جب حضرت سیدرفاعی رضی اللہ تعالٰی عنہ جوا ن ہوئے اورحج کو حاضرہوئے باتباع سرکار غوثیت انہوں نے بھی وہ اشعار عرض کئےاورسرکار کرم کے اس کرم سے مشر ف ہوئے ہوں، بہر حال اس پر وہ فقرۂ تراشیدہ کہ اس وقت حضور قطب العالمین غوث العارفین رضی اللہ تعالٰی عنہ نےحضرت رفیع رفاعی کے ہاتھ پر معاذ اللہ بیعت فرمائی کذب وافتراء خالص ودروغ بیفروغ ہے اوراللہ واحد قہارجھوٹ کو دشمن رکھتا ہے نہ کہ ایسا جھوٹ جس سے زمین آسمان ہل جائیں
قل ھاتوابرھانکم ان کنتم صٰدقین ۱
لاؤاپنی دلیل اگر سچے ہو،
(۱القرآن الکریم ۱۱۱/۲ )
فاذ لم یاتوابالشھداء فاولٰئک عند اللہ ھم الکٰذبون ۲
پھر جب وہ گواہان عادل نہ لاسکے تو جو ایسا دعوٰی کریں اللہ کے نزدیک وہی جھوٹے ہیں ،
(۲القرآن الکریم ۱۳/۲۴)
وقد خاب من افتری۳
خاب وخاسراہوا جس نے افتراء باندھا۔
(۳القرآن الکریم ۶۱/۲۰)
حضرت رفیع ورفاعی کی قطبیت سے کسے انکار ہے ، حضور سیدنا غوث اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ کے وصال اقدس کے بعد حضرت سیدی علی بن ہیتی رضی اللہ تعالٰی عنہ قطب ہوئے ،اورسرکار غوثیت کی عطا سے حضرت خلیل صرصری اپنی موت سے سات دن پہلے مرتبۂ قطبیت پر فائز ہوئے۔ حضرت علی بن ہیتی کا وصال وصال اقدس سرکار غوثیت سے تین سال بعد ۵۶۴ھ میں ہے، پھر حضرت سید رفاعی قطب ہوئےاور۵۷۸ھ میں وصال ہوا۔
بہجہ مبارکہ میں ہے :
الشیخ علی بن الھیتی رضی اللہ تعالٰی عنہ احد من تذکر عنہ القطبیۃ ، سکن بلدۃ من اعمال نھر الملک الٰی ان مات بھاسنۃ اربع وستین وخمسمائۃ ۱۔
جنکی قطیبت کا ذکر کیا جاتاہے ان میں سے ایک شیخ علی بن ہیتی رضی اللہ تعالٰی عنہ ہیں جو نہر الملک کے ایک قریہ میں سکونت پذیرہوئے یہاں تک کہ اسی قریہ میں ۵۶۴ھ میں وصال فرمایا۔(ت)
(۱بہجۃ الاسرارذکر الشیخ علی بن الہیتمی دارالکتب العلمیۃ بیروت ص۲۸۹تا۲۹۴)
اسی میں ہے :
الشیخ احمد بن ابی الحسن الرفاعی احد من تذکر عنہ القطبیۃ، سکن بام عبیدۃ قریۃ بارض البطائح الی ان مات بھا فی سنۃ ثمان وسبعین وخمسمائۃ وقدنا ھذا الثمانین۲۔
جن کی قطبیت کا ذکر کیا جاتاہے ان میں سے ایک شیخ احمد بن ابوالحسن رفاعی ہیں جو سرزمین طبائح کے قریبہ ام عبیدہ میں ساکن تھے اوروہان ہی ۵۷۸ھ میں آپ کا وصال ہوا۔ آپ نے اسی برس کے قریب عمر پائی۔(ت)
(۲بہجۃ الاسرارذکر الشیخ احمد بن ابی الحسن الرفاعی مصطفٰی البابی مصر۲۳۵تا۲۳۷)
اسی میں ہے حضرت شیخ جاگیر مرید جلیل تاج العارفین ابوالوفاء نے حضور سیدنا غوث اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ کی رفعت شان وبے مثلی بیان کر کے فرمایا :
