Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۸ (کتاب الشتّٰی)
68 - 135
رابعًامعاصرت دلیل منافرت ہے اورذہبی ان امام جلیل کے زمانے میں تھے انکی مجلس مبارک میں حاضر ہوئے ہیں باینہمہ انکے مداح ہوئے اوراپنی کتاب طبقات المقرئین میں ان کو الامام الاوحد کےلفظ سے یاد فرمایایعنی امام یکتا، امام الشان ذہبی کے یہ دولفظ تمام مدائح ومدارج توثیق وتعدیل واعتماد وتعویل کو جامع ہیں فرماتے ہیں :
علی بن یوسف بن جریراللخمی الشطنوفی الامام الاوحد المقری نور الدین شیخ القراء بالدیار المصریۃ ابوالحسن اصلہ من الشام ومولدہ بالقاھرۃ سنۃ اربع واربعین وسستمائۃ وتصدرللاقراء والتدیس بالجامع الازھر وقدر حضرت مجلس اقرائہ واستانست بسمتہ وسکوتہ۱؂۔
علی بن یوسف بن جریرلخمی شطنوفی امام یکتا صاحب تعلیم فرقان حمید تمام بلاد مصر میں شیخ القراء ابوالحسن کنیت انکی اصل شام  سے اورولادت قاہرہ میں ۶۴۴ھ چھ سوچوالیس میں پیداہوئے اورجامع ازہر میں درس وتعلیم کی صدارت فرمائی مین انکی مجلس درس میں حاضر ہوا اورانکی روش وخاموشی سے انس پایا۔
 (۱؂طبقات المقرئین)
امام جلیل عبداللہ بن سعد یافعی قدس سرہ الشریف مرأۃ الجنان میں فرماتے ہیں :
اما کرامتہ رضی اللہ تعالٰی عنہ فخارجۃ عن الحصر وقد ذکرت شیئا منھا فی کتاب نشر المحاسن وقد اخبرنی من ادرکت من اعلام الائمۃ الاکابر ان کرامتہ تواترت وقریب منالتواتر ومعلوم بلااتفاق انہ لم یظھر ظہور کراماتہ لغیرہ من شیوخ الآفاق ، وھا انا اتصر فی ھٰذا الکتاب علی واحدۃ منھا وھی ماروی الشیخ الامام الفقیہ العالم المقری ابوالحسن علی بن یوسف بن جریربن معضاد الشافعی اللخمی فی مناقب الشیخ عبدالقادررضی اللہ تعالٰی عنہ بسندہ من خمس طرق وعن جماعۃ من الشیوخ الجلۃ اعلام الھدی العارفین المقنتین للاقتداء  قالوا جاء ت امرأۃ بولدھا الحدیث۔
یعنی حضور پرنورسید نا غوث اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ کی کرامات شمار سے زیادہ ہیں انہیں سے کچھ ہم نے اپنی کتاب نشر المحاسن میں ذکر کیں اورجتنے مشاہیر اکابر اماموں کے وقت میں نے پائے سب نے مجھے یہی خبر دی کہ سرکار غوثیت کی کرامات متواتر یا قریب تواتر ہیں اوربالاتفاق ثابت ہے کہ تمام جہان کے اولیاء میں کسی سے ایسی کرامتیں ظاہر نہ ہوئیں جیسی حضور پرنورسے ظہور میں آئیں اس کتاب میں ان میں سے صرف ایک ذکر کرتاہوں وہ جسے روایت کیا شیخ امام فقیہ العالم مقری ابوالحسن علی بن یوسف بن جریری بن معضاد شافعی  لخمی نےمناقب حضور غوث اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ (کتاب مستطاب بہجۃ الاسرارشریف)میں اپنی پانچ سندوں سے اورعظیم اولیاء ہدایت کے نشانوں عارفین باللہ کی ایک جماعت(یعنی سید عمران کمیمانی وسیدی عمر زار وسیدی ابوالسعود) مدلل وسیدی ابوالعباس احمد صرصری وامام اجل سیدنا تاج الملۃ والدین ابو بکر عبدالرزاق وسیدی امام ابوعبداللہ محمد بن ابی المعالی بن قائداوانی رضی اللہ تعالٰی عنہم)
وقدخرجت عن حقی فیہ للہ عزوجل ولک
سے کہ ایک بی بی اپنا بیٹا خدمت اقدس سرکارغوثیت میں چھوڑگئیں کہ اس کا دل حضور سے گرویدہ ہے میں اللہ کے لئے اورحضورکےلئے اس پراپنے حقوق سے درگزری ، حضور نے اسے قبول فرما کر مجاہد ے پر لگادیا ایک روز اس کی ماں آئیں دیکھالڑکا بھوک اورشب بیداری سے بہت زار نزار زرد رنگ ہوگیا ہے اوراسے جَوکی روٹی کھاتے دیکھا،جب بارگاہ اقدس میں حاضر ہوئیں دیکھاحضورکے سامنےایک برتن میں مرغی کی ہڈیاں رکھی ہیں جسے حضور نے تناول فرمایا ہے ، عرض کی اے میرے مولی!حضور تو مرغ کھائیں اورمیرا بچہ جَو کی روٹی ۔ یہ سن کرحضور پرنور نےاپنا دست اقدس ان ہڈیوں پر رکھا اور فرمایا :
