المسألۃ السابعۃ : قال المحقق فی الفتح یحرم فی الخطبۃ الکلام و ان کان امرًابمعروف اوتسبیحاًوالاکل والشرب والکتابۃ (الٰی ان قال)ھذا کلہ اذا کان قریباًبحث یسمع فان کان بعیدًابحیث لایسمع اختلف المتأخرون فیہ فمحمد بن مسلمۃ اختارالسکوت ونصیر بن یحیٰی اختارالقراءۃ ۲الخ۔
مسئلہ۷: محقق ابن ہمام نے فتح القدیرمیں ارشادفرمایا :خطبہ کی حالت میں کلام منع ہے گوامربالمعروف ہی کیوں نہ ہو، یونہی تسبیح یا کھانا پینا اورکتابت سبھی منع ہے (الٰی ان قال) یہ احکام اس وقت ہیں کہ مقتدی امام کے اتنا قریب ہوکہ امام کی آواز سن رہا ہو، اوراگر دورہوکہ امام کی آوازنہیں سن رہا تو متاخرین نے اس بارے میں اختلاف کیاہے ، حضرت محمد ابن مسلمہ سکوت پسند کرتے ہیں اورنصیرالدین یحیٰی قراء ت پسند کرتے ہیں ۔
(۲فتح القدیر کتاب الصلٰوۃ باب صلٰوۃ الجمعۃ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۲ /۳۷،۳۸)
المسألۃ الثامنۃ : فی الہندیۃ من تکبیرات العیدین عن المحیط عن محمد یری تکبیر ابن مسعود فکبر الامام غیرذٰلک اتبع الامام الاذاکبرالامام تکبیرًالم یکبرہ احدمن الفقہاء ۳اھ (ثم نقل عن البدائع )لکن ھذا اذا کان بقرب الامام یسمع الکبیرات منہ فاما اذاکان یبعد منہ یسمع من المکبرین یاتی بجمیع مایسمع وان خرج من اقاویل الصحابۃ رضی اللہ تعالٰی عنھم لجوازان الغلط من امکبرین فلو ترک شیئامنہا ربما کان المتروک ما اتی بہ الامام۱۔
مسئلہ۸: عالمگیری کے باب تکبیرات عیدین میں ہے کہ "امام محمد رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نماز عید میں تکبیرات زوائدکے بارے میں حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ کے قول کو پسند کرتے تھے (یعنی چھ زائد تکبیریں )امام اگر اس کے علاوہ اتنی تکبیریں کہے جو کسی فقیہ کا مذہب نہ ہوتو مقتدی امام کی پیروی نہ کرے ۔" پھر بدائع سے نقل کیا"یہ اس وقت ہے جب مقتدی امام کے قریب ہو کہ خود اس کی آواز سن رہا ہو ، اوراتنی دور ہوکہ خود اس کی نہ سنتا ہو، بلکہ مکبروں سے سن کر اداکرتاہوتو جتنی سنے سب ہی اداکرے اگرچہ وہ اقوال صحابہ سے بھی باہر ہو، کیونکہ غلطی کا امکان مکبروں کی طرف سے بھی ہے ، و کچھ تکبیریں چھوڑنے ٰمیں خطرہ یہ ہے کہ کہیں امام کی کہی ہوئی تکبیریں ہی نہ چھوٹ گئی ہوں۔ "
(۳ و ۱ الفتاوی الھندیۃ کتاب الصلٰوۃ الباب السابع عشر نورانی کتب خانہ پشاور ۱۵۱/۱)
المسألۃ التاسعۃ : فی جمعۃ البحرالرائق ذکر فی المضمر اتقال الشیخ الاجل الامام حسام الدین تجب علٰی اھل المواضع القریبۃ الی البلدالتی ھی توابع العمران الذین یسمعون الاذان علی المنارۃ باعلی الصوت۲۔
