وثانیًا: لو اخرج من کتفیہ استحال قیام المؤذن فی قائمۃ او منفرجۃ کما علمت۔
ثانیًا: اوراگر امام کے دونوں مونڈھوں سے خط نکالاجائے تو ان یدا ہونے والے زاویہ قائمہ اورمنفرجہ میں موذن کا قیام ناممکن ہے ،جیسا کہ واضح کیا جاچکاہے ۔
وثالثًا: جری علٰی لسانہ بعض الحق من حیث لایدری ان الملحظ ھٰھنا یمین الامام ، ثم عاد الی الباطل الصرف فجعل عرض المنبر مطمح النظروقدعلمت بطلانہ۔
ثالثاً: اس جاہل کے منہ سے غفلت میں ایک سچی بات نکل گئی کہ لحاظ یاہں امام کے دائیں بائیں پلٹا تو اس نے منبر کی چوڑائی کو مطمح نظر بنایا حالانکہ ا وسکا بطلان بھی ظاہر ہوچکا ہے ۔
ورابعًا: تخصیصہ الحادۃ بالمثلث المتساوی الاضلاع من ضیق العطن ولم یقدر علٰی تعیین قدرالعمود فقال ذراعین الاقلیلاًوالعلم ان نسبۃ الٰی ذرعین کنسبت ناحہ نرماالط بد الی المرفوع ولو علم لقال فی القائمۃ ذرعاع اواقل ثم لایجب ان یکون الفصل فی المنفرجۃ اقل منہ فی القائمۃ بل ربما یکون اکثربکثیرمثلاً:
رابعًا: زاویہ حادہ کی مثلث متساوی الاضلاع کے ساتھ تخصیص بھی از خود نطاق میں تنگی پیداکرنا ہے (کہ زاویہ حادہ کچھ متساوی الاضلاع کے ساتھ ہی خاص نہیں)یہ جاہل عمود کی مقدار بھی متعین نہ کرسکا۔اس کو اندازہ سے بیان کیا کہ دو ذراع سے ذراکم،حالانکہ عمود کی نسبت ذراعین کی طرف ، مرفوع کی طرف ناحہ نرماالط بد کی نسبت کی طرح ہے ۔ اگر وہ جانتاتو کہتا کہ عمود ایک ذراع یا اس سے کم ہوگا۔ پھر یہ بھی ضروری نہیں کہ زاویہ منفرجہ میں زاویہ اوروتر کا فصل قائمہ سے کم ہو،حالانکہ بسااوقات منفرجہ کافاصلہ قائمہ سے بہت زیادہ ہوتاہے ۔ اس کی مثال یہ ہے :
ادرنا علٰی ا ب القوس واقمان علی نصفہ ح عمود ح ء واخذنا ثمن ح ء فی الطرفین ح ہ ء ر ووصلنا ا رب ب ر فکانت ارب منفرجۃ عمودھا ح ر ورسمنا من ہ ، ہ ح موازی ح ب وصلنا اح ب ح فکانت ا ح ب قائمۃ نزلنا منھا عمود ح ط فکان مساویا لح ہ بحکم لد من اولٰی الاصول وھو سبع ح ر بالفرض فکانت فصل المنفرجۃ سبعۃ امثال فصل القائمۃ ویمکن ان یکون الف ضعف والف الف ضعف کمالایخفٰی۔
خط ا ب پر ہم نے ایک قوس بنائی،اوراب کے نصف پر ہم نے ایک عمود ج ء قائم کیا،اورہم نے عمود کی دونوں کناروں سے عمودکا ثمن ج ہ اور ء ر ممتاز کیا، اورل ر ب ر کو ہم نے خطوط سے ملادیا،تو ایک مثلث منفرج الزاویہ پیداہوا(کہ زاویہ کا رأس قوس سے نیچے ہے )جس کا عمود ح ر ہے ، پھر ح ب کے مقابل ہم نے ایک خط ہ ح کھینچا اورہم نے ا ح ب ح کو بذریعہ خطوط ملادیا۔یہ ایک مثلث بن گیاجس کا زاویہ ح قائمہ ہے ، کیونکہ اس زاویہ کے رأس پر قو س واقع ہے )اب ہم اس زاویہ قائمہ سے ایک عمود ح ط نازل کرتے ہیں تو یہ عمود مقالۂ اولٰی کی ۳۴ویں شکل کی روسے ح ہ کے برابر اس مقدارکو ہم ح ر کا ۱/۷ فرض کرآئے ہیں، تو یہاں منفرجہ کا فاصلہ زاویہ قائمہ اوراس کے وتر کے فاصلہ سے سات گنا بڑھ گیا ہے اورہزار گنا بلکہ لاکھ گنابھی تفاوت ہوسکتاہے تو یہ کہنا کہ منفرجہ کاوتر سے فاصلہ بنسبت قائمہ کے کم ہوگا مطلقاًصحیح نہیں ہوا۔پس جب تینون زاویوں کا حال یکساں ہے پھرحادہ کی تخصیص کیسی؟
