Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۸ (کتاب الشتّٰی)
66 - 135
رسالہ

طردالافاعی عن حمی ھادٍ رفع الرفاعی(۱۳۳۶ھ)

(سانپوں (موذیوں)کو دورکرنا اس ہادی کی بارگاہ سے جس نے امام رفاعی کورفعت بخشی)
بسم اللہ الرحمن الرحیم

مسئلہ ۱۱ : از بڑوہ ملک گجرات محلہ راجپورہ متصل مانڈوی مرسلہ میاں محمد عثمان ولد عبدالقادر۲۶شوال ۱۳۳۶ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زیدکہتاہے کہ جناب قطب الاقطاب غوث الثقلین میراں محی الدین ابو محمد سید عبدالقادرجیلانی قدس سرہ اپنے وقت میں غوث یا قطب الاقطاب نہیں تھے بلکہ سیدنا احمد کبیر رفاعی رحمۃ اللہ علیہ قطب الاقطاب اورغوث الثقلین تھے اورجناب سید عبدالقادر جیلانی نے جناب سید احمد کبیر رفاعی سے مدینہ منورہ میں چند اولیاء کےہمراہ بیعت کی ہے یہ بیعت اس وقت ہوئی کہ جب سید احمدکبیر رفاعی کے لئے مزارانورسے دست مبارک نکلاتھا ، اوراکثر عرب میں سید عبدالقادرجیلانی کو مرقومۂ  بالاصفتوں سے کوئی نہیں مانتا، ہاں سید احمد  کبیررفاعی کومانتے ہیں۔ عمروکہتاہے کہ سیدنا احمدکبیر رفاعی کی ولایت اورقطبیت میں ہمیں بالکل کلام نہیں، مگر ان کی تفضیل سیدنا جناب سید عبدالقادرجیلانی قدس سرہٗ پر نہیں ہوسکتی، اورمدینہ منورہ کی بیعت کا کسی جگہ ثبوت نہیں ملتا،اوراکثر عرب سید عبدالقادرجیلانی قدس سرہ کی بہت قدرومنزلت کرتے ہیں اور قطب الاقطاب وغوث الثقلین کی صفتیں حضرت پیران پیر صاحب ہی پر برتی جاتی ہیں۔

اس مضمون پڑودہ میں خفیہ خفیہ بحثیں ہوا کرتی ہیں ، زید کے پیر مرحوم بڑودہ کے رفاعی خاندان کے سجادہ نشین تھے چند روز ہوئے انتقال ہوگیا ہے ، یہ انہیں کی تحریک  وتحریص کا نتیجہ ہے ۔ ہم مستفسر نیچے دستخط کرنے والے نہایت ادب سے عرض کرتے ہیں کہ سید احمد کبیر اور سید عبدالقادر میں قطب الاقطاب  اورغوث اعظم کون ہے ، اورعلمائے ماسلف وحال کس کو مانتے ہیں۔

دوسرے مدینہ منورہ کی بیعت کا اورغوث پاک کی نسبت عقائد اہل عرب کا وافی وکافی ثبوت کتب معتبرہ سے تحریر فرما کرمرہون منت فرمائیں ، آپ کے فتوے کے آنے کے بعد ان شاء اللہ اندرونی تقسیم کابہت سہولت سے فیصلہ ہوجائے گااوریہ ابتدائی مواد بڑھ کر مرض مہلک تک نہ پہنچے گا۔

محمدعثمٰن ولد عبدالقادربقلم خود ، منشی سید قطب الدین، عظیم الدین بقلم خود ، چھوٹے خاں،امام خان بقلم خود،ننھے بھائی، رسول بھائی دستخط خود۔
الجواب

بسم اللہ الرحمن الرحیم

نحمدہ ونصلی علی رسول الکریم

اللہ عزوجل فرماتاہے :
قل ان الفضل بیداللہ یؤتیہ من یشاء۱؂۔
تم فرمادوکہ فضیلت اللہ کے ہاتھ ہے جسے چاہے عطافرماتاہے ۔
 (۱؂القرآن الکریم۷۳/۳)
اس آیہ کریمہ سے مسلمان کو دو ہدایتیں ہوئیں۔

ایک یہ کہ مقبولات بارگاہ احدیت میں اپنی طرف سے ایک کو افضل دوسرے کو مفضول نہ بتائے کہ فضل تو اللہ تعالٰی کے ہاتھ ہے جسے چاہے عطافرمائے۔