مسئلہ ۹: بحرالرائق کے باب الجمعہ میں ہے : "مضمرات میں ذکر کیا کہ شیخ امام اجل حسام الدین نے فرمایا کہ جمعہ شہر سے قریب والے مواضع کے باشندوں پر واجب ہے جو اتنے قریب ہوں کہ منارہ پر بلند آواز سے اذان کہی جائے توسنیں۔"
(۲بحرالرائق کتاب الصلٰوۃ باب الاذان ایچ ایم سعید کمپنی کراچی۱۴۱/۲)
المسألۃ العاشرۃ : فی تنویرالابصارلانقتل من امنہ حرًا اوحرۃ لو فاسقا بشرط سماعھم ذٰلک من المسلین فلاامان لوکان بالبعدمنھم۳۔
مسئلہ ۱۰: تنویر الابصارمیں ہے : "جس کافر کو کسی مسلمان آزادمردیا عورت نے امن دے دیاگوامن دینے والے فاسق ہی کیوں نہ ہوں اس کا قتل منع ہے اس شرط کے ساتھ کہ امن دینے والوں کی آوازانہوں نے خودسنی ہو،تو دوروالوں کو امن نہیں ملے گا۔"
المسألۃ الحادیۃ عشرۃ : وفی شرح الدرروفی الدرالمختار اذا احیٰی مسلم اوذمی ارضاًغیر منتفع بھا ولیست بمملوکۃ لمسلم ولا ذمی وھی بعیدۃ من القریۃ اذا صاح من باقصٰی العامر(وھو جہوری الصوت ، بزازیۃ ) لایسمع بھا صوتہ ملکہا۱ الخ۔ وفی الکفایۃ من الذخیرۃ الفاصل بین القریب والبعید مروی عن ابی یوسف رحمہ اللہ تعالٰی یقوم رجل جھوری الصورت من اقصٰی العمرانات علی مکان عال وینادی باعلٰی صوتہ فای لموضع الذی لایسمع فیہ یکون بعیدًا۲۔
مسئلہ۱۱ : شرح درراوردرمختار میں ہے : "کسی مسلمان یا ذمی نے کوئی بنجر زمین آباد کی اوروہ کسی کی ملک نہ ہو ، نہ مسلمان کی نہ ذمی کی ۔ اوریہ آبادی سے اتنی دور ہوکہ کنارہ آبادی سے پکاراجائے اورپکارنے والا بلند آواز ہو، بزازیہ تو آواز سننے میں نہ آئے ، تو آبادکرنے والااس زمین کا مالک ہوگا۔"اورکفایہ میں ذخیرہ سے مروی ہے : "قریب وبعید کے درمیان حد فاصل حضرت قاضی ابویوسف رحمۃ اللہ علیہ سے مروی ہے آپ نے فرمایا ایک بلند آواز آدمی آبادی کے انتہائی سرے سے کسی بلند جگہ کھڑے ہوکر پوری طاقت سے پکارے اورآواز وہاں نہ پہنچے تو وہ بعید ہے۔"
(۱الدرالمختارکتاب احیاء الموت مطبع مجتبائی دہلی ۲۵۵/۲)
(۲ الکفایۃ مع فتح القدیرکتاب احیاء الموت مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر۲ /۹)
المسالۃ الثانیۃ عشرۃ :وفی الدرالمختار لوجد قتیلافی الشارع الاعظم والسجن والجامع لاقسامۃ والدیۃ علی بیت المال ان کان نائیاً ای بعید اعن المحلات والایکن نائیا بل قریبا منھا فعلی اقرب المحلات الیہ۳(قال الشامی قولہ قریبا منھا)الظاھر ان المعتبرفیہ سماع الصوت۱۔
