Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۸ (کتاب الشتّٰی)
62 - 135
فلو خص الفقہاء القرب لقرب التناول صلح کلامک وحصل مرامک لکنھم براء عنہ قطعًا اکبر کلماتھم تراھم یطلقون القرب ویعنون بہ احدالوجوہ الثلٰثۃ الاخیرۃ حتی تافت عباراتھم فی تفسیر القرب المطلق عشرًافیما یحضر فی الاٰن ولعل مالم اتذکرنحوھا او اکثر۔وبیان ذالک فی مسائل۔
تو اگر فقہاء نے اپنے کلام میں قرب کو قرب تناول تک ہی خاص کیا ہوتاتو آپ کا کلام درست ہوا اورآپ کا مقصد حاصل ہوتا، لیکن "حضرت اس سے قطعی طور پر بری ہیں انکے بیشتر کلمات میں قرب کا لفظ بقیہ تین معنوں میں سےسی ایک کے لئے استعمال ہوا ہے ۔ فی الوقت قرب مطلق کی تفسیر میں فقہاء کی دس عبارتیں مجھے یادہیں (اورجو مستحضر نہیں وہ بھی اس سے زائدہوں گی)جن کا بیان مندرجہ ذیل مسائل میں ہے :
المسألۃ الاولٰی : اطبقواان الماء ان کان قریبًالم یجز التیمم للمسافروان کان بعیدًاجاز واختلفواان ای ماء یسمٰی قریبابالاتفاق علٰی ان المراد قرب السیر والاجماع علٰی ان لیس المرادقرب التناول قال فی العنایۃ المنصوص علیہ کون الماء معدوما وھٰھنا معدوم حقیقۃ لکن نعلم بیقین ان عدمہ مع القدرۃ علیہ بلاحرج لیس بمجوز للتیمم والالجاز لمن سکن بشاطئ البحر وقد عدم الماء من بیتہٖ فعلنا الحد الفاصل بین البعد والقرب لحوق الحرج۱؂اھ۔ وفی البنایۃ لیس لہ ان یتیمم اذا کانلاماء قریبًامنہ ۲؂اھ وفیھا(م)"المیل ھو المختار فی المقدار"(ش)ای مقداربعدالماء وجہ کونہ مختارًاان المساقۃ القریبۃ جدا مانع من جواز التیمم والبعدیجوز لہ فقدرالبعد بالمیل لالحاق الحرج الٰی وصول الماء ، وعند محمد رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ شرطہ  ان یکون بینہ وبین المصرمیلان وعن ابی یوسف رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ لوذھب الیہ وتوضأتذھب القافلۃ وتغیب عن بصرہٖ ویجوز التیمم وھذا احسن جدًا، وقیل اذا کان نائیاًعن بصرہ واختلفوا فی النائی قیل قطع میل، وعن محمد قطع میلین وقیل فرسخ وقیل جواز قصر الصلٰوۃ ، وقیل عدم سماع الاذان ، وقیل عدم سماع اصوات الناس ، وقیل لو نودی من اقصٰی المصرلایسمع ، وفی البدائع ان ذھب الیہ لاینقطع عنہ جلبۃ البعیرویحس اصواتھم واصواب وراء فھو قریب، وقیل ان کان بحیث یسمع اصوات اھل الماء فھو قریب ۔ قال قاضی خاں واکثر المشائخ علیہ وکذاذکرہ الکرخی واقرب الاقوال اعتبارالمیل، فان قلت النص مطلق عن اشتراط المسافۃ فلایجوز تقییدہ بالرای قلت المسافۃ القریبۃ غیر مانعۃ بالاجماع والبعیدۃ غیر مانعۃ بالاجماع فجعلنا الفاصل بینہما المیل۱؂ اھ۔
