتاب مستطاب معتبر ومتعمد کہ اکابر ائمہ نے اس سے استناد کیااورکتب حدیث کی طرح اس کی اجازتیں دیں۔ کتب مناقب سرکارغوثیت میں باعتبارعلو اسانید اس کا وہ مرتبہ ہے جو کتب حدیث میں موطائے امام مالک کا۔اورکتب مناقب اولیاء میں باعتبارصحت اسانیداس کا وہ مرتبہ ہے جو کتب حدیث میں صحیح بخاری کا ،بلکہ صحاح میں بعض شاذ بھی ہوتی ہیں اور اس میں کوئی حدیث شاذبھی نہیں ،امام بخاری نے صرف صحت کا التزام کیا اوران امام جلیل نے صحت وعدم شذوذدونوں کا ، اوربشہادت علامہ عمر حلبی وہ التزام تام ہوا کہ اس کی ہر حدیث کے لئے متعددمتابع موجودہیں والحمدللہ رب العالمین ایسے امام اجل اوحد نےایسی کتاب جلیل معتمد میں جو احادیث صحیحہ اس باب میںروایت فرمائیں ہیں یہاں عدد مبارک قادریت سے تبرک کے لئے ان سے گیارہ حدیثیں ذکر کر کے باذنہٖ تعالٰی برکات دارین لیں وباللہ التوفیق۔
حدیث اول: قال رضی اللہ تعالٰی عنہ اخبرنا ابومحمدسالم بن علی الدمیاطی قال اخبرنا الاشیاخ الصلحاء قداۃ العراق الشیخ ابو طاھربن احمد الصرصری والشیخ ابوالحسن الخفاف البغدادی والشیخ ابو حفص عمر البریدی والشیخ ابوالقاسم عمر الدردانی والیشخ ابوالولید زید بن سعید والشیخ ابو عمر وعثمٰن بن سلیمٰن قالوا اخبرنا( الشیخان) ابوالفرج عبدالرحیم وابوالحسن علی ابنا اخت الشیخ القدوۃ احمد الرفاعی رضی اللہ تعالٰی عنہ ، قالا کنا عند شیخنا الشیخ احمد بن الرفاعی بزاویتہ بام عبیدۃ فمد عنقہ وقال علی رقبتی، فسئلناہ عن ذٰلک فقال قد قال الشیخ عبدالقادر الآن بغداد قدمی ھذہٖ علی رقبۃ کل ولی اللہ۱۔
مصنف رضی اللہ تعالٰی عنہ نے کہا کہ ہم سے ابو محمد سالم بن علی دمیاطی نے حدیث بیان کی،کہا ہم کو چھ مشائخ کرام پیشوا یان عراق حضرت ابو طاہر صرصری وابوالحسن خفاف وابوحفص بریدی وابوالقاسم عمر و ابوالید زید وابوعمرو عثمان بن سلیمان نے خبردی ان سب نے فرمایا کہ ہم کو حضرت سید ی احمد رفاعی رضی اللہ تعالٰی عنہ کے دونوں بھانجوں حضرت ابوالفرج عبدالرحیم وابوالحسن علی نے خبردی کہ ہم اپنے شیخ حضرت رفاعی رضی اللہ تعالٰی عنہ کے پاس ان کی خانقاہ مبارک میں میں ام عبیدہ میں ہے حاضر تھے حضرت رفاعی نے اپنی گردن مبارک بڑھائی اور فرمایا: علی رقبتی میر ی گردن پر۔ ہم نے ا س کا سبب پوچھا،فرمایا: اسی وقت حضرت شیخ عبدالقادرنے بغداد میں فرمایا ہے کہ میرا یہ پاؤں تمام اولیاء اللہ کی گردن پر۔
(۱بہجۃ الاسرارذکر من حنارأاسہ من المشایخ عند ما قال ذلک الشیخ الخ مصطفی البابی مصر ص۱۳)
حدیث دوم : (قال قدس سرہ)اخبرنا الشریف الجلیل ابوعبداللہ محمد بن الخضربن عبداللہ بن یحیٰی بن محمد الحسینی الموصلی قال : اخبرنا ابوالفرج عبدالمحسن ویسمّٰی حسن ابن محمد بن احمد بن الدویرۃ المقری الحنبلی البصری قال: قال الشیخ ابوبکر عتیق بن ابی الفضل محمد بن عثمٰن بن ابی الفضل البند لجی الاصل البغدادی المولد والداروالازجی المعروف بمعتوق زرت الشیخ سید احمد بن ابی الحسن الرفاعی رضی اللہ عنہ بام عبیدۃ فسمعت اکابر اصحابہ وقدماء مریدیہ یقولون :کان الشیخ یوماًجالسًا فی ھذا الموضع ، فحنارأسہ وقال: علی رقبتی،فسألوہ عن ذٰلک فقال : قد قال الشیخ عبدالقادر الاٰن ببغداد : قدمی ھذہ علٰی رقبۃ کل ولی اللہ ، فارخنا ذٰلک الوقت فکان کما قال فی ذٰلک الوقت بعینہ۱۔
مصنف قدس سرہٗ نے کہا کہ ہم سے شریف جلیل ابو عبداللہ محمد بن خضر بن عبداللہ بن یحیٰی بن محمد حسینی موصلی نے حدیث بیان کی کہ ہم کو شیخ ابوالفرج عبدالمحسن حسن بن محد بن احمد بن دویرہ مقری حنبلی نے خبر دی کہ شیخ ابو بکر عتیق بن ابوالفضل محمد بن عثمٰن ابوالفضل بندلجی الاصل بغدادی المولدازجی المعروف بہ معتوق نے کہا کہ میں نے شیخ احمد بن ابوالحسن رفاعی رضی اللہ عنہ کی ام عبیدہ میں زیارت کی تو میں نے آپ کے اکابر اصحاب اورقدیم مریدوں کو کہتے ہوئے سنا کہ آج شیخ اس جگہ (برآمدے کی طرف انہوں نے اشارہ کیا) تشریف فرماتھے کہ اپنا سرجھکادیا اورفرمایا کہ میری گردن پر۔ جب آپ سے لوگوں نے اس کے بارے میں پوچھا و فرمایا کہ ابھی ابھی بغداد میں شیخ سید عبدالقادررضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا ہے : میرا یہ پاؤں ہر ولی اللہ کی گردن پر ہے ۔ہم نے اس تاریخ کو محفوظ رکھا تو جیسا آپ نے کہا بعینہٖ وہ اسی وقت رونما ہوا تھا۔(ت)
(۱بہجۃ الاسرارذکر من حنارأسہ من المشائخ عند ما قال ذٰلک الشیخ الخ مصطفٰی البابی مصر۱۳)