مسئلہ ۱۲ : درمختارمیں ہے :"اگر کوئی مقتول شارع عام میں، قید خانہ مٰں اورمسجد جامع میں پایاگیا تو اس کا تاوان کسی پر نہیں ہے ابلتہ اگس کی دیت بیت المال سے ادا کی جائے گی ۔ یہ جب ہے کہ وہ جگہیں محلوں سے بعید ہوں۔ اوراگرقریب ہوں تو جو محلہ وہاں سے سب سے قریب ہو اس پر تاوان ہے ۔"امام شافعی نے فرمایا کہ "ظاہر یہی ہے کہ یہاں قرب سے مراد آواز سننے کا قرب ہے۔"
(۳الدرالمختارکتاب الدیات باب القسامۃ مطبع مجتبائی دہلی ۳۱۲/۲)
(۱ردالمحتار کتاب الدیات باب القسامۃ داراحیاء التراث العربی بیروت۴۰۷/۵)
المسألۃ الثالثۃ عشرۃ : فی الہدایۃ وان وجد فی بریۃ لیس بقربھا ومارۃ فھو ھدروتفسیرالقرب ما ذکرنا من استماع الصوت۲۔فہٰذہ کلہا قرب السمع۔
مسئلہ ۱۳: ہدایہ میں ہے : اوراگرویرانہ میں مقتول پایاگیا جس کے قریب آبادی نہ ہو تو اس کا خون ضائع ہے ۔ اور"قریب"کی تفسیروہی ہے جو ہم نے بیان کی کہ وہاں سے آوازسنی جارہی ہو۔"یہ سب مثالیں قرب سماع کی ہیں۔
(۲الہدایۃ کتاب الدیات باب القسامۃ مطبع یوسفی لکھنؤ ۶۳۸/۴)
المسألۃ الرابعۃ عشرۃ : ماقدمنا (عہ) فی النفحۃ الثانیۃ العودیۃ عن الجوھرۃ النیرۃ ھذا اذا کان الحافظ قریباً منہ ای بحیث یراہ اما اذا بعد بحیث لایراہ فلیس بحافظ۱۔فہذاقرب البصر ھذہ مصادیق القرب المطلق فی عرف الفقہاء الکرام فان کان الرسم لدیکم ان خطیبکم یاکل المؤذن اومؤذنکم یبتلع المنبر فنعم لابدمن قرب التناول والافما المعین لہ والحامل علیہ نسأل اللہ اراء ۃ الحق والھدایۃ الیہ اٰمین۔
مسئلہ ۱۴: نفحہ ثانیہ عودیہ میں ہم ذکر کرآئےہیں کہ جوہرہ نیرہ میں ہے : "یہ حکم تب ہے کہ نگراں اس سے اتنی قریب ہوکہ اسے دیکھ رہا ہوا وراتنی دور ہوکہ نہ دیکھے تو وہ حافظ اورنگراں ہی نہیں۔"یہ قرب بصر کی مثال ہے اورفقہاء کرام کے عرف میں یہ سارے مصادیق قرب مطلق کے ہیں ، تواگر آ پ کے وہاں یی رسم ہو کہ خطیب موذن کو کھاتاہویامؤذن منبر کو نگلتاہوتو ضرور یہاں قرب سے قرب تناول امروہوگا،ورنہ یہاں قرب تناول کو متعین کرنے اوراس پر برانگیختہ کرنے والی کیاچیز ہے ۔ہم اللہ تعالٰی سے حق وہدایت کے طالب ہیں۔
(۱الجوہرۃ النیرۃ کتاب السرقۃمکتبہ امدادیہ ملتان ۲۶۱/۲)
عہ : وفی الھندیۃ من الفتاوی الکبرٰی وھی المسئلۃ الخامسۃ عشرۃ جری بینہ وبین امرأتہ تشاجرمن قبل اختہ فقال لھا ان سبت اختی بین یدی فانت طالق ثلٰثا ثم دخل الزوج علیہا وھی تشاجر مع اختہ وتسبہا فسمع الزوج ان سبتھا وھی تراہ طلقت لانھا سبتہا بین یدیہ۳کذا فی الفتاوی الکبرٰی۔