دوسرے یہ کہ جب دلیل مقبول سے ایک کی افضلیت ثابت ہوتو نفس کی خواہش اپنے ذاتی علاقہ نسب یا نسبت شاگردی یا مریدی وغیرہ کو اصلاً دخل نہ دے کہ فضل ہمارے ہاتھ نہیں کہ اپنے آباواساتذہ ومشائخ کو اوروں سے افضل ہی کریں جسے خدا نے افضل کیا وہی افضل ہے اگرچہ ہمارا ذاتی علاقہ اس سے کچھ نہ ہو اورجسے مفضول کیاوہی مفضول ہے اگرچہ ہمارے سب علاقے اس سے ہوں ۔ یہ اسلامی شان ہے مسلمان کو اسی پر  عمل چاہئے ، اکابرخود رضائے الہٰی میں فنا تھے جسے اللہ عزوجل نےان سے افضل کیا ،کیا وہ اس پر خوش ہوں گے  کہ ہمارے متوسل ہمیں اس افضل بتائے ۔حاش للہ ! وہ سب سے پہلے اس پر ناراض اور سخت غضبناک ہوں گے  تو اس سے کیا فائدہ کہ اللہ عزوجل کی عطا کا بھی خلاف کیا جائے اوراپنے اکابر کو بھی ناراض کیاجائے۔ حضرت عظیم البرکۃ سیدنا سید احمد کیبر رفاعی قدسنا اللہ بسرہ الکریم بیشک اکابر اولیاء واعاظم محبوبان خدا سے ہیں، امام اجل اوحد سید ی ابوالحسن علی بن یوسف نورالملۃ والدین لخمی شطنوفی قدس سرہ العزیز کتاب مستطاب بہجۃ الاسرارشریف میں فرماتے ہیں :
الشیخ احمد بن ابی الحسن الرفاعی رضی اللہ تعالٰی عنہ ھٰذاالشیخ من اعیان مشائخ العراق واجلاء العارفین وعظماء المحققین وصدار المقربین صاحب المقامات العلیۃ والجلالۃ العظیمۃ والکرامات الجلیلۃ والاھوال السنیۃ والافعال الخارقۃ والانفاس الصادقۃ صاحب الفتح الموفق والکشف المشرق والقلب الانوار والسراالظھر والقدرالاکبر۱؂۔
یعنی حضرت سیدی احمد رفاعی رضی اللہ تعالٰی عنہ سردار ان مشائخ واکابر عارفین واعاظم محققین وافسران مقربین سے ہیں جن کے مقامات بلند اورعظمت رفیع اورکرامتیں جلیل اوراحوال روشن اورافعال خارق عادات اورانفاس سچے عجیب فتح اورچمکا دینے والے کشف اورنہایت نورانی دل اورظاہر ترسر اوربزرگ ترمرتبہ والے۔
 (۱؂بہجۃ الاسرارومعدن الانوار الشیخ احمد بن ابی الحسن الرفاعی مصطفی البابی مصر ص۲۳۵)
یوں ہی دو ورق میں اس جناب رفعت قباب کے مراتب عالیہ ومناقب سامیہ وکرامات بدیعہ وفضائل رفیعہ ذکر فرماتے ہیں ۔ حضرت ممدوح قدس سرہ الشریف کا روضۂ انور سید اطہر صلی اللہ علیہ وسلم پر حاضر ہونا اوریہ اشعار عرض کرناہے:  ؂
فی حالۃ البعدروحی کنت ارسلھا                  		تقبل الارض عنی وھی نائبتی

وھٰذہ دولۃ الاشباح قدحضرت		             	فامددیمینک کی تحظی بھا شفتی۲؂
(زمانۂ دوری میں میں اپنی روح کو حاضر کرتاتھا وہ میری طرف سے زمین بوسی کرتی ، اب جسم کی نوت ہے کہ حاضر بارگاہ ہے حضور دست مبارک بڑھائیں کہ میری لب سعادت پائیں۔)
 (۲؂الحادی للفتاوٰی تنویرالحلک فی امکان رؤیۃ النبی والملک دارالکتب العلمیۃ بیروت۲۶۱/۲)
اس پر حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کا دست مبارک روضۂ انور سے باہرکرنا اورحضرت احمد رفاعی کااس کے بوسہ سے مشرف ہونا مشہور وماثورہے ،
تنویر الحلک فی امکان رؤیۃ النبی والملک للامام الجلیل السیوطی میں ہے  :
لما وقف سید احمد الرفاعی تجاہ الحجرۃ الشریفۃ قال:  ؂

