| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۸ (کتاب الشتّٰی) |
اضافات افاضات اعلم ان العبدالفقیرکان ختم الکتاب بحول الوھاب بما فیہ غنیۃ لاولی الاباب ، ثم کتابۃ فی الاخریات کشفت عن وجھھا النقاب وقدانطوٰی کتابنا،وللہ الحمد علی مایقضی علیہابالتباب غیر ان زیادۃ خیر خیر للاحباب والتصریح احسن من التلویح لعامۃ الطلاب فاحببت اضافۃ افاضات تجلی الصواب وما توفیقی الاباللہ علیہ توکلت والیہ ماٰب۔
جاننا چاہئے کہ میں بندہ محتاج اپنی کتاب ختم کرچکا تھا جس میں سمجھداروں کے لئے بے نیازی تھی کہ ایک تحریر نے اخیرمیں اپنے چہرہ سے نقاب الٹی، اورالحمدللہ ہماری کتاب میں وہ سب باتیں جمع ہیں جو اس تحریر کو سوخت کرسکتی ہیں لیکن احباب کے لئے بھلائی کی زیادتی بھلی ہے ، اورعام طالب علموں کے لئے تصریح تلویح (اشارہ وکنایہ)سے بہتر ہے ۔ میں نے ایسے افاضات کے اضافہ کو پسند کیاجو حق کو ظاہر کریں ۔میری توفیق اللہ تعالٰی کی طرف سے ہے ،میرا بھروسا اسی پر ہے ، اورمیرا لوٹنا اسی کی طرف ہے ۔
نفحہ۲۲ : متقاص فی اللدادوالعنادوشیمۃ الحسادبقی صامتاالٰی ان تمت الردودعلٰی کل مردودفنظرجمیع ذٰلک وحاول ان یستخرج لہ مضرجا من کل تلک المھالک فوسوس الیہ وسواسہ ان یفزع الٰی عرف عوام یخترعہ مخالفا للغۃ والشرع واصطلاح الاصول جمیعا لیردبہ جمیع ماسردنا من نصوص القرآن المجید والحدیث الحمید واقاویل ائمۃ التفسیروشروح الحدیث وکبراء اللغۃ وعظماء الاصول فی تحقیق معانی"بین یدیہ "و"عند"۔فزعم ان کل ذٰلک بمعزل عما ھو فیہ فان کلامنا فی العرف العام وفیہ بین یدیہ وعندکلامھما للقرب ولیس فیہ القرب الالذٰلک الوجہ لمخصوص الذی یوجب التصاق الاذان بالمنبر۔ فتوھم بھٰذاالنافذ قدخرج وشردعن کل ماوردفان مافی القراٰن والحدیث والتفسیروالشروح کل ذٰلک معنی شرعی وما فی کتب الاصول عرف خاص علمی والکلام فی العرب العام ولم یدران ھٰذہٖ حیلۃ ھدمت کل مابنی وضربت علٰی راس نفسھا فقضت علیہابالفناء۔
نفحہ۲۲ : خصومت وعناداورخصلت وحساد میں انتہاء کو پہنچاہوا،رد کے تمام ہونے پرخاموش رہا۔اورپورے رد پرغوروخوض کر کے اس کے مہلکات سے بچنے کی راہ ڈھونڈتارہا ، تو اس کے شیطان نے یہ وسولہ ڈالا کہ لغت، شرع، اصطلاح اصول سب کے خلاف عرف عام کی پناہ لے ۔ اوراسی ایک حربہ سے قرآن وحدیث واقاویل ائمۂ تفسیروشروح حدیث اورائمہ لغت واصول نے جو کچھ بھی لفظ بین یدیہ اورند کی تحقیق میں کہا ہے سب سے چھٹکارا حاصل کرے کہ ہماراکلام تو عرف عام ہے ،اورعرف عام میں بین یدیہ اورعند دونوں کے معنی "قریب"کے ہیں۔اورقریب بھی وہ جو ہم کہہ رہے ہیں ، جس سے اذان منبر کے نزدیک اورمتصل ہو ۔اورسوچا کہ اس سوراخ میں داخل ہوکر ان الفاظ کے سلسلہ میں تما م ارشادات سے نجات مل جائے گی جو قرآن وحدیث اورتفسیرمیں وارد ہوئے ہیں کہ وہ سب عنداوربین یدیہ کے معنی شرعی کو بتاتے ہیں اورلغات معنی لغوی کا اظہار کرتے ہیں ۔ کتب اصول معنی اصطلاحی بیان کرتی ہیں ،اور یہاں تو بحث عرف عام میں ہے اوریہ سمجھ نہ سکا کہ اس کی اس ایک حیلہ سازی نے اس کو ساری عمارت ہی ڈھادی اورکاتاکوتاکپاس کردیا۔
فاوّلاً استندت بقول الراغب فانما کتابہ فی لغۃ العرب اوالمحاورات الکریمۃ القراٰنیۃ وقدعزلتھما معاوقولہ یقال ویستعمل۱ لایخرجہ عن لغۃ العرب الی العرف الجدیدوان اخرج عندک فقد قال فی التاج"یقال بین یدیک لکل شیئ امامک۲۔" وفی الرضی"وان عند یستعمل فی القریب والبعید۔"