ہندیہ میں بحوالہ فتاوٰی کبرٰی وارد ہے ، اوریہ پندرھواں مسئلہ ہے ، خاوند اوراس کی بیوی کے درمیان خاوند کی بہن کے بارے میں جھگڑاواقع ہوا تو خاوند نے کہا اگر تو نے میرے سامنے میری بہن کو گالی دی تو تجھے تین طلاقیں ہیں۔ پھر خاوند اپنی بیوی کے ہاں آیا اور انحالیکہ وہ اس کی بہن کے ساتھ جھگڑا کر رہی تھی اواسے گالیاں دے رہی تھی جنہیں خاوند نے سنا۔اگر گالی دیتے وقت بیوی خاوند کی طرف دیکھ رہی تھی تو طلاق واقع ہوگئی کیونکہ اس نے خاوند کے سامنے اس کی بہن کو گالی دی۔ فتاوٰی کبرٰی میں یونہی ہے ۔(ت)
(۳الفتاوی الھندیۃ کتاب الطلاق الباب الرابع الفصل الثالث نورانی کتب خانہ پشاور ۴۴۳/۱)
وتاسعًا قداعترف الرجل ان فی العرف لعندفی کل محل حد علیٰحدۃ للقرب بقرینۃ القیام فکان علیہ ان یثبت بالدلیل ان قضیۃ مقام الاذان فی القرب عن الامام الحد الفلانی، لکنہ ادعی وقنع بالادعاء اللسانی ولو کفت الدعوی للثبوت لقام بالبرھان کل مبھوت ،فمالک تقر ولا تقروتمیل الی الحق ثم تفر۔
تاسعًا : یہ شخص اعتراف کرچکاہے کہ عندہر مقام پر قرینہ کے لحاظ سے علٰحدہ علٰحدہ قرب کےلئے ہے ۔ تو اس کو دلیل سے یہ ثابت کرنا چاہئیے تھا کہ مسئلہ مقام اذان میں امام سے قرب کی یہ حد ہے لیکن اس نے ایک دعوٰی کیا اورثبوت کے لئے اسی دعوٰی کاکافی سمجھا۔اگر ثبو ت کے لئے صرف دعوٰی کافی ہوتاتو ہر مہبوت دلیل والا ہوتالیکن ان کا عجیب شیوہ ہے کہ اقرارکر کے انکار کرتے ہیں اورحق کی طرف مائل ہوکر اسی سے گریز بھی کرتے ہیں۔
وعاشرًا : وقال اللہ عزوجل "وزنوابالقسطاس المستقیم۱"ولکل شیئ قسطاس وقسطاس الکلام لہ کفتان، الشرع والعقل ، فمن رزق حظًامنھما لایحملہ الا علی مایوفقہما، اما الجاھل فلابیدہ میزان ولا ھو یعرف الاوزان فاذا امرہ م یفترض علیہ طاعتہ ان قم فصل رکعتین فلاتتأخرلمحۃ ، فلعلہ یقول امر نی بالصلٰوۃ بغیر وضوء اذلوذھبت اسکب الماء ثم توضأت ثم الی محل الصلٰوۃ رجعت لفات الفوروقدنبأنی ان لااتأخرلحظۃ۔
عاشرًا : اللہ تعالٰی فرماتاہے:"درست میزان سے تولو۔"اورمیزان ومعیار تو ہر چیز کے لئے ہے ۔ چنانچہ میزان کے ترازوکے دو پلڑے ہیں : شرع اورعقل تو جسے ان دونوں سے حصہ ملا ہے وہ ہربات کو اسی کے موافق محمول کرے گا۔اورجاہل کے ہاتھ میں نہ میزان ہے نہ وہ اوزان کو جانتاہے ۔ تو جب اس سے کوئی اس کا زبردست حاکم کہے کہ اٹھواورایک لمحہ کی تاخیر کے بغیر نماز پڑھوتو وہ یہ سوچ سکتاہے کہ مجھے تو فی الفور نماز پڑھنے کا بغیر وضو کے حکم ہے اگر میں وضو کرنے کے لئے پانی بہاؤں پھر محل نماز کی طرف لوٹوں تو تاخیر ہوجائیگی حالانکہ مجھے ایک لمحہ بھی تاخیر کی اجازت نہیں۔
(۱القرآن الکریم۳۵/۱۷)
