| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۸ (کتاب الشتّٰی) |
"وقال بحرالعلوم فی فواتح الرحموت دعوی النقل دعوی علی اللہ تعالٰی فلابدلاثباتھامن قاطع ولیس ھٰھنا امارۃ ظنیۃ فضلا عن القاطع فلایلیق بحال مسلم ان یجترأعلی اللہ بمالم بعلم۲۔
حضرت مولانا عبدالعلی بحرالعلوم رحمۃ الہ علیہ فواتح الرحموت میں فرماتے ہیں :"نقل کا دعوٰی اللہ تعالٰی پر ایک دعوٰ ی ہے تو اس کاثبوت دلیل قطعی سے ضروری ہے اورفیما نحن فیہ علامت طنی بھی نہیں چہ جائیکہ قطعی ہوتو مسلمان کیلئے یہ درست نہیں کہ بے جانے اللہ تعالٰی پر یہ جرأت کرے ۔"(توآپ جو یہ فرماتے ہیں کہ بین یدیہ کے معنی متصل منبر ہوناہے ۔نہ محاورہ قرآنی ہے نہ حدیث کی بول چال ہے ، نہ لغت واصول میں ہے ۔ یہ تو عرف عوام ہے ۔بے ثبوت آپ کا یہ عرف عام پیدا کہاں سے ہوگا؟)
(۲فواتح الرحموت شرح مسلم الثبوت مسئلہ فی ان الحقیقۃ الشرعیہ لاتحتاج الٰی قرینہ ۲۲۳/۱)
ورابعًا : کل کلام انما یحمل علی عرف التکلم کمانصواعلیہ فی غیر مامقام وسیدنا ساءب بن یزید رضی اللہ تعالٰی عنہما من اھل اللسان ولایتکلم الاعلٰی عرفھم ولم یکن لہ اصطلاح خاص علی خلاف العرف العام وقداطلق"بین یدیہ"علی اذان کان علی باب المسجد وکذٰلک بینا فی"عند"عدۃ محاورات عامۃ لاینکرھا الا مکابرفادعاء ان العرف العام خاص اللفظ بما یزعمونہ جھل بالعرف اوفریۃ علیہ۔
رابعًا : ہر کلام میں متکلم کے محاور اورعرف عام کا لحاظ کیا جاتاہے۔حضرت ساءب ابن یزیدرضی اللہ تعالٰی عنہ اہل عرب اورصاحب لسان عرب ہیں۔آپ کا کلام بھی عربی بول چال اورعربی محاورہ میں ہی ہوگا۔ عرف کے خلاف ان کی کوئی خاص اصطلاح نہ ہوگی۔ انہوں نے "بین یدیہ "کالفظ مسجد کے دروازہ پر اذان کیلئے استعمال کیا، اوراسی معنی پرہم نے لفظ عند کے بھی کئی محاورے نقل کئے جس کا انکار ہٹ دھرمی ہے ۔ اس کے بعد یہ دعوٰی کرنا کہ عرف عام نے ان لفظوں کو بالکل پا س کے معنی میں خاص کیاہے ، یا توجہالت ہے یا افتراء پردازی۔
وخامساً : یاللعجب زعم ذاک امدعی فی ردکلمات ائمۃ الاصول المتواترہ المتظافرۃ علٰی ان عند للحضرۃ بقولہ ان کل ذٰلک لغو لایجدی شیئًا انما النظرالی الحقیقۃ العرفیۃ وکل سمع باسم اصول الفقہ یعلم ان مایذکرفیہ اصول للفقہ ولیس مصطلح الفقہ مخالفًالما ذکر من معانی الالفاظ فی الاصول وانما البحث ھٰھنا عن لفط"عند"الواقع فی کلام الفقہاء فان فرض ان ھناک عرفاجدیدا للعامۃ مخالفا لعرف الفقہ والاصول لم یکن فیہ ما یقرعینک فان کلام الفقہاء انما یحمل علٰی عرف الفقہاء انما دون العوام ولکن التعصب اذا تملک اھلک۔