مسئلہ۱: سب فقہاء کا اتفاق ہے کہ پانی قریب ہوتومسافر کر تیمم جائز نہیں ،اور دورہوتو جائزہے اورقرب وبعد مسافت میں اس کے باوجوداختلاف ہوا کہ قرب سے مراد سب کے نزدیک وہی مسافت ہے جو آسان ہو، مگر اس پر اجماع ہے قرب تناول مراد نہیں۔ صاحب عنایہ فرماتے ہیں :"یہ بات شرع میں منصوص ہے کہ تیمم کےلئے پانی کا معدوم ہونا عذرہے ۔ اورصورت مسئولہ میں پانی حقیقۃً معدوم بھی ہے لیکن یہ بھی یقینامعلوم ہے  کہ پانی نہ ہو مگر بآسانی دستیاب ہوجائے۔تو یہ جوازتیمم کے لئے عذر نہیں، ورنہ دریا کے کنارے گھربنانے والے کے گھر میں پانی نہ ہوتو وہاں بھی وہ تیمم کر نے لگے گا ۔ اس لئے قرب وبُعدمیں حد فاصل حرج کو قراردیا گیا۔"بنایہ میں ہے کہ پانی قریب ہوتو آدمی کو تیمم کی اجازت نہیں۔"اسی میں ہے "مقدارمیں ایک میل کی مسافت معتبر ہے"یعنی پانی کی دوری کی مقدار میں اوراس مقدار کے معتبر ہونے کی وجہ یہ ہے کہ پانی کا بہت قریب ہونا جواز تیمم کو مانع ہے اوربعد سے تیمم جائزہوتاہے ۔ تو اس کی مقدارایک میل مقرر کی گئی کہ اس سے زائدحد مقرر کرنے میں مکلف کو پانی تک پہنچنے میں حرج لاحق ہوتاہے ۔اورامام محمد رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک مسافر اور شہر کے درمیان دو میل کا فاصلہ شرط ہے ۔ اورقاضی ابویوسف رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کے یہاں دوری کی حدیہ ہے کہ پانی کی تلاش کیلئے آنے جانے میں قافلہ نگاہوں سے اوجھل ہوجائے تو تیمم جائزہوگااوریہ بہت عمدہ ہے ۔ اورایک قول یہ ہے کہ کہ پانی نگاہوں سے دور ہو۔ دوری کی تعیین میں پھر اختلاف ہوا، تو کسی نے ایک میل کہا، امام محمد نے دو میل فرمایا۔ ایک قول ایک فرسنگ کا ہے ۔ اورکہا گیا کہ اتنی دورجس کے بعد نماقصرکی جاتی ہے ۔ کسی نے کہا کہ جہاں تک اذان کی آواز نہ پہنچے ۔کسی نے کہا کہ اتنی کہ وہاں سے آبادی کا شور نہ سنائی دے اورکہاگیاکہ اتنی دورکہ شہر کے کنارے کھڑے ہوکر پکارا جائے تو مخاطب سن نہ سکے ۔ بدائع میں لکھا ہے : "اتنی دور کہ وہاں جانے پر قافلہ کا شوروغوغاسنتارہے اورپیچھے والوں کی آواز بھی آتی رہی تو قریب ہے ۔"ایک قول یہ بھی ہے کہ پانی کے پاس رہنے والوں کی آواز آتی رہے تو قریب ہے ۔ قاضیخان نے فرمایا کہ اکثر مشائخ اسی کو مانتے ہیں۔ ایسا ہی امام کرخی نے فرمایا۔ اورہمارے نزدیک اقرب الاقوال ایک میل کا اعتبارہے ۔ اس پر اگرکوئی  اعتراض کرے کہ آیت قرآنی تومسافت کے اشتراط کے بارے میں مطلق ہے ، اس کو رائے سے مقید کرنا کیسے جائزہوگا، تو میں کہوں گاکہ قریب کامانع ہونا اوربعید کا نہ مانع ہونا ایک اجماعی مسئلہ ہے اس لئے حد فاصل ایک میل کو قراردیاگیااھ۔

(
۱؂العنایۃ    علی ہامش فتح القدیر        کتاب الطہارۃ       باب التیمم     مکتہ نوریہ رضویہ سکھر      ۱/  ۱۰۸)

(۲؂البنایۃ    فی شرح الہدایۃ            کتاب الطہارۃ           باب التیمم         المکتبۃ الامدادیۃ مکۃ المکرمۃ    ۱/  ۲۹۹ )