خامسًا: من جہلہ الاشد حسبانہ ان الزاویۃ القائمۃ او المنفرجۃ عند ملتقی خطیہا تسع انسانا بخلاف الحادۃ الذی ذکر ولم یدران التقاء الخطین علٰی نقطۃ لاتتجزٰی ولا سعۃ ھناک لحبۃ خردل ولا لعشر عشیرمعشارھا مالم یبلغ الجوھر الفرد۔
خامسًا: اس جاہل کا یہ گمان انتہائی جاہلانہ ہے کہ زاویہ قائمہ اورمنفرجہ میں تو انسان کی گنجائش ہوسکتی ہے ، مگر زاویہ حادۃ علی باب المسجد میں گنجائش نہیں ہوگی،اوریہ نہ سمجھ سکے کہ دوخطوں کا نقطہ اتصال تو جزء لایتجزٰی ہوتاہے جہاں رائی کے ہزارویں حصہ کی بھی گنجائش نہیں تآنکہ وہ جو ہر فرد نہ ہوجائے۔
وسادسًا: ر سم لہ قائمۃ ساقاھاقدرشعیرۃ اونصفہا مثل ھذا
وقل لہ قم فی زاویۃ ا ب ج ھذہٖ بحیث تسعک ولایبقٰی شیئ منک خارجھا فان قال لااستطیع فقد کذب نفسہ لانہ کانت تسعہ حادۃ المثلث المتساوی الاضلاع عند المنبر،وھذہ اکبرمنھا بقدرنصفھا لانھا قائمۃ والقوائم کلھا متساویۃ فکیف لاتسعک اکبرت او تخلخلت ام تکاثفت القائمۃ وضاقت حتی صارت اصغرمن اصغرمنھا وحینئذیصیرجہلہ بمرأی عینیہ فیعترف بہ اضطرارالتجریۃ علٰی نفسہٖ ومشاھدتہ جھارًا ولا حول ولا قوۃ الاباللہ العلی العظیم۔
سادسًا: اس جاہل نے کہا کہ زاویہ قائمہ اورمنفرجہ میں تو آدمی کا کھڑا ہونا ممکن ہے زاویہ حادہ میں نہیں۔تو انہیں سمجھانے کے لئے ایک مثلث بنایا جائے جس کی دونوں ساقیں جو یا نصف جو کے برابر ہوں اس طرح
اوران سے کہا جائے کہ یہ ایک زاویہ قائمہ ہے آپ اس میں یوں کھڑے ہوکر دکھائیے کہ آپ کے جسم کا کوئی حصہ اس سے باہر نہ ہو تو اگر وہ یہ کہیں کہ تو میرے بس سے باہرنہ ہو تو اگر وہ یہ کہیں کہ تو میرے بس سے باہر ہے تو انہوں نے اپنی کہی ہوئی بات جھٹلائی کہ زاویہ قائمہ میں انسان سماسکتاہے کہ وہ کہہ آئے ہیں کہ منبر کے پاس مثلث متساوی الاضلاع کے زاویہ حادہ میں آدمی سماسکتاہے اوریہ زاویہ قائمہ اس حادہ سے دوگنا بڑا ہے کہ یہ زاویہ قائمہ ہے اورسارے ہی زاویے قائمے برابر ہوتے ہیں ، تو وہاں تو حادہ میں وہ وسعت اوریہاں قائمہ تنگ پڑگیا ، پس یا تو آپ ہی بھاری بھر کم ہوگٹے یا آپ میں تخلخل ہوگیا، یا قائمہ ہی تنگ ومتکاثف ہوگیایہاں تک کہ اپنے سے چھوٹے سے بھی چھوٹا ہوگیا تب انہیں اپنی جہالت مشاہد ہ میں آئیگی ، اورخود بذاتہ علٰی رؤس الاشہاد تجربہ کر کے اعتراف کریں گے ۔
وسابعاً: وزعمہ ان لامکان ھناک لغیر الحادۃ شہادۃ منہ بجھلہ الشدیدمبنی علی زعمہ الطرید۔ان الوتر عرض المنبر وقدعلمت مازھر الحق بہ فظھر والحمدللہ العلی الاکبرولیکن ھذا اٰخر الکلام وقد اتینا بحمداللہ تعالٰی علی جمیع ما ابد وامن الاوھام ولم نترک الاما یستنکف الھذیان ان شہ بہ، وقد تکلف بالردعلی قضھا وقضیضھا رسائل اولادی واصحابی فی ھٰذہ المسألۃ مثل "اذان من اللہ"و"وقایۃ اھل السنۃ "و"سلامۃاللہ لاھل السنۃ "و"نفی العار"و"سیف القہار"و"تعبیرخواب"و"حق نمافیصلہ"و"اللطمات والاسواط"الٰی غیرذٰلک مماتافت عشرًا ولم تبق لاحدعزرًا والحمدللہ فی الاولٰی والاخرٰی فالمرجو من سادتنا واخوتنا العلماء الکرام ادام اللہ بھم نفع الاسلام ان ینظروابعین الانصاف ویسمحوابرفع الخلاف ویظھروا الحق لاجل الحق تعالٰی الحق وجل الحق ۔ والحمداللہ رب العالمین وافضل الصلوات واکمل السلام علی سید المرسلین خاتم البنیین وٰالہ الکریم وصحبہ العظام وابنہ الکرام وحزبہٖ اجمعین عددکل ذرۃ ذرۃ الف الف مرۃ فی کل اٰن وحین الٰی ابدالاٰبدین استراح القلم واستنارالحق ان شاء الکریم الاکرم لعشرخلون من شوال المکرم ۱۳۳۳ ھ من الھجرۃ القدسیۃ علی صاحبہا الکریم واٰلہ الکرام اکرم الصلٰوۃ والتحیۃ اٰمین ۔ والحمدللہ رب العالمین
سبحان ربک رب العزۃ عما یصفون وسلام علی المرسلین والحمد للہ رب العٰلمین ۔قال بغمہٖ ورقمہٖ بقلمہ احدکلاب باب عبدالقادراحمد رضا المحمدی السنی الحنفی البریلوی غفراللہ لہ وحقق لہ املہ واصلح عملہ بجاہ المصطفٰی واھلہ صلی اللہ تعالٰی وبارک وسلم علیہ وعلیھم ابدًاقدرحسنہٖ وجمالہٖ وجودہ ونوالہٖ وافضالہٖ اٰمین ، والحمدللہ رب العٰلمین۔
سابعًا: اور ان کا یہ زعم کہ دروازہ پر زاویہ قائمہ اورمنفرجہ متحقق نہیں ہوگا، اور بڑی جہالت ہے جس کا مبنٰی منبر کو وتر مثلث قراردینا ہے ، ورنہ ہم خوب ظاہر کرچکے ہیں کہ یہ تینوں زاویے خارج الباب کیسے پیداہوسکتے ہیں،اوریہ ہماری آخری بات ہے جو ان کے تمام اوہام کے ازالہ پرحاوی ہے ۔ ان اوہام کی بات الگ ہے جس سے ہذیان بھی شرمائے۔ویسے ان کی ہرچھوٹی بری کتھا کا ردمیری اولاد اورمیرے احباب کے رسائل میں ہے جیسے اذان من اللہ ، وقایہ اہلسنت، سلامۃ اللہ لاہل السنۃ،نفی العار،سیف القہار،تعبیر خواب،حق نمازفیصلہ واللطمات والاسواط وغیرہ جن کی تعداد دس تک پہنچتی ہے، اللہ تعالٰی کے لئے ابتداء اوراسی کیلئے انتہاء میں حمدہے ۔ہمارے سرداروں اوران علمائے کرام سے(جن سے اللہ تعالٰی نے ہمیشہ نفع پہنچایا)امیدہے کہہ ہماری اس تحریر کا انصاف سے مطالعہ کریں اوررفع خلاف میں کوشش کریں اورحق تعالٰی کیلئے حق کا اظہار کریں ۔بزرگ وبرتررب العالمین کے لئے حمدہے ،اورافضل دروداورمکمل سلام اس کے حبیب سید المرسلین خاتم النبیین اوران کے آل واصحاب عظام پرہو ان کے صاحبزاے اوران کی تمام جماعت پرہو۔ہر ذرہ کے بدلے ہزار ہزار بار ہرآن وہر گھڑی ابدالآباد تک۔ ۰۱شوال ۳۳ ۳ ۱ھ (صاحب ہجرت صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم پر بزرگ تحیۃ اورسلام ہو)کو قلم نے آرام پایا اور حق روشن ہوا اللہ تعالٰی کیلئےحمد اور پاک پروردگار کے لیے پاکی ہے اس سے جو اسکے بارے میں وہ کہتے رہتے ہیں اورسلام ہے پیغمبروں پر،اوراسی کے لئے حمدہے جو رب العالمین ہے ۔ اپنی زبان سے کہا،اپنے قلم سے لکھا۔شیخ عبدالقادرجیلانی رضی اللہ تعالٰی عنہ کے دروازے کے کتے احمد رضا محمدی سنی حنفی بریلوی نے ۔ اللہ تعالٰی اس کو بخشے اس کی امیدیں پوری کرے اوراس کے اہل کو صلاح وفلا ح دےحضور نبی اکرم کے عمل مقبول کے طفیل ان پر اوران کے آل واصحاب پر برکت وسلام اتارے،اپنے حسن وجمال اورجودونوال اورانعامات وکرامات کے حساب سے ۔آمین!