خامسًا : علم اصول فقہ کا لفط جو شخص سنے گاوہی یہ فیصلہ کرے گا کہ فن علم فقہ کے قواعدوضوابط اورمصطلحات کیلئے وضع ہے ، اوریہ بھی یقین کرے گاکہ فقہاء اورعلم اصول فقہ کی اصطلاحات میں کوئی اختلاف نہیں ،جس لفظ کا جو معنٰی ائمہ اصول فقہ نے متعین کیا فقہاء کے نزدیک بھی وہ مسلم ہے ۔ مسئلہ اذان ثانی میں فقہاء نے عند المنبرکا لفظ کتابوں میں استعمال کیا۔ ائمہ اصول فقہ نے "عند "کے معنی"حضور"قراردیے ۔ توظاہرہے کہ فقہاء کے عرف میں بھی اس لفظ کے یہی معنٰی ہوں گے ۔ بالفرض اس لفظ کے لئے کوئی دوسراعرف بھی ہو اوراس نے کوئی اورمعنٰی قراردیے ہوں۔ تب بھی یہاں ضرورت تو فقہاء کے عرف کی ہے یہاں یہ لفظ انہیں کے کلام میں استعمال ہوا ہے ، کسی دوسرے عرف سے کیا سرورکار۔دوسراعرف تویہاں کے لئے بالکل بیکار ہے لیکن یہ کیسی بوالعجبی ہے کہ مدعی کسی ڈھٹائی سے ائمہ اصول فقہ کی تصریحات سن کر کہتاہے کہ یہ سب فضول ہے یہاں تو عرف عوام کی ضرورت ہے ۔ بھلا کلامِ فقہاء میں عرف عوام کی کیا ضرورت!سچ یہ ہے کہ تعصب آدمی کو اندھااوربہراکردیتاہے۔
سادسًا : ماذا یقول المعاند فی قول العلامۃ خیرالدین الرملی رحمہ اللہ تعالٰی فی فتاواہ "فی رجل حلف بالطلاق الثلاث انہ لایشتٰی عند زوجتہ فی البلدفشتٰی فی جامعہا لایقع علیہا الطلاق لان الشرط کون التشتیۃ فی البلد عندھا ولم یوجد وعند للحضرۃ الا ان ینوی ذٰلک واللہ تعالٰی تعالٰی اعلم ۱ اھ"بالالتقاط فھٰذہ مسئلۃ الحلف انما مبنی الحلف علی العرف وقدافصح فیہ ان عند للحضرۃ فظھر ان ماذکر ائمۃ الاصول ھو العرف،وبالجملۃ فالحق ان لاخلف ھٰھنا بین اللغۃ ولسان الشرع والاصول والفقہ والعرف کل ذٰلک متوارد علی ماذکرنا من معانی بین یدی وعند ولیس ھنانقل ولا اشتراک ولا تجوزبل معنی مطلق منتخب علٰی مصادیقہ یتعین بعضہا فی الکلام بقرائن الکلام کما فصلنا ہ وللہ الحمد۔
سادساً : آخر یہ معاند اس کا کیا جواب دیں گے کہ علامہ خیرالدین رملی رحمۃ اللہ علیہ اپنے فتاوٰی میں فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے قسم کھائی کہ میری بیوی کو تین طلاقیں اگر میں جاڑے میں اس شہر میں اپنی بیوی کے ساتھ رہوں۔ اوراس نے اس شہر کی جامع مسجد یں جاڑاگزارا،تو اس عورت پر طلاق نہ پڑے گی کیونکہ شرط جاڑے میں شہر میں بیوی کے ساتھ رہنے کی تھی ،اوروہ نہیں پائی گئی ۔ اورعند کا لفظ حضور کے لئے ہے بان ھذا البلد سے اس کی نیت جامع مسجد کی بھی ہوتو طلاق پڑجائے گی۔ مسائل حلف کی نا عرف پر ہے ۔ اورامام رملی نے صاف بیان کردیا کہ عند حضور کےلئے ہے ۔ اس سے معلوم ہوا کہ عند کے بارے میں ائمہ اصول نے جو فرمایا وہ بھی معنی عرفی ہی ہے ۔ خلاصۂ کلام یہ ہے کہ یہاں لغوی معنی کا کوئی نائب نہیں۔اورزبان شرع اوراصول وفقہ اورعرف سب لغوی معنی کے ہی موافق ہیں ،جیسا کہ ہم نے بین یدیہ اورعند کے معنی میں بیان کیا ہے ، وللہ الحمد۔
(۱فتاوٰی خیریۃ کتاب الطلاق دارالمعرفۃ بیروت ۱/ ۳۸ و ۳۹)
وسابعًا : لئن تنزلنا عن ھذا کلہ فالذی لجاء الیہ الحلیۃ امران الاول بین یدیہ وعند للقرب وقداستندلہ بالراغب وغیرہ وقدمنا انہ غیر مستنکر ولا یفیدہ ولا یضرنا والاٰخر ان القرب فی العرف العام خاص بما یلصق المؤذن بالخطیب کما یزعمون وھذاھو الذی فیہ مرامہ ولم یستندفیہ بشیئ سوٰی شقسقۃ اللسان وقد تقدم من المحاورات مایکذبہ فلم یرجع سعیہ الٰی طائل۔
سابعًا : اگران سب باتوں سے قطع نظر بھی کرلی جائے تو مذکورہ حیلہ کی ڈھال دوباتیں ہیں یہ کہ عند اوربین یدہ کے معنی"قریب"کے ہیں۔ اس کے ثبوت میں راغب وغیرہ سے استدلال کیا ہے ۔ ہم اس کے جواب میں کہہ چکے ہیں کہ اس سے ہم کوانکار نہیں ۔لیکن وہ آپ کو مفید نہیں اورا سے ہمار نقصان نہیں ۔ دوسری بات یہ کہ قرب عرف عام میں خطیب کے بالکل متصل ہونے کے لئے خاص ہے ، اوریہی مدعیوں کا خاص مقصد ہے ، لیکن اس مقصد پر دراز لسانیوں کے علاوہ کوئی دلیل نہیں دی۔اورہم نے ایسے بہت سے محاورات ذکر کرچکے ہیں جس سے اس دعوٰی کی تکذیب ہوتی ہے تو یہ ساری درازلسانیاں بے فائدہ۔
وثامنًا : تنزلنا عن ھذا ایضافرضنا ان ثمہ عرفا کما تدعی لکن ان کان ففی نفرمثلک من العوام فمالک لاتفرق بین عرف العوام والعرف العام لانہ الکلام ھٰھنافی عرف الفقہاء الکرام فھل عندک دلیل انھم یحصرون القرب فیما تزعم کلابل کلامھم ناطق ببطلان ماتحکم ولنسردعلیک شیئامنہ فستھدی الی الحق ان اراداللہ والافیستہدی غیرک ممن ھدی اللہ ۔
ثامنًا :اگراس سے بھی قطع نظر کر کے مان لیا جائے کہ یہاں حسب ادعائے مدعی کوئی عرف ہے تو عوام کے کسی گروہ کا ہوگاتو ایک بات تو یہ ہے کہ مدعی یہاں عرف عوام اورعرف عام میں فرق نہیں کرتا۔دوسری بات یہ کہ یہاں ضرورت تو فقہاء کرام کے عرف کی ہے (نہ کہ عرف عوام یا عرف عام کی)تو کیاآپ کے پاس کوئی دلیل ہے جس سے ثابت ہوکہ فقہاء قرب کو اسی خاص معنٰی میں بولتے ہیں ۔ آپ کے اس دعوٰی کے بطلان پر بہت سے دلیلیں ہیں ان یں سے چند کو ہم بیان کرتے ہیں ممکن ہے آپ کو حق کی ہدایت ہو اوراگر مرضی الٰہی یہ نہ ہو تو کسی دوسرے کو ہی ہدایت ہوگی۔