(۱؂البنایۃ     فی شرح الہدایۃ            کتاب الطھارۃ          باب التیمم        المکتبۃ الامدادیۃ مکۃ المکرمۃ         ۱/  ۲۹۹)
المسألۃ الثانیۃ : فی التنویر لوکانت البئراوالحوض اوالنھر فی ملک رجل فلہ ان یمنع مرید الشفۃ من الدخول فی ملکہ اذاکان یجد ماء بقربہ۲؂(قال العلامۃ الشامی ) قال العلامۃ المقدسی ولم ارتقدیرالقرب وینبغی تقدیرہ بالمیل کما فی التیمم ۳؂اھ، ورأیتنی کتبت علیہ اقول فیہ تامل فان العطشان ربما یتضرربذھابہ میلًاولافی طلب الماء کذٰلک المحدث فینبغی احالۃ الامرعلی حالتہ ولعلھم لذا ارسلوہ ولم یقدروہ۔
مسئلہ۲: تنویرالابصارمیں ہے:"کنواں یا حوض یا نہر کسی آدمی کی ملک ہوں، اس سے قریب ہی کیوں اورپانی ہوت وکھانے ، پینے ، دھونے اورجانوروں کو پلانے والوں کو وہ اپنے کنویں وغیرہ سے روک سکتاہے ۔"علامہ شامی علامہ مقدسی کا قول نقل کرتے ہیں کہ "قرب کی مقدارکہیں نظر سے نہیں گزری تو تیمم کی طرح یہاں بھی ایک میل کوہی حد فاصل مقررہونا چاہئیے۔"میں نے شامی کی اس تحریر پر حاشیہ لکھا یہاں ایک میل کی مسافت میں تامل ہے کہ پیاسوں میں بسا اوقات اتنی دور جانے کی تاب نہیں رہتی،اورمحدث کا یہ حال نہیں، شاید اسی وجہ سے علماء نے کوئی مقدارمتعین نہیں کی۔اورمقدار کا معاملہ مبہم چھوڑدیا ، تو ہر ضرورت منداپنی ضرورت کے حساب سے قرب وبعد کی مقدار مقرر کرے۔
 (۲؂الدرالمختارشرح تنویرالابصارکتاب احیاء الموات فصل الشرب مطبع مجتبائی دہلی ۲۵۷/۲)

(۳؂ردالمحتار کتاب احیاء الموات فصل الشرب داراحیاء التراث العربی بیروت۲۸۳/۵)
المسألۃ الثالثۃ  :  فی شہادات الدرالمختاریجب اداؤھا بالطب بشروط سبعۃ مبسوطۃ فی البحر وغیرہ منھا عدالۃ القاضی وقرب مکانہ  ۱؂اھ، قال البحر ثم الشامی فان کان بعیدا بحیث لا یمکنہ ام یغدوا الی القاضی لاداء الشھادۃ و یرجع الی اھلہ فی یومہ ذلک قالوا لا یاثم لانہ یلحقہ الضرر بذلک و قال اللہ تعالی ولا یضار کاتب ولا شھید؂۲ ا ھ
مسئلہ۳: درمختار کے باب الشہادات میں ہے :"مدعٰی کے طلب پر گواہ کو سات شرطوں کے ساتھ گواہی دینا واجب ہے جن کا ذکر بحرالرائق وغیرہ میں تفصیل سے ہے جس میں ایک قاضی کی عدالت اورادائے شہادت کی جگہ کا قریب ہونا ہے ۔ شامی اوربحر الرائق دونوں میں ہی تصریح ہے کہ"اگرقاضی دورہوکہ دن بھر میں گواہی دے کر گواہ اپنے گھر واپس نہ پہنچ سکے تو گواہی دینا واجب نہیں کہ اتنی دور تک آنے جانے سےگواہ کو ضرر پہنچےگا،اوراللہ تعالٰی فرماتاہے کہ کہ کاتب اورگواہ کوضرر نہیں دیاجائے گا۔"دیکھئے ان تینوں مثالوں میں قرب سے مراد قرب میسرہے۔(قرب تناول مرادنہیں ہے۔)
 (۱؂الدرالمختارکتا ب الشہادات مطبع مجتبائی دہلی ۹۰/۲)

(؂۲ ردالمحتار کتاب الشھادۃ دار احیاء التراث العربی بیروت ۴/ ۳۷۰)