قومی باذن اللہ تعالٰی الذی یحیی العظام
جی اٹھ اللہ کے حکم سے جو بوسیدہ ہڈیوں کو جِلائے گا۔

یہ فرمانا تھا کہ مرغی فورازندہ صحیح سالم کھڑی ہوکر آواز کرنے لگی ،حضور اقدس نے فرمایا: جب تیرابیٹا ایساہوجائے وہ جوچاہے کھائے۱؂۔
 (۱؂مرأۃ الجنان سنۃ احدی وستین وخمس مائۃ ذکر نسبہ ومولدہ الخ دارالکتب العلمیۃ بیروت۲۶۸/۳)
اورانہیں سب ائمۂ عارفین نے فرمایاکہ ایک بارحضور کی مجلس وعظ پر ایک چیل چِلّاتی ہوئی گزری اس کی آواز سے حاضرین کے دل مشوّش ہوئے حضور نے ہوا کو حکم دیا: اس چیل کا سر لے ۔ فورًاچیل ایک طرف گری اوراس کا سر دوسری طرف۔ پھر حضور نے کرسی وعظ سے اترکر اس چیل کواٹھا کر اس پر دست اقدس پھیرا اوربسم اللہ الرحمن الرحیم کہا فورًا وہ چیل زند ہ ہوکر سب کے سامنے اڑتی چلی گئی۲؂۔ع
قادراقدرت توداری ہرچہ خواہی آں کنی		             مردہ راجانے دہی وزندہ رابے جاں کنی
 (اے قادر!تو قدرت رکھتاہے جوچاہتاہے وہی کرتاہے ، مردہ کو توجان دیتاہے اورزندہ کو بے جان کرتاہے۔ت)
 (۲؂بہجۃ الاسرارفصول من کلامہ مرصعابشئی من عجائب احوالہ مختصرًامصطفی البابی مصرص۶۵)
امام محدث شیخ القراء شمس الملۃ والدین ابوالخیرمحمد محمد محمد ابن الجزری رحمہ اللہ تعالٰی کتاب نہایۃ الدرایات فی اسماء رجال القراء ات میں فرماتے ہیں :
علی بن یوسف بن جریرفضل بن معضاد نورالدین ابوالحسن اللخمی الشطنوفی الشافعی الستاذالمحقق البارع شیخ الدیار المصریۃ ولدبالقاھرۃ سنۃ اربع واربعین وستمائۃ وتصدرللاقراء بالجماع الازھر وتکاثر علیہ الناس الاجل الفوائدوالتحقیق وبلغنی انہ عمل علی الشاطبیۃ شرحاًفلو کان ظھر لکام اجود شروحہا ولہ تعالیق مفیدۃ،قال الذھبی وکان ذاعزام بالشیخ عبدالقادر الجیلی رضی اللہ تعالٰی عنہ جمع اخبارہ ومنا قبہ فی ثلاث مجلدات، قلت وھذا الکتاب موجود بالقاھرۃ بوقف الخانقاہ الصلاحیۃ واخبرنی بہ واجازہ شیخنا الحافظ محی الدین عبدالقادرالحنفی وغیرہ توفی یوم السبت اوان الظھر ودفن یوم الاحدالعشرین من ذی الحجۃ سنۃ ثلاث عشرۃ وسبعمائۃ رحمہ اللہ تعالٰی۱؂۔
یعنی  علی بن یوسف بن جریربن فضل بن معضاد نورالدین ابوالحسن لخمی شطنوفی شافعی استاد محقق بارع یعنی ایسے جلیل فضائل والے کہ انہیں دیکھ کر آدمی حیرت میں رہ جائے ۔ تمام بلادمصر یہ کے شیخ ۶۴۴ھ میں قاہرہ میں پیداہوئے اورجامع ازہر میں مسند درس پرجلوس فرمایا اور ان کے فوائدوتحقیق کے باعث لوگوں کا پرہجوم ہوا اورمجھے خبر پہنچی ہے کہ شاطبیہ مبارکہ پر انکی شرح  ہے اگریہ شرح ملتی تو اس کی سب شرحوں سے بہترین شروح میں ہوتی۔ ان کے حواشی فائدہ بخش ہیں۔ذہبی نے کہا ان کو سرکار غوثیت سے عشق تھا ۔ حضور کے حالات وکمالات تین مجلد میں جمع کئے ہیں۔میں شمس جزری کہتاہوں کہ یہ کتاب قاھرہ میں خانقاہ حضرت صلاح الدین اناراللہ لہ برہانہٗ کے وقف میں موجود ہے ۔ہمارے استاذ حافظ الحدیث محی الدین عبدالقادری حنفی وغیرہ استاذوں نے ہمیں اس کتاب کی روایات کی خبر ومضامین کی اجازت دی۔ حضر ت مصنف کتاب ممدوح کا روز شنبہ وقت ظہر وصال ہوا اور روزیکشنبہ  ذی الحجہ ۷۱۳ھ کو دفن ہوئے رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ۔
 (۱؂نہایۃ الرایات فی اسماء رجال القراء ات)
Flag Counter