اوّلاً : آپ نے امام راغب اصفہانی کے قول سے استدلال کیا۔ ان کی کتاب تولغت عرب اورمحاورات قرآن میں ہے ،اورآپ نے ان دونوں کو چھوڑکر عرف عوام کی پناہ لی(پھر آپ نے اپنے نئے عرف کے لئے ان کی کتاب سے کیسے استدلال کیا)امام راغب کا یہ قول کہ لفط اس معنٰی میں استعمال ہوتاہے۔اس لفظ کو لغت عرب سے نکال کر عرف جدیدتھوڑا ہی بنادےگا۔اوراگر آپ کو یہی اصرارہے کہ استعمال کا مطلب جدیدہے ، توتاج العروس اور رضی نحوی کے بارے میں کیا کہیں گے ، وہ بھی تو کہتے ہیں کہ بین یدیہ کے معنی "ہر وہ شے جو تمہارے سامنے ہو"(تاج)اورعند قریب اوربعید دونوں کے لئے مستعمل ہوتاہے(رضی)۔
(۱المفردات فی غرائب القرآن العین مع النون لفظ"عند"نورمحمدکارخانہ تجارت کراچی ص۵۵۳) (۲تاج العروس فصل الباء من باب الواؤوالیاء تحت اللفظ"ید"داراحیاء التراث العربی بیروت ۴۱۹/۱۰) (۳الرضی فی شرح الکافیۃ الظروف منھا لدی ولدن دارالکتب العلمیۃ بیروت۱۲۳/۲)
وثانیًا : مافزعک الی الکشاف والمدارک اولیسامن التفاسیروانا ذکر اما ذکراشرحا للمحاورۃ القراٰنیۃ وھی عندک بمعزل عن الاستنادوقولہما"حقیقۃ قولھم۴"والضمیرفیہ للعرب والعرب لاتتکلم الابلغتھا واللغۃلاتثبت الا بکلامہافھما متلازمان وفی الاصل ولا امکان لادعاء النقل الابحجۃ وبرھان فصل کیف وان النقل خلاف الاصل۔
ثانیًا : آپ نے انکشاف اورمدارک کی پناہ کیسے ڈھونڈی ، کیا یہ تفاسیرمیں سے نہیں،ان دونوں نے جو کچھ کہا ہے محاورۂ قرآن کی شرح ہے ، اورآپ قران عظیم کے محاورہ کے نام سے کانوں پرہاتھ دھرتے ہیں۔ زمخشری یا امام نسفی نے اپنی تفسیروں میں جو فرمایا "حقیقۃ قولھم"(ان کے قول کی حقیقت)تو"ان "سے مراد عرب ہی ہیں،اورعرب کی بول چال تو لغت عرب ہے (توپھر آپ لغت سے کیسے استدلال کرتے ہیں آپ تو عرف عام کے دعویدارہیں)قصہ اصل یہ ہے کہ آپ کے عوام کا عرف بین یدیہ اورعند میں آگرچہ ہوگاتو معنی منقول، اورچونکہ نقل خالف اصل ہوتاہے تو اس کے لئے بھی آپ کودلیل لاناپڑے گی،وہ کہاں سےلائیں گے؟
(۴مدارک التنزیل (تفسیرالنسفی)تحت الآیۃ ۱/۴۹ دارالکتاب العربی بیروت۱۶۵/۴) (تفسیرالکشاف تحت الآیۃ ۱/۴۹دارالکتاب العربی بیروت10/۴۱۹و۳۵۰)
وثالثاً :
کذٰلک القراٰن العظیم انما نزل بلسنان عربی مبین قال تعالٰی
انا جعلناہ قرآنا عربیا۱
وقال تعالٰی
انہ لحق مثل ماانکم تنطقون۲۔
فمافیہ الا کانوا یتحرونہ فیما بینھم غیر ماثبت فیہ النقل الشرعی فثبوت معی فی القرآن ادل دلیل واجلہ علی محاورۃ العرب،اللھم الان یثبت النقل الشرعی ودون ثبوتہ خرط القتادواوادعاؤہ جزافًا امر عظیم فی الفساد،
ثالثًا : یونہی قرآن عظیم عربی مبین میں نازل ہوا، اس پاک کلام میں ہے "ہم نے اس کو عربی زبان میں اتارا"اور"یہ بیشک حق اورتمہارے ہی کلام کی طرح ہے۔"توقرآن کریم میں عرب کے ہی محاورے ہوں گے ۔ عربیوں کے محاوروں کے خلاف اگرکچھ ہوتو اس کے لئے نقل شرعی کا ثبوت درکارہے ۔ تو قرآن میں کوئی لفظ کسی معنی میں بولاجانایہ ہاس بات کی سب سے بڑی دلیل ہوگی کہ اس لفظ کے محاورۂ عرب میں یہ معنی ہیں، اورمعنی شرعی کے لئے نقل کا ثبوت ضروری ہے ۔اورمسئلہ بین یدہ میں اس کاثبوت محال،اورخالی دعوٰی لایعنی بڑ ہے۔
(۱القرآن الکریم۴۳/۳) (۲القرآن الکریم ۲۳/۵۱)
قال المحقق علی الاطلاق فی الفتح والبحرفی البحروالشامی فی ردالمحتار :
"الخطاب انما باللغۃ العربیۃ ما لم یثبت نقل کلفظ الصلٰوۃ ونحوہ فیصیر منقولاًشرعیاً۱اھ۔
حضرت محقق علی الاطلاق نے فتح القدیر میں اورصاحب بحر نے بحرالرائق میں ،اور علامہ شامی نے ردالمحتارمیں فرمایا:"قرآن کا خطاب لغت عرب میں ہی ہے جب تک کہ نقل سے ثابت نہ ہو جیسے لفظ صلٰوۃ وغیر۔ ثبوت نقل کے بعد البتہ یہ منقول شرعی ہوجائے گا ۔"
(۱ردالمحتارکتاب النکاح فصل فی المحرمات داراحیاء التراث العربی بیروت ۲۷۷/۲)