ولوحلف زید واللہ لایسکن ھذہ الدارفتاھب من فورہ للخروج وجعل ینقل المتاع ولم یقصر ومکث فی ھذایوماًمثلاً،یظن الجاھل انہ قد حنث لانہ لم ینقل یومًالکن العالم یعلم ان قدرالوضوء مستثنٰی فی الاول شرعا وقدرما تیسرلہ فیہ النقل مستثنی فی الثانی عقلافلاینتفی بھما الفور،فی الخانیۃ ثم الھندیۃ رجل حلف لایسکن ھٰذہ الدارفخرج بنفسہ واشتغل۔ بطلب داراخری لینقل الیھا الا ھل والمتاع فلم یجد دارًاخری ایامًاویمکنہ ان یضع المتع خارج الدار لایکون حانثا، وکذالو خرج واشتغل بطلب دابۃ لینقل علیہھا المتاع فلم یجد اوکانت الیمین فی جوف اللیل ولم یمکنہ الخروج حتی الصبح اوکانت الا متعۃ کثیرۃ فخرج وھو ینقل الامتعۃ بنفسہٖ ویمکنہ ان یستکری الدواب فلم یستکرلایحنث فی جمیع ذٰلک ، ھذا اذا نقل الا متعۃ بنفسہ کما ینقل الناس فان نقل لاکماینقل الناس یکون حانثا ۱اھ۔
یونہی اگرزید نے قسم کھائی کہ اس گھر میں نہیں رہے گا۔اورفوراًہی نکلنے کی تیاری کرنے لگا۔سامان منتقل کرنے میں کوئی کوتاہی نہیں کی اوراسی میں ایک دن لگ گیا، تو جاہل گمان کرے گاکہ زید توحانث ہوگیا کہ قسم کے بعد بھی ایک دن اسی گھرمیں رہا ۔ لیکن عالم خوب جانے گا کہ پہلی صورت میں وضو کرنے کی مقدارشرعاًمستثنٰی ہے ، اوردوسری صورت میں آسانی سے سامان جتنی دیر میں منتقل ہوسکے عقلاًمستثنٰی ہے تو اس دیر سے فورًامیں خلل نہیں پڑے گا۔خانیہ اور ہندیہ میں ہے :"جس شخص نے قسم کھائی کہ اس گھر میں نہیں رہے گا، تو وہ خود گھر سے باہرہوگیا ، اورمنتقل ہونے کے لئے دوسراگھر تلاش کرنے لگاجو چند دن نہ مل سکا۔ اہل وعیال اوراسباب اسی گھر میں رہے ا۔ اورایسا ممکن تھا کہ اس مکان سے وہ اسباب باہر نکال لے مگر نہیں نکالا، تب بھی حانث نہیں ہوگا، یونہی سواری کی تلاش میں چند روزکی تاخیر ہوئی جس پر سامان لاد کر لے جائے ، یا قسم رات میں کھائی ، اورات کی وجہ سے صبح تک نکلنا ممکن نہ ہوسکا ۔ یوں ہی سامان زیادہ تھا جسے وہ خود ہی اٹھا کر منتقل کرنے لگا اس میں تاخیر ہوئی وہ سواری کرسکتا تھا مگر سواری نہیں کی۔ان سب صورتوں میں وہ شخص حانث نہ ہوگا۔ یہ حکم اس صورت میں ہے کہ اس نے از خود سامان اٹھانے میں کوئی کوتاہی نہ کی ہو، معمولاًجیسا اٹھاتے ہیں ویسا ہی اٹھا یا، ورنہ حانث ہوگا۔"
(۱الفتاوی الھندیۃ کتاب الایمان الفصل الثالث نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۷۵)