فاقول وباللہ التوفیق لاشک ان القرب امر اضافی فاذا ذکر الحاشیتان والتفاصل بینھما فلا یمتری غیر مجنون ان القرب لاینتھی الی حدلا یتجاوزہ مالم ینقطع العالم کلہ فکل بعید من شیئ مھما بعد اقرب الیہ بالنسبۃ الٰی ماھو بعد منہ کالکرسی اقرب الی الارض من العرش مع انہ ابعد الاجسام من الفرش بعدالعرش بحیث لایقدربعدہ الاخالقہ عزوجل ثم من علمہ لکن ربما کون للشیئ بالنظر الٰی اٰخر حالۃ یطلق علیہ بالنسبۃ الیہ لفظ القریب مطلقا بدون لحاظ اضافتہ الٰی شیئ ثالث ولہ وجوہ کثیرۃ مختلفۃ باختلاف المقام۔ منھا"قرب التناول"ان یکون الشیئ منک بحیث تصل یدک الیہ کقولہ تعالٰی "فراغ الٰی اھلہ فجاء بعجل سمین فقربہ الیہم قال الاتاکلون۱۔" ومنھا"قرب السمع ان یبلغہ صوتک ۔ ومنھا قرب السیر"ان لایلحقک کبیر حرج فی الوصول الی۔
فاقول : وباللہ التوفیق(پس میں اللہ تعالٰی کی توفیق سے کہتاہوں) بلاشبہ قرب ایک اضافی چیز ہے ،تو جب دونوں حدوں کاذکر کردیا جائے تو پاگل ہی یہ خیال کرے گا کہ قرب اسی پر ختم ہے ، اوراس سے متجاوزنہ ہوگاورنہ جب تک کل عالم ختم نہ ہوجائے۔ ہر اگلی منزل قریب ہوسکتی ہے کیونکہ کوئی چیز جو کسی چیز سے دور ہو۔ جب ہم اس کو اس سے دور والی چیز کی نسبت سے دیکھیں گے ، تو یہ قریب ہوجائے گی، جیسے کرسی زمین سے بہ نسبت عرش کے قریب ہے اوروہ بہ نسبت اجسام عرش کے بعد زمین سے سب سے زیادہ دورہے ، اتنا دور کہ اس کی دوری کا اندازہ اس کا پیدا کرنے والا ہی کرسکتاہے یا وہ جسے اللہ تعالٰی بتائے۔لیکن بسا اوقات ایک چیز کو بہ نسبت دوسری چیز کے ایسی حالت ہوتی ہے جس پر لفظ قریب کا اطلاق ہوتاہے ، اوراس میں کسی تیسری چیز کی طرف اضافت کا لحاظ نہیں ہوتا۔ اس قرب کی اختلاف مقام کے لحاظ سے مختلف کثیر قسمیں ہیں۔ان سے ایک قرب تناول ہے ۔ اس کا مطلب یہ ہوتاہے کہ وہ شے ایسی جگہ ہے جہاں تمہارا ہاتھ پہنچ سکے ۔ جیسے اللہ تعالٰی فرماتاہے کہ "حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنی اہل کی طرف گئے اورایک گرم بُھنا ہوا بچھڑالائے اوراسے فرشتوں کے قریب کیا اوران سے کہا کیوں نہیں کھاتے ہو۔"اوران سے ہے "قرب سمع"جہاں تک آپ کی آواز پہنچ سکے اوران سے ہے "قرب سیر"یہ کہ وہاں تک پہنچنے میں آپ کو زیادہ حرج نہ لاحق ہو۔
(۱القرآن الکریم۲۷ ۔۲۶ /۵۱)