منہ انتقلت القطبیۃ الی سیدی علی الھیتمی رضی اللہ تعالٰی عنہ۳ ۔
ان سے قطبیت میرے سردارشیخ علی بن ہیتی رضی اللہ تعالٰی عنہ کی طر ف منتقل ہوئی۔(ت)
(۳بہجۃ الاسرارذکر الشیخ جاکیر رضی اللہ عنہ مصطفٰی البابی مصر ص۱۶۹)
اسی میں ہے :
اخبرنا الشیخ الشریف ابوجعفرمحمد بن ابی القاسم العلوی الحسنی قال اخبرنا الشیخ العارف ابوالخیر محمد بن محفوظ قال کنت انا (وفلان وفلان عدعشرۃ انفس من طالبی الاٰخرۃ وثلٰثۃ من اھل الدنیا)حاضرین عند شیخنا الشیخ محی الدین عبدالقادر الجیلی رضی اللہ تعالٰی عنہ فقال لیطلب کل منکم حاجۃ اعطیہالہ (فذکر حوائجھم منھا )قال الشیخ خلیل بن الصرصری اریدان الاموت حتی انال مقام القطبیۃ قال فقال الشیخ عبدالقادر رضی اللہ تعالٰی عنہ "کل نمداھٰؤلاء وھٰؤلاء من عطاء ربک وما کان عطاء ربک کان محظورا۔"قال فواللہ لقد نالواکلہم ماطلبوا۱۔
ہمیں شیخ شریف ابو جعفر محمد بن ابوالقاسم علوی حسنی نے بحوالہ شیخ ابوالخیر خبردی کہ ایک روز عارف باللہ محمد بن محفوظ اوردس حضرات اورطالبان آخرت اورتین شخص طالبان وزارت وغیرہا مناصب دنیا حاضر بارگاہ عالم پناہ سرکارغوثیت تھے حضور نے ارشادفرمایا ہر ایک اپنی حاجت عرض کرے میں اسے عطافرماؤں ، سب نے اپنی اپنی دینی ودنیوی مرادیں عرض کیں ، ان میں شیخ خلیل صرصری کی عرض یہ تھی کہ میں اپنی زندگی میں مرتبۂ قطبیت پاؤں۔حضور نے فرمایا "ہم ان کی اورانکی سب کی مدد کرتے ہیں رب کی عطاسے اورتیرے رب کی عطا پر روک نہیں ۔"عارف موصوف فرماتے ہیں خدا کی قسم جس نے جو مانگا تھا پایا۔
اسی میں حضرت سید ابو عمروعثمٰن بن یوسف وحضرت علی بن سلیمٰن خباز وحضرت ابو الغیث ابن جمیل یمنی رضی اللہ تعالٰی عنہم سے ہے کہ ان سب نے فرمایا :
قطب الشیخ خلیل الصرصری رحمہ اللہ تعالٰی قبل موتہ بسبعۃ ایام۲۔
حضرت خلیل صرصری اپنی موت سے سات دن پہلے قطب کئے گئے۔
(۲بہجۃ الاسرارذکر فصول من کالمہ مرصعابشئی من عجائب اھوالہٖ مختصراً مصطفٰی البابی مصر۳۲)
یہ قطبیت بمعنی غوثیت ہے اوراقطاب اصحاب خدمت کو بھی کہتے ہیں جو ہر شہر وہر لشکر میں ہیں شک نہیں کہ ہر غوث اپنے دورہ میں ان سب اقطاب کا افسر وسرور ہے کہ وہ تمام اولیائے دورہ کا سردار ہوتاہے تو اس معنٰی پر ہر قط یعنی غوث قطب الاقطاب ہے بلکہ غوث کے نیچے جو عہد ہ داران تمام اصحاب خدمت کا افسر ہوبایں معنی قطب الاقطاب ہے، مگر قطب الاقطاب بمعنی اول یعنی غوث الاغواث کہ دوروں کے غوثوں کا غوث ہو، غوثوں کو غوثیت اس کی عطا سے ملیت ہو اورغوث اپنے اپنے دورے میں اس کی نیابت سے غوثیت