وکذٰلک اذ جلس عالم یفید ویلقی الدرس او المسائل والناس جلوس صفوفاحتی الباب فجاء احد من الطلبۃ اوسائل المسائل فعاقتہ ھیبۃ المجلس عن الاقتراب بھم وجعل یستمع من بعدفامرہ العالم ان یقترب اوامر السلطان بعض حواشیہ بالقرب ، فالجاھل یقول القرب مطلق والمراد بہ فی العرف اقصی مایکون فیرکب اکتاف الناس ویتخطی رقابھم حتی یصل الی العالم ویجلس فی حجرہ ویطأفراش الملک ویطلع سریرہ الٰی ان یلزق جنبہ بجنبہ فیستحق التعذیر فی الدنیا والتعذیب فی الاٰخرۃ، والعیاذباللہ تعالٰی ، والعاقل یعرف ان لیس المراد الا القرب السائغ شرعاًوعرفاًفالسائل لینتھی عندالباب دون مجلس العالم والحاشیۃ یتقدم الٰی منتھٰی منصبہ والبواب الی الباب،والوزیرالٰی قرب السریرثم یقف ویعلم ان الجاھل المستند بالعرف ھوالذی اخطأ العرف فان لمفھوم بالقرب المطلق ھو القدر القدرالسائغ دون تحدی الحد۔
ایسے ہی کوئی عالم افادہ وتعلیم یا درس مسائل کےلئے خطاب کر رہا تھا اورسامعین دروازہ تک صف درصف بیٹھے ہوئے تھے ، کوئی طالب علم یا سائل مسئلہ پوچھنے آیا اس کو مجلس کی ہیبت نے عالم کے قریب ہونے نہیں دیا،تو خود عالم نے اسے قریب ہونے کا حکم دیا ، یابادشاہ نے اپنے بعض حاشیہ نشینوں کو اپنے نزدیک آنے کاحکم دیا، تو جاہل تو یہی کہے گا کہ مطلقاٍ قریب ہونے کا حکم ہے اورعرف میں اس سے انتہائی قرب مراد ہوتاہے ۔ تو وہ لوگوں کے کندھوں پر سوار ہوتے اورگردنیں پھلانگتے ہوئے عالم کی گود میں جابیٹھے گا، اوربادشاہ کے دربار میں فرش کو روندتاتخت پر چڑھ جائے گااوربادشاہ کے پہلو سے پہلو ملاکر بیٹھ جائےگا اور بادشاہ کی تعذیر اورآخرت کی تعذیب کا مستحق ہوگا۔ معاذاللہ اورعقلمند خوب سمجھے گا کہ یہاں وہی قرب مراد ہے جس کی شرعًااورعرفًاگنجائش ہے ، تو سائل دروازہ کے پاس مجلس عالم سے پرے اوربادشاہ کا حاشیہ نشین اپنے منصب تک، دربان دروازے تک اوروزیر تخت کے قریب کھڑا ہوجائے گا، اورپتا چل جائے گا کہ عرف کے ساتھ دلیل پکڑنے والے جاہل نے عرف کے سمجھنے میں غلطی کی ، اس لئے کہ مطلقًاقرب کا مطلب وہ مقدارہے جہاں تک بڑھنے کی گنجائش ہو، نہ کہ تمام حدود کو پھلانگنے کا نام ہے ۔
وبالجملۃ الطباق الشرع والعقل والعرف جمیعًاان الشیئ یذکر مرسلا ولایراد الاعلٰی ماعرف منشروطہ وقیودہ وادابہ ومن یقطع النظر عن کال ذٰلک مقتصرًاعلی القدر الملفوظ فاسم المجنون اخف القابہ قال الامام الزیلعی فی ذبائح التبیین الشیئ اذاعرف شروطہ وذکر مطلقاًینصرف الیہا کقول اللہ تعالٰی اقم الصلٰوۃ ای بشروطھا ۱اھ۔