فی حالۃ البعدروحی کنت ارسلہا	تقبل الارض عنی وھی نائبتی

وھذہ دولۃ الاشباح قدحضرت 	       فامد دیمینک کی تحظی بھا شفتی

فخرجت الیہ الید الشریفۃ فقبلہا۱؂۔
جب میرے سرداراحمد رفاعی حجرہ شریفہ کے سامنے کھڑے ہوئے تو یوں کہا: جب میں دور ہوتاتو اپنی روح کو بھیجتاتھا جو میری نائب ہوکر میری طرف سے زمین بوسی کرتی تھی ،یہ زیارت کا وقت ہے میں خود حاضرہوا ہوں اپنا دست اقدس بڑھائیں تاکہ میری ہونٹ دست بوسی کی سعادت پائیں ۔ چنانچہ حضورانور صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ مبارک آپ کی طرف نکلا جس کو آپ نے چوما۔(ت)
 (۱؂الحاوی للفتاوٰی تنویر الحلک فی امکان رؤیۃ النبی والملک دارالکتب العلمیہ بیروت ۲۶۱/۲)
اوربعینہٖ یہی کرامت جلیلہ حضور پرنور سید نا غوث اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ کے لئے بھی مذکورومزبورہے۔کتاب تفریح الخاطر مناقب الشیخ عبدالقادر میں ہے  :
ذکرو ا ان الغوث الاعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ جاء مرۃ الی المدینۃ المنورہ وقرأبقرب الحجرۃ الشریفہ ھٰذین البیتین (فذکرھما کما مر وقال)فظھرت یدہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فصافحہا ووضعھا علی رأسہ رضی اللہ تعالٰی عنہ۲؂۔
یعنی راویوں نے ذکر کیا کہ حضور سیدنا غوث اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہم نے ایک بار حاضر سرکارمدینۂ نور بار ہوکرروضۂ انور کے قریب وہ دونوں شعر پڑھے اس پر حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا دست انور ظاہر ہوا حضرت غوث نے مصافحہ کیا اوربوسہ لیااوراپنے سر مبارک پر رکھا۔
 (۲؂تفریح الخاطر مترجم معہ اصل عربی متن المنقبۃ الثانیۃ والعشرون سنی دارالاشاعت فیصل آبادص۵۶و۵۷)
اورتعددسے کوئی مانع نہیں حضورسرکارغوثیت نے پہلاحج ۵۰۹ھ(پانسونوہجری)میں فرمایا ہے جب عمر شریف اڑتیس ۳۸سال تھی، حضور سیدی عدی بن مسافر رضی اللہ تعالٰی عنہ اس سفر میں ہم رکاب تھے حضرت سید احمد رفاعی رضی اللہ تعالٰی عنہ اس وقت ام عبیدہ میں خوردسال تھے حضر ت کو گیارہواں(عہ) سال تھا،ممکن کہ اس بار حضور سرکارغوثیت نے یہ اشعار بارگہ عرش جاہ  میں عرض کئے اورظہوردست اقدس وبوسہ مصافحہ سےمشرف ہوئے ہوں۔
عہ : ابن خلکا کی روایت میں چند مہینے ہی کے تھے زیادہ سے زیادہ ، یا ابھی پیدا بھی نہ ہوئے تھے۔

حیث قال احمد بن ابی  الحسن المعروف بابن الرفاعی توفی یوم الخمیس الثانی والعشرین من جمادی الاولٰی سنۃ ثمان وسبعین وخسمائۃ بام عبیدۃ وھو فی عشرالسبعین رحمۃ اللہ تعالٰی۴؂۔

اس نے کہا کہ احمد ابن ابوالحسن جو کہ ابن رفاعی کے نام سے مشہور ہیں ، کا وصال ۲۲جمادی الاولٰی ۵۷۸ھ بروزجمعرات ام عبیدہ کے مقام پر ہوا، چنانچہ آپ ستر کی دہائی میں فوت ہوئے رحمہ اللہ تعالٰی۔(ت)

مگر بروایت بہجۃ الاسرار  عنقریب آتی ہے اس پر ؁۵۰۹ھ میں سات آٹھ برس کے ہونگے انتہا  درجہ دس سال ۱۰ کے ۔ واللہ تعالٰی اعلم ۔
 (۴؂وفیات الاعیان ترجمہ ۷۰ ابن الرفاعی دارالثقافت بیروت۱۷۲/۱)
Flag Counter