المسألۃ الرابعۃ : فی الذخیرۃ ثم العالمگیریۃ اذا کان المدعی علیہ خارج المصرانہ علی وجھین الاول ان یکون قریبًامن المصرفیعدیہ بمجردالدعوی وان کان بعید الایعد یہ والفاصل بین القریب والبعید انہ اذا کان بحیث لو ابتکر من اھلہ امکنہ ان یحضر مجلس الحکم ویجیب خصمہ ویبیت فی منزلہ فھٰذاقریب وان کان یحتاج الٰی ان یبیت فی الطریق فھٰذا بعید  ۱؂ ۔کذا فی الذخیرۃ ملتقطاً۔
مسئلہ ۴ :ذخیرہ پھر عالمگیریہ میں ہے جب مدعا علیہ شہر سے باہر ہو تو اس کی دو صورتیں ہیں ، اگر وہ شہر کے قریب ہے تو قاضی مجرد دعوی کی بنا پر اس کو عدالت میں پیش ہونے کا حکم بھیجے گا اور  اگر وہ دور ہے تو ایسا نہیں کرے گا ، قریب و بعید میں فرق یہ ہے کہ اگر وہ ایسی جگہ ہو جہاں وہ صبح اپنے گھر والوں سے  نکلے تو مجلس قضا میں حاضر ہو کر  اپنے خصم کو جواب دے کر واپس اپنے گھر والوں کو آکر رات گزارنا ممکن ہوتو قریب شمار ہوگا اور اگر رات کہیں راستے میں گزارنا پڑے توبعید شمار ہوگا ۔ ذخیرہ میں یونہی ہے (التقاط)
 (۱؂الفتاوی الھندیۃ کتاب الادب القاضی الباب الحادی عشرنورانی کتب خانہ پشاور۳۳۵/۳و۳۳۶)
المسألۃ الخامسۃ  :  قال امامنا الثانی ابویوسف رضی اللہ تعالٰی عنہ فی کتاب الخراج: ثم حمل الاموال (ای الضحاک بن عبدالرحمن الاشعری)علی قدرقربہا وبعدھا فجعل علٰی کل مائۃ جریب زرع مما قرب دینارًا،وعلٰی کل الف اصل مما بعد دینارًا(ومثلہ ذکر الفرق بین القریب والبعید من الزیتون) وکان غایۃ البعد عندہ مسیرۃ الیوم والیومین واکثرمن ذلک وما دون الیوم فھو فی القرب وحملت الشام علٰی مثل ذلک وحملت الموصل علٰی مثل ذٰلک۲؂(فھٰذہ کلھا قرب السیر)
مسئلہ ۵:  ہمارے امام ثانی امام ابویوسف رضی اللہ تعالٰی عنہ نے کتاب الخراج میں فرمایا:پھر اس (ضحاک بن عبدالرحمن اشعری)نے اموال کو ان کے قرب وبعدکی مقدار پر محمول کیا، چنانچہ قریبی کھیتی کے ہر سو جریب پر ایک دینار، قریبی باغ کے انگوروں کی ہر ہزار بیلوں پر ایک دینار،اوردوری کی صورت میں ہر دو ہزار بیلوں پرایک دینار مقرر فرمایا(اوراسی طرح زیتون میں بھی قریب وبعید کے فرق کو ذکرکیا) اوربُعد کی حد ایک یا دو یا زیادہ دنوں کی مسافت ہے ، جو اس سے کم تر ہووہ قریب ہے ۔ شام اورموصل بھی اسی پر محمول ہیں۔
 (۲؂کتاب الخراج فصل فی ارض الشام والجزیرۃ دارالمعرفۃ بیروت ص۴۱)
المسألۃ السادسۃ : فی مختارالفتاوٰی ثم الھندیۃ ان کان فی کرم أوضیعۃ یکتفی باذان القریۃ اوالبلدۃ ان کان قریبا والافلا،وحدالقریب ان یبلغ الاذان الیہ منہا۱؂۔
مسئلہ۶: مختارالفتاوٰ ی پھر ہندیہ میں ہے : اگرکوئی شخص اپنی جائدادیا باغ میں ہے ، تو اس کے لئے اپی بستی یا شہر کی اذان کافی ہےبشرطیکہ قریب ہو ورنہ کافی نہ ہوگی اورقریب ہونے کی حد یہ ہے کہ وہاں سے اذان کی آواز اس تک پہنچ سکتی ہو۔
(۱؂الفتاوٰ ی الہندیۃ کتاب الصلٰوۃ الباب الثانی فی الاذان نورانی کتب خانہ پشاور   ۵۴/۱)
Flag Counter