خلاصۂ کلام یہ کہ لفظ مطلقًابولاجاتاہے اورعقل وشرع اورعرف سب اس پر متفق ہیں کہ مراد تمام شروط وقیود وآداب کو ملحوظ رکھنے والا مقام ہوتاہے ۔اورجو ان سب کو بالائے طاق رکھ کرصرف لفظ کو دیکھے گاتو ایسے آدمی کا سب سے ہلکا لقب پاگل ہوتاہے ۔ امام زیلعی تبیین الحقائق کی کتاب الذبائح میں فرماتے ہیں"کہ کسی شے کے شرائط معروف ہوں اوراسے ملطق بولاجائے تو انہیں شرائط کے ساتھ ملحوظ ہوگا جیسا کہ اللہ تعالٰی نے فرمایا کہ نماز قائم کرو، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ نماز "کو شرائط کےساتھ قائم کرو۔"
(۱تبیین الحقائق کتاب الذبائح دارالکتب العلمیۃ بیروت۴۶۵/۶)
واذاعرفت ھذا فلئن فرضنا فرض باطل ان الفقہاء اذا اطلقوا القرب ارادوبہ اقصٰی مایکون من القرب لم یکن فیہ الا ما یسخن عین السفیہ فانہ لایراد الا اقصٰی قرب سائغ شرعا۔ وقد عرف من الشریعۃ المطھرۃ کراھۃ الاذان فی المسجد فمنتہی قرب المؤذن علٰی حدودالمسجد ثم فی الحد ایضا استماع واقرب مواضعہ من المنبرماکان علٰی محاذاتہ لانا اذا خرجنا من المنبر خطوطاًالٰی اسفل المسجد کان الخط الذاھب علی استقامۃ سمتہٖ وترالحادۃ وسائرھن اوتارالقائمۃ فان قام المؤذن فی احد الطرفین کان بعیدا عن المنبر وان قام بحذائہ کان قریباًمنہ بحیث لاقرب فوقہ فکان ھذا معنی قولھم عندالمنبروھو اقصٰی مایسوغ لہ من القرب فوضح الحق۔
جب صو رت حال یہ ہے تو مان لو کہ فقہاء نے قریب المنبر کہہ کر انتہائی قرب مراد لیا لیکن اس پر نادانوں کی آنکھ ٹھنڈی نہ ہونا چاہئیے، کیونکہ اس انتہائی قرب سے مراد بھی وہی قرب ہوگا جس کی شریعت میں گنجائش ہو، اورشرع مقدس کا یہ حکم شائع اورذائع ہے کہ مسجد میں اذان مکروہ ہے ، ایسی صورت میں قرب کی انتہا حدود مسجد تک ہوگی، اوراس حد میں بھی سماعت کی گنجائش ہے کہ منبر سے سب سے قریب وہ مقام ہوگاجو اس کے ٹھیک مقابل ہواس لئے کہ جب ہم منبر سے مسجد کی نچلی طرف خطوط کھینچیں تو جو خط سیدھا اس کی طرف جائے وہ حادہ کا وتر ہوگا۔ اوربقیہ خطوط قائمہ کے وتر ہوں گے ۔ تو مؤذن اگرادھر اُدھر کے خطوط پر کھڑا ہوگا تو منبر سے دورہوگا کہ اس سے زیادہ قرب ممکن نہیں ، تو فقہاء کے قول قریبًامنہ کے یہ معنی ہوئے کہ قریب ہونے کی جو انتہائی گنجائش نکل سکتی ہے ، وہاں کھڑاہو ، توحق ظاہر ہوگیا۔
وللہ الحمد وصلی اللہ تعالٰی علی سیدنا ومولانامحمد واٰلہٖ وصحبہ اجمعین افضل صلٰوۃ المسلمین واکمل سلام المسلمین والحمدللہ رب العالمین۔
اللہ تعالٰی کے لئے حمد ہے اورہمارے سردارسیدنا ومولانا محمد صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم اوران کے آل وجمیع اصحاب پر پڑھنے والوں کا بہترین درودوسلام ہو۔ آخری دعایہ ہے کہ حمد اللہ رب العالمین کے لئے ہے۔
رسالہ
شمائم العنبرفی ادب النداء امام المنبر
ختم ہوا