کر تے ہوں وہ سیدنا امام حسن رضی اللہ تعالٰی عنہ کے بعد حضور پر نور محی الشریعۃ والطریقۃ والحقیقۃ والدین ابومحمد ولی الاولیاء ، امام الافراد ،غوث الاغواث، غوث الثقلین ،غوث الکل ،غوث اعظم سید شیخ عبدالقادر حسنی حسینی جیلانی رضی اللہ تعالٰی عنہ ہیں اور تاظہور سیدنا امام مہدی رضی اللہ تعالٰی عنہ یہ مرتبہ عظمٰی اسی سرکارغوثیت بار کےلئے رہے گا۔ حضرت رفاعی اور ان کے امثال قبل وبعد کے قطبوں کو حضور پر تفضیل دینی ہوس باطل ونقصان دینی ہے ، والعیاذباللہ تعالٰی۔ اس کے بیان کو ہم چند احادیث مرفوعۃ الاسانید امام اجل اوحدسیدی نورالملۃ والدین ابوالحسن علی شطنوفی قدس سرہٗ الشریف کی کتاب مستطاب بہجۃ الاسرار معدن الانوارسے ذکر کرتے یہں اوراس سے پہلے اتنا واضح کردیں کہ یہ امام جلیل صرف دو واسطہ سے حضور سرکارغوثیت کے مستفیضین بارگاہ میں ہیں ان کو محدث جلیل القدر ابوبکر محمد ابن امام حافظ تقی الدین انماطی سے تلمذ ہے ان کو امام اجل شہیر علامہ موفق الدین ابن قدامہ مقدسی سے ان کو حضور قطب الاقطاب غوث الاغواث غوث الثقلین غوث اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ سے ، نیز ان کو امام قاضی القجاۃ محدم ابن امام ابراہم بن عبدالواحد مقدسی سے ان کو امام ابوالقاسم ہبۃ اللہ بن منصور نقیب السادات سے ان کو حضور سید السادات سے ، نیز ان کو شیخ جنید ابو محمد حسن بن علی لخمی سے ان کو ابو العباس احمد بن علی دمشقی سے ان کو سرکارغوثیت سے ، نیز ان کو امام صفی الدین خلیل بن ابی بکر مراعی وامام عبدالواحد بن علی بن احمد قرشی سے ان دونوں کو امام اجل بو نصر موسٰی سے ان کو اپنے والد ماجد حضور سید نا غوث اعظم سے،رضی اللہ تعالٰی عنہم اجمعین، اوان کے سوا اوربہت طرق سے ان امام جلیل کی سند حضور تک ثنائی یعنی صرف دو واسطہ سے ہے ، ۷۱۳ھ میں ان کاوصال شریف ہے ،اکابراجلاء نے انہیں امام مانا یہاں تک کہ امام فن رجال شمس ذہبی نے بآنکہ اولاً ان کی نگاہ دربارۂ رجال کس درجہ بلندودشوار پسند واقع ہوئی ہے۔
ثانیاً انہیں حضرات صوفیہ کرام رضی اللہ تعالٰی عنہم اورانکےعلوم الہٰیہ سے بہت کم عقیدت بلکہ تقریباً بلاکلیہ مجانبت ہے۔
ثالثاً اشاعرہ کےساتھ انکا برتاؤمعلوم ہے خود انکے تلمیذ اجل امام تاج الدین سبکی ابن امام اجل برکۃ الانام تقی الملۃ والدین علی بن عبدالکافی قدس رہما نے تصریح فرمائی کہ
شیخنا الذھبی اذا مر باشعری لایبقی ولا یذرا(۱)
ہمارے استاذذہبی جب کسی اشعری پرگزرتے ہیں تولگی نہیں رکھتےکچھ باقی نہیں چھوڑتے۔ اورامام اجل صاحب بہجہ اشعری